اردو زبان میں پاکستان کے واحد سائنس میگزین، ماہنامہ ”گلوبل سائنس“ کراچی کے مدیراعلی محترم علیم احمد صاحب کا تفصیلی انٹرویو

پاکستان میں اردو زبان میں سائنس، کمپیوٹر اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے صرف ایک میگزین، ماہنامہ ”گلوبل سائنس“ کراچی کے حصے میں یہ سعادت آئی ہے کہ یہ سائنسی رسالہ، گزشتہ پندرہ سال سے مسلسل شائع ہورہا ہے اور نوجوان نسل کی تربیت کے لئے بہترین علمی مواد فراہم کررہاہے۔ ماہنامہ ”گلوبل سائنس“ کی ٹیم، نفع نقصان کی پرواہ کئے بغیر، نوجوان نسل کو جدید علوم سے روشناس کروانے کے لئے جو خدمات انجام دے رہی ہے، ان کی یہ سعی کبھی فراموش نہیں کی جاسکتی۔
ماہنامہ ”گلوبل سائنس“ کے مدیرِ اعلیٰ (چیف ایڈیٹر) محترم علیم احمد صاحب، نمود و نمائش سے بے نیا ز، ایک درویش صفت انسان ہیں۔ انہیں اس سے غرض نہیں کہ کوئی ان کے کام کی تعریف و توصیف کرتا ہے یا نہیں۔ حالات جیسے بھی ہوں، ان کے جنون میں کبھی کمی نہیں آئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان میں اگر کسی سائنسی رسالے کا تذکرہ ہوتا ہے تو ماہنامہ ”گلوبل سائنس“ ہی وہ واحد اردو سائنسی جریدہ ہے جو صحیح معنوں میں اپنے معیار کو برقرار رکھے ہوئے ہے؛ اور جس نے کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
میں خاصے عرصے سے اس کوشش میں تھا کہ محترم علیم احمدصاحب سے انٹرویو کا موقع ملے۔ لیکن ان کے پاس فارغ وقت ہی نہیں ہوتا تھا۔ گزشتہ سال جب ایکسپوسینٹر، کراچی میں منعقدہ ایک نمائش میں انہوں نے ماہنامہ ”گلوبل سائنس“ کا اسٹال لگایا تو میں نے یہ موقع غنیمت جانا اور انٹر ویو کے لئے پہنچ گیا۔ میں محترم علیم احمدصاحب کا بہت مشکور ہوں کہ انہوں نے تما م تر مصروفیا ت کے باوجود مجھے انٹرویو کے لئے وقت دیا۔ ان کا یہ تفصیلی انٹرویو، نوجوانوں کے لئے رہنمائی کا خزانہ ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ ان کے اس انٹرویو سے نوجوانوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقعہ ملے گا۔

سوال: آپ نے تعلیم کہاں سے حاصل کی اور بچپن میں آپ کی کیا بننے کی خواہش تھی؟

جواب: میرے والد صاحب (نعیم احمد ایڈووکیٹ) وکیل ہیں، اور میرے آئیڈیل بھی۔ اس لئے جب میں چھوٹا تھا تو میری خواہش تھی کہ بڑا ہوکر وکیل بنوں۔ میں پہلی جماعت ہی سے باغِ ہالار Interview of Mr. Aleem Ahmed with Moneeb Junior. (21st September 2012 at Expo Center Karachi)اسکول میں پڑھ رہا تھا (یہ ہالاری میمن جنرل جماعت کا اسکول ہے جسے بھٹو صاحب کی حکومت نے قومیا لیا تھا لیکن 1986ءمیں اسے دوبارہ ہالاری میمن جنرل جماعت کے سپرد کردیا گیا)۔
تو جب میں نے آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کیا اور نویں جماعت میں آیا، تو ہمارے محلے کے کچھ لڑکوں نے کہا کہ بھئی سائنس نہیں پڑھنا۔ میں نے پوچھا کہ آخر سائنس کیوں نہیں پڑھنی چاہئے؟ تو ایک لڑکے نے کہا: ”میں سائنس لینے کی وجہ سے تین مرتبہ فیل ہوا ہوں، تب کہیں جاکر میٹرک پاس کیا ہے۔ تو سائنس نہ پڑھنا۔“ بچپن سے چیلنج قبول کرنے کی عادت تھی۔ تب میں نے دل میں سوچا کہ اگر سائنس اتنا ہی مشکل مضمون ہے تو اسے ضرور پڑھنا چاہئے۔
سچی بات ہے کہ بچپن میں مجھے سائنس پڑھنے کا بہت زیادہ شوق نہیں تھا۔ میں تو اشتیاق احمد کے جاسوسی ناول بہت شوق سے پڑھتا تھا۔ ہاں! پھر جب سائنس پڑھی تو مزا آیا۔ یہ 1986ءکی بات ہے۔ اس زمانے میں ایک رسالہ ”سائنس میگزین“ (طالب علم) شائع ہوتا تھا، جس کے مدیرِ اعلیٰ جناب سیّد قاسم محمود تھے۔ سائنس میگزین کا پہلا شمارہ جو میری نظر سے گزرا، اس کے سرورق پر ایک سحابئے (نیبولا) کی خیالی اور بہت خوبصورت تصویر چھپی ہوئی تھی۔ اس تصویر میں نظام شمسی کو بنتا ہوا دکھایا گیا تھا۔ میں نے صرف اس تصویر کے چکر میں وہ شمارہ خرید لیا۔ رسالہ تو اردو میں تھا لیکن زبان بڑی مشکل تھی۔ اسے پڑھا تو کچھ چیزیں سمجھ میں آئیں؛ اور کچھ چیزیں نہ سمجھ سکا۔
دو تین مرتبہ پڑھنے کے بعد یہ رسالہ کچھ اچھا لگنا شروع ہوا۔ اس رسالے کی وجہ سے مجھے سائنس کا شوق پیدا ہوا؛ اور پھر میں نے میٹرک کرلیا۔ باغِ ہالار اسکول سے 1987ءمیں جن دو لڑکوں کا ”اے گریڈ“ آیا تھا، ان میں سے ایک میں تھا اور پورے اسکول میں میرے نمبر سب سے زیادہ تھے۔ البتہ میرے نمبروں کی مجموعی فیصد 72.11 تھی۔ خیر! ہوا یہ کہ اباجی کے ایک دوست (صدر الدین انکل) کے کوٹے پر میرا داخلہ آدم جی سائنس کالج میں ہوگیا (ٹیچرز کوٹا پر)۔ بھئی ہم ٹھہرے ”پکے اردو میڈیم والے“ لیکن جب آدم جی سائنس کالج پہنچے تو پریشانی ہوئی؛ کیونکہ وہاں تو تقریباً سارے کے سارے انگلش میڈیم والے تھے۔ ہمارے ساتھ گنتی کے صرف پانچ یا چھ اُردو میڈیم والے تھے؛ باقی سب اولیولز اور انگلش میڈیم والے تھے۔
بتاتا چلوں کہ میٹرک کا امتحان دینے کے بعد ہی میں نے اپنی زندگی کا پہلا مضمون، انگریزی سے اُردو میں ترجمہ کیا تھا۔ اور وہ مضمون جب تک سائنس میگزین میں شائع ہوا، تب تک آدم جی سائنس کالج میں میرا داخلہ ہوچکا تھا۔ مضمون کی اشاعت کے بعد میری ہمت بڑھ چکی تھی اور میں نے آدم جی سائنس کالج میں پڑھتے دوران ہی دو مزید (لیکن مختصر) مضامین تحریر کئے: ایک تو خود آدم جی سائنس کالج کے بارے میں تھا؛ اور دوسرا احصاء(کیلکولس) میں ”حد“ (لمٹ) کے تصور پر تھا۔ خیر سے یہ دونوں مضامین بھی شائع ہوگئے۔
یعنی آدم جی سائنس کالج میں آنے تک مجھے ترجمے کی تھوڑی بہت مشق ہوچکی تھی۔ اس صلاحیت نے بھی میری خاصی مدد کی۔ اور کرنا خدا کا یہ ہوا کہ تین چار مہینوں کے بعد یہ کیفیت ہوگئی کہ ہمارے جو اساتذہ، کلاس میں انگلش میں لیکچر دے رہے ہوتے تھے اور میں اسے اردو میں نوٹ کررہا ہوتا تھا۔ تعلیم میں مدد لینے کےلئے ترجمے کی یہ میری پہلی بھرپور مشق بھی تھی۔
یہاں اگر میں کالج میں اپنے محترم اُستاد، جناب دیدار مرتضیٰ (ڈی مرتضیٰ) کا تذکرہ نہ کروں تو زیادتی ہوگی۔ کالج میں وہ ہمیں انگلش پڑھانے کے علاوہ ہماری ٹیبل ٹینس ٹیم کے کوچ بھی

June 2014 Edition of Global Science

June 2014 Edition of Global Science

تھے۔ انہیں میرا نام تک معلوم نہیں تھا لیکن پھر بھی ہمیشہ بہت محبت سے پیش آتے تھے۔ شام میں وہ ”پاک امریکن کلچرل سینٹر“ (پی اے سی سی) میں بھی انگلش پڑھایا کرتے تھے۔ انگریزی کا خوف دُور کرنے میں انہوں نے بھی نہ صرف میری بلکہ مجھ جیسے اور طالب علموں کی بے حد رہنمائی کی۔
ایک بات اور: میں آج بھی یہ تسلیم کرتا ہوں کہ میں کبھی بہت زیادہ ذہین طالب علم نہیں رہا۔ انٹرمیڈیٹ میں صرف ایک نمبر کم ہونے کی وجہ سے میرا ”اے گریڈ“ نہ بن سکا۔ یہاں میں بطورِ خاص کہنا چاہوں گا کہ زندگی میں اچھے استاد کا مشورہ بہت بے حد قیمتی ہوتا ہے۔ اگر ایک استاد اچھا ہے اور وہ آپ کو صحیح مشورہ، صحیح رہنمائی دے رہا ہے، تو وہ ساری زندگی آپ کے کام آتی ہے۔ ہوا یوں کہ 1989ءکے اکتوبر میں ہمارا انٹرمیڈیٹ کا رزلٹ آگیا۔ اے گریڈ میں صرف ایک نمبر کم دیکھ کر میں مسوس کر رہ گیا۔ اگلے سال (غالباً ستمبر 1990ءمیں) کسی وجہ سے میرا کالج جانا ہوا۔ اُس دن محض اتفاقاً ”سر احمد“ سے میرا سامنا ہوگیا۔ (میرا اشارہ سر آئی احمد کی طرف ہے، جو آج کل ٹیوشن کی دنیا میں بہت شہرت رکھتے ہیں جبکہ کالج میں اُن کی ”لانگ کلاسز“ بہت مشہور ہوا کرتی تھیں۔) سر احمد بھی میرا نام نہیں جانتے تھے، صرف شکل سے پہچانتے تھے کیونکہ میں اکثر اگلی قطاروں ہی میں بیٹھا کرتا تھا۔ بہرحال! میری صورت دیکھتے ہی انہوں نے مجھ سے انٹرمیڈیٹ میں میری پرسنٹیج کے بارے میں پوچھا۔
میں نے رونی صورت بناتے ہوئے انہیں جواب دیا کہ میرا اے گریڈ میں صرف ایک نمبر کم رہ گیا ہے۔ وہ کہنے لگے کہ اس پرسنٹیج پر تو آپ کو این ای ڈی یونیورسٹی میں داخلہ نہیں ملے گا،
مگر شاید داﺅد انجینئرنگ کالج میں داخلہ مل جائے۔ لیکن وہاں پر کوٹے کا چکر بہت زیادہ ہوتا ہے؛ اس لئے وہاں داخلے کےلئے بھی بہت زیادہ امیدیں رکھنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد جو انہوں نے کہا، اسے میں ایک اچھے استاد کا صحیح مشورہ کہتا ہوں۔ کہنے لگے: ”اگر تم کالج سے بی ایس سی کرنا چاہتے ہو تو اسلامیہ کالج میں داخلہ لے لو، کیونکہ شہر میں اس وقت بی ایس سی کروانے والا، سب سے اچھا کالج وہی ہے،“ یہ میں آپ کو آج سے چوبیس سال پہلے کی بات بتا رہا ہوں، ”لیکن اگر تم واقعی پڑھنا چاہتے ہو تو کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لے لو۔“
میں نے کہا کہ سر! کراچی یونیورسٹی کے بارے میں تو لوگ بڑی غلط باتیں بتاتے ہیں کہ وہاں کا ماحول بہت خراب ہے؛ وہاں تو آئے دن ہنگامے ہوتے رہتے ہیں وغیرہ۔ اس پر انہوں نے مجھ سے ایک سوال کردیا: ”میاں یہ بتاﺅ کہ جتنے لوگ یہ اعتراضات کررہے ہیں، کیا ان میں سے کوئی ایک شخص بھی کراچی یونیورسٹی سے پڑھا ہوا ہے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ تو وہ کہنے لگے، ”بس! جن لوگوں نے کبھی کراچی یونیورسٹی کی شکل نہیں دیکھی، کبھی وہاں پڑھے ہی نہیں؛ اور اگر کبھی وہاں گئے بھی ہوں تو بس ایسے ہی آتے جاتے نظر بھر کر دیکھ لیا ہو، تو ان لوگوں کا کراچی یونیورسٹی کے بارے میں اور وہاں کی تعلیم کے بارے میں رائے دینا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ایک استاد کی حیثیت سے تمہیں میرا مشورہ یہ ہے کہ اگر تم واقعی پڑھنا چاہتے ہو تو کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لے لو۔“
تب تک میں اسلامیہ کالج اور کراچی یونیورسٹی میں فارم جمع کرواچکا تھا۔ اگلے ہفتے میرا نام اسلامیہ کالج میں آگیا لیکن میں اپنا ذہن تبدیل کرچکا تھا۔ میں نے کراچی یونیورسٹی میں داخلے کا انتظار کیا۔ میں نے کراچی یونیورسٹی کے فزکس ڈیپارٹمنٹ (شعبہ طبیعیات) میں بی ایس سی آنرز کے لئے درخواست دی ہوئی تھی۔ اللہ کا شکر ہے میرا نام وہاں آگیا۔ اس زمانے میں داخلہ ٹیسٹ کا چکر نہیں ہوتا تھا، صرف نمبروں کی بنیاد پر داخلہ ہوجاتا تھا؛ ورنہ شاید میں فیل ہو جاتا۔
اب آپ اسے باقی لڑکوں کی بدقسمتی کہئے یا میری خوش نصیبی، کہ جب جامعہ کراچی میں ہماری بی ایس سی آنرز (فزکس) کی کلاسیں شروع ہوئیں، تو معلوم ہوا کہ اُس سال ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے سب سے اچھے فزسٹ (ماہرِ طبیعیات) ڈاکٹر خورشید اطہر صدیقی، جو پاکستان اور دنیا میں نظری طبیعیات (تھیوریٹیکل فزکس) کے میدان میں بھی بڑی شہرت رکھتے تھے، وہ ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے چیئر مین (پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیع مرحوم) سے کہنے لگے کہ اس سال فرسٹ ایئر آنرز (فزکس) والوں کو پہلا سمسٹر وہی پڑھائیں گے۔ اور اتفاق سے، جو کلاس انہیں پڑھانے کے لئے دی گئی، وہ ہماری ہی تھی۔
اُن دنوں میں ماہنامہ ”سائنس میگزین“ میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر ملازمت بھی کر رہا تھا (یہ تفصیلی تذکرہ میں بعد میں کروں گا)۔ ویسے تو سر خورشید (پروفیسر ڈاکٹر خورشید اطہر صدیقی) بہت سخت استاد تھے، لیکن جلد ہی وہ میرے آئیڈیل اُستاد بنے۔ میں آج تک انہیں ویسی ہی عزت دیتا ہوں، اتنے ہی احترام کی نظر سے دیکھتا ہوں کہ جس طرح میں بی ایس سی آنرز کے زمانے میں تھا۔
1993ءمیں بی ایس سی آنرز کے بعد، ایم ایس سی (فزکس) کی پڑھائی صرف ایک سال کی ہوا کرتی تھی۔ کراچی یونیورسٹی سے ہمیں 1994ءکے اختتام تک ایم ایس سی کرکے فارغ ہونا تھا۔ لیکن ہنگاموں کی وجہ سے تاخیر ہوئی اور میرا ایم ایس سی مکمل ہوتے ہوتے 1995ءکے سات آٹھ مہینے گزر گئے۔ یوں میں نے کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا۔ تو میرے بھائی! میں صرف ایم ایس سی فزکس ہوں؛ میرے پاس صحافت کی کوئی ڈگری تو کیا، سرٹیفکیٹ بھی نہیں۔

سوال: آپ شعبہ صحافت سے کب وابستہ ہوئے اور صحافت کے اسرار و رموز سیکھنے میں آپ کو کن شخصیات سے رہنمائی حاصل کرنے کاموقع ملا؟

جواب: آپ کے سوال کا جواب دینے سے پہلے میں جارج برناڈشا کا ایک قول سنانا چاہوں گا، جسے جناب مختار مسعود نے اپنی مشہور کتاب ”آوازِ دوست“ میں کچھ یوں تحریر کیا ہے: جس Mr. Aleem Ahmed Editor-in-Chief Monthly Global Science Karachi. (21st September 2012 at Expo Center Karachi)موقعے پر خواہشِ قلبی اور فرضِ منصبی ایک ہوجائیں، اسے خوش بختی کہتے ہیں۔ تو میں اس لحاظ سے خوش نصیب ہوں کہ جو میرا دل چاہتا تھا اور جو میری خواہش تھی، جو میرا مشن اور ”پیشن“ (محبت) تھا، وہی میرا پروفیشن (پیشہ) بنا۔ میں واقعی خوش نصیب ہوں، کیونکہ عام طور پر لوگوں کو اپنی پوری زندگی میں اپنے وقت کے ایک بڑے استاد کا دستِ شفقت بھی میسر نہیں، جبکہ مجھے اپنی اب تک کی زندگی میں درجن بھر سے بھی زیادہ عظیم ہستیوں سے براہِ راست سیکھنے کا، اُنہیں رُوبرو دیکھنے کا، اُن کی باتیں اور نصیحتیں سننے کا موقع ملا ہے۔
میں نے اپنی زندگی کا پہلا مضمون، ماہنامہ سائنس میگزین میں اشاعت کےلئے جون 1987ءمیں بھیجا تھا۔ تب میری عمر 16 سال ہونے میں ایک مہینہ کم تھی (وہ مضمون سائنس میگزین کے شمارہ اکتوبر میں شائع ہوا)۔ ایک مہینے بعد، یعنی جولائی 1987ءمیں مجھے ایک چھوٹی سی پرچی پر لکھا ہوا، جناب سیّد قاسم محمود کا خط موصول ہوا۔ اس خط میں شاید صرف چار سطریں تھیں اور اس میں سیّد صاحب نے میرے مضمون میں املاءکی ایک غلطی کی نشاندہی کرنے کے بعد لکھا تھا کہ یہ مضمون، جلد ہی چھپ جائے گا۔ میں بہت خوش ہوا۔ اس طرح 1987ءمیں میرا صحافتی سفر شروع ہوا۔ چند ماہ بعد کالج میں داخلہ ہوگیا اور جولائی 1989ءتک میں انٹرمیڈیٹ (پری انجینئرنگ) کا امتحان دے کر فارغ ہوگیا۔
اس دوران میری دو اَور، چھوٹی چھوٹی تحریریں بھی سائنس میگزین میں شائع ہوچکی تھیں۔ اُس زمانے میں انٹرمیڈیٹ کا امتحان دینے کے بعد بی ایس سی یا کسی یونیورسٹی وغیرہ میں داخلے تک کے درمیان پورے ایک سال تک انتظار کرنا پڑتا تھا۔ یعنی اکتوبر 1989ءمیں ہمارا انٹرمیڈیٹ کا رزلٹ آیا، اور کراچی یونیورسٹی میں داخلے غالباً ستمبر 1990ءمیں شروع ہوئے جبکہ کلاسیں شروع ہوتے ہوتے اکتوبر 1990ءکا مہینہ ہوگیا۔
غرض کہ انتظار کا یہ ایک سال کسی نہ کسی طرح تو گزارنا ہی تھا۔خیر! اگست 1989ءمیں امریکن سینٹر لائبریری (جو موجودہ میریٹ ہوٹل کے برابر میں ہوا کرتی تھی اور امریکی سفارت خانے کا ایک حصہ تھی)، اور برٹش کونسل لائبریری (نزد کینٹ اسٹیشن، کراچی) میں آنے والے مختلف سائنسی رسائل و جرائد کھنگالنے کے بعد ایک بڑے مضمون (خصوصی فیچر) کےلئے مختلف ذرائع سے مواد اکٹھا کیا اور (اپنے حساب سے) بڑی ”ریسرچ“ (تحقیق) کے بعد ایک طویل مضمون (اُردو میں) لکھ لیا۔ مضمون پڑھا تو اور بھی خوشی ہوئی کہ زندگی میں پہلی بار اتنی ”تحقیق“ کے بعد ایک تحریر قلم بند کرلی ہے۔
یہ غالباً 7 ستمبر 1989ءکی بات ہے۔ مضمون کی نوک پلک سنوارنے اور ضروری تصویروں کی فوٹوکاپیاں ساتھ لگانے کے بعد میں اسے لفافے میں بند کرکے خود ہی سائنس میگزین کے دفتر جاپہنچا۔ یہ لائٹ ہاﺅس کے سامنے، پیپر مارکیٹ والی سڑک پر ”حاجی بلڈنگ“ نامی ایک پرانی عمارت میں پہلی منزل پر ہوا کرتا تھا۔ (افسوس کہ کچھ عرصہ پہلے یہ عمارت آتشزدگی کی وجہ سے تباہ ہوگئی۔) تو جب میں سائنس میگزین کے دفتر پہنچا، وہاں اتفاق سے جناب سیّد قاسم محمود بھی موجود تھے۔ میں نے بہت ادب سے ان کی خدمت میں وہ مضمون پیش کیا۔ ان کے پاس کالے رنگ کا ایک بریف کیس ہوا کرتا تھا۔ انہوں نے وہ بریف کیس کھولا اور میرے مضمون کو نظر بھر کر دیکھے بغیر ہی اندر پھینک دیا۔ اس پر میرے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی۔ میں بے اختیار کہہ اٹھا: ”سر! میں نے یہ مضمون بڑی محنت سے لکھا ہے۔“
یہ سن کر انہوں نے مجھے ”محنت“ کے موضوع پر ایک گھنٹے کا لیکچر دیا۔ لب لباب اس کا یہ تھا کہ آپ کو یہ نہیں کہنا چاہئے تھا کہ میں نے یہ بہت محنت سے لکھا ہے، ”محنت تو آپ نے کی ہے، تبھی تو لکھ کر لائے ہیں۔ آپ کو یوں کہنا چاہئے تھا کہ میں نے خصوصی محنت کی ہے۔“

پھر بات سے بات نکلی۔ میں نے بھی صحافت کے بارے میں نابلد ایک طالب علم کی حیثیت سے انہیں ”سائنس میگزین“ کو بہتر بنانے کےلئے کچھ مشورے دیئے بالکل اسی طرح جیسے آج Mr. Aleem Ahmed giving interview to Moneeb Junior (21 September, 2012)ہمارے قارئین ہمیں مشورے دیتے رہتے ہیں۔ خیر! وہ میرے مشوروں کے جوابات دیتے رہے۔ بات کچھ اور آگے بڑھی تو سید صاحب کہنے لگے کہ بھئی ”باتیں کرنے والے بہت ہوتے ہیں۔ کام کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔“ میں تو تھا ہی فارغ، اور ذہن میں یہ تھا کہ کہیں نہ کہیں، کچھ نہ کچھ کرنا ہے۔ تو میں نے کہا ”سر! میں آپ کو کام کرکے دکھاﺅں گا۔“
بات کچھ اور آگے بڑھی تو کہنے لگے، ”میاں! ایڈیٹر تو دھکے کھاکر سب ہی بن جاتے ہیں۔ لیکن اچھا ایڈیٹر وہ ہوتا ہے، جو مضمون کو ”ریجیکٹ“ (مسترد) کرنا جانتا ہو۔“ سچی بات ہے کہ اُس وقت یہ بات میری سمجھ میں بالکل بھی نہیں آئی۔ اس کے باوجود میں نے خم ٹھونک کر کہا: ”سر! میں آپ کو اچھا ایڈیٹر بن کر دکھاﺅں گا۔“ یوں یہ طے ہوگیا کہ مجھے سائنس میگزین کی ملازمت اختیار کرنی ہے۔ چند دن بعد ہی میں سیّد صاحب کے سمجھائے ہوئے پتے کے مطابق، سائنس میگزین کے ادارتی دفتر پہنچ گیا۔ یہ نارتھ کراچی میں سیکٹر11-B میں ”بارہ دری“ بس اسٹاپ کے قریب ”ملک صدیق پوائنٹ“ نامی عمارت میں پہلی منزل پر تھا۔ (آج کل وہاں ایک اسکول کھل چکا ہے۔)
خیر! وہاں پہنچا تو سیّد صاحب پہلے سے موجود تھے۔ ان سے بات چیت ہوئی اور انہوں نے مجھے جز وقتی (پارٹ ٹائم) ملازمت کی پیشکش کردی۔ یہ سلسلہ تقریباً دو ہفتے تک چلا۔ اس کے بعد، غالباً یکم اکتوبر 1989ءکی دوپہر کو، سیّد صاحب نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا اور کہا کہ پچھلے چند دنوں کی پارٹ ٹائم ملازمت تو میری آزمائش تھی؛ جس کے دوران انہیں میرا کام پسند آیا ہے، اور اب وہ چاہتے ہیں کہ میں سائنس میگزین کےلئے کُل وقتی (فل ٹائم) نائب مدیر کی ذمہ داریاں سنبھالوں۔
اس طرح میری سائنس میگزین سے باقاعدہ وابستگی اور سید قاسم محمود صاحب کی شاگردی، دونوں کاایک ساتھ آغاز ہوا۔ یہاں میں سوا دو سال تک (یعنی دسمبر 1991ءتک) رہا۔ اس دوران بہت سے تجربات ہوئے جنہیں یہاں بیان کرکے میں اس انٹرویو کو مزید طویل کرنا نہیں چاہتا۔
بہرکیف، سیّد صاحب میری کارکردگی اور لگن سے بہت خوش تھے۔ میری ملازمت کے تین ماہ بعد ہی وہ اکثر کہنے لگے تھے: ”بھئی! سائنس میگزین کی طرف سے علیم نے تو مجھے بے فکر کردیا ہے۔“ اور پھر، سائنس میگزین کے ”پلاٹینم جوبلی نمبر“ (شمارہ جنوری 1991ئ) سے انہوں نے مجھے سائنس میگزین کے اسسٹنٹ ایڈیٹر سے ترقی دے کر ”فُل ایڈیٹر“ بنادیا۔ تب میری عمر 19 سال اور 5 مہینے تھی۔
یہ پاکستان کی صحافتی تاریخ میں بھی ایک ریکارڈ میں ہے۔ کیونکہ 19 سال 5 مہینے کا کوئی نوجوان، شاید اپنے والد کے رسالے یا اخبار میں تو ایڈیٹر بن گیا ہو، لیکن اس طرح میرٹ پر ساڑھے اُنیس سال کا کوئی نوجوان تب تک ایڈیٹر نہیں بنا تھا۔ (کم از کم میری معلومات تو یہی ہیں۔) وہ بھی سائنس کے ایک ماہنامے کا۔ غرض یہ کہ میں بڑا خوش تھا، بہت ہی خوش۔
لیکن اسی دوران ستمبر/ اکتوبر 1990ءمیں میرا داخلہ، جامعہ کراچی کے شعبہ طبیعیات (فزکس ڈیپارٹمنٹ) میں ہوچکا تھا؛ اور پڑھائی بھی شروع ہوگئی تھی۔ تب مجھے احساس ہوا کہ کراچی یونیورسٹی میں پڑھنے کو ہم جتنا آسان سمجھ رہے تھے، یہ اتنا آسان اور ”ہلکا“ کام نہیں۔ خیر! 1991ءکو تو میں نے جیسے تیسے کرکے کھینچا، اور آخرکار سید صاحب سے کہا: ”سر! مجھے اپنی پڑھائی مکمل کرنی ہے، ایم ایس سی کرنا ہے۔ اس لئے میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ ملازمت نہیں کر پاﺅں گا۔
اُن دنوں میرا معمول یہ ہوا کرتا تھا کہ میںصبح اٹھتا، اورسوا سات سے ساڑھے سات بجے کے دوران گھر سے نکل پڑتا تھا۔ یونیورسٹی کی بس (بہار کالونی کا پوائنٹ) صبح پونے آٹھ بجے آتی تھی۔ اس میں بیٹھ کر ساڑھے آٹھ بجے یونیورسٹی پہنچتا تھا، وہاں کلاسز لیتا اور یونیورسٹی سے کبھی ایک بجے، کبھی تین بجے تو کبھی پانچ بجے نکلتا؛ اور وہاں سے سیدھا نارتھ کراچی، سائنس میگزین کے ادارتی دفتر، چلا جاتا تھا۔ اگر سائنس میگزین کے دفتر میں کام زیادہ ہوجاتا تو سیّد صاحب سے کہتا کہ سر! میرے گھر پر فون کروادیجئے گا کہ میں آج رات نہیں آﺅں گا۔ ساری رات وہاں کام کرتا، فجر سے کچھ دیر پہلے یا فجر پڑھ کر سوتا تھا۔ تین چار گھنٹے کی نیند لیتا، صبح اٹھتا، دفتر ہی میں ناشتہ کرتا اور یونیورسٹی پہنچ جاتا تھا۔ کبھی یہ ہوتا تھا کہ یونیورسٹی سے ایک بجے فارغ ہوا اور (گھر پر شکل دکھانے کے بجائے) دو بجے سائنس میگزین کے دفتر پہنچ گیا۔ یوں عموماً سہ پہر تین بجے سے رات آٹھ نو بجے تک دفتر میں کام کرتا اور پھردو یا تین بسیں بدل کر، رات کو گیارہ بارہ بجے گھر پہنچتا تھا۔ تو یہ میرا معمول ہوا کرتا تھا۔

A group photo of all the participants, taken during "Challenges for Science in Muslim Countries," a closed-meeting, jointly organized by Rockefeller Foundation and Nature Publishing Group, in May 2006 with Daniel Sheffer, Sameer Hamruni, ASTF, UAE, Prof.Dr. Atta ur Rahman, Ziauddin Sardar, London, UK, DR. M H Hassan, TWAS, Farida Shah, Dr. Saleh Al Athal, Saudi Arabia, Dalaila Al Khazairi, Egypt, Nader Fergany, Philip Campbell, Editor in Chief, Nature Publishing Group, Declan Butler, Nature, France, Nadia El Awady, Egypt, Ehsan Masood, Huda Al Mikati, Allen Fischer, US and Zohra Ben Lakhdar, Tunisia at Bellagio, Italy.

A group photo of all the participants, taken during “Challenges for Science in Muslim Countries,” a closed-meeting, jointly organized by Rockefeller Foundation and Nature Publishing Group, in May 2006 with Daniel Sheffer, Sameer Hamruni, ASTF, UAE, Prof.Dr. Atta ur Rahman, Ziauddin Sardar, London, UK, DR. M H Hassan, TWAS, Farida Shah, Dr. Saleh Al Athal, Saudi Arabia, Dalaila Al Khazairi, Egypt, Nader Fergany, Philip Campbell, Editor in Chief, Nature Publishing Group, Declan Butler, Nature, France, Nadia El Awady, Egypt, Ehsan Masood, Huda Al Mikati, Allen Fischer, US and Zohra Ben Lakhdar, Tunisia at Bellagio, Italy.

میں یہ سب باتیں آپ کو اس لئے بتا رہا ہوں کہ اگر آج کل آپ فیس بک پر ”اسٹیٹس اپ ڈیٹ“ کرکے، ٹویٹر پر ”ٹویٹ“ کرکے یا انٹرنیٹ سرفنگ کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ بڑی محنت کر لی ہے، تو میں کہتا ہوں کہ یہ تو صرف انگلیوں کی مشقت ہے۔ اس کے مقابلے میں یہ کچھ بھی نہیں۔ یہاں دماغ کم چل رہا ہوتا ہے، انگلیاں زیادہ چل رہی ہوتی ہیں اور آنکھوں پر زیادہ بوجھ پڑ رہا ہوتا ہے۔ آپ خود سوچئے کہ اُس زمانے میں اُنیس بیس سال کا ایک لڑکا، جو اوسط ذہانت سے بھی کچھ کم کا حامل تھا، یہ سب کچھ کررہا ہوتا تھا۔ جبکہ مجھے کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ میں نے بہت زیادہ کام کرلیا ہے، یا یہ کہ فلاں کام میں کیوں کروں۔ اللہ کا شکر ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا۔ غور کیجئے کہ ماشاءاللہ آج کے نوجوان کو پہلے سے کہیں زیادہ سہولیات میسر ہیں، وہ ہم لوگوں سے زیادہ ذہین ہیں۔ کمی صرف اس بات کی ہے کہ وہ صحیح طرح سے محنت کرنے، اور درست طور پر علم و ہنر سیکھنے کی طرف مائل نہیں۔ علم و ہنر جتنا سیکھیں گے، کم ہی رہے گا۔ آج مجھے صحافت میں آئے ہوئے چھبیس سال ہوچکے ہیں، لیکن آج بھی میں اپنے علم سے، ہنر سے، مہارت اور تجربے سے مطمئن نہیں ہوسکا۔ اور میں مطمئن ہونا بھی نہیں چاہتا کیونکہ کم علمی کا احساس اور اس سے پیدا ہونے والی بے اطمینانی ہی آپ میں آگے بڑھنے کی لگن کو زندہ رکھتے ہیں۔
تو جناب! ایک باقاعدہ ملازم کی حیثیت سے میرا صحافتی سفر یہیں سے شروع ہوا۔ اپنی پڑھائی کی وجہ سے میں نے جنوری1992ءمیں سائنس میگزین کو خیر باد کہہ دیا۔ لیکن وہ کہتے ہیں ناں کہ میں تو کمبل چھوڑتا ہوں، کمبل مجھے نہیں چھوڑتا۔ میں نے سائنس میگزین کی ملازمت ضرور چھوڑ دی، لیکن سائنسی صحافت کو نہیں چھوڑ پایا۔

Monthly Global Science Karachi

Special Edition on Mr. Syed Qasim Mehmood in May 2011

ہوا یوں کہ غالباً ستمبر یا اکتوبر 1991ءمیں میری ملاقات جناب عظمت علی خاں سے ہوئی (اللہ تعالیٰ جنت میں اُن کے درجات بلند فرمائے)۔ وہ چند ماہ پہلے ہی پی سی ایس آئی آر کے ”سائنٹفک انفارمیشن سینٹر“ (ایس آئی سی) سے ریٹائر ہوئے تھے اور ”پی اے ایس ایس پی ٹرسٹ“ (پاکستان ایسوسی ایشن فار سائنٹسٹس اینڈ سائنٹفک پروفیشنز، ٹرسٹ) کے پلیٹ فارم سے دو ماہی سائنسی جریدہ ”نوائے سائنس“ نکالنا چاہتے تھے۔ اس ادارے کا دفتر گلشن چورنگی پر ”سائنس سینٹر“ میں تھا، جو آج ”سلیم الزماں صدیقی سائنس سینٹر“ کہلاتا ہے اور گلشن چورنگی فلائی اوور کے برابر میں دیکھا جاسکتا ہے۔
معلوم یہ ہوا کہ عظمت صاحب 1964ءمیں پی سی ایس آئی آر سے ایک سہ ماہی سائنسی جریدہ ”کاروانِ سائنس“ نکالتے رہے ہیں، جسے وہ ”نوائے سائنس“ کی صورت میں دوبارہ سے زندہ کرنا چاہتے ہیں۔ پہلی ملاقات میں فون نمبروں کے تبادلے کے بعد میرے پاس عظمت صاحب کے فون آنے لگے۔ ہر مرتبہ وہ یہی کہا کرتے تھے کہ میاں! ہمیں ایک نوجوان ایسوسی ایٹ ایڈیٹر کی ضرورت ہے جو شام پانچ بجے سے لے کر رات نو بجے تک ہمارے دفتر میں وقت دے سکے۔
میں سائنس میگزین کی ملازمت تو چھوڑ چکا تھا، لیکن ہاتھوں میں مسلسل کھجلی ہوتی رہتی تھی کہ کچھ نہ کچھ لکھتے رہنا چاہئے۔ دریں اثناءمیں نے روزنامہ جنگ کے سائنسی صفحے، اخبارِ جہاں اور سائنس ڈائجسٹ کےلئے بھی مضامین لکھنا شروع کردیئے تھے؛ البتہ کہیں اور ملازمت کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔ مگر پھر جنوری سے مئی 1992ءکے دوران کچھ ایسے واقعات ہوئے کہ میں نے عظمت صاحب کی پیشکش قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
یوں میں نے جون 1992ءمیں ”نوائے سائنس“ کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے ملازمت شروع کردی۔ اسے میری خوش نصیبی ہی کہئے کہ وہاں ملازمت شروع ہونے کے صرف نو دن بعد (9 جون 1992ءکے روز) شام کے وقت سائنس سینٹر کی دوسری منزل پر ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا؛ جس میں فیصلہ ہوا کہ ”بزمِ سائنسی ادب“ کے نام سے، سائنس کو ادب کے ذریعے، فروغ دینے کےلئے ایک تنظیم قائم کی جائے۔ غالباً اُس اجلاس میں درجن بھر سے کچھ زیادہ افراد شریک ہوئے تھے۔ اور، ملازمت کے باعث وہاں موجود ہونے کی وجہ سے، میں بھی اس اجلاس میں شریک تھا۔ یوں میں بزمِ سائنسی ادب کا کم عمر ترین بانی رکن بھی قرار پایا۔
یہاں میں کچھ باتیں خاص طور پر سائنسی صحافت میں میرے اوّلین اُستاد، جناب عظمت علی خاں کے بارے میں بتانا چاہوں گا۔ انہیں سن کر آپ کو شاید میری حماقت اور کم علمی پر ہنسی آئے۔ ہوا یوں کہ جب عظمت صاحب سے میرا پہلی پہلی بار تعارف ہوا، تو مجھے ”کاروانِ سائنس“ اور عظمت صاحب، دونوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ عظمت صاحب کتنی عظیم ہستی ہیں۔ تو جب عظمت صاحب نے مجھے نوائے سائنس کےلئے جزوقتی ملازمت کی پیشکش کی، تو میں نے کچھ واقف کاروں سے مشورہ لیا۔ کم و بیش سب ہی کو اس پر حیرانی تھی کہ عظمت صاحب جیسا بڑا آدمی، ایک نوجوان کو ایسوسی ایٹ بننے کی پیشکش کیسے کررہا ہے؟ قصہ مختصر یہ کہ سب لوگوں نے ایک ہی مشورہ دیا: اگر عظمت صاحب نے آپ کو یہ پیشکش کی ہے، تو آپ کو فوری طور پر قبول کرلینی چاہئے۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ غالباً وہ مئی 1992ءکی کوئی شام تھی۔ میں سائنس ڈائجسٹ کے دفتر (واقع کمرہ نمبر 207، النور چیمبر، پریڈی اسٹریٹ، کراچی) میں رضی صاحب سے اسی سلسلے میں مشورہ لینے گیا ہوا تھا۔ میں نے بڑے بھولپن سے کہا: ”رضی صاحب! گلشن چورنگی پر سائنس سینٹر نامی ایک عمارت کی دوسری منزل پر کوئی عظمت علی خاں بیٹھا کرتے ہیں۔ وہ نوائے سائنس کے نام سے ایک دو ماہی سائنسی رسالہ نکالنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مجھے وہاں پر نائب مدیر (ایسوسی ایٹ ایڈیٹر) بننے کی پیشکش کی ہے۔ کیا آپ مجھے ان صاحب کے بارے میں کچھ بتاسکتے ہیں؟“ لیکن عظمت صاحب کا نام سن کر تو رضی صاحب گویا اُچھل پڑے۔ کہنے لگے: ”ارے علیم صاحب! آپ کو عظمت صاحب نے پیشکش کی ہے؟ یقین کیجئے کہ اگر پاکستان میں سائنسی صحافت کے میدان میں میجر آفتاب حسن (مرحوم) کے بعد کسی شخص کا نام لیا جاسکتا ہے، تو وہ بلاشبہ عظمت علی خاں ہی ہیں۔ آپ کو تو یہ پیشکش فوراً قبول کرلینی چاہئے۔“
غرض اسی طرح کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے میں نے یکم جون 1992ءسے سائنس سینٹر میں پارٹ ٹائم ملازمت شروع کردی۔ وہاں مجھے1800 روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی۔ جب میں نے سائنس میگزین کو خیرباد کہا تھا، تو فل ٹائم ایڈیٹر ہونے پر بھی میری تنخواہ، گیارہ سو روپے ماہانہ تھی۔ مجھے تو یوں لگا جیسے میری لاٹری نکل آئی ہو۔
سائنس سینٹر کی ملازمت اور عظمت صاحب کی شاگردی، دونوں کا آغاز ایک ساتھ ہوا۔ ملازمت تو صرف نو ماہ بعد ہی چھوڑ دی، لیکن عظمت صاحب کی شاگردی میں ایسا آیا کہ آج بھی (جبکہ اُن کے انتقال کو سال بھر سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے) میں خود کو عظمت صاحب کا شاگرد ہی سمجھتا ہوں۔
مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی شرم نہیں کہ اگرچہ عظمت صاحب کی شاگردی میں آنے سے پہلے میں سائنس میگزین کا مدیر رہ چکا تھا اور تب تک سینکڑوں سائنسی مضامین بھی لکھ چکا تھا۔ لیکن، سائنسی صحافت سے سچی لگن ہونے کے باوجود، مجھے ہر گز یہ معلوم نہیں تھا کہ سائنسی صحافت کیا ہوتی ہے؛ اور یہ کہ ”عمومی سائنسی جرائد“ کسی عام رسالے سے کیونکر مختلف ہوتے ہیں۔ عظمت صاحب کی شاگردی میں آنے کے بعد ہی میں نے صحیح معنوں میں سائنس جرنلزم سیکھی۔ جب میں عظمت صاحب کے پاس آیا تو انہون نے سائنس جرنلزم (سائنسی صحافت) کی ایک ایک باریکی کھول کھول کر سمجھائی۔ یعنی ان سات مہینوں کے دوران جو میں نے سیکھا، وہ آج تک میرے ساتھ ہے۔
جب سائنس سینٹر میں ملازمت شروع ہوئی تو معلوم ہوا کہ سائنسی اداروں میں بھی ”علمی سیاست“ ہوتی ہے۔ پی اے ایس ایس پی میں بھی ایک ”عظمت مخالف“ گروپ ہر وقت سرگرم رہتا تھا۔ نوائے سائنس کا سارا منصوبہ عظمت صاحب نے ترتیب دیا، اور اس جریدے کےلئے تمام بھاگ دوڑ بھی عظمت صاحب ہی نے کی۔ لیکن مخالف گروپ کے لوگ اس مجوزہ جریدے کو اپنی نگرانی میں، اور اپنی پسند ناپسند کے مطابق شائع کرنا چاہتے تھے۔ عظمت صاحب کا موقف تھا کہ سائنس کا رسالہ ایک عام جریدے سے بہت مختلف ہوتا ہے، اور ایسے کسی پرچے کو شائع کرنے کےلئے جو مہارت درکار ہے، وہ اُن میں سے کسی ایک فرد کے پاس بھی نہیں۔ تو اسی رسہ کشی میں فروری 1993ءکا مہینہ آگیا لیکن نوائے سائنس اپنی اشاعت ہی شروع نہ کرپایا۔
تب تک بی ایس سی آنرز میں میرا آخری سال آچکا تھا اور ایم ایس سی ہونے میں مزید ایک سال باقی تھا۔ جب میں نے یہ دیکھا کہ نوائے سائنس کی اشاعت شروع ہونے کے کوئی آثار ہی نہیں، تو میں نے مفت کی تنخواہ لینا مناسب نہیں سمجھا۔ نہایت ادب سے عظمت صاحب سے گزارش کی اور کہا کہ میری پڑھائی کا دباﺅ مسلسل بڑھ رہا ہے؛ اور نوائے سائنس کے آثار بھی نظر نہیں آتے۔ لہٰذا مجھے اجازت دیجئے۔ عظمت صاحب نے نہایت خندہ پیشانی سے، دعائیں دیتے ہوئے، مجھے رخصت کیا۔
لیکن، ایک بار پھر، وہی ”کمبل“ والی مثال مجھ پر صادق آگئی۔ ہوا یوں کہ میں نے فروری1993ءمیں سائنس سینٹر کی ملازمت چھوڑدی۔ لیکن اگلے ہفتے میرے میرے استاد، پروفیسر ڈاکٹر خورشید اطہر صدیقی نے مجھے بلایا اور کہا: ”بھئی ریڈیو پاکستان میں میرا ایک شاگرد ہے، سبطین جعفری۔ وہ سائنس کا پروگرام شروع کر رہا ہے۔ اسے کوئی نیا لڑکا چاہئے۔ میں نے تمہارا نام لیا ہے۔ تم جا کر مل لو۔“
کچھ روز بعد ہی میں ریڈیو پاکستان، کراچی جاپہنچا اور پروڈیوسر سبطین جعفری صاحب سے ملا۔ معلوم ہوا کہ وہ خود ایم ایس سی فزکس ہیں۔ (ریڈیو پاکستان سے وہ اسٹیشن ڈائریکٹر کے طور

Mr. Aleem Ahmed with Dr. Phillip Campbell (Editor-in-Chief "Nature Publishing Group") at World Conference of Science Journalist, Melbourne, Australia. 2007

Mr. Aleem Ahmed with Dr. Phillip Campbell (Editor-in-Chief “Nature Publishing Group”) at World Conference of Science Journalist, Melbourne, Australia. 2007

پر ریٹائر ہوئے ہیں۔) ریڈیو پاکستان کراچی میں سبطین جعفری صاحب سے میری پہلی ملاقات، مارچ1993ءکے وسط میں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک ہفت روزہ سائنسی پروگرام ”سائنس کلب“ شروع کررہے ہیں جو ہفتے میں ایک مرتبہ، جمعے کے دن نشر ہوگا۔ پھر مجھ سے پوچھنے لگے: ”آپ اس پروگرام کے لئے کیا کرسکتے ہیں؟“ میں نے کہا، ”سر آپ مجھے بتادیجئے کہ آپ مجھ سے کیا کام لے سکتے ہیں۔“ کہنے لگے، ”اچھا! پروگرام کے لئے سائنس کی تازہ تازہ خبریں بنا لیا کرو گے؟ ہر پروگرام کے لئے پانچ سے چھ خبریں درکار ہوں گی، لیکن پانچ منٹ کے اندر اندر ختم کرنی ہوں گی۔“ میں نے یہ پیشکش قبول کرلی۔ اس طرح یہ ہوا کہ میں نے مارچ کے آخری ہفتے میں ایک ساتھ، ایک مہینے کی ریکارڈ نگ کروا دی، کیونکہ اپریل کے مہینے میں رمضان آرہے تھے۔ روزے کے دوران، خشک حلق کے ساتھ ریکارڈنگ کروائی جائے تو آواز میں تھوڑا فرق آجاتا ہے، اور ریکارڈنگ میں بھی مسائل آتے ہیں۔

یہ میرے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ میں نے پہلے پروگرام کے لئے جس کرسی پر بیٹھ کر ریکارڈ نگ کروائی تھی، اسی کرسی پر بیٹھ کر شہید ملت خان لیاقت علی لیاقت علی خان نے، اسی اسٹوڈیو (نمبر9) میں ریڈیو پر اپنی پہلی نشری تقریر بھی کی تھی۔ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ ریڈیو پاکستان میں ”اسٹوڈیو نمبر9“ کو کس قدر تاریخی اہمیت حاصل ہے۔ بہرکیف، سبطین جعفری صاحب پہلے تو میرے لئے صرف پروڈیوسر تھے لیکن پھر وہ ریڈیو کے میدان میں میرے اوّلین اور اب تک کے واحد استاد ہیں۔ انہوں نے مجھے ریڈیو پر بولنے کی، اسکرپٹ لکھنے کی تمیز سکھائی، اور یہ بتایا کہ آواز کو کس طرح سے بلند اور پست کرنا ہے۔ (اسے ریڈیو کی زبان میں ”زیر و بم“ یعنی آواز کا اُتار چڑھاﺅ کہا جاتا ہے۔) یہ سبطین بھائی ہی تھے جنہوں نے مجھے یہ بتایا کہ ریڈیو پر آپ کی پاس آواز ہی سب کچھ ہوتی ہے؛ اور یہ بھی سمجھایا کہ مجھے اپنی آواز کس طرح سے استعمال کرنی ہے کہ سننے والے کے ذہن پر وہ منظر اُبھر آئے جو میں بیان کررہا ہوں۔ سبطین جعفری صاحب کو میں ”سبطین بھائی“ کہتا ہوں، اور اپنے بڑے بھائی کی جگہ سمجھتا ہوں۔ وہ میرے استاد ہیں؛ آج بھی میں ان کا اسی طرح احترام کرتا ہوں جس طرح پہلے دن کیا کرتا تھا۔
سبطین بھائی شاید عوامی طور پر مقبول نہ ہوں، لیکن وہ بلاشبہ ایک عظیم شخصیت ہیں: صاحب کردار، سادہ مزاج، پُر مذاق، اور بہت محبت کرنے والے۔ 1995ءمیں سبطین بھائی کا تبادلہ خضدار کردیا گیا۔ لیکن جاتے جاتے وہ مجھے ”سائنس کلب“ میں ”اسسٹنٹ پروڈیوسر آن کنٹریکٹ“ (اسٹرنگر) بھرتی کروادیا۔ انہیں مجھ پر بہت زیادہ اعتماد تھا، اسی لئے انہوں نے اسٹیشن ڈائریکٹر (جناب قمر علی عباسی مرحوم) کے سامنے میرا نام پورے اصرار کے ساتھ تجویز کیا۔ اور جب سارا معاملہ طے پاگیا تو انہوں نے مجھے فون کرکے صرف اتنا کہا کہ انہیں کوئی ضروری کام ہے۔
یہاں دلچسپی کی بات بتاتا چلوں کہ جس دن دوپہر میں مجھے سبطین بھائی کے پاس جانا تھا، اسی روز صبح میں میرا ایم ایس سی فائنل ایئر کا زبانی امتحان (وائیوا) بھی تھا۔ یہ یکم اپریل 1995ءکا دن تھا۔ یونیورسٹی سے وائیوا دیتے ہی میں سیدھا ریڈیو پاکستان، سبطین بھائی کے پاس پہنچ گیا۔ انہوں نے مجھے ساری بات بتائی اور کہا کہ ان کی غیر حاضری میں مجھی کو یہ پروگرام دیکھنا ہوگا۔ اگرچہ کاغذات پر میرا عہدہ ”اسٹرنگر“ (Stringer) کا ہوگا اور مجھے پورے مہینے میں صرف 1,350 روپے ہی ملا کریں گے؛ لیکن عملاً مجھے وہ ساری ذمہ داریاں نباہنی ہوں گی جو کسی پروڈیوسر کی ہوتی ہیں۔ یعنی میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ الحمدللہ، میں اپنے کیریئر کے دوران ایک دن بھی بے روزگار نہیں رہا۔
البتہ، سبطین بھائی کی غیر موجودگی میں مجھے بہت سی دوسری مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ایک طرف شہر کے حالات خراب تو دوسری جانب ریڈیو پاکستان کے ایک ”اسٹاف آرٹسٹ“ کو

Mr. Aleem Ahmed with Nalaka Gunawardanay, one of the most prominent Science Journalist of Sri Lanka. Melbourne, Australia. 2007

Mr. Aleem Ahmed with Nalaka Gunawardanay, one of the most prominent Science Journalist of Sri Lanka. Melbourne, Australia. 2007

سائنس کلب میں پروڈیوسر بنادیا گیا تھا۔ وہ آئے دن میرے لئے مسائل کھڑے کرتے رہتے تھے؛ اور کوشش کرتے تھے کہ پروگرام کی ریکارڈنگ بروقت نہ ہونے پائے۔ خیر! یہ ایک الگ کہانی ہے۔ سائنس کلب سے اسسٹنٹ پروڈیوسر آن کنٹریکٹ کے طور پر میری وابستگی صرف تین مہینے ہی جاری رہ سکی۔ پھر استادِ گرامی، پروفیسر ڈاکٹر خورشید اطہر صدیقی نے مجھے ”میکسم ایڈورٹائزنگ“ کے نام سے ایک اشتہاری ایجنسی میں اپنے دوست، قیصر عالم صاحب کے پاس بھیجا۔ انہوں نے مجھے ”ٹرینی کانسپٹ رائٹر“ کی ملازمت دی۔ اس طرح جون 1995ءمیں ریڈیو پاکستان کو خیرباد کہہ کر میں ”میکسم“ میں چلا آیا۔
اگرچہ یہاں بھی میں نے صرف تین مہینے ہی ملازمت کی، لیکن یہاں کا سب سے قیمتی تجربہ امتثال عباسی صاحب سے ملاقات کا رہا۔ اُن دنوں وہ میکسم میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے کچھ ایسے مشورے دیئے جو آگے چل کر زندگی میں میرے بڑے کام آئے۔ میں ان کی آج تک دل سے عزت کرتا ہوں۔ وہ جہاں بھی ہوں، اﷲ ان کو ہمیشہ خوش رکھے۔ ویسے معلوم ہوا ہے کہ وہ آج کل پاکستان کی کسی بڑی ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں بطور سربراہ کام کررہے ہیں۔ ذہین تو وہ ہمیشہ سے تھے، اپنی ذہانت کے بل بوتے پر یقینا بہت ترقی کی ہوگی۔ اللہ انہیں اور ترقی دے (آمین)۔
میکسم ایڈورٹائزنگ کی ملازمت کرتے ہوئے ابھی مجھے تقریباً ڈھائی مہینے ہوئے تھے کہ اخبار میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کےلئے ایک اشتہار آیا۔ یہ کسی ”اومیگ انٹرپرائزز“ کی طرف سے تھا۔ میں نے دیئے ہوئے پتے پر درخواست بھیج دی۔ اگلے ہفتے ہی گھر پر فون آگیا۔ معلوم ہوا کہ یہ ادارہ ”رابطہ انٹرنیشنل“ کے نام سے ایک جریدہ شائع کرتا ہے۔ امتثال عباسی صاحب سے بات کی تو وہ کہنے لگے: ”علیم صاحب! آپ کا اصل میدان تو صحافت ہے۔ اگر آپ صحافت میں واپس جائیں گے تو آپ کا پچھلا تجربہ بھی شمار کیا جائے گا۔ اس کے برعکس، اشتہارات کی دنیا میں آپ بالکل نئے ہیں۔ آپ کا تجربہ ہمیشہ اپنے سے کم عمر لوگوں کے مقابلے میں (جو پہلے سے یہ کام کررہے ہیں) کم ہی رہے گا۔“
مجھے ان کی دلیل پسند آئی، اور میں رابطہ انٹرنیشنل کے دفتر پہنچ گیا۔ (یہ ہوٹل میٹروپول کے عقب میں ”لوٹیا بلڈنگ“ نامی ایک عمارت کی پہلی منزل پر واقع تھا۔) یہاں رسالے کے مدیر جناب ایس ایم یعقوب اور نائب مدیر جناب کلیم چغتائی نے میرا انٹرویو لیا اور چند منٹوں ہی میں اپنے ادارتی عملے کےلئے منتخب کرلیا۔ یکم جولائی 1995ءسے رابطہ انٹرنیشنل میں میری ملازمت شروع ہوئی۔
اگرچہ یہاں میری تنخواہ ساڑھے تین ہزار تھی (جو مستقل ہونے کی صورت میں کم از کم دوگنی ضرور ہوجاتی) لیکن اپنی طبیعت ہمیشہ سے ”وکھری ٹائپ“ رہی ہے۔ کوئی دو مہینے ملازمت کرنے کے بعد یہ خیال شدت پکڑنے لگا کہ رابطہ انٹرنیشنل ایک سنجیدہ پرچہ ضرور ہے لیکن بہرحال، ہے تو عمومی نوعیت ہی کا ایک جریدہ؛ جس کا مقصد اپنے قارئین کا دل بہلانا ہے۔
بس! یہیں سے ایک کشمکش کا آغاز ہوگیا۔ کچھ بھی کہہ لیجئے، لڑکپن ہی سے جو شخص عملاً اور اپنے شوق سے سائنسی صحافت کرتا آرہا ہو، وہ آسانی سے کسی دوسری طرف نہیں جاسکتا۔ اپنا معاملہ بھی یہی ہوا۔ اس ذہنی کشمکش کا نتیجہ یہ نکلا کہ آخرکار میں نے دسمبر1995ءمیں نے استعفیٰ لکھا اور ایس ایم یعقوب صاحب کے ہاتھ تھمادیا کہ جناب! یہاں پر میرا دل نہیں لگ رہا۔ میں جانا چاہتا ہوں۔
شاید یہ سب کچھ قدرت کی طرف سے تھا۔ کیونکہ جس دن میں نے رابطہ انٹرنیشنل سے استعفیٰ دیا، تو اسی دوپہر میں اچانک شہر کے حالات خراب ہوگئے۔ سڑک پر بسیں بھی اکا دُکا ہی نظر آرہی تھیں۔ میں نے سوچا کہ چلو، کوئی بات نہیں، ہوٹل میٹروپول سے ناک کی سیدھ میں صدر چلتے ہیں، شاید وہاں سے کوئی بس مل جائے۔ زیب النساءاسٹریٹ عبور کرکے ریگل پہنچ گئے۔ جب ریگل پہنچے تو خیال آیا کہ النور سینٹر (تبت سینٹر کے پیچھے والی عمارت) میں تو سائنس ڈائجسٹ کا دفتر بھی ہے۔ شام کا وقت ہے۔ شاید رضی صاحب (مدیرِ اعلیٰ سائنس ڈائجسٹ) سے ملاقات بھی ہوجائے۔ ایک آدھ گلاس پانی بھی پی لیں گے۔ کچھ دیر بیٹھیں گے اور پھر وہاں سے پیدل پیدل گھر چلے جائیں گے (جو وہاں سے تقریباً تین کلومیٹر دور، شو مارکیٹ کے عقب میں واقع تھا)۔
سائنس ڈائجسٹ کے دفتر میں روشنی دیکھ کر دل کو تسلی ہوئی۔ اندر داخل ہوا تو اکیلے رضی صاحب (رضی الدین خان) ہی بیٹھے تھے۔ علیک سلیک کے بعد مجھ سے پوچھنے لگے کہ آج کل کیا کررہے ہیں۔ میں نے بے اختیار کہہ دیا کہ رابطہ انٹرنیشنل سے استعفیٰ دے کر آرہا ہوں۔ پھر اپنی پوری کہانی سنائی کہنے لگے۔
میری بات ختم ہوئی تو رضی صاحب کہنے لگے: ”بھئی بڑی اچھی بات ہے۔ ہمارے نائب مدیر، سیّد صلاح الدین قادری صاحب کو لیکچرار کی سرکاری نوکری مل گئی ہے؛ اور اب وہ ادارہ

Mr. Aleem Ahmed with Mike Shanahan, this picture was taken when Mike was Editor of Science & Development Network. Melbourne, Australia. 2007

Mr. Aleem Ahmed with Mike Shanahan, this picture was taken when Mike was Editor of Science & Development Network. Melbourne, Australia. 2007

چھوڑ کر جارہے ہیں۔ تو آپ ہمارے ہاں پارٹ ٹائم ملازمت کرلیجئے۔“ بس تو پھر کیا تھا، میں نے خوشی خوشی یہ پیشکش قبول کرلی۔ پھر کچھ ہی عرصے بعد رضی صاحب نے مجھے فل ٹائم کردیا۔
دسمبر 1996ءتک میں سائنس ڈائجسٹ کا نائب مدیر (ایسوسی ایٹ ایڈیٹر) رہا۔ اور پھر، جنوری 1997ءسے رضی صاحب نے مجھے مدیر کی تمام ذمہ داریاں بھی سونپ دیں۔ یعنی یہ میرے کیریئر میں کسی سائنسی جریدے میں ترقی پاکر مدیر بننے کا دوسرا موقعہ تھا؛ اور وہ بھی صرف چھبیس سال کی عمر میں۔
سائنس ڈائجسٹ کےلئے پہلے بطور فری لانس رائٹر، اور بعد ازاں نائب مدیر و مدیر کام کرتے دوران جو کچھ سیکھنے کو ملا، اس کا خلاصہ یہ تھا کہ سائنسی تحریروں میں ”چٹپٹا پن“ کیا ہوتا ہے۔ رضی صاحب جب بھی لکھنے کےلئے کوئی موضوع دیتے، یا پھر میں کوئی مضمون اُن کے پاس لے کر جاتا، تو ان کا مخصوص جملہ ہوا کرتا تھا: ”ارے بھئی علیم صاحب! اسے چٹپٹا بنائیے۔“
یہاں ایک بار پھر واضح کردوں کہ سائنسی صحافت (جسے آپ ”عوامی سائنسی ابلاغ“ بھی کہہ سکتے ہیں)، میرا پیشہ (پروفیشن) بعد میں ہے اس سے بہت پہلے یہ میرا عشق (passion) ہے۔ اب یہ ”پیشن“ میرا ”پروفیشن“ کیسے بنا۔ اس کی کہانی بھی 1996ءسے تعلق رکھتی ہے۔
سائنسی صحافت میں میری عملی زندگی کا آغاز 1987ءسے ہوا، جب میں نے سائنس میگزین کےلئے ایک چھوٹا سا مضمون تحریر کیا۔ لیکن سائنسی صحافت کو اپنا کیریئر بنانے کا فیصلہ میں نے جون 1996ءمیں کیا، کہ جب مجھے اس میدان میں کام کرتے ہوئے9 سال ہوچکے تھے، اور میرے قلم سے کم از کم ایک ہزار سائنسی تحریریں ”سرزد“ ہوچکی تھیں۔
قصہ یہ ہے کہ جامعہ کراچی میں ہنگاموں کی وجہ سے ہمارے ایم ایس سی میں کچھ مہینوں کی تاخیر ہوئی۔ پھر فائنل ایئر میں میرا ایک پرچہ رہ بھی گیا تھا۔ پرچہ دوبارہ دے کر ایم ایس سی مکمل کرتے کرتے 1996ءکا سال آگیا تھا۔ یاروں دوستوں سے ملاقاتیں رہتی تھیں اور عموماً ”کہاں ملازمت ملے گی“ پر آکر ہی تان ٹوٹتی تھی۔ تو ہوا یوں کہ جون 1996ءمیں دوستوں سے ملاقات میں معلوم ہوا کہ کچھ دن پہلے ہی سندھ پبلک سروس کمیشن اور اٹامک انرجی کمیشن کے اشتہارات آئے ہیں۔ بھئی سچی بات ہے! ہم اتنے قابل تو تھے نہیں کہ پورے تعلیمی ریکارڈ میں فرسٹ ڈویژن لے رکھی ہو؛ اس لئے ہم نے اٹامک انرجی کمیشن کے اشتہار پر کوئی توجہ نہ دی۔ البتہ دوستوں نے کہا کہ تمہیں سندھ پبلک سروس کمیشن کے تحت لیکچرار کی نوکری کےلئے کوشش کرنی چاہئے۔
اس پر میں نے مشورہ دینے والے دوست کو جواب دیا: مجھے مرنے سے پہلے مرنے کا کوئی شوق نہیں۔“ وہ کہنے لگے کہ کیا مطلب؟ تو میں نے کہا: بھئی سرکاری نوکری میں سنیارٹی (مدتِ ملازمت) کی بنیاد پر ترقی ملتی ہے، قابلیت پر نہیں۔ اور پھر ہمارا سرکاری نظام صرف اچھے ملازمین پیدا کرنا چاہتا ہے، قابل لوگ نہیں۔ اس لئے میں تو کوئی ایسا کام کرنا چاہتا ہوں جہاں قابلیت کی بنیاد پر ترقی ملے۔ بعد میں بھی دوستوں نے مجھ پر بہت زور ڈالا کہ میں کسی سرکاری ملازمت کےلئے درخواست دے دوں، لیکن میرا دل نہیں مانا۔ لیکن یہ سوال بہرحال اپنی جگہ اہم تھا کہ اگر مجھے سرکاری ملازمت نہیں کرنی، تو پھر میں کیا کروں گا؟ اپنا ”کیریئر“ کس چیزمیں بناﺅں گا۔
اوسط درجے کا طالب علم ہونے کے باوجود، میرے ارادے ہمیشہ سے بلند تھے۔ میں کوانٹم میکانیات کے فلسفے (فلاسفی آف کوانٹم مکینکس) پر پی ایچ ڈی کرنا چاہتا تھا کیونکہ کوانٹم میکانیات مجھے لڑکپن ہی سے بہت پراسرار اور دلچسپ لگتی ہے۔ میں نے اس بارے میں اپنے استاد، پروفیسر ڈاکٹر خورشید اطہر صدیقی سے بات بھی کر رکھی تھی؛ اور ان سے وعدہ کرلیا تھا کہ کوانٹم میکانیات کو اچھی طرح سے پڑھنے کےلئے میں ریاضی پر خصوصی توجہ دوں گا اور گروپ تھیوری پر بھی عبور حاصل کروں گا۔ اس کےلئے میں نے سر خورشید کے کہنے پر چھ سات کتابوںکی فوٹوکاپی بھی کروالی تھی۔
لیکن قدرت نے میرے لئے کچھ اور ہی سوچ رکھا تھا۔ 1995ءکے اختتام پر سر خورشید کو جدہ، سعودی عرب کی شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی میں پروفیسرشپ کی پیشکش ہوئی۔ پانچ سال کا

Mr. Aleem Ahmed with Muhammad Yahya, now days he is the Editor of Nature Middle East. Melbourne, Australia. 2007

Mr. Aleem Ahmed with Muhammad Yahya, now days he is the Editor of Nature Middle East. Melbourne, Australia. 2007

معاہدہ تھا۔ دسمبر 1995ءتک سر خورشید، سعودی عرب جاچکے تھے۔ آپ کے جو قارئین طبیعیات، خاص کر ذرّاتی طبیعیات (پارٹیکل فزکس) سے دلچسپی رکھتے ہیں، ان کےلئے بطورِ خاص بتاتا چلوں کہ سر خورشید، پاکستان کے مایہ ناز ماہرینِ طبیعیات میں سے ایک ہیں۔ نیشنل سینٹر فار فزکس کے موجودہ ڈائریکٹر ریسرچ، ڈاکٹر حفیظ حورانی بھی سر خورشید کے شاگردوں ہی میں سے ایک ہیں۔ خیر! شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی کو تو سر خورشید کی خدمات میسر آگئیں، لیکن اپنی زندگی کے بارے میں میرے سارے منصوبے چوپٹ ہوگئے۔ سر خورشید کی غیر موجودگی میں، کسی دوسرے استاد کی نگرانی میں، ایم فل یا پی ایچ ڈی کرنے پر میرا دل نہیں مانتا تھا۔
سر خورشید کو سعودی عرب گئے ہوئے چھ یا سات مہینے ہوچکے تھے۔ میرے سامنے یہ سوال تھا کہ بطور ”کیریئر“ کیا اختیار کروں؟ روٹی تو کسی طور کما کھائے مچھندر والی بات ہے، کچھ نہ کچھ تو بہرحال کرنا ہی تھا۔ تب جولائی1996ءمیں بیٹھ کر بہت سنجیدگی سے سوچا، اور اپنے آپ کو مخاطب کیا: علیم صاحب! 29جولائی1996ءکو آپ پورے پچیس سال کے ہورہے ہیں۔ تب تک آپ کو فیصلہ کرلینا چاہئے کہ آپ کا ”کیریئر“ کیا ہوگا۔ آپ نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا۔ تو پھر میں نے اپنا جائزہ لیا۔ مجھے احساس ہوا کہ ٹیوشن پڑھانا، اور ”براہِ راست قسم کی“ درس و تدریس میں جانا، کبھی میرا شوق تھا ہی نہیں۔ اس کے برعکس، مجھے تو سائنس کو عام فہم اور دلچسپ انداز میں بیان کرنے کا شوق، لڑکپن ہی سے رہا ہے۔ تب تک سائنسی صحافت میں میرا عملی تجربہ، 9 سال کا ہوچکا تھا؛ لیکن میں نے اسے کیریئر کے طور پر اختیار نہیں کیا تھا۔ یہ تو بس ایک شوق تھا، مشغلہ تھا۔
لیکن جب سائنسی صحافی کی حیثیت سے کیریئر بنانے پر غور کیا تو ایک عبرت انگیز صورتِ حال سامنے آئی: سائنسی صحافت میں رضی صاحب کا حال میرے سامنے تھا۔ سائنس میگزین کے حالات بھی میرے علم میں تھے وہ کن حالات میں بند ہوا۔ دل بار بار یہی کہتا تھا کہ مجھے سائنسی صحافت ہی میں اپنا کیریئر بنانا چاہئے۔ لیکن میرے پاس جتنی بھی، اور جیسی بھی تربیت اس بارے میں تھی، وہ ساری کی ساری ”بھان متی کا کنبہ“ والی تھی: کچھ یہاں سے سیکھا، کچھ وہاں سے؛ کچھ اس سے تو کچھ اُس سے۔ البتہ، خیر یہ ہوئی کہ تب تک (اور آج بھی) سائنسی صحافت میں کسی پاکستانی ادارے میں ڈگری یا ڈپلوما تو کیا، سرٹیفکیٹ کی سطح تک کی باضابطہ تعلیم کا کوئی وجود نہیں تھا۔ یعنی میرے پاس ”سند یافتہ“ سائنسی صحافی نہ ہوتے ہوئے بھی اس شعبے کو بطور کیریئر اپنانے کا جواز بہرحال موجود تھا۔
غرض کہ یہ بڑا مشکل فیصلہ تھا۔ اس لئے میں نے مختلف لوگوں سے مشورے کئے۔ مجھے کسی نے کہا اچھا ہے؛ کسی نے کہا برا ہے۔ لیکن مجھے سب سے اچھا مشورہ پروفیسر ڈاکٹر وقار احمد زبیری نے دیا۔ جب میں نے ان سے سائنسی صحافت کو بطور کیریئر اختیار کرنے کے بارے میں رائے مانگی تو ان کا جواب بہت نپاتلا تھا: ”علیم میاں اگر تمہیں سائنسی صحافت کو اپنا کیریئر بنانا ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے۔ لیکن اگر تم سائنس ڈائجسٹ کو اپنا کیریئر بنانا چاہتے ہو، تو میں اس کا مشورہ تمہیں کبھی نہیں دوں گا۔ کیونکہ جو رسالہ رضی الدین خان کا کیریئر نہیں بناسکا، وہ تمہارا کیریئر کیا بنائے گا۔“ اس مشورے نے گویا میری سوچ بالکل واضح کردی۔ میں نے طے کرلیا کہ مشکلیں ہوں یا آسانیاں، مجھے سائنسی صحافی ہی بننا ہے اور یہ فیصلہ کرنے کے بعد میں نے کبھی پلٹ کر نہیں دیکھا۔
وقار زبیری صاحب کے مشورے کی قدر و قیمت کا احساس مجھے 1997ءمیں ہوا۔ سائنس ڈائجسٹ میں مدیر کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد وہاں کی بہت سی ایسی باتیں میرے سامنے آئیں جنہوں نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ کیا میں اس تعلق کو لمبے عرصے تک جاری رکھ سکوں گا یا نہیں۔ بہرکیف، 1997ءکے جون/ جولائی کچھ دوستوں کے مشورے پر میں یہ فیصلہ کیا کہ اب مجھے سائنس ڈائجسٹ کی ملازمت ترک کرکے اپنے طور پر کچھ کرنا چاہئے اپنا سائنسی رسالہ، خود نکالنا چاہئے۔
یہی وہ سوچ تھی جس نے گلوبل سائنس کو جنم دیا۔ گلوبل سائنس کےلئے ادارتی دفتر ہم نے جولائی 1997ءہی میں کرائے پر لے لیا تھا (یہ سنی پلازہ کی چھٹی منزل پر، کمرہ نمبر 650 میں

Mr. Aleem Ahmed with Most Senior Science Journalist of China, Jia Hepeng and with other Chinese Journalists. Melbourne, Australia. 2007

Mr. Aleem Ahmed with Most Senior Science Journalist of China, Jia Hepeng and with other Chinese Journalists. Melbourne, Australia. 2007

واقع تھا)۔ دریں اثنائ، صحافتی اخلاقیات کی پاسداری کرتے ہوئے، میں نے رضی صاحب کو بھی اس بارے میں بتادیا تھا، اور کہہ دیا تھا کہ میں دسمبر 1997ءتک سائنس ڈائجسٹ کی ملازمت چھوڑ کر ”گلوبل سائنس“ کے نام سے اپنا رسالہ نکالنے جارہا ہوں۔ سچی بات ہے کہ میرے اس فیصلے پر رضی صاحب نے بہت خندہ پیشانی کا مظاہرہ کیا اور کہا: ”یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ پاکستان میں اس وقت کم سے کم دو درجن سائنسی رسائل ہونے چاہئیں۔“
تقریباً چھ ماہ کی مشاورت اور کم و بیش اتنی ہی مدت تک محنت کرنے کے بعد، 15 دسمبر 1997ءکے روز ”گلوبل سائنس“ کا شمارہ جنوری 1998ءشائع ہوکر ہمارے سامنے آیا۔ اس رسالے کو عزت دینے کےلئے ہم نے پہلے ہی یہ فیصلہ کررکھا تھا کہ گلوبل سائنس کو ہم لوگ بھی (یعنی اس سے وابستہ افراد بھی) مفت میں لے کر نہیں پڑھیں گے بلکہ ”خرید کر“ پڑھیں گے۔ لہٰذا، جب شمارہ آیا تو ہم سب نے اپنی اپنی جیب سے رقم نکال کر دفتر کے کھاتے میں جمع کروائی، اور اس کے عوض یہ پہلا شمارہ خرید کر پڑھا۔ سرورق کےلئے ”گلوبل سائنس“ کی لوح، پاکستان کے ایک مایہ ناز خطاط جناب صدیق بھٹی نے لکھی تھی؛ جبکہ پہلے شمارے کا پوسٹر، خطاطی کے استاد الاساتذہ جناب رشید شاہد نے میری خصوصی فرمائش پر ڈیزائن کیا تھا۔ انہیں گلوبل سائنس کی لوح پر سخت اعتراض تھا، اس لئے انہوں نے پوسٹر کے لئے ”گلوبل سائنس“ کی عبارت علیحدہ سے لکھ کر مجھے ”تحفتاً“ عنایت کی۔ دراصل رشید شاہد صاحب ہی سائنس ڈائجسٹ کا سرورق ڈیزائن کیا کرتے تھے۔ وہ خود بھی بہت محنتی تھے اور ہم نوجوانوں کو بھی محنت کرتا دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔ گلوبل سائنس کے سرورق اور پوسٹر پر ان ہی دو ماہر خطاطِ گرامی کی لکھی ہوئی عبارتیں آج تک استعمال کی جارہی ہیں۔
سچی بات تو یہ ہے کہ جب گلوبل سائنس کے پہلے شمارے کی ورق گردانی کی، تو میں تھوڑا سا بجھ گیا کہ یار! ہم نے ”مزیدار“ کام نہیں کیا۔ لیکن استادِ گرامی سید قاسم محمود کا ایک جملہ ذہن میں آیا: ”میاں، کسی بھی رسالے کا پہلا شمارہ، اس کا بد ترین شمارہ ہوتا ہے۔ آئندہ شمارے اسی کو سامنے رکھتے ہوئے خوب سے خوب تر بنائے جاتے ہیں۔“
بس! اسی دن سے ”ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں“ والے مصرعے پر عمل شروع ہوگیا۔ گلوبل سائنس میں نت نئے (اور کئی مرتبہ مالی طور پر نقصاندہ) تجربات کا سلسلہ جاری رہا اور آج تک جاری ہے۔ ان ہی تجربات کے نتیجے میں ہم نے سائنس کے دیگر موضوعات کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق معلوماتی اور عملی تحریریں بھی شائع کرنا شروع کیں۔ یوں اردو زبان کی سائنسی صحافت میں ایک نئے باب کا آغاز بھی ہوا۔ اب آپ چاہیں تو اسے ”اپنے منہ میاں مٹھو“ والی بات کہہ سکتے ہیں، لیکن سچ یہی ہے کہ آج پاکستان میں اردو اور انگریزی کے بیشتر عمومی رسائل، جرائد، اخبارات، ویب سائٹس اور بلاگز پر بھی کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق جو کچھ بھی لکھا جارہا ہے، اس پر گلوبل سائنس کے ان ہی تجربات کی چھاپ موجود ہے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ کوئی اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے اور کوئی صاف مکر جاتا ہے۔
گلوبل سائنس کے پہلے بائیس مہینوں میں ہم نے آئی ٹی/ کمپیوٹر سائنس ہی پر تجربات کئے تھے۔ لیکن سائنس کے دیگر پہلوﺅں کا احاطہ کرنے میں ابھی ہم واضح طور پر کوئی نیا پن نہیں لاسکے تھے۔ ”کچھ نیا“ کرنے کی جستجو میں ہم نے اپنے شعبہ خبر کو نئے سرے سے ترتیب دیا۔ پہلے یہ صرف ”دنیائے سائنس“ پر مبنی ہوا کرتا تھا۔ لیکن نومبر 1999ءسے ہم نے اس کی کایا پلٹ دی۔ اس شمارے سے ہم نے گلوبل سائنس کا شعبہ خبر، کئی حصوں میں تقسیم کردیا: عمومی سائنسی خبروں کےلئے دنیائے سائنس، کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کےلئے سافٹ ویئر/ ہارڈویئر، طبّی تحقیق کےلئے صحت عامہ و طبّی ٹیکنالوجی، دفاعی سائنس اور ٹیکنالوجی کی خبروں کےلئے ڈیفنس کارنر، اور وطن عزیز میں سائنسی اور علمی سرگرمیوں کا احاطہ کرنے کےلئے ”پاکستان میں سائنسی و علمی سرگرمیاں“ کے نام سے علیحدہ علیحدہ عنوانات سجائے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ہم نے خبری مضامین (نیوز فیچرز) کو ”ایک خبر-ایک مضمون“ کے تحت شائع کرنا شروع کیا۔
اس تبدیلی نے گلوبل سائنس میں ایک نیا رنگ بھردیا۔ استادِ گرامی جناب عظمت علی خاں نے جب یہ شمارہ دیکھا، تو وہ اتنے خوش ہوئے کہ انہوں نے رات کے وقت مجھے گھر پر ہی فون

Mr. Aleem Ahmed with John Rennie Former Editor-in-Chief of Scientific American. Melbourne, Australia. 2007

Mr. Aleem Ahmed with John Rennie Former Editor-in-Chief of Scientific American. Melbourne, Australia. 2007

کردیا اور مبارکباد دی۔ یقین مانئے کہ میرے لئے مبارکباد اور تعریف کے وہ کلمات ایسے تھے جیسے مجھے گلوبل سائنس کے معیاری ہونے کا سرٹیفکیٹ مل گیا ہو۔ البتہ، ایسا ہرگز نہیں کہ ہمارے ہر تجربے کے نتیجے میں گلوبل سائنس کا معیار بہتر ہی ہوا۔ بعض تجربات سے گلوبل سائنس کے معیار میں کمی بھی واقع ہوئی؛ لیکن اپنی ناکامیوں سے بھی ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا رہا۔
واقعہ یہ ہے کہ سائنسی صحافت میں میری ابتدائی تربیت سائنٹفک امریکن، نیوسائنٹسٹ، ڈسکور، پاپولر سائنس اور ان ہی جیسے دوسرے غیر ملکی سائنسی رسائل و جرائد سے ہوئی۔ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ مجھے گلوبل سائنس کو فلاں مقامی رسالے جیسا بنانا ہے؛ بلکہ میرے ذہن میں یہ انگریزی جرائد، آئیڈیل کے طور پر موجود تھے۔ آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو کہ اب تک گلوبل سائنس کے جتنے شمارہ جات بھی شائع ہوئے ہیں، میں ان میں سے کسی ایک کو بھی 100 فیصد معیاری نہیں کہہ سکتا۔ بلکہ بعض شماروں کو تو مجھے ”ترقی پاس“ کرکے اپنے لئے قابلِ قبول بنانا پڑا ہے۔ بڑی خواہش ہے کہ گلوبل سائنس کا کوئی ایک شمارہ تو ایسا ہو جسے میں خود ایسا قرار دے سکوں کہ جیسا میں نے گلوبل سائنس کو واقعتا دیکھنا چاہا ہے۔
اپنی تمام تر خوبیوں، خامیوں، کوتاہیوں اور تاخیر کے باوجود، الحمدللہ اس وقت گلوبل سائنس ہی پاکستان کا وہ واحد سائنسی جریدہ ہے جو بین الاقوامی سائنسی صحافت میں پاکستان کی نمائندگی کرتا ہے۔ کیا یہ اعزاز کچھ کم ہے؟ ان شاءاللہ، اگست 2014ءمیں گلوبل سائنس کا 200واں شمارہ شائع ہوگا اور اسی کے ساتھ پاکستانی سائنسی صحافت میں بھی ایک نئی تاریخ رقم ہوگی: یہ پاکستان کا پہلا سائنسی ماہنامہ ہوگا جو 200 مہینوں میں اپنے 200 شمارے مکمل کرے گا، ان شاءاللہ۔
جی ہاں! ہم آج بھی مالی طور پر مستحکم نہیں ہوسکے۔ لیکن پھر بھی، الحمدللہ، گلوبل سائنس کسی فرد یا ادارے کا مقروض ہر گز نہیں۔ اپنے اب تک کے دوران یہ گلوبل سائنس کا سب سے بڑا اعزاز رہا ہے کہ اسے بیرونِ ملک بھی پہچانا اور سراہا گیا ہے۔
آج نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا میں کسی بھی جگہ پر سائنسی صحافت کی بات ہوتی ہے اور پاکستان کاتذکرہ آتا ہے، تو زندہ سائنسی جرائد میں سب سے پہلا نام ”گلوبل سائنس“ ہی کا آتا ہے۔ اسی کے ساتھ پاکستان کے ایک ”اردو میڈیم سائنسی صحافی“ یعنی اس ناچیز، علیم احمد کا تذکرہ بھی لازماً ہوتا ہے۔ اور یہ میں ان لوگوں کی بات کر رہا ہوں جن کی مادری زبان اردو نہیں۔ جو پاکستانی بھی نہیں۔ میں ورلڈ فیڈریشن آف سائنس جرنلسٹس کی بات کر رہا ہوں، میں نیشنل ایسوسی ایشن آف سائنس رائٹرز (امریکہ) کی، سائنس اینڈ ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک (برطانیہ) کی، انٹرنیشنل سائنس رائٹرز ایسوسی ایشن کی، انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انوائرونمنٹ اینڈ ڈیویلپمنٹ (برطانیہ) کی، اور عرب ایسوسی ایشن آف سائنس جرنلسٹس کی بات کررہا ہوں۔ میں آپ سے جان رینی (سابق مدیرِ اعلیٰ، سائنٹفک امریکن) کی بات کررہا ہوں، ڈاکٹر فلپ کیمبل (ایڈیٹر انچیف، نیچر پبلشنگ گروپ) کی بات کررہا ہوں، ڈیبرا بلم کی، آنجہانی ڈیوڈ ڈکسن کی، مائیک شاناہان کی، کرسٹینا اسکاٹ کی، پلّاو باگلا کی، ٹی وی پدما کی، احسان مسعود اور ڈاکٹر ضیاءالدین سردار کی، میر لطف الکبیر سعدی کی، نادیہ العوضی اور محمد یحییٰ کی بات کررہا ہوں۔ ان میں سے اکثر کی مادری زبان اُردو نہیں، اور نہ ہی وہ اردو لکھنا یا پڑھنا جانتے ہیں۔ لیکن پھر بھی انہیں اتنا علم ضرور ہے کہ پاکستان سے ایک سائنسی رسالہ ”گلوبل سائنس“ کے نام سے شائع ہوتا ہے؛ جس کا مدیرِ اعلیٰ ایک ایسا پاگل ہے جو اپنے کام کی خاطر سب کچھ چھوڑے بیٹھا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ جب میں نے سائنسی صحافت کو بطور کیریئر اپنانے کا فیصلہ کیا، تو اسی دن سے ذہن میں یہ بات بھی تھی کہ میں اس میدان میں کنویں کا مینڈک نہیں رہوں گا بلکہ دنیا میں اس شعبے کو جس حد تک کھنگال سکا، ضرور کھنگالوں گا۔

سوال: جب آپ نے گلوبل سائنس کی اشاعت کا آغاز کیا، تو آپ کی نظر میں کیا اہداف تھے؟ اور آپ کو کس حد تک کامیابی حاصل ہوئی؟

جواب: سچ کہوں تو جب میں نے گلوبل سائنس کا آغاز کیا تھا، اس وقت میری عمر 26 سال اور 5 مہینے تھی۔ تب تک میرا مشاہدہ تھا کہ اگرچہ پاکستان میں عوامی سائنسی ابلاغ (سائنسی صحافت) بلاشبہ خیر کا کام ہے؛ لیکن جو لوگ اسے کررہے ہیں، انہوں نے اسے ”خیراتی“ کام بنا دیا ہے: لوگوں کو چاہئے ہمیں چندہ دیں، اور اس کی باقاعدہ اپیلیں شائع کی جاتی تھیں۔ کوئی سعودیہ سے درہم جمع کرکے بھیج رہا ہے، کوئی امریکہ سے ڈالر بھیج رہا ہے، لیکن پیٹ پھر بھی نہیں بھرتا تھا۔ میں اس سوچ سے شدید اختلاف رکھتا تھا، اور آج بھی اس سوچ کا مخالف ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ خیر کے کام اور خیراتی کام میں فرق ہونا چاہئے۔ اگر کوئی خیر کا کام ہے تو اس کے لئے ایسی کوئی شرط نہیں کہ وہ خیرات پر چلے۔ بس! ذہن میں یہی ایک چیز تھی کہ اس کام کو خود انحصاری پر چلنے والا کاروبار (سیلف ڈپنڈینٹ بزنس) ہونا چاہئے۔ الحمدللہ! اب تک ہم اپنے اس ہدف میں کامیاب رہے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ہم نے عزت زیادہ کمائی ہے، جبکہ پیسہ بہت ہی کم۔ مالی نقطئہ نگاہ سے آپ گلوبل سائنس کو ”امیر کبیر“ نہیں کہہ سکتے۔ لیکن پھر بھی یہ ایک ”غیر مقروض“ سائنسی جریدہ ضرور ہے۔
جس زمانے میں گلوبل سائنس نے اپنی اشاعت شروع کی، ان دنوں صرف دو سائنسی جریدے ہی ”زندہ“ تھے: ایک سائنس ڈائجسٹ اور دوسرا عملی سائنس۔ سائنسی جرائد کی مارکیٹ تقریباً خالی تھی (اور آج اس سے بھی زیادہ خالی ہے)۔ تو دوسرا خیال یہ تھا کہ مارکیٹ میں سائنسی جرائد کا خلاءپُر کیا جائے۔
اُس زمانے میں جو لوگ سائنسی صحافت کا کام کر رہے تھے، وہ ہم سے پچھلی نسل کے لوگ تھے۔ ان کی اکثریت نے بہت بڑی غلطی یہ کی تھی کہ انہوں نے اپنے آپ کو وقت کے تقاضوں

Mr. Aleem Ahmed with Ehsan Masood. Bellagio, Italy. 2006

Mr. Aleem Ahmed with Ehsan Masood. Bellagio, Italy. 2006

کے لحاظ سے تبدیل نہیں کیا تھا۔ وہ 1980ءاور 1970ءکے زمانے کی سائنسی صحافت کررہے تھے۔ میرا یہ کہنا تھا کہ جو چیزیں سائنسی صحافت میں بنیاد کا درجہ رکھتی ہیں، آپ ان پر سمجھوتہ ہر گز نہ کیجئے، لیکن ساتھ ہی ساتھ جدید دور کے تقا ضوںکا، نئے زمانے کے قارئین کا خیال بھی ضرور رکھئے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر آپ آج سے سولہ سال پہلے اور آج کے گلوبل سائنس میں موازنہ کریں گے، تو دونوں میں بہت واضح فرق دیکھیں گے۔ اس وقت بھی ہم کچھ نئی تبدیلیوں پر کام کررہے ہیں کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ پڑھنے والوں کا مزاج بھی بدل رہا ہے۔ ان شاءاللہ، یہ تبدیلیاں اس سال (2014ئ) کے اختتام تک آپ کو گلوبل سائنس میں نظر آنا شروع ہوجائیں گی۔
ہاں! ایک بات ایسی ہے جسے میں بطورِ خاص اُن لوگوں کےلئے کہنا چاہوں گا جو کوئی بھی سائنسی رسالہ نکالنے کا ارادہ کررہے ہیں۔ گلوبل سائنس کی اشاعت شروع کرتے وقت یہ سوچ بہت شدت سے تھی کہ جریدے کو ایک ”ادارہ“ ہونا چاہئے۔ یعنی یہ نہ ہو کہ رسالے میں صرف وہی چیزیں شائع ہوں جو ”مدیر صاحب کی پسند“ ہوں چاہے ان کا سائنس سے دور دور کا واسطہ بھی نہ ہو۔ کوئی بھی رسالہ (خواہ وہ سائنسی ہو یا عمومی) اسی وقت کسی ”ادارے“ میں بدل سکتا ہے کہ جب اس کی ایک واضح ادارتی پالیسی ہو۔ ایڈیٹر کوئی بھی ہوسکتا ہے، لیکن اس پر لازم ہو کہ وہ رسالے کی ادارتی پالیسی پر عملدرآمد کرے۔
یوں تو گلوبل سائنس کی ادارتی پالیسی بھی کئی نکات پر مشتمل ہے، لیکن مثال کی غرض سے ایک بات بتانا چاہوں گا۔ ہوا یوں کہ جب ہم 1997ءمیں گلوبل سائنس کی منصوبہ بندی کررہے تھے، تو ”پالیسی“ کے طور پر ہم نے یہ طے کیا کہ گلوبل سائنس کا پہلا صفحہ ہمیشہ قرآنِ پاک کی میں موجود، کسی نہ کسی سائنسی نکتے کےلئے ہی مخصوص ہوگا۔ اسے ہم نے ”اِک نسخہ کیمیا“ کا عنوان دیا، جو ”مسدسِ حالی“ کے ایک مصرعے کا حصہ جزو ہے۔ اس ایک صفحے کے ذریعے یہ تاثر پختہ کرنا مقصود تھا کہ گلوبل سائنس اگرچہ ایک سائنسی جریدہ ہے، لیکن ہم ”فروغِ سائنس“ کے نام پر لوگوں لادینیت اور الحاد کی ترغیب ہرگز نہیں دیں گے۔ اب چاہے کوئی اسے پسند کرے، اعتراض کرے یا پھر ہمیں پتھر ہی کیوں نہ مارے، ہم اس فیصلے پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ الحمدللہ، یہ پالیسی آج تک ویسی کی ویسی ہی ہے۔ گلوبل سائنس کا پہلا صفحہ آج بھی ”اِک نسخہ کیمیا“ ہی ہوتا ہے۔ ماشاءاللہ یہ گلوبل سائنس کا سب سے زیادہ پڑھا جانے والا صفحہ ہے۔ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ مجھے اس سے فائدہ ہوتا ہے یا نقصان۔ یہ میرے لئے فرض کا درجہ رکھتا ہے۔
پھر وقت جیسے جیسے شمارہ آگے بڑھتا گیا، ہمیں اندازہ ہوتا رہا کہ کس کس جگہ پر ہم سے غلطی ہوئی ہے اور کہاں کہاں ہم صحیح تھے۔ ہم اپنی غلطیوں سے سیکھتے گئے۔ منزل زیادہ واضح ہوگئی تھی۔ اندازہ ہوا کہ سائنس کا عوامی ابلاغ محض خبریں بنانا اور مضامین لکھنا نہیں، بلکہ اس کے ذریعے آپ لوگوں کو ایک نئی سوچ دے سکتے ہیں۔ اور الحمدﷲ، آج ہم وہی کام کررہے ہیں۔
گلوبل سائنس میں کہیں کہیں ہم خبروں میں بھی چٹکی کاٹ لیتے ہیں، مضامین میں بھی اور اداریئے میں بھی چٹکی کاٹ لیتے ہیں۔ چٹکی کاٹنا ضروری ہوتا ہے! وہ آپ کے ذہن کو تھوڑی تھوڑی غذا دینے والی بات ہوتی ہے سوچنے پر مجبور کرنے والی بات۔ سو طرح کے انداز ہوتے ہیں۔ اور اب میں کہتا ہوں کہ ہمارا مشن، پاکستان میں سائنس کو درست طور پر مقبول عام بنانا ہے، لیکن اس طرح کہ لوگوں کو سائنس کے نام پر لادین نہ بنایا جائے۔

سوال: گلوبل سائنس کی مسلسل اشاعت کے دوران آپ کو کن کن کٹھن حالات سے گزرنا پڑا؛ اور پھر آپ نے ان مشکل حالات کا مقابلہ کیسے کیا؟ کیا آپ گلوبل سائنس کے علاوہ بھی کوئی اور کام کرتے ہیں؟

جواب: جہاں تک بحرانوں اور مشکل حالات کا تعلق ہے، تو شاید ہی کوئی سال ایسا گزرا ہو جب ہم نے کوئی بحران نہ دیکھا ہو۔ حالات کٹھن ہوتے ہیں۔ بہت مرتبہ آپ کی غلطیاں ہوتی ہیں اور بہت مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ آپ کو دوسروں کی غلطیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ بعض مرتبہ لوگوں کی سوچ آپ کے آڑے آرہی ہوتی ہے۔ جو لوگ اوپر بیٹھے ہوتے ہیں، جنہیں فیصلہ کرنا ہوتا ہے، وہ بظاہر آپ کے خیر خواہ ہوتے ہیں لیکن وہ اندر سے آپ کو نقصان پہنچانا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ ویسے بھی آج کل ملک کے حالات خراب ہوتے جارہے ہیں۔ تقریباً سارے کاروبار ہی متاثر ہیں۔ اب اگر ایسے میں گلوبل سائنس بھی متاثر ہوا تو اس میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ اس کے باوجود میں یہ کہوں گا کہ الحمدﷲ، بحرانوں کے دوران بھی اﷲ تعالیٰ نے ہمیں ہمت دی؛ اور ہم کیسے نہ کیسے زندہ بچ گئے۔
جس وقت ہم نے گلوبل سائنس شروع کیا تھا، تب ہمارے پاس صرف تیس ہزار وپے تھے۔ ہمارے بعد کچھ ایسے رسالے بھی آئے ان میں سے کسی کے پاس دو کروڑ تو کسی کے پاس چھ کروڑ روپے تھے۔ لیکن پھر بھی ان میں سے بیشتر تو ایک سال پورا کرنے سے پہلے ہی ختم ہوگئے؛ اور کچھ نے دو سال کے اندر اندر ہی دم توڑ دیا۔ (یہ بات میں شوبزنس اور سیاسی نوعیت کے رسالوں سے متعلق کہہ رہا ہوں۔) کہنے کا مطلب یہ ہے کہ گلوبل سائنس کا بنیادی مقصد ہم نے ہمیشہ یہی رکھا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے جدید اور پیچیدہ تصورات کو عام فہم اور دلچسپ انداز میں لوگوں تک پہنچایا جائے، تاکہ وہ سائنس کو درست طور پر سمجھ سکیں اور اپنی روزمرہ زندگی میں اس کی اہمیت سے بھی واقف ہوسکیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں ہم نے پیسے کو ”بائی پروڈکٹ“ ہی قرار دیا ہے۔ الحمدﷲ، ثم الحمدﷲ، آج بھی پیسہ ہمارے کام کی بائی پروڈکٹ ہی ہے۔ ہماری کاوشوں کے ضمنی حاصلات میں سے ہے۔
اب جہاں تک دوسرے کام کرنے کا تعلق ہے، تو جی ہاں! گلوبل سائنس سے اتنی آمدن نہیں ہوتی کہ میرا اپنا خرچہ پورا ہوسکے۔ اپنے اخراجات پورے کرنے کےلئے میں اِدھر اُدھر سے (بطور فری لانسر) کام پکڑتا ہوں اور معاوضہ لیتا ہوں۔ البتہ اس میں یہ خیال ضرور رکھتا ہوں کہ کام جائز ہو اور اس سے ملنے والا پیسہ ”حلال کی کمائی“ قرار دیا جاسکے۔
مختلف اداروں کےلئے مضامین لکھتا رہا ہوں، کتابوں کا ترجمہ اور ادارت بھی چلتی رہی ہے۔ البتہ، ایک کام کا بطورِ خاص تذکرہ کرنا چاہوں گا۔ اور وہ ہے ”خان اکیڈمی“ کی تعلیمی ویڈیوز کا اُردو ترجمہ۔ الحمدللہ، اب تک میں خان اکیڈمی کی ایک ہزار سے زیادہ سائنسی تعلیمی ویڈیوز اُردو میں ترجمہ کرچکا ہوں۔ ان میں کیمیا، طبیعیات، نامیاتی کیمیا، حیاتیات، شماریات، الجبرا، علمِ مثلث اور دوسرے کچھ علوم کی ویڈیوز شامل ہیں۔ یہ تمام ویڈیوز آپ کو یوٹیوب پر خان اکیڈمی کے اُردو چینل پر مل جائیں گی:
www.youtube.com/khanacademyurdu
اگرچہ ترجمے کے اس کام کا معاوضہ خاصا کم تھا، لیکن پھر بھی اتنا ہوگیا کہ مجھے کچھ عرصے کےلئے اپنے گھریلو اخراجات کی جانب سے بے فکری رہی؛ کچھ دوستوں سے لئے ہوئے قرضے بے باق ہوگئے؛ کرائے پر ہی سہی، لیکن گلوبل سائنس کےلئے نیا ادارتی دفتر بھی حاصل کرلیا جہاں ”گلوبل سائنس اسکول آف جرنلزم“ بھی شروع کر رکھا ہے۔
البتہ، ایک تازہ اور افسوسناک خبر یہ ضرور دینا چاہوں گا کہ اردو داں طبقے کی عدم دلچسپی اور پاکستان میں یوٹیوب کی مسلسل بندش کی وجہ سے اب خان اکیڈمی نے اُردو ترجمے کا کام مزید آگے بڑھانے سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ عبرت انگیز اطلاع یہ ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے گرتے ہوئے معیار کے مرثیے پڑھنے والے مالدار لوگوں کے پاس اتنی رقم بھی نہیں کہ وہ اپنے ہی خرچ پر یہ کام آگے بڑھوا سکیں۔ ہاں! جب بھی کسی سے بات ہوتی ہے تو ”ان ویڈیوز کی ڈی وی ڈی بناکر ہمیں مفت میں دے دیجئے، ہم بانٹ دیں گے“ کی فرمائش ضرور آجاتی ہے۔ بہت سادہ اور آسان سی بات ہے: اُردو زبان کو اس کے ”دوستوں“ سے بچائیے، دشمن اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
اس کے علاوہ، کچھ لوگوں کو پبلشنگ کے معاملے میں کچھ بھی پتا نہیں ہوتا، تو وہ بھی میرے پاس ماہرانہ مشورہ لینے آتے ہیں۔ میں انہیں بھی مشورے دیتا ہوں (لیکن معاوضے پر)۔ بھئی سیدھی سی بات ہے کہ اگر آپ نے اس شعبے میں ستائیس سال گزار دیئے ہیں تو آپ نے صرف سائنسی صحافت ہی نہیں سیکھی، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پبلشنگ کے میدان میں بھی تجربات سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ علاوہ ازیں، برطانیہ کی ایک ویب سائٹ ”سائنس اینڈ ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک“ (scidev.net) سے بھی بطور فری لانس سائنس رائٹر وابستہ ہوں۔ میں نے برطانوی تحقیقی جریدے ”نیچر“ کےلئے بھی تھوڑا بہت کام کیا ہے۔ اور ہاں! یہ بھی بتادوں کہ میرا تعلق ”اُردو میڈیم“ ہی سے ہے لیکن الحمدللہ گزشتہ پندرہ سال سے (موقعہ ملنے پر) انگریزی میں بھی لکھتا رہتا ہوں۔یعنی آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں سو فیصد گلوبل سائنس ہی کےلئے کام کرتا ہوں۔ لیکن پوری کوشش یہی رہتی ہے کہ چاہے جو کچھ بھی کروں، لغویات اور بے راہ روی پھیلانے والی چیزوں میں کبھی بھی نہ پڑوں۔

سوال: پاکستان میں گلوبل سائنس کے علاوہ اس وقت اردو زبان میں کمپیوٹر اور سائنس کے علم کے فروغ کے لئے اور کتنے میگزین شائع ہو رہے ہیں۔ اور آپ نے جو معیار فراہم کیا ہے اس میں کیا خاص بات اور انفرادیت ہے؟

جواب: گلوبل سائنس میں کیا انفرادیت ہے؟ یہ تو ہمارے قارئین ہی بہتر بتاسکتے ہیں۔ کیونکہ مجھے تو گلوبل سائنس اپنی جان سے بھی زیادہ پیارا ہے۔ لیکن میں اتنا ضرور کہوں گا کہ گلوبل سائنس نے اردو زبان کی سائنسی صحافت کو ایک نیا رنگ، ایک نیا ذائقہ دیا ہے۔ مثلاً اگر سائنس میگزین اور سائنس ڈائجسٹ کے تناظر میں بات کروں، تو سائنس میگزین بہت سنجیدہ پرچہ تھا۔ اس میں زبان کی چاشنی نہیں ڈالی جاسکتی تھی۔ اُدھر سائنس ڈائجسٹ میں رضی صاحب کی مستقل فرمائش ”چٹپٹا“ بنانے کی ہوتی تھی، تو کئی بار اس ”چٹ پٹے پن“ کے چکر میں دو دو، تین تین صفحوں کا چٹ پٹا پن ہوتا تھا، اس کے بعد کہیں جاکر مضمون شروع ہوتا تھا۔
گلوبل سائنس میں ہم نے ایک متوازن انداز اختیار کیا ہے۔ اس میں زبان کی چاشنی بھی ہے لیکن حد سے زیادہ نہیں۔ سنجیدگی بھی ہے لیکن اتنی نہیں کہ آپ کے سر میں خشکی ہوجائے۔ محاورہ بھی ہے، اشعار بھی ہےں۔ مطلب کہنے کا یہ ہے کہ زبان و بیاں کی خوبی، اختصار اور جامعیت کو یکجا کرنے کی شعوری کوشش، گلوبل سائنس میں دیکھی جاسکتی ہے۔ ہاں! کبھی کبھی یہ ہوتا ہے کہ کچھ غیر معمولی واقعات ہوجاتے ہیں، آپ مجبور ہوجاتے ہیں کہ طویل رپورٹ لگائیں۔ ان سے ہٹ کر، عمومی طور پر ہم یہ کوشش کرتے ہیں کہ اختصار اور جامعیت کو ایک ساتھ لے کر چلا جائے۔
ایک اوربات جو میں خاص طور پر کہوں گا، ہماری یہ کوشش ہوتی ہے (جس میں کبھی ہم کامیاب ہوجاتے ہیں تو کبھی ناکام) کہ اپنے قارئین کو ایک ہی شمارے میں سائنس اور ٹیکنا لوجی کی مختلف چیزیں، بنیادی باتیں، جدید ترین معلومات اور عملی سرگرمیوں تک کے بارے میں زیادہ سے زیادہ مواد فراہم کر سکیں۔
آپ نے کبھی شیف ذاکر کو پکاتے ہوئے دیکھا ہے؟ اس کی ڈش دوسروں سے الگ کیوں ہوتی ہے؟ چیزیں وہ بھی سب وہی ڈال رہا ہوتا ہے جو دوسرے شیف ڈالتے ہیں۔ فرق صرف ہے کہ اس کا اپنا ایک انوکھا بیلنس ہوتا ہے۔ تو ہمارا اپنا، انفرادی قسم کا جو بیلنس ہے، جو مزاج ہے، ہم وہی برقرار رکھنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ تاکہ جو ہم دے رہے ہیں وہ نہ تو کسی کو نہ جیو پر مل سکے نہ جنگ میں، نہ ڈان میں اور نہ نوائے وقت میں۔ اس کا واضح ثبوت آپ ہمارے شمارہ ستمبر 2012ءمیں دیکھ سکتے ہیں۔ اس میں پانی سے کار چلانے کے دعوے سے متعلق جو رپورٹ شائع ہوئی تھی، وہ اکیس صفحات پر مشتمل تھی۔ لیکن ایسا مواد آپ کو پورے پاکستان میں کسی دوسرے اخبار، رسالے یا چینل سے نہیں ملے گا۔
بس یوں سمجھئے کہ یہ اگر ہمارا شمارہ ایک دسترخوان ہے، تو اس میں موجود ہر تحریر ایک پکوان ہے۔ ہر پکوان اپنے جداگانہ ذائقے کے باوجود، اپنے باورچی کے ہاتھ کے ذائقے کا پتا دیتا ہے۔ یہی ہماری انفرادیت ہے۔
اب جہاں تک دوسرے پرچوں کا تعلق ہے، تو اِن میں سے کچھ پرچوں کا میں جان بوجھ کر نام نہیں لوں گا (کاروباری نہیں بلکہ ذاتی وجہ سے)۔ گلوبل سائنس کے علاوہ، اس وقت ”زندہ“ سائنسی رسائل میں عملی سائنس ہے جو ستمبر 1970ءسے شائع ہورہا ہے۔ البتہ، اس کی حالت کچھ اچھی نہیں۔ ہمارے ایک اور دوست، سیّد پارس علی ہیں جو اسلام آباد سے ”ٹیکنالوجی ٹائمز“ کے نام سے ایک سائنسی ہفت روزہ اخبار نکالتے ہیں۔ بنیادی طور پر اس اخبار کے چھ صفحات ہیں، جن میں سے دو صفحات وہ اُردو میں شائع کرتے ہیں۔ اب رہ جاتا ہے گلوبل سائنس، تو اس کے حسن و قبح پر میری رائے سے کہیں زیادہ اہمیت، ہمارے قارئین کی رائے کی ہے۔

سوال : آپ کے خیال میں پاکستان میں سائنس اور کمپیوٹر کی تعلیم کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے۔ اور اس مسئلے کا حل کیا ہے؟

جواب: ہمارے ملک میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ہم نے انٹر نیٹ کو آسمانی صحیفہ سمجھ لیا ہے اور کمپیوٹر کو خدا کا بھیجا ہوا فرشتہ۔ ہم لوگوں نے اس وقت کمپیوٹر اور انٹر نیٹ پر غیر ضروری انحصار بڑھا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ ہم کمپیوٹر کے میدان کوئی ترقی کر پا رہے ہیں اور نہ ہی سائنس کے شعبہ جات میں۔ کمپیوٹر ہو، انٹرنیٹ ہو یا کچھ اور چیز، یہ سب ”اوزار“ ہیں۔ دیکھئے! کمپیوٹر کام کرنے کا ایک اوزار ہے، ایک ٹول ہے۔ اس ٹول کو بنانے کا اور چلانے کا ایک ہنر ہے۔ اگر تو یہ ہنر بہت زیادہ عام نوعیت کا ہے تو پھر اسے خصوصی ہنر نہیں کہا جائے گا۔ اسی طرح انٹرنیٹ بھی ایک ذریعہ ہے، ایک واسطہ ہے معلومات بہم پہنچانے کا۔ یاد رکھئے کہ اطلاع اور علم میں فرق ہوتا ہے۔ اسی طرح اوزار کو استعمال کرنے کے طریقے اور استعمال کے مقصد میں بھی فرق ہوتا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کمپیوٹر سائنس برائے کمپیوٹر سائنس کچھ نہیں ہوتی۔ اسی طرح انٹرنیٹ برائے آن لائن کمیونی کیشن، فیس بک، ٹیوٹر، یہ کچھ نہیں ہوتا۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہم ان چیزوں سے کام لینا کیا چاہتے ہیں؟ پاکستان کے معاشی و معاشرتی مسائل کے حل میں یہ اوزار کیا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ آج تک ہم نے درست طور پر اس چیز کا فیصلہ ہی نہیں کیا۔ اور یہی چیزیں ہمارے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بچے کو کمپیوٹر چلانا سکھا دو، وہ چمپئن ہوجائے گا۔ کس چیز کا چمپئن ہوجائے گا؟ کیا ہم نے بچے کو اس کے صحیح اور غلط کی تمیز سکھائی ہے؟
انٹر نیٹ پر اس وقت صرف اردو کی بات نہیں کر رہا ہوں، انگلش کو شامل کرکے کہتا ہوں۔ اُردو کے علاوہ انگلش کی بھی کئی لاکھ ایسی ویب سائٹس ہیں جن پر غلط معلومات موجود ہیں۔ جب تک آپ کے طالب علم کا، انٹر نیٹ اور کمپیوٹر استعمال کرنے والے شخص کا ذہن غلط اور صحیح کی پہچان کرنے کے قابل نہیں ہوگا، آپ اسے دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی دے دیجئے لیکن وہ اپنا بھی ستیا ناس کرے گا اور اس ٹیکنا لوجی کا بھی۔ ہماری راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہماری سوچ ہے، ہمیں صحیح سوچ اپنانا ہوگی۔

سوال: پاکستان میں سائنس اور کمپیوٹر کی تعلیم کے نام پر طلباءکو جو نصاب پڑھایا جا رہا ہے کیا آپ اس سے مطمئن ہیں؟ اگر نہیں تو پھر بیچارے طلباءکیا کرےں۔ اس مسئلہ کے حل کےلئے کوئی صاحب اختیار کیوں سوچنے کے لئے تیار نہیں؟

جواب: میں یہ کہوں گا کہ جہاں تک نصاب کا تعلق ہے، تو نصاب بالکل صحیح ہے، کوئی خرابی نہیں بطور مجموعی بات کررہا ہوں۔ معاملہ یہ ہے کہ ہم لوگ جب اپنے بچے کو کمپیوٹر پڑھا رہے ہوتے ہیں تو غیر ضروری طور پر امیدیں باندھ لیتے ہیں۔ ہمیں حقیقی دنیا کا پتا ہی نہیں ہوتا۔ پڑھنے والے کو بھی پتا نہیں ہوتا، اور اکثر پڑھانے والے کو بھی پتا نہیں ہوتا۔ ادھر پڑھنے والے کے والدین اس خوش فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ ہمارا بچہ جب یہ ڈگری ہاتھ میں لے کر نکلے گا تو ایک لاکھ روپے ماہانہ کی ملازمت اس کی منتظر ہوگی۔ یہاں پر بھی معاملہ سوچ کا ہے۔
دوسری چیز یہ ہے کہ نصاب بہت اچھا ہے۔ لیکن اچھے نصاب کو پڑھانے کے لئے اچھے استاد کا ہونا بہت ضروری ہے۔ ہم اساتذہ کی تیاری پر محنت نہیں کر رہے ہیں۔ مجھے افسوس ہوتا ہے ہماری اس اجتماعی قومی سوچ پر کہ ہمارے استادوں کو انگلش آنی چاہئے۔ ایک صاحب کہنے لگے کہ ہمارے اساتذہ کو تو انگلش آتی ہی نہیں۔ میں نے پوچھا: تو اردو کونسی آتی ہے؟ ہم لوگ اپنے اساتذہ کو تعلیم و تدریس کے عمل کی جزئیات سے درست طور پر آگاہ نہیں کررہے، انہیں صحیح تربیت نہیں دے رہے۔
ریسرچ پیپر چھاپنا بالکل الگ چیز ہے۔ اپنے بچوں کو صحیح طور پر پڑھانا، صحیح تعلیم دینا بالکل الگ چیز ہے۔ اور یہ صرف کمپیوٹر سائنس میں نہیں ہورہا۔ یہ تعلیم کے ہر شعبے میں ہورہا ہے۔ تو بطور مجموعی تعلیم کا میدان درست کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ کو بنیاد ی تعلیم، ثانوی تعلیم اور پھر اعلیٰ تعلیم یہ سب ایک ساتھ درست کرنا ہوں گی۔ اور اس میں استاد کو تدریس کے بہتر طریقوں سے نہ صرف واقف کرانا ہوگا، بلکہ اسے ماہر بھی بنانا ہوگا تاکہ جو وہ پڑھا رہا ہے، وہ درست طور پر اپنے شاگردوں تک پہنچا سکے۔

سوال: وہ طلباءجو صحافت کے شعبے میں آنا چاہیں، انہیں آپ کیا مشورہ دیں گے؟ یہاں پر تو سفارش اور تعلق کے بغیر، صرف میرٹ کی بنیاد پر اپنے لئے جگہ بنانا بہت مشکل ہے؟

جواب: میں مانتا ہوں کہ میرٹ والوں کےلئے جگہ بنانا بہت مشکل ہے۔ لیکن یہاں پر معاملہ یہ ہوتا ہے کہ صحافت کی ڈگریاں رکھنے والوں تک کی زبان سے درست طور پر واقفیت نہیں ہوتی۔ حالانکہ صحافت کا تعلق براہ راست تعلق زبان سے ہے۔ آپ دنیا کی کسی بھی زبان میں ابلاغ (کمیونی کیٹ) کریں، لیکن بہر حال اس ابلاغ کا پہلا تعلق زبان ہی سے ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو شخص انگلش اخبار کے لئے صحافت کرنا چاہتا ہے، اس کی انگلش بھی اچھی ہونی چاہئے۔ اگر آپ کسی اردو اخبار یا چینل میں ملازمت چاہتے ہیں تو پھر اُردو جملہ، املا اور تلفظ بھی درست ہونا لازمی ہے۔ کسی بھی زبان پر عبور تب ہی حاصل ہوتا ہے جب ہم اس میں موجود علم و ادب کا سنجیدگی سے، توجہ اور دلچسپی سے مطالعہ کرتے ہیں اور اچھی مثالوں کی روشنی میں خود کو بہتر بنانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔
ایک بات اور: اگر آپ میں ادبی ذوق نہیں، تو میں سمجھتا ہوں کہ صحافت بیکار ہے۔ صحافت اگر بات کو آگے تک پہنچانے کا ہنر ہے تو ادب اس بات کو دل میں اتارنے کا سلیقہ ہے۔ آپ صحافت سیکھ کر خبر بناسکتے ہیں۔ لیکن آپ محض صحافت سیکھ کر اپنی خبر میں جان نہیں ڈال سکتے۔ تو ادب اس چڑیا کا نام ہے جسے ہمارے ہاں صحافت میں یکسر نظر انداز کیاجاتا ہے۔
اسی طرح ترجمہ (ٹرانسلیشن) آج کی دنیا میں غیر معمولی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ یعنی ”گورے“ کو وہ لوگ درکار ہیں جو مقامی زبان کی معلومات اور حقائق، اس کی اپنی زبان میں بتائیں؛ اور وہ سمجھ سکے کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں۔ اسی طرح ہمیں، من حیث القوم، ایسے لوگ درکار ہیں جو غیر ملکی زبان سے ترجمہ کرکے ان معلومات و حقائق کو ہمارے لوگوں تک پہنچائیں تاکہ ہمارے لوگ بھی یہ جان سکیں کہ دنیا میں اس وقت کیا معاملات چل رہے ہیں۔ دوسری تہذیبوں کے لوگ کیا کررہے ہیں؛ اور ہمارے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ ترجمے پر مہارت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
صحافت میں آگے بڑھنے کےلئے تیسری اہم چیز ”اچھی یادداشت“ ہے۔
ان کے علاوہ، اگر آپ کو صرف صحافت ہی نہیں بلکہ کسی بھی میدان میں ترقی کرنی ہے، تو آپ میں تجزےئے کی صلاحیت ضرور ہونی چاہئے ورنہ آپ صرف روزنامچے کی طرح خبریں دینے والے صحافی ہی بن کر رہ جائیں گے۔ تجربہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ تجزیہ نگار کبھی نہیں بن پائیں گے۔ تو میرے خیال میں یہ چار صلاحیتیں بنیادی طور پر بہت اہمیت رکھتی ہیں۔
باقی چیزیں ٹولز یعنی اوزاروں میں آتی ہیں۔ مثلاً کمپیوٹر، ٹائپنگ، کسی خاص سافٹ ویئر، کیمرے اور مائیک کا استعمال وغیرہ۔
ان صلاحیتوں اور اوزاروں کے بعد ایک اور خاص صلاحیت ہے تجزیئے کی۔ یعنی آپ کو اس قابل ہونا چاہئے کہ اگر کوئی چیز وکی پیڈیا پرِ، یا پھر بی بی سی کی ویب سائٹ پر ہے تو وہ صحیح ہوگی یا غلط۔ اب سوال یہ ہے کہ بی بی سی اور وکی پیڈیا کو صحیفہ سمجھا جائے یا نہیں؟ اور اگر یہ صحیفے نہیں (یقینا یہ صحیفے ہر گز نہیں) تو آپ کو ان پر جرح کرنی آنی چاہئے۔ آج کے دور میں صحافت مذاق نہیں رہی ہے۔ یہ ایک سنجیدہ پیشہ بن چکا ہے؛ اور افسوس کہ ہماری یونیورسٹیز میں صحافت سے متعلق انتہائی غیر سنجیدگی پائی جاتی ہے۔

سوال: دوران تعلیم طلباءکےلئے کون سا غیر نصابی مطالعہ مفید ہے۔ اور غیر نصابی مطالعہ کے لئے کتب کا انتخاب کرتے وقت کن اصولوں کو مد نظر رکھنا چاہئے؟

جواب: اگر آپ سائنس کی بات کررہے ہیں تو میں کہوں گا کہ سائنس کی جو پاپولر اور اچھی کتابیں ہیں، جو عام لوگوں کے لئے لکھی گئی ہیں، وہ ضرور پڑھئے۔ مثلاً جان گریبن کی ”اِن سرچ آف شروڈنجرز کیٹ“ مجھے اچھی لگی۔ پھر ارتقاءکے بارے میں ارنسٹ میئر کی زبردست کتاب ”واٹ ایوولیوشن اِز“ ہے۔ آپ ارتقاءکے تصور سے اتفاق رکھتے ہوں یا اختلاف، آپ کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہئے۔ اسی طرح میشیو کاکو کی ”ہائپر اسپیس“ ہے، آئزک ایسی موف کی ”ایٹم“ ہے۔ یہ اور ایسی کئی دوسری کتابیں ہم نے اپنے زمانہ طالب علمی میں یا اس کے کچھ عرصے بعد پڑھیں۔
ساتھ ہی ساتھ آپ کو ادب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے۔ ادب آپ میں سلیقہ پیدا کرتا ہے۔ مثلاً اگر میں اپنی بات کروں تو جب میں چوتھی کلاس میں تھا تو میں نے ابن انشاءکی ”اردو کی آخری کتاب“ پڑھ لی تھی۔ اس سے اگلے سال میں نے ”طلسم ہوش ربا“ کا تلخیص شدہ ایڈیشن، جو 1200صفحے کا تھا (اور قیامِ پاکستان سے پہلے ”منشی نول کشور پریس سے شائع ہوا تھا) وہ بھی پڑھ لیا۔ اسی طرح جسے آپ اردو کا ”کلاسیکی ادب“ کہتے ہیں، یعنی قصہ چہار درویش، قصہ حاتم طائی، باغ و بہار، طوطا مینا وغیرہ، یہ سب ہم نے اس وقت پڑھے جب ہمیں پتا ہی نہیں تھا کہ یہ اردو زبان کا کلاسیکی ادب ہے۔ تو ادب کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔ ادب آپ کو سلیقہ اور زبان پر گرفت بھی دیتا ہے۔

سوال: آپ کے خیال میں انسان اپنی قسمت خود بناتا ہے یا قسمت اسے بناتی ہے؟

جواب: اگر تو آپ نے یہ طے کر لیا ہے کہ میری قسمت مجھے جہاں لے جائے گی میں وہاں جاﺅں گا تو آپ کے ساتھ قسمت اپنی مرضی سے، جو چاہے کرے گی۔ لیکن اگر آپ نے یہ طے کرلیا ہے کہ نہیں! مجھے یہ چیز اس طرح قبول نہیں کرنی اور مجھے تو اپنی راہ خود متعین کرنی ہے، تو پھر ان شاءاللہ آ پ کے ساتھ وہی ہوگا جو آپ چاہیں گے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ اس کے لئے آپ کے عزائم پختہ ہوں اور عمل پورا پورا ہو۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس بات کا یقین ہو کہ میں یہ کام کر لوں گا۔
ہاں! ہم اس میں اکثر ایک غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ تقدیر، تقدیر۔ میں یہ کہتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ نے ہر انسان کے لئے اس کا رزق مخصوص کر دیا ہے، جو اسے ملنا ہی ملنا ہے۔ لیکن وہ انسان کیسے حاصل کرسکتا ہے؟ اس کا فیصلہ انسان کو خود کرنا ہے اپنے عمل کے ذریعے۔

سوال: کون سا ایسا کام ہے جو دن رات بھی کرتے رہیں تو بوریت محسوس نہیں ہوتی؟ اور لوگوں کے کس روےّے سے دل کو تکلیف پہنچتی ہے؟

جواب: سچی بات یہ ہے کہ میں اپنے دوستوں سے بھی اکثر یہ کہتا ہوں کہ بھئی اگر تم کسی دن علیم احمد کو دیکھو کہ وہ فضول چیزوں میں پڑا ہوا ہے، بے راہ روی والی باتیں کررہا ہے اور معاشرے میں بے مقصدیت پھیلا رہا ہے، تو یہ ہر گز نہ سوچنا کہ علیم کا ذہن تبدیل ہوگیا ہے یا اس نے اپنی سوچ تبدیل کر لی ہے۔ بلکہ یہ یقین کرلینا کہ اصل علیم احمد مر چکا ہے۔ اور یہ شخص جو بے راہ روی اور بے مقصدیت پھیلا رہا ہے، یہ کوئی اور شخص ہے جس کا نام بھی علیم احمد ہے اور شکل بھی علیم احمد جیسی ہی ہے۔ تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مجھے اپنا یہ کام، جو ”سائنس جرنلزم“ کا ہے، یہ میرے لئے ایسا ہے کہ آپ مجھے گہری نیند سے بھی اٹھا کر اس بارے میں پوچھیں گے تو ان شاءاﷲ آپ مجھے کمزور نہیں پائےں گے۔ دراصل مجھے اس کام میں بڑا ہی مزا آتا ہے۔ شاید آپ کو یقین نہ آئے، لیکن یہی سچ ہے کہ اگر کوئی دن یا کوئی وقت ایسا آجائے، یا کوئی ایسی مجبوری آن پڑے کہ میں یہ کام نہ کر پاﺅں، تو میں شدید ترین ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہوں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ میری زندگی برباد ہورہی ہے۔ آپ کو شاید یہ اندازہ نہیں کہ یہ کام مجھے کتنا زیادہ عزیز ہے۔ مانا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کو میرے لئے ذریعہ معاش بھی بنادیا ہے لیکن میرا اصل مقصد کبھی اس سے پیسہ کمانا نہیں رہا۔ یہ کام مجھے احساس دلاتا ہے کہ ہاں! میں ابھی واقعی زندہ ہوں۔
اب جہاں تک دکھ کا تعلق ہے، تو دکھ اس بات کا ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو کچھ نہیں کرتے، انہیں شہرت بھی مل رہی ہوتی ہے اور وہ خود کو ”انٹلیکچوئل“ بھی کہلوا رہے ہوتے ہی جبکہ وہ ایسی ایسی باتیں کر رہے ہوتے ہیں کہ خود انہیں بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ باتیں ہیں کیا۔ میں کسی کا نام نہیں لوں گا۔ ہمارے اپنے کچھ قاری بھی ایسے ہیں۔ ایک صاحب نے گلوبل سائنس پر بڑے اعتراضات کئے تھے۔ بڑی اچھی اردو لکھی تھی انہوں نے۔ تو میں نے ان کے لمبے چوڑے خط کے جواب میں صرف اتنا لکھ دیا کہ بھائی آپ ایک کام کیجئے، آپ کی اردو اتنی اچھی ہے تو میں یہ ایک دولنک بھیج رہا ہوں، آپ ذرا ان کا اردو میں اچھا سا ترجمہ کرکے دے دیجئے۔ اس دن کے بعد سے لے کر آج تک ان صاحب کا مجھے جواب ہی نہیں آیا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ہاں لوگ تنقید کرتے ہیں۔ لیکن تنقید کرنے کا حق صرف وہ شخص رکھتا ہے جو کام کر رہا ہو، تماشائی اورتماشبین کی تنقید کوئی معنی نہیں رکھتی۔ افسوس اس وقت ہوتا ہے جب لوگ تماشائی اور تماشبین لوگوں کی تنقید کو اہمیت دیتے ہیں۔ مجھے لوگوں کے اسی روےّے کی سب سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ ورنہ بہت ڈھیٹ ہوں جیب میں اٹھنّی لے کر گھومنے میں بھی مزہ آتا ہے۔

سوال: کسی کے ساتھ کی گئی نیکی جو بعد میں آپ کے لئے مصیبت یا پریشانی کا باعث بن گئی، ہو یا کوئی ایسا کام جس پر بہت محنت کے بعد بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہو؟

جواب: ایک نہیں ہیں بہت ساری ہیں۔ میں نام نہیں لوں گا۔ بس اس کی میں معذرت چاہتا ہوں۔

سوال: پاکستان میں طلباءکو فری کیریئر کونسلنگ کی سہولت فراہم کرنے والا کوئی بھی ادارہ موجود نہیں ہے؟کیا آپ نے کبھی اس بارے میں سوچا کہ طلباءکو یہ راہنمائی بھی مہیا کرنے کا کوئی پروگرام مرتب کیا جائے؟

جواب: اصل میں کیریئر کونسلنگ ایک اہم شعبہ ہے اور حقیقتاً اس چیز کی ہمارے ہاں ضرورت ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ میں ہوں صحافی، اور اس حیثیت سے میں دو تین شعبوں کے بارے میں ہی طالب علموں کو رہنمائی دے سکتا ہوں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ایک ایسا پینل بنایا جائے جس میں مختلف شعبوں کے ماہرین، اپنے شعبے سے متعلق طالب علموں کے لئے رہنما مضامین تیار کریں اور صرف تحریر نہیں کریں بلکہ کوئی ایسی سوشل ورک نیٹ ورکنگ کی جائے کہ اس میں مختلف کیریئرز کے بارے میں سوالات کرنے والوں کو مشورہ بھی مل سکے۔ ایسا کچھ ہونا چاہئے۔ اس کے لئے افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ اگر اﷲ نے مجھے کبھی بھی موقع دیا تو میں یہ کا م کروں گا کہ کیریئر گائڈینس کونسل کا باقاعدہ طور پر آن لائن سلسلہ شروع کیا جائے۔ جیسے میں نے آپ سے کہا تھا کہ میری نظر میں انٹر نیٹ ایک اوزار ہے جسے ہم مختلف مقاصد میں استعمال کر سکتے ہیں۔ تو انٹر نیٹ کی طاقت استعمال کرتے ہوئے ہم اپنی نئی نسل کو درست رہنمائی دیں، وہ رہنمائی جس کے ذریعے وہ اپنا کیریئر بناسکیں، اپنی زندگی بناسکیں، اپنے کیریئر کے بارے میں اپنی غلط فہمیاں دور کرسکیں، اپنے آپ کو ایک اچھا انسان بناسکیں تو یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہوگا۔
لیکن اس کے لئے پہلے اپنے آپ کو منظم کرنا ضروری ہے کیونکہ اس وقت میں اپنے آپ کو اس پوزیشن میں محسوس نہیں کرتا کہ میں یہ کام فوراً کرنے کا اعلان کر دوں۔ ایک پوری ٹیم تیار کرنی ہے۔ کچھ لوگ فیلڈ ورک کریں گے، کچھ مواد جمع کریںگے، کچھ لوگ ہوں گے جو بزرگوں کی حیثیت سے صرف مشورہ دیں گے۔ ایمانداری والی بات یہ ہے کہ بزرگ بیٹھ کر مشورہ دیتا ہوا ہی اچھا لگتا ہے۔ بزرگوں کو آپ میدان میں دوڑا نہیں سکتے۔ یہ ان کی بزرگی کا بھی تقاضا ہوتا ہے۔ تو یہ بہت ساری چیزیں ہیں اور ایسا ہونا چاہئے۔ میرے ذہن میں پہلے سے یہ خیال موجود ہے۔

سوال : مستقبل میں ابھی آپ کا مزید کن منصوبوں پر کام کرنے کا ارادہ ہے اور پاکستانی نوجوان کے نام اپنے پیغام میں کیا کہنا پسند فرمائیں گے؟

جواب: وہ کہتے ہیں ناں
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب دیکھئے ٹھہرتی ہے جاکر نظر کہاں
تو بھائی پہلی چیز تو ابھی تو گلوبل سائنس کو بہت بہتر بنانا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ایک وقت تھا جب انٹرنیٹ بہت زیادہ عام نہیں تھا۔ تو نوجوان نسل بڑی دلچسپی لیتی تھی۔ وہ کچھ نیا پڑھنا چاہتی تھی۔ آج کل یہ ہورہا ہے کہ لوگ ایس ایم ایس کو سب کچھ سمجھتے ہیں، ٹوئٹر پر کی ہوئی ٹویٹ کو سب کچھ سمجھتے ہیں، ٹی وی چینل پر چلنے والی خبر کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر کوئی ویب سائٹ ہے تو اس پر آنے والی معلومات کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ ابھی ہمیں اس بدلتے ہوئے رجحان کا سامنا کرنا ہے اور اپنے بقاءکی کوئی راہ نکالنی ہے۔
نوجوانوں کےلئے مشورے سے پہلے کچھ ذاتی مشاہدات بیان کرنا چاہوں گا۔ ریسرچ یعنی تحقیق کا مطلب ہے ”حقیقت کی جستجو“ کرنا۔ لیکن جناب! وہ لوگ جنہیں گوگل میں صحیح کی ورڈ لکھ کر ڈھنگ سے سرچ کرنا ہی نہ آتا ہو، تو وہ ریسرچ کیا خاک کریں گے۔ اس وقت یہ بہت خطرناک معاملہ ہے۔ انٹرنیٹ کے مثبت استعمال سے لاعلمی ہمیں کمزور بنارہی ہے۔ میں تقریباً ہر روز ہی انٹرنیٹ استعمال کرتا ہوں، اور نوجوانوں میں بدلتے رجحانات سے واقف رہنے کی کوشش بھی کررہا ہوں۔ لیکن ”جو رہی سو بے خبری رہی“ کے مصداق، میں یہ محسوس کر رہا ہوں کہ آج ہماری نئی نسل میں (بطورِ مجموعی) غلط یا صحیح کی تمیز کرنے کا سلیقہ ختم ہوتا جارہا ہے۔ اور یہ بات ان میں سیکھنے کے عمل اور کام کے مقدار و معیار، دونوں پر اثرانداز ہورہی ہے۔
انٹرنیٹ آنے اور کمپیوٹر کا استعمال حد سے زیادہ بڑھ جانے کے نتائج ہمارے حق میں کچھ اچھے نہیں نکل رہے۔ میں ایک مثال دیتا ہوں۔ فرض کیجئے کہ کل صبح آپ کو ایک اسائنمنٹ جمع کروانا ہے۔ ایسے میں اکثر طالب علم یہ کرتے ہیں کہ چار کی ورڈز لگائے، چھ ویب سائٹس دیکھیں؛ دو پیرے یہاں سے اڑائے دو پیرے وہاں سے۔ کٹ کیا، پیسٹ کیا، اسائنمنٹ کا پرنٹ نکالا اور جمع کروادیا۔ لیکن اس کی سب سے بری صورت یہ ہے کہ جو کچھ ”کٹ پیسٹ“ کرکے جمع کروایا، اسے نہ تو پورا پڑھا اور نہ ہی کچھ نوٹس لئے۔ یعنی اگر اسائنمنٹ جمع کروانے والے سے پوچھ لیا جائے کہ اُس نے اسائنمنٹ میں کیا بتایا ہے، تو شاید اسے بھی معلوم نہ ہو کہ خود اس نے کیا تیر مارا ہے۔ آپ اسے ”ریسرچ“ کہیں گے؟ تو جناب! یہ ہے وہ صورتِ حال جسے میں انتہائی خطرناک سمجھتا ہوں۔ اور ہمیں ایسی عادتوں سے چھٹکارا پانا چاہئے جو ہمارے سیکھنے کی راہ میں سہولت کے نام پر رکاوٹ بن جائیں۔
اب جہاں تک تعلق ہے مستقبل کا، تو اﷲ تعالیٰ ہمیں ہمت دے۔ آپ لوگوں کی دعائیں بھی ہمیں چاہئیں۔ میرا جو ارادہ ہے کہ گلوبل سائنس کو محض ایک پبلشنگ ہاﺅس تک محدود نہ رکھا جائے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ گلوبل سائنس ایک مشنری ادارہ ہے، تو اس مشن کو باقاعدہ طور پر ایک ادارے کی حیثیت سے کھڑا کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ یعنی اس کا کوئی ایک پہلو نہیں ہوگا، اس کے بہت سارے پہلو ہوں گے۔ ان سب کی تفصیلات میں ابھی آپ کو نہیں بتاسکتا۔ کچھ پر ابھی کام چل رہا ہے اور کچھ باتیں ذہن میں موجود ہیں۔
دوسری اہم چیز، جسے اگر آپ پاکستانی میڈیا (خاص کر الیکٹرونک میڈیا) کے تناظر میں دیکھیں، اور اس میں انٹرنیٹ بھی شامل کرتے چلیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ الیکٹرونک میڈیا کی دھماکہ خیز ترقی کے باوجود، جب بھی سائنس کا معاملہ آتا ہے تو الیکٹرونک میڈیا منہ کے بل گر پڑتا ہے۔ 90 فیصد سائنس رپورٹنگ غلط، یا پھر اغلاط سے بھرپور ہورہی ہوتی ہے۔ اس رپورٹنگ کو صرف اس صورت میں درست کیا جاسکتا ہے جب آپ کے پاس سائنس جرنلزم کی تربیت فراہم کرنے والا کوئی باقاعدہ ادارہ (انسٹی ٹیوشن) موجود ہو۔ اس وقت پاکستان میں سائنسی صحافت بطور ادارہ کوئی وجود ہی نہیں رکھتی۔
اس وقت ہمیں سائنس جرنلزم کےلئے کوئی انسٹی ٹیوشن چاہئے۔ علیم صاحب تو صرف ایک فرد کی حیثیت سے کھڑے ہوسکتے ہیں۔ علیم احمد آج نہیں تو کل مر جائیں گے، اس دنیا سے چلے جائیں گے۔ لیکن جب کوئی انسٹی ٹیوشن ہوتا ہے ناں، تو اسے نئے لوگوں کے آنے سے اور پرانے لوگوں کے جانے سے بہت زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ یعنی سائنس جرنلزم کو ”انسٹی ٹیوشنلائز“ کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ پاکستان میں ماحولیاتی صحافت کے نام پر لوگوں نے بہت پیسے کمائے۔ معذرت کے ساتھ میں اس طرح کا کوئی ادارہ بنانا نہیں چاہتا کہ جس کا مقصد صرف پیسے اینٹھنا ہو۔ میں اسے ایک سنجیدہ کام بنانا چاہتا ہوں۔ ہمارے اپنے لوگ ہوں، ہمارے ملک کی رپورٹنگ کریں، اپنے ملک کے لوگوں کےلئے بھی کریں، باہر کے لوگوں کےلئے بھی کریں۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو فی الحال صرف ذہن میں ہیں، ایک حسرت کی صورت میں۔ لیکن ان شاءاللہ، جب پاکستان میں سائنسی صحافت کی ادارہ سازی ہوجائے گی، تو کچھ ایسے منصوبے جو اس وقت صرف ایک خواب ہیں، دیوانے کی بڑ ہیں، وہ حقیقت کا روپ دھار لیں گے۔

Website: www.globalscince.com.pk

Facebook: fb.me/monthlyglobalscience

نوٹ: یہ انٹرویو میں نے 21ستمبر 2012 کو ایکسپو سینٹر کراچی میں کیا تھا، ان دنوں میں کراچی میں دسویںجماعت کا طالب علم تھا، اس انٹرویو کے تاخیر سے شائع ہونے کے دو سبب ہیں، ایک تو ہم اسلام آباد شفٹ ہو گئے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ میں چاہتا تھا کہ ا نٹرویو شائع ہونے سے پہلے محترم علیم احمد صاحب اس کو ایک نظر دیکھ لیں ، آپ ان مصروفیت کا اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انہیں اس انٹرویو کو ایک نظر دیکھنے میں دو سال لگ گئے ، مجھے آج ہی یہ انٹرویو مو صو ل ہو ا، میں ان کا بہت شکرگزار ہو کہ انہوں نے اس انٹرویو میں ریکارڈنگ کی وجہ سے جوخلاءموجود تھے ان کو درست کیا اور اس انٹرویو کی ادارت بھی فرمائی۔



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


3 thoughts on “اردو زبان میں پاکستان کے واحد سائنس میگزین، ماہنامہ ”گلوبل سائنس“ کراچی کے مدیراعلی محترم علیم احمد صاحب کا تفصیلی انٹرویو

  1. م۔ش۔ا

    ایک قابل احترام شخض کی قابل قدر حیات کو بیان کرتا قابل مطالعہ انٹرویو۔۔۔

    Reply

Leave a Reply

Translate »