ادب میں طنز ومزاح کا منفردانداز متعارف کرانے والے، کینیڈا میں مقیم ممتاز مزاح نگار، صحافی اور براڈ کاسٹرمحترم مرزا یا سین بیگ صاحب کا خصوصی انٹرویو

موجودہ حالات نے جس طرح ہماری ہنسی چھین لی ہے ایسے میں اگرطنزو مزاح سے بھر پور کوئی تحریر دستیاب ہو جائے جو ہمارے چہرے پرمسکراہٹ بکھیردے اور وہ صرف ادب برائے ادب پر ہی مشتمل نہ ہو بلکہ اس میں مثبت پیغام بھی موجود ہوتو اس میں سب سے پہلے مرزا یا سین بیگ صاحب کا نام آئے گا۔کینیڈا میں مقیم معروف مزاح نگار، صحافی اور براڈکاسٹرمحترم مرزا یا سین بیگ صاحب نے مزاحیہ ادب میں اپنا ایک منفرد مقام اور پہچان بنائی ہے ۔ حال ہی میں مرزا صاحب کی دوسری کتاب ” پارچے “ شائع ہوئی ہے جس میں انہوں نے مزاح کو جس سلیقے اور مصلحتوں سے بے نیاز ہو کر لکھا ہے، اس کو پڑھنے کے بعدکچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بچے ان کی تحریریں پڑھ کر جلد بڑے ہو جاتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ سچی بات کرتے ہوئے شرماتے نہیں ہیں بلکہ اس کو انتہائی سلجھے اور شائستہ انداز میں بیان کرنے کا فن بخوبی جانتے ہیں ۔اب ان کی تحریریں پڑھ کر کوئی کیا سوچتا ہے اور اس سے کیا پیغام لیتا ہے یہ اس کی ذہنی استعداد پرمنحصر ہے ۔ سوشل میڈیا پر ادبی ذوق رکھنے والے افراد اب علیل جبران سے نا آشنا نہیں ہیں ۔مرزا یا سین بیگ سے علیل جبران تک پہنچنے کا یہ سفر انہوں نے کیسے طے کیا اس کی تفصیل اس انٹرویومیں موجود ہے۔ محترم مرزا صاحب سے انٹرویو کے لئے وقت لینا کوئی آسان کام نہیں تھا، تین سال کی مسلسل یاددہانی کے بعد انہوں نے اس انٹرویو کے لئے وقت نکالا جس پر میں ان کا تہہ دل سے ممنون ہوں ۔

سوال: آپ شعبہ صحافت میں کیسے آئے؟ سب سے زیادہ کہاں سیکھنے کا موقع ملا؟ صحافت کے شعبے میں آنے کے بعد سوچ میں کیا تبدیلی آئی؟

جواب: جیسا کہ ہمارے معاشرے میں رائج ہے کہ والدین اپنے بچوں کو صر ف ڈاکٹر یا انجینئر بنانا چاہتے ہیں اور اب شاید ایم بی اے کا رجحان بھی شامل ہو گیا ہے ۔ میرے والد بھی مجھے ڈاکٹر کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے ۔ ابتدائی عمر سے یہ پیشہ ایسا ذہن پر چھایا کہ اپنے آپ سے پوچھنے کا خیال بھی دل میں نہ آیا کہ یاسین تم خود کیا بننا چاہتے ہو ؟ مگر شاید میں عام بچوں سے مختلف تھا اس لئے سخت گیر ماحول میں پرورش پانے کے باوجود اپنی اور کائنات کی کھوج میں تھا۔ انٹرسائنس کرتے ہوئے میرے اندر کا لکھاری جاگ گیا ۔ اخبارات میں طالب علموں کے صفحات پر میرے مضامین شائع ہونے لگے ۔ ”نوائے وقت “ بعد ازاں ”حر ّیت“ کے نوجوانوں اور بچوں کے صفحات پر چند مضامین اور کہانیاں شائع ہوئیں۔اس سے میرے قلم کو تقویت ملی اور ایسا لگا کہ شائد لکھنا ہی میرا اصل ہنر ہے ۔میڈیکل کالج میں داخلہ نہ ملا تو والد صاحب نے بی ایس سی کرنے کو کہا مگر میں نے پہلی بار ان کی بات نہ مانی اور بی ایس سی ایک سال کر کے چھوڑدیا۔اسی دوران میرا ریڈیو پاکستان آنا جانا شروع ہوا ۔ ”بزمِ طلبہ “نامی پروگرام میں بڑی آﺅبھگت ہوئی۔ صداکار کی حیثیت سے ابتداءمیں دو بار آڈیشن میں فیل ہو ا مگر لکھنے کا کام چل پڑا ۔ میں نے بی اے میں داخلہ لیا اور ریڈیو پروگراموں میں جُت گیا۔ والد ناراض ہو گئے ۔ وہ میرے ریڈیو جانے کے بھی سخت خلاف تھے ،مجھے گھر چھوڑنا پڑ گیا مگر میں نے ہمت نہ ہاری ۔ انتہائی سخت دن تھے۔ خوش قسمتی سے ریڈیو کے کمرشل پروگراموں اور ورلڈ سروس کے پروگراموں میں لکھنے اور بولنے کے مواقع ملتے چلے گئے ۔ میں نے کراچی کے ایک علاقے لیاقت آباد میں کرائیے کا مکان لیا اور گھر سے دور اکیلا رہنے لگا۔ بی اے پاس کیا اور ایم اے صحافت کی ۔ اسی دوران مختلف رسائل میں معاوضے کے ساتھ لکھنے لگا۔بعدازاں ”روپ“ اور ”دوشیزہ“میں سب ایڈیٹر کی حیثیت سے ملازمت کی ۔ گدھوں کی طرح کا م کیا ۔ میرا ارادہ ریڈیو پروڈیوسر بننے کا تھا ۔کنٹریکٹ کی بنیاد پر زمانہ طالب علمی ہی میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے طور پر ریڈیو پاکستان کراچی میں کام کیا ۔مجھے ریکارڈنگ اور پروگرام ایڈیٹنگ پر بھی عبور حاصل ہوگیا تھا۔ صحافت میں ایم اے کرتے ہی ریڈیو پر پروڈیوسر کی جاب کے لئے اپلائی کیا مگر تمام تر صلاحیت اور تجربہ رکھنے کے باوجود مجھے کراچی ڈومیسائل پر جاب نہ ملی ۔ میں بہت رویا ، بہت دنوں تک بڑا مایوس سا رہا ۔یہ ٹیلنٹ کا قتل تھا ۔ایسے لاکھوں قتل ہو چکے ہیں اور قاتلوں کی طرف کسی کو انگلی اُٹھانے کی ہمت بھی نہ ہوئی ۔مجھے ریڈیو کے کمرشل پروگراموں میں بہترین رائٹرز کے ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن سے سالانہ ایوارڈز ملے ۔کراچی کے نوجوانوں میں میرانام ابھر کے سامنے آیا۔مجھے بہتریں مقرر ، شوز کے میزبان اور مزاح نگار کے ایوارڈز ملے۔ ریڈیو پاکستان کراچی کے بزمِ طلبہ کا پہلے ہی سال بہتریں مزاح نگار کا ایوارڈ ملا۔

مجھے فخر ہے کہ میرے لکھے خاکوں اور کمر شل پروگراموں میں اس دور کے صف اوّل کے صداکاروں نے صداکاری کی۔ مگر اس کے باوجودبھی مجھے فرزند ِ کراچی ہونے کے باعث ریڈیو پروڈیوسر کی ملازمت نہیں دی گئی ۔ ان دنوں مجھے ایم کیو ایم کی طرف سے بہت آفرز تھیں ۔ میرے کئی نوجوان ساتھی ایم کیوایم میں چلے گئے تھے جو بعدازاں ڈپٹی میئر ، ایم پی اے اور ایم این اے بنے۔مگر میں تعصب کا نشانہ بننے کے باوجود تعصب کے بینر تلے کام کرنے کے حق میں نہیں تھا۔ آ پ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ میں کبھی زندگی میں کسی سیاسی یا ثقافتی جماعت کا رکن یا عہدیدار نہیں بنا۔میں نے خود اپنی ایک ثقافتی اور ادبی تنظیم بنائی تھی”فرینڈز فورم “ کے نام سے جس کے تحت ہم چند دوست مل کر ثقافتی اور ادبی پروگرام کیا کرتے تھے ۔کراچی کا وہ دور گواہ ہے کہ ہم نے کتنے بہترین پروگرام اس بینر تلے کئے ۔

پھر میں نے باقاعدہ طور پر پرنٹ میڈیا میں آنے کا فیصلہ کر لیا۔ ان دنوں ضیا ءالحق کے مارشل لاءکا راج تھا۔ سیاسی آزادی نہیں تھی چنانچہ شوبز کے رسالوں کا دور دورہ تھا ۔مجھے اخبارات سے زیادہ ماہانہ رسائل بھاتے تھے۔ میں نے فری لانس جرنلسٹ بننے کا فیصلہ کیا ۔ابتدائی دنوںمیں ”دوشیزہ “ ، ”روپ“ اور دیگر رسائل میں نوکری بھی کی مگر اس کا نقصان یہ تھا کہ میں پابند ہو جاتا تھاکہ محدود تنخواہ کے ساتھ ایک ہی رسالے کے لئے کام کروں۔میں فری لانس رائٹر بن گیا ۔ اگلے چند سالوں ہی میں کراچی کے تقریباً ہر رسالے میں میرے لکھے انٹرویوز ، مضامین، ڈائریز ، خبریں موجود ہوتی تھیں ۔میرے طنز و مزاح کا انداز سب کو بھایا۔ مجھے ہر رسالے کے لئے ہر مہینے چار سے چھ مضامین لکھنے ہوتے تھے۔اس لئے کئی قلمی نام بھی رکھنے پڑے ۔اس کے علاوہ ریڈیو کے لئے خاکے اور ڈرامے بھی لکھتا رہا۔کئی اداروں میں پبلک ریلیشنز آفیسر کی جاب بھی کی۔لکھ کر کمانا آسان نہیں ہوتامگر میں نے ”Limpid Creative Services“ کے نام سے ایک ادارہ بنایا اور فوٹوگرافی و رائٹنگ کو ساتھ ملایا۔میں آئیڈیاز کے ساتھ شوبز کے آرٹسٹوں کے ساتھ فوٹوگرافی کرتا اور اس ”تھیم“ کے مطابق فیچرز لکھتا ۔ یہ بالکل نیا انداز تھا جو سوشو کلچر میگزین میں بہت مقبول ہوا۔میں مصروف ترین رائٹر بن گیا۔ ”ٹی وی ٹائمز “، ٹی وی ٹیمپو، شوبز، روپ، صبح نو، فاصلہ، سلسلہ ، محور، شہر زاد، زیرلب اور پتہ نہیں کتنے رسائل میں میری تحریریں چھپتی تھیں ۔ اس زمانے میں یکسانیت کو توڑنے کے لئے میں نے انٹرویوز اور فیچرز میں نئے نئے تجربے کئے۔ آج 20 سال بعد بھی میں اپنے ان آئیڈیاز پر لوگوں کولکھتے دیکھتا ہوں تو زیر لب مسکرادیتا ہوں۔مجھے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ٹوکیوسے اردوزبان میں شائع ہونے والے پہلے اردو رسالے ”نوائے ٹوکیو“ کا ایڈیٹر رہا۔اسی طرح زراعت پر کراچی سے شائع ہونے والے اردو رسالے ” ایگری ریسرچ“ کابھی میں ایڈیٹر تھا۔میں خود ایک سہ ماہی رسالہ ”ریلیشنز انٹرنیشنل “نکالتاتھا جو پاکستان کے تمام سفارت اور کونسل خانوں کی سرگرمیوں کو شائع کرتا تھااور امپورٹ ایکسپورٹ پر خصوصی مضامین بھی۔۔۔۔میں تواب بہت کچھ بھول چکا ہوں۔ طارق عزیزکے رسالے ”بچوں کے رسالہ “ میں مےرے قسط وار ناولز شائع ہو چکے ہیں۔

بعدازاں ”ففٹی ففٹی“ کے دوسرے جنم پر خاکے لکھے ۔ٹی وی پر بچوں کے دو پروگرام لکھے ۔ قاسم جلالی کے عید شوز کا میں باقاعدہ رائٹر ہوا کرتا تھا۔ این ٹی ایم شروع ہواتووہاں بھی مزاحیہ پروگراموں میں خاکے لکھے ۔ میرا مزاج ایسا تھا کہ میں پروڈیوسرزکی چاپلوسی نہیں کر پاتا تھاورنہ شائد بہت آگے جاتا۔

مجھے اطہر شاہ خان جیدی نے کئی بار ٹی وی پروڈیوسرز سے ملوایا مگر میں اپنے آپ کو اس ماحول میں ایڈجسٹ نہیں کر پایا اور بھاگ گیا۔ مجھے صحافت میں سلطانہ مہر،رعنافاروقی ، محمود شام اور دانش دیروی مرحوم سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ۔بد قسمتی یہ رہی کہ اتنی سخت محنت کرنے کے باوجود ادارے وقت پر پیسے نہیں دیتے ۔چنانچہ میں درمیان میں دو، تین بار صحافت چھوڑ کر ہانگ کانگ، جاپان اور کوریا جاتا رہاہے اور کئی سالوں تک وہاں جاب کی۔ میرے ماسٹرز کرنے کے بعد والد صاحب سے تعلقات بحال ہو گئے اور میں گھر واپس لوٹ آیا۔

صحا فت نے مجھے زندگی کو سمجھنے میں بڑی مدد دی ۔ میں نے اس دور کے کراچی سے پشاور تک کے تمام بڑے ٹی وی آرٹسٹوں کے انٹرویو کئے ۔ ان کے ساتھ بہت وقت بتایا۔ اسی طرح نواز شریف ، غلام مصطفٰے جتوئی ، بے نظیر ، الطاف حسین سمیت تمام چھوٹے بڑے سیاست دانوں کے انٹرویوز کئے ۔ بیشتر کا حال ایک جیسا ہے ۔ہم جنہیں پوجتے ہیں وہ میرے نزدیک ایک اچھے بول کے بھی مستحق نہیں ۔ ہمارے سسٹم نے دونمبری اور تین نمبریوں کوآگے کر دیاہے اور جو بیچارہ اوّل نمبر پر تھا وہ ناکام رہ گیا۔ سفارش اور رشوت وہ دیمک ہے جو پاکستان کو چاٹ گئی ہے ۔ اب کرپشن پہلے نمبر پر ہے ۔

میرا ایک دور وہ تھا جب میں روزنامہ جنگ میں شامل ہو ا۔ مجھے یہ اعزازحاصل ہے کہ روزنامہ جنگ نے پاکستان کی گولڈن جوبلی کے موقع پر کئی ہفتوں تک جو خصوصی ایڈیشن شائع کئے تھے ۔ اس ریسرچ ٹیم کا میں انچارج تھا اور پاکستان کی معیشت ، سیاست، کھیل اور کئی موضوعات پر وہ تمام تحقیقی کام میں نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے مرتب کر کے ان پر خود مضامین لکھے تھے۔جب روزنامہ ایکسپریس پہلی بار کراچی سے شائع ہو اتو میں اس کا پہلا ”میگزین ایڈیٹر“ تھا۔میری صحافتی زندگی سینکڑوں واقعات سے بھری پڑی ہے ۔اختصار کے ساتھ بس اتنا کافی ہے ۔

سوال: آپ کی صحافتی زندگی میں پیش آنے والے دلچسپ واقعات جو آپ شیئر کرنا پسند کریں؟

جواب : میں نے اپنی صحافتی زندگی میں صرف دو بار کورٹ رپورٹنگ کی بقیہ وقت نیو ز ڈیسک یا میگزین میں ہی گزاراالبتہ میں نے جو فیچرز لکھے اور انٹرویوز کئے اس سے بڑی شخصیات کی ایسی بہت سی باتیں سامنے آئیں جو خبر کی صورت میں اخبارات اور رسائل نے چھاپیں۔ ”اخبارِجہاں“ میرا ماہانہ میگزین آتے ہی میرے انٹرویوز ، ڈائریز ، فیچرز سے خبریں نکال کرچھا پتا تھا۔ میں پیٹ پوجا کےلئے ٹپال ، پاکستان کیبل جیسی بڑی کمپنیوں کے سالانہ اور سیلز پروگرام ترتیب دیا کرتا تھا۔ میں ایک ایسے ہی پروگرام کے سلسلے میں لاہور میں تھا۔ جس شام میرا پروگرام مقامی ہوٹل میں پیش کیا جا ناتھا میں صبح اُٹھ کر اپنے آرٹسٹوں سے فون پر بات چیت کر رہا تھا ۔ اسی دوران مجھے ایک فنکار نے اطلاع دی کہ سلطان راہی کو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔اسی بات چیت کے دوران ویٹر میرے کمرے میں ناشتہ رکھنے آیاتھا۔ اس نے وہ گفتگو سن لی اور نیچے جاکر اپنے سٹاف کو بتا دیا ۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح اس ہوٹل میں پھیل گئی اور میرا فون بار بار بجتا رہا۔ان دونوں صرف دوٹی وی چینل ہوا کرتے تھے اور خبر فوری بریک کرنے کا کوئی انتظام نہ ہوتا تھا۔ اس دن میں نے فلم انڈسٹری کو جس طرح روتے ، بلکتے دیکھا اور محسوس کیا وہ آج بھی میرے دل پر نقش ہے۔
میں نے غالباً1986ءمیں طارق عزیز کا ایک انٹرویو لیا تھا۔ وہ انٹرویو کئی سالوں تک مختلف اخبارات اور رسائل میں چھپتا رہا۔ اس کی وجہ سے طارق عزیز مجھ سے ناراض ہو گئے ۔ حالانکہ میں نے وہی باتیں لکھی تھیں جو انھوں نے کہی تھیں۔اسی طرح کینیڈ ا آنے سے قبل میں نے روزنامہ” ایکسپر یس “کے میگزین ایڈیٹر کی حیثیت سے اپنے صفحہ کے لئے مہدی حسن مرحوم کا انٹرویو کیا ۔ یہ انٹرویو اتنا متنازعہ ہوا کہ مہدی حسن اور ان کے صاحبزادے آصف مہدی نے کراچی پریس کلب میں میرے خلاف ایک پریس کانفرنس کر دی مگر کبھی میرے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی نہ کر سکا کیونکہ میں انٹرویو ریکارڈ کیا کرتا تھا۔

پاکستان میں پہلی بار کرائم کی دنیا میں ایک لڑکی نے اپنے آشنا کہ ساتھ مل کر والدین کو قتل کر دیا۔یہ غالباً1998-99ءکی بات ہے ان دنوں روزنامہ ایکسپریس نیا نیا نکلا تھا، اس لڑکی اور کرائم کے حالات پر میری سٹوری نے تہلکہ مچا دیا تھا۔ہر بار میرا فالو اپ نئی ہلچل مچا دیتا تھا۔عدالت میں پیشی کے دن سارے کرائم رپورٹر میرے شائع شدہ رپورٹس پر مبنی سوالات کی بوچھاڑکیا کرتے تھے۔میرے اس تحقیقی فیچرز نے ایکسپریس کو اس کے ابتدائی دنوں میں کراچی میں مقبول بنانے میں اہم کردار اداکیا۔روزنامہ ایکسپریس کے ہی ذریعے میں نے پہلی باراخبارات کی دنیا میں کمپیوٹراور نیٹ کی دنیا کے لئے ویکلی صفحہ ترتیب دینا شروع کیا تھا جس میں پہلی بار اہم ویب سائٹس کا تعارف اور لنک دیا جاتا تھااور چیٹنگ کی دنیا سے دوستی و محبت کی حقیقی کہانیاں نام ومقام بدل کر پیش کی جاتی تھیں۔ایکسپریس کے مالک سلطان لاکھانی اس صفحے کی بے حد تعریف کرتے تھے۔بعد میں اس کی دیکھا دیکھی روزنامہ اُمت نے فوری طور پر ایسا ہی صفحہ شروع کیا ۔مفتی منیب الرحمان کو میں نے سب سے پہلے ایکسپریس کے ذریعے عوامی سطح پر متعارف کروایااور وہ اس کے بعد شہرت کی سیڑھیاں چڑھتے چلے گئے ۔ پھر یہی کہو ں گابے شمارواقعات ہیں ، کس کس کا تذکرہ کروں ۔

سوال: آپ کے صحافتی اصول کیا رہے ؟صحافتی زندگی کا کوئی ایسا واقعہ جس کی وجہ سے آپ کو سنگین نتائج کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑاہو ؟

جواب: میں نے کبھی کسی کی ذاتی زندگی پر اس وقت تک خبر نہیں بنائی جب تک کہ اس سے اجتماعی طور پر سوسائٹی متاثر نہ ہو رہی ہو۔میں نے تجزیئے کو تجزیئے کے طور پر پیش کیا اور خبر کی معروضیت کو اسی انداز میں ۔ میری نکالی گئی سرخیاں بے حد پسند کی جاتی تھیں ۔ اس میں سنسنی نہیں مگر تجسس اور تشنگی ہوتی تھی جو قاری کو مضمون یا خبر کی تفصیلات پڑھنے پر اکساتی تھی۔ٹی آر پی ضروری ہے کیونکہ میڈیا ہاﺅ سز بھی بزنس ہیں مگر بزنس اور بحیثیت میڈیا اپنی ذمہ داریوں کے درمیان توازن قائم رکھا جائے ، میں بحیثیت میڈیا ورکر مالکان کے حقوق کا بھی خیال رکھتاتھا، مثبت صحافت کی بھی کوشش کرتا تھا اور قاری کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھتاتھا۔

کئی واقعات ہیں۔ کراچی کے نامور سوشل ورکر نے دوسری شادی چھپ کر کی اور ان کی شوبز بیوی نے صحافیوں کو بے وقوف بنانا شروع کیا ۔اس پر میں نے دوسری شادی کی خبر چھاپ دی۔ مجھے اس پر دونوں جانب سے دھمکیاں ملیں کیونکہ وہ خاتون ان دنوں ایم کیوایم کے ایک لیڈر کی چہیتی بھی تھیں ۔ اسی طرح جب کراچی میں الطاف حسین کا طو طی بولتا تھا اس وقت پہلی بار ایک فوٹوگرافر نے ان کی تھری پیس سوٹ میں ”ماڈلنگ“ کی ۔ میں نے صرف دو تصاویر چھاپ کر اس کے نیچے لکھا ” مسٹر مہاجر“ ۔ اس طنز پر ایک طوفان برپا ہو گیا۔میرے دفتر میں دھمکیوں بھری اتنی کالز آنے لگیں کہ میرے دو پُر اعتماد ساتھی بھی میرا ساتھ چھوڑگئے ۔ بعدازاں اسی لسانی تحریک کی وجہ سے ہمیں ننگے پاﺅں بہن بھائیوں اور والدہ کے ساتھ گھر چھوڑکر بھاگنا پڑا ۔پھر ایک وقت ایسا آیا کہ میری ہزاروں کتابیں اور صحافتی ریکارڈ تلف کر دیا گیا۔یہ میری زندگی کا ایک بڑا دکھ ہے ۔ میرے کیرئر کا سرمایہ میرے ہاتھ سے نکل گیا۔پیپلز پارٹی کا سچ لکھنے پر مجھے ایک نوکری سے ہاتھ دھونے پڑے ۔ پنچابی پختون اتحاد نے ایک بار راستہ روک کر پٹائی کی ۔ میں مصلحت پسند نہیں ہوں اور ساری زندگی اس کی سزا ئیں بھگتتاآیا ہوں۔ہم مرنے کے بعد تو مرحوم کی خوبیا ں روپیٹ کر بیان کرتے ہیں مگر زندگی میں سچ اور حق کا ساتھ نہیں دیتے ۔

سوال: پاکستانی سیاست کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ پاکستان کے سیاستدان کس حد تک ملک اور قوم کے ساتھ مخلص ہیں؟

جواب: ترقی یافتہ ممالک کی سیاست پولیٹکل سائنس کے زمرے میں آتی ہے جبکہ ہماری سیاست ”کرمنالوجی “ کا حصّہ ہے ۔ اگر جمہوریت چلنے دی جاتی تویہ سارے کرپٹ بوڑھے سیاست دان ووٹوں کی چھلنی سے چھن کر گھر بیٹھ چکے ہوتے اور آج ملک پر نوجوانوں کی حکومت ہوتی ۔ نوجوان کبھی کر پٹ نہیں ہوتا، اسے سسٹم رفتہ رفتہ کرپٹ بنا دیتا ہے ۔ ہمارا سسٹم ایسا ہے کہ ہم آدھی عمر لاتیں کھاتے ہیں اور بقیہ آدھی عمر نئے آنے والوں کو لاتیں مارتے ہیں ۔ ہماری ایلیٹ کلاس ہی ہماری حکمران ہے اور ان سب کے منہ کو حرام لگ چکا ہے ۔جو سسٹم کا حصّہ نہ بنے وہ آگے ہی نہیں آسکتا۔میں ایک بات آپ کو بتاتا ہوں ۔ ہماری وہ نوجوان نسل جو پاکستان سے باہر فرسٹ ورلڈ میں تعلیم و تربیت حاصل کررہی ہے اگر اسے ہماری سیاست اور بیوروکریسی کا حصّہ بنایا جائے تو پاکستان تیزی سے آگے بڑھ سکتا ہے ۔ باہر رہنے والے پاکستان کے لئے زیادہ مخلص ہیں مگر سوال یہ ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کو ن باندھے گا؟ فوجی جنرلز کو چاہئے کہ سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اب حقیقی جمہوریت کو بھی پنپنے میں مدد دیں یہی قوم و ملک کے ساتھ اخلاص ہوگا۔

میں بہت زیادہ مذہبی نہیں ہوں مگر مجھے سیاست دانوں میں مولانا نورانی مرحوم کی فراست نے متاثر کیا تھا۔ جن دنوں انٹرنیٹ، سوشل میڈیااور ای میل کچھ بھی نہیں تھامولانا نورانی عالمی سیاست کے رموز سے ایسے واقف تھے کہ میں ان سے باتیں کر کے حیران رہ جاتا۔ وہ مجھے عالمی اخبارات اور رسائل کے فوٹوسٹیٹ صفحات دیا کرتے تھے ۔ اسی طرح جماعت اسلامی کو نکال کر پروفیسر غفور احمد مرحوم کی سادگی اور سیاسی بالغ نظری کامیں مداح تھا۔

بے نظیر نواز شریف سے بھی زیادہ ذہین اور مدبّرتھیں ۔ ذاتی طور پر وہ اس قدر مال ومتاع دیکھ چکی تھیں کہ انھیں پیسے کی حرص نہیں تھی مگر انھیں زرداری کی دیمک لگ گئی۔میں بھٹواور عمران خان کی مقبولیت اور ذہانت ایک جیسی سمجھتا ہوں ۔ دونوں یکساں جذباتی ہیں اور سیاست میں جذباتیت نہیں چلتی ۔ عمران کے اندر جو مدبّر اور ذہین سیاست دان موجود ہے وہ اسے عوام کے سامنے لا ہی نہ سکے ۔وہ سطحی سیاسی تناﺅ میں بہہ کر ”میں نہ مانوں“ کی سیاست کا کھلونا بن گئے ۔

سچ پوچھئے تو پاکستان کے موجودہ سسٹم میں اب گلی گلی سیاسی کارکن نہیں بلکہ سوشل ورکرز کی ضرورت ہے ۔نوجوان اس سسٹم کو توڑنے کے لئے سوشل ورک کا ہتھیار استعمال کریں اور سیاست دانوں کر بھول کر مقامی طور پر عوام کی خدمت اپنی مدد آپ کے تحت کرنے کا بیڑا اُٹھالیں ۔عوام سوشل ورکرز کی مدد کریں اور سیاسی جلسوں کا بائیکاٹ کریں ۔

سوال: اب مختصراً یہ بتا ئیں کہ دہشت گردی کے ‘جن ‘پر پاکستان میں کیسے قابو پایا جاسکتا ہے ؟

جواب: یہ ہماری نادانیوں اور امداد بٹورنے کا سلسلہ تھا جس کی وجہ سے ہم عالمی استعماری قوتوں کی جنگیں اپنے ملک میں لڑتے رہے ۔میں 25 سال پہلے پڑھا کرتا تھا کہ عالمی طاقتیں اپنی جنگیں اپنے ملک سے باہر لڑیں گی پھر ہم نے ان خبروں کو عملی شکل اختیا ر ہوتے بھی دیکھ لیا۔آج کی صورتحال کچھ بہتری کے جانب جا رہی ہے ۔ آج کل فوج کے خلاف پاکستان مخالفین سوشل میڈیا پر جس طرح سے زور شور سے چیخ و پکار مچا رہے ہیں اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ جنرل راحیل شریف پاکستان کے لئے اخلاص کے ساتھ کام کررہے ہیں ۔وہ چین کو پرسکون ماحول فراہم کرنے کے لئے ہر طرح کی شر پسندی کا خاتمہ کر رہے ہیں ۔ یہ اتنا آسان کام نہیں کیونکہ امریکہ اور بھارت کی پوری کوشش ہے کہ ”سی پیک“ کا 51  ارب ڈالر کا منصوبہ مکمل نہ ہو کیونکہ اس سے پاکستان اور ایشیا خوش حال ہوگا۔ یہ میں فوج کی نہیں ، اپنے سچ کی زبان بول رہا ہوں ۔ فوج میں کچھ طبقہ بہت کرپٹ ہو گیا تھا مگر اب بہتری نظر آرہی ہے ۔ نوازشریف کو چاہئے کہ وہ راحیل شریف کی معیاد میں اضافہ کریں تا کہ مارشل لاء کا خطرہ بھی جاتا رہے اور پاکستان میں دہشت گردی اور بد سکونی کا خاتمہ ہو۔

سوال: یہ توتھی آپ سے بحیثیت صحافی گفتگو۔ اب آتے ہیں آپ کی مزاح نگاری کی جانب ۔ حال ہی میں آپ کی دوسری طنزیہ مزاحیہ کتاب ”پارچے“ شائع ہوئی ہے جسے سوشل میڈیا اور مزاح کے قارئین میں بڑی پزیرائی حاصل ہورہی ہے ۔ آپ اپنی پہلی کتاب ”دیسی لائف ان کینڈا “اور ”پارچے“ میں کیا فرق محسوس کرتے ہیں ؟

جواب: میری پہلی کتاب ” دیسی لائف ان کینڈا“ 2008 ءمیں کراچی سے شائع ہوئی تھی اور ”پارچے“ 2016ءمیں ٹورنٹوسے شائع ہوئی ہے ۔ پہلی کتاب”مہجوری ادب“ کے دائرے میں آتی ہے۔اس میں ہجرت کے مسائل پر بات ہوئی ہے مگر طنز و مزاح کے انداز میں ۔کلچرل شا ک، روزگار کے مسائل ، رشتوں کی اونچ نیچ، دوستیاں ، محبتیں، نفرتیں جو ہجر کے ساتھ آپ کی گود میں آگرتی ہیں اس پر جب بھی لکھا گیا سنجیدگی کے ساتھ لکھا گیا۔

میں نے اپنے آنسواپنے اندر جذب کئے اور ان ساری تکالیف کو ہنس کر برداشت کیا اور اس طرح لکھا کہ پڑھنے والا بھی کہیں مسکرائے اور کہیں ہنسے مگر جب وہ ہنس چکے تو اسے احساس ہو کہ بین السطور یہ عوامل کس طرح کی توجہ چاہتے ہیں۔ میری اس کتاب کی پریس کلب کراچی میں شاندار تقریب رونمائی ہوئی تھی جس میں حسینہ معین ، پروفیسر سحر انصاری، کراچی پریس کلب کے سابق صدر امتیاز خان فاران اور موجودہ صدر اور ممتاز شاعر فاضل جمیلی نے جس طرح اظہارِ خیال کیا تھا اور میرے پڑھنے والوں اور صحافی دوستوں نے جس اپنائیت سے شرکت کی تھی وہ میرے لئے قابل فخر ہے ۔ ” دیسی لائف ان کینیڈ ا “نے بحیثیت مزاح نگار مجھے روشناس کروایا۔

پارچے“ میری مزاح نگاری کا دوسرا پڑاﺅ ہے۔ بقول ممتاز ادیب ، شاعر اور دانشور ڈاکٹر خالد سہیل ” یہ کتاب آپ کا مزاح نگاری میں ایک مقام متعین کرے گی“۔ یہ کتاب اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس میں میں نے ان موضوعات پر مزاح لکھا ہے جس پر آج تک اردو ادب میں نہیں لکھاگیا۔ آج کے دور کے تقاضوں کے تحت میں نے مضامین مختصر رکھے ہیں ۔ اسی طرح ” علیل جبران“ کے قلمی نام سے میرے One Liner فیس بک پر بہت مقبول ہوئے۔ مجھے فیس بک پر اورعام زندگی کے قریبی دوست اب علیل جبران کے نام سے ہی پکارتے ہیں ۔ اس کتاب کا ایک باب ان One Liners پر مشتمل ہے ۔اس میں میرے اپنے انداز کے لکھے گئے ”شخصی خاکے “ بھی ہیں جسے پڑھ کر آپ سب یقینا محظوظ ہونگے۔ یہ کتاب ” ایمزون“پر بھی دستیاب ہے۔پاکستان میں مختصر تعداد میں بھیجی گئی تھی مگر ہاتھوں ہاتھ لے لی گئیں ۔ جلد پاکستان کے لئے OLXپر بھی دستیاب ہوگی۔

سوال: طنز یہ مزاحیہ تحریروں کے ذریعے کیا معاشرے میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے؟

جواب: میرے نزدیک مزاح ایسی خوشگواریت کا نام ہے جواوپر سے آپ کو ہنساتی ہے اور اندرسے سوچنے پر مجبور کردیتی ہے۔میرے پڑھنے والے مجھ سے جس طرح محبت کا اظہار کرتے ہیں اسے دیکھ کر مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ میرا پیغام ان کے دلوں میں اتر تا ہے۔ یہی میرے قلم کی کامیابی ہے۔

سوال: اچھے ادیب میں کیا خوبیاں ہونی چاہئیں؟

جواب: اچھا ادیب اچھا انسان بھی ہو۔ اگر وہ معاشرے کو سدھارنے کے لئے لکھتا ہے تو پھر اسے سب سے پہلے اپنے آپ کو سدھارنا چاہئے تاکہ اس کے لکھے میں سچائی کی طاقت شامل ہو جائے۔

سوال : نو جوانوں میں ادب سے لگاﺅ کم کیوں ہو رہا ہے ؟

جواب : یہ ٹرینڈ صر ف پاکستان میں ہے کیونکہ ہم نے نوجوانوں کو مطالعے کی عادت نہیں ڈالی ۔آپ کینیڈاآکر دیکھ لیں ۔ لائبریریاں نوجوانوں سے بھری رہتی ہیں ۔ ہم جدید تقاضوں کے تحت لکھ رہے ہیں نہ نئے آنے والوں کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔پاکستان میں فنون ِ لطیفہ کیوں زوال پذیر ہے؟ اسے سوچئے اور اس پر باربار لکھیئے ۔

سوال: آپ نے کینیڈا کب اور کیوں ہجرت کی ؟

جواب : میں پاکستان میں اپنے بچوں اور اپنی لائف سے مطمئن نہیں تھا ۔ آزاد ملک میں رہتے ہوئے بھی مجھے ایسا لگتاتھا کہ میں ذہنی طورپر غلام ہوں۔ جو کہنا اور کرنا چاہتا ہوں اس میں بے جا روک ٹوک ہے۔ اگرچہ صحافت میں آگے بڑھ رہا تھا مگر کراچی کے حالات مجھے بے بس کرتے جارہے تھے۔پھر میں نے امیگریشن لی اور اب پندرہ سال بعد سمجھتا ہوں کہ یہ میرا بالکل درست فیصلہ تھا۔ اگرچہ میں نے اپنے کیرئر کو سائیکل کا کیرئر بنا لیا مگر میرے بچوں کے لئے ساری دنیا کے دروازے کھل گئے ۔ وہ اب کینیڈا کی ان یونیورسیٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جس کا ہم جیسے لوئر مڈل کلاس خواب بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔میری ایک بیٹی یونیورسٹی میں جرنلزم میں زیر تعلیم بھی ہے اور یہاں کے سب سے پرانے اور بڑے اخبار” ٹورنٹو سٹار“ کی سٹاف رپورٹربھی ہے۔ الحمدلِلّٰلہ میں نے اپنے بچوں کو آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کر دیا ہے۔

سوال: بہت سے پاکستانی کینیڈا، امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیاجیسےممالک جاناچاہتے ہیں، آپ کا ان کے لئے کیا مشورہ ہے ؟

جواب : قانونی طریقے سے آئیں ۔ صرف کمانے نہ آئیں ، ہجرت کر جائیں تاکہ ان ممالک کے تمام بینیفٹس آپ کو مل سکیں۔ خاص طور پرنوجوانوں کو کہونگا کہ اب کینیڈا ہجرت کرنے کے لئے بہت چھوٹی سی رقم درکار ہوتی ہے۔اگر آپ ماسٹرز ہیں اور اپنی فیلڈ کا پانچ سالہ تجربہ رکھتے ہیں تو کینیڈا کے لئے ضرور اپلائی کریں ۔ یہاں آجائیں تو یہاں کے مطابق اپنی تعلیم مکمل کریں ۔ کینیڈامیں تعلیم سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے آگے بڑھنے کے بڑے مواقع ہیں ۔میں ذہین اور باصلاحیت نوجوانوں کی امیگریشن میں ان کی اخلاقی مدد کر سکتاہوں مگر یاد رکھیں سست اور کاہلوں کا یہاں کوئی مستقبل نہیں ۔

سوال: آخر میں پاکستانی نوجوانوں کے نام کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

جواب : ماسٹرز ضرورکریں ۔ آج کا دور سیلفی اور ”سیلف لائیو“ پیش کرنے کا دورہے۔اگر آپ میں ٹیلنٹ ہے تو اب آج کے نوجوانوں کو اداروں اور مغرور ہستیوں کے آگے جھکنے کی ضرورت نہیں ۔ ٹیکنالوجی کو اپنے ٹیلنٹ کے ساتھ منسلک کیجئے ۔ کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


Leave a Reply

Translate »