انٹرنیٹ پر” ای شاپ“ اورکاروباری ویب سائٹ کے فوائد

ایک اچھی ویب سائٹ کے ذریعے ہم اپنی صلاحیتوں، آئیڈیاز، ٹیلنٹ، کاروبار اور شخصیت کو دنیا بھر میں متعارف

My this article was published in Daily Ausaf Sunday Magazine on 8th December 2013.

My this article was published in Daily Ausaf Sunday Magazine on 8th December 2013.

کراسکتے ہیں۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں اپنے وجود کا احساس دلانے کا یہ سب سے سستا اور بہترین ذریعہ ہے۔ فرض کریں کہ آپ چھوٹے یا بڑے پیمانے پر کوئی پراڈکٹ تیار کر رہے ہیں، پرائیویٹ سکول، کالج ،ہسپتال یا این جی او (NGO)کی بنااد رکھی ہے، وکالت، آرکیٹیکٹ، انٹیرئیر ڈیزائننگ، فیشن ڈیزائننگ، فوٹو گرافی یا ایونٹ مینجمنٹ کی سہولت فراہم کر رہے ہیں یا دیگر سروسز فراہم کرنے والے کسی ادارے کے مالک ہیں، ریسٹورنٹ،ہوٹل یا کھانے پینے کے کام سے وابستہ ہیں حتٰی کہ اگر آپ صحافی، شاعر، ادیب یا آرٹسٹ بھی ہوں تو پھر بھی آپ اپنی ذاتی ویب سائٹ کے بغیر ادھورے ہیں۔ آپ کی پہنچ بس ایک محدود طبقے کی حد تک ہے۔ جبکہ صرف ایک ویب سائٹ بنا کر آپ دنیا بھر میں اپنے کاروبا کو وسیع، شخصیت کو متعارف اور اپنے آئیڈیاز کو عملی جامہ پہنانے کے بے شمار مواقعوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ایک اچھی ویب سائٹ آپ کے کاروبار کی ساکھ اور آپ کی شخصیت کے وقار میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔
وہ افراد اور ادارے جنہوں نے معاشرے کے بدلتے ہوئے رجحانات کو محسوس کر لیا اور اپنے کاروبار کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھال لیا۔ آج وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ ویب سائٹ بنانے کے لئے کوئی بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں پڑتی آپ صرف پندرہ یا بیس ہزارروپے خرچ کرکے ایک اچھی ویب سائٹ کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کے دل میں یہ خیال آئے کہ ہمارا کام تو ویب سائٹ کے بغیر ہی بہت اچھا چل رہا ہے ہمیں اس سر درد میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے، تو اس کے جواب میں صرف یہ کہوں گا کہ درست طریقے سے پبلسٹی پر خرچ کیا جانے والا پیسہ کبھی ضائع نہیں جاتا اور اگر پبلسٹی کا کوئی رزلٹ نہ آتا ہو تو پیپسی کولا اور دیگر ملٹی نیشنل کمپنیاں کبھی پبلسٹی پر اتنا سرمایہ خرچ نہ کریں۔ کاروبار چاہے چھوٹا ہو یا بڑا یہ قانون سب پر لاگو ہوتاہے کہ ” جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے”۔
یہ سب پڑھنے کے بعد اگر کبھی آپ کو اپنے کاروبار کے فروغ کے لئے ویب سائٹ بنانے کی ضرورت محسوس ہو تو کبھی بھی کسی اناڑی ، مفت یا چھ ہزار روپے لے کر ویب سائٹ بنانے والوں کے چکر میں نہ پڑیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صرف ویب سائٹ بنانا ہی کمال نہیں ہے بلکہ اصل کمال یہ ہے کہ آپ کی ویب سائٹ کو وزٹ کرنے والااس کو ایک نظر دیکھنے بعد اس کے بارے میں اچھا تاثر لے،اس کے علاوہ ویب سائٹ بنانے والا “ایس ای او”SEO کے تمام اصولوں کو مدنظر رکھ کر ویب سائٹ بنائے تاکہ آپ کی ویب سائٹ گوگل سرچ میں اچھا رینک حاصل کرسکے کیونکہ اگر آپ کی ویب سائٹ گوگل سرچ میں اچھا رینک حاصل نہیں کر پاتی تو صرف ویب سائٹ بنا کر آپ خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں کر سکتے اسی لئے کہتے ہیں کہ ،مہنگا روئے ایک بار، سستا روئے باربار، بہتر یہی ہے کہ مفت بری کے چکر میں پڑنے کی بجا ئے اپنی ویب سائٹ بنوانے کے لئے کسی پروفیشنل ویب ڈیزائنر کی خدمات حاصل کریں ۔ جو آپ کے کاروباری تقاضوں کو مد نظر رکھ کر ویب سائٹ بنائے۔
ہمارے ہاں ایک اور بھی بہت بڑا مسئلہ ہے کہ اکثر کاروباری افراد کو خود یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہم نے کیا بنوانا ہے اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انہیں آسانی سے کوئی چیز پسند ہی نہیں آتی جبکہ ویب ڈویلپر کےلئے بھی یہ صورتحال کوفت کا باعث بنتی ہے۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ اپنی ویب سائٹ بنوانے سے پہلے اچھی طرح سوچ بچار کر لیں کہ ہم نے کیا بنوانا ہے۔ اس کا ایک شارٹ کٹ اور بھی ہے کہ آپ نے جس موضوع پر ویب سائٹ بنوانی ہو اس شعبہ کے حوالہ سے انٹرنیٹ پر موجود ویب سائٹس کا تفصیلی جائزہ لیں اور ان میں سے جو ویب سائٹ آپ کو زیادہ اچھی لگے آرام سے اس جیسی ویب سائٹ بنوا لیں۔ لیکن ہو بہو اس کی نقل نہ اتاریں کچھ مناسب تبدیلیاں ضرور کر لیں۔
اب تک ہم نے جو معلومات بیان کی ہیں وہ اس کاروباری طبقہ سے متعلق ہیں جو باقاعدہ آفس بنا کر یا بھاری سرمایہ کاری سے کسی بھی قسم کا بزنس کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس اب دنیا بھر میں بہت تیزی کے ساتھ ایک نئے انداز سے کاروبار کا آغاز بھی ہوا ہے ، جس میں آپ کوئی آفس یا دکان بنائے بغیر بہت تھوڑے سرمایہ کے ساتھ ایک اچھے کاروبار کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ اسے “ای شاپ’ یا آن لائن سٹور کہتے ہیں ، وہ ویب سائٹس جن پر اشیاءکی خریدوفروخت کی سہولت موجود ہو “ای شاپ” کہلاتی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں رہنے والے زیادہ ترافراد انٹرنیٹ پر موجود بڑی بڑی ای شاپس مثلاً eBay, Amazon, Alibaba وغیرہ سے ہی خریداری کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں ابھی تک صرف ہائی کلاس سے تعلق رکھنے والے افراد ہی ای شاپ سے خریداری کر رہے ہیں۔ عام طور پر ای شاپس ، موبائل فون،لیپ ٹاپ، آئی پیڈ، کیمرے ، جیولری اورالیکٹرونکس مصنوعات کی خریداری کے لئے مشہور ہیں لیکن پاکستان میں کچھ لوگوں نے انٹرنیٹ پر نئے آئیڈیاز کو متعارف کروا کر بھی کامیابی حاصل کی مثلا قربانی کے جانوروں اور پرندوں کی آن لائن فروخت وغیرہ۔ اگر آپ کے پاس کوئی اچھا آئیڈیا ہے اور آپ کچھ کر دکھانے کا پختہ عزم بھی رکھتے ہیں یا انٹرنیٹ پرکسی کاروبار کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں توآپ بھی انٹرنیٹ پر اپنا ” آن لائن سٹور’ بنا کر اس فیلڈ میں طبع آزمائی کر سکتے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں آن لائن اشیاءفروخت کرنے والی زیادہ تر ویب سائٹ کا طریقہ کار یہ ہے کہ کسی بھی چیز کی خریداری کا آرڈر دینے کے بعد رقم کی ادائیگی اس وقت کرنی پڑتی ہے جب آپ وہ چیز بذریعہ کورئیر وصول کر لیتے ہیں۔ صرف خریداری کرتے وقت تھوڑا سا یہ خیال رکھنے کی ضرورت پڑتی ہے کہ جس ویب سائٹ سے خریداری کی جا رہی ہے اس کی ریپوٹیشن کیسی ہے۔کچھ نالائق لوگوں کی آن لائن خریداروں کو دھوکہ دینے کی وجہ سے عوام کا آن لائن خریداری پر اعتماد مجروح ضرور ہوا ہے لیکن اس کے باوجود آن لائن خریداروں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر بہت سی پاکستانی ویب سائیٹس ایسی بھی ہیں جنہوں نے اپنے خریداروں کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچائی اور اس وقت وہ کامیابی سے ہمکنار ہیں۔ یہ ایک ایسا کام ہے جس میں ابھی بھی نئے آئیڈیاز کے لئے گنجائش موجود ہے۔
اپنا آن لائن سٹور بنانے کے لئے آپ کو منفرد آئیڈیاز اورسرمایہ کاری کے علاوہ ابتدائی طور پر ایک اچھے ویب ڈویلپر کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ای شاپ کے پراجیکٹ پر کام کرنے والا ویب ڈویلپر آپ سے اس کام کا معاوضہ چالیس سے 80 ہزار روپے تک طلب کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ کو ویب سائٹ کو روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹ کرنے کے لئے بھی ایک مستقل اور قابل اعتماد ملازم کی ضرورت پڑے گی۔ان اخراجات کے علاوہ باقی آپ جتنی سرمایہ کار ی کریں گے اسی حساب سے آپ کو رسپانس ملے گا۔یہ ایک فل ٹائم جاب ہے اور آغاز میں آپ کو بہت زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے جبکہ آمدن فورا نہیں ہوتی ہاں وہ لوگ اس پراجیکٹ سے فوری آمدن حاصل کر سکتے ہیں جو سوشل میڈیا پر بہت متحرک رہتے ہیں۔ اگر آپ بھی چاہیں تو اس کام میں قسمت آزمائی کرسکتے ہیں۔



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


Leave a Reply

Translate »