انٹرنیٹ پر پہلی مرتبہ صحافت کے اسرارورموز اور انکشافات پر مشتمل، ایک دلچسپ انٹرویو، سینئر صحافی اشفاق ساجد صاحب سے ایک یادگار ملاقات کی روداد ۔

اسلا م آبا د سے تعلق رکھنے وا لے صحا فیوں کے پا س اتنا فا رغ وقت نہیں ہو تا کہ وہ تفصیلی انٹر ویو کےلئے وقت نکال سکیں۔ میں محترم اشفاق ساجد صاحب کا ممنون ہوں کہ انہو ں نے  انٹر ویو کےلئے وقت دیا ۔اسلام آباد میں چینل 5کے بیوروچیف اور راولپنڈی ، اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ کے سابق صدر محترم اشفاق ساجد صاحب کو اللہ تعا لیٰ  نے صحافت کے شعبہ میں بہت عزت اور بلند مقا م سے نوازا ہے۔ ان کی بے پنا ہ مصرو فیت کے باوجود، مجھے انٹر ویو کے لئے وقت تو مل گیا ،لیکن وہ جب بھی کراچی آتے، ان کی مصروفیات اتنی زیادہ ہوتیں کہ مجھے تفصیلی انٹر ویو کے لئے وقت نہ ملتا ، بلا آخر میں نے سوال لکھ کر انہیں فیکس پر بھیج دئیے۔ لیکن اتفاق سے اس دوران انہیں سری لنکا جانا پڑگیا ۔ اور پھر ہوا یوں کہ سری لنکا جاتے ہوئے ان کی کراچی سے کولمبو کی فلا ئٹ ایک دن لیٹ ہوگئی اور انہیں ایک دن کے لئے مجبوراً کراچی رکنا پڑا ۔
بس پھر کیا تھا جب مجھے پتا چلا تو میں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور ان سے انٹر ویو کے لئے اپنا ٹیپ ریکارڈر لے کراچی ائیرپورٹ ہوٹل پہنچ گیا۔ یہ انٹر ویو میں نے وہیں پر کیا ہے۔ صحا فت کے شعبہ کے حوالہ سے وہ سوالات جو ہر وقت میرے ذہن میں کُلبُل کرتے رہتے تھے، آخر کار اس انٹر ویو سے مجھے ان سب سوالوں کا تسلی بخش جواب مل گیا۔ میرے بہت سے کونسیپٹ کلئیر ہوئے ۔
یہ انٹر ویو خاص طور پر ان سٹوڈنٹس کے لئے بھی بہت مفید ہوگا جوصحا فت کے شعبہ میں آنا چاہتے ہیں ۔اس کے علاوہ ایک صحافی کو صحا فت کے شعبہ میں مقا م بنانے کےلئے کتنی محنت کرنا پڑتی ہے، اور فرائض کی ادائیگی کے دوران کن کن مشکلات ، مشاہدات اور تجربات سے واسطہ پڑتا ہے، یہ سب اور اس کے علاوہ بے شمار اہم معلوما ت آپ کو اس انٹر ویو میں پڑھنے کو ملیں گی ۔

سوال: اگر آپ صحافی نہ بنتے تو کس شعبہ کا انتخاب کرتے ؟

جواب : اگر میں صحافی نہ بنتا تو پھر بھی، میرا خیال ہے کہ میں صحافی ہی بنتا، کیونکہ شروع سے ہی میرا پڑھنے لکھنے کی طرف زیادہ رجحان تھا۔

سوال: صحافت میں اس مقام تک پہنچنے کے لئے آپ کو کیا کیا جدوجہد کرنا پڑی ؟

جواب: دیکھیں شعبہ کوئی بھی ہو، آپ کو اس شعبہ میں کسی مقا م تک پہنچنے کےلئے انتھک محنت اور جدوجہد 22112011204کرنا ہی پڑتی ہے۔ لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کا جیک لگ جا ئے۔ لیکن اس کے بہت کم چانسسز ہوتے ہیں۔ مجھے تو اس مقام تک پہنچنے کے لئے بڑی جدوجہد کرنا پڑی۔  دوران تعلیم ہی میں نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز ایک ہفت روزہ اخبار ”رفتارِجہاں“ کی نمائندگی سے کیا۔ پھر اس کے بعد اپنے شہر سے ہی روزنا مہ ”پاکستان “ لا ہور کا نمائندہ بنا۔ کچھ عرصہ کے بعد مجھے روزنا مہ ”پا کستان “ لا ہو ر میں ہی شوبز رپورٹر کی جا ب مل گئی۔ بعد میں مجھے روزنامہ ”آزا د“ لاہور اور روزنامہ ”چٹان“ میں بھی کام کرنے کا موقع ملا۔ اس کے بعد قسمت مجھے اسلام آبا د لے آئی اور اسلام آبا د میں سب سے پہلے روزنامہ ”خبریں“ سے وابستہ ہوا۔ جب میں نیا نیا اسلام آبا د آیا تو میرے پاس اتنے اضافی پیسے بھی نہیں ہوتے تھے کہ میں ٹیکسی میں سفر کر سکوں میں زیادہ تر پیدل ہی سفر کرتا تھا۔ لیکن میں نے جدوجہد نہیں چھوڑی۔ مجھے ایک لگن تھی، شوق تھا کہ صحافت کے شعبہ میں اپنا مقام بنانا ہے۔
ان سخت حالات میں بھی، میں کبھی دل برداشتہ یا مایوس نہ ہوا ، البتہ کبھی کبھی یہ افسوس ہوتا تھا کہ اس شعبہ میں کیوں آیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان دنوں میری نئی نئی شادی ہوئی تھی اور میرے پاس اتنے ایکسٹرا پیسے بھی نہیں ہوتے تھے کہ گھر جاتے ہوئے، بیگم کے لئے کوئی چیز ہی لے جاتا۔ بس اس بات پر کبھی کبھی دکھ ہوتا تھا۔
لیکن اس کے باوجود مجھے یقین تھا کہ ایک دن میں اس شعبہ میں ضرور کامیابی حاصل کر لوں گا ۔ میں نے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ میری جا ب تو نیوز ڈیسک پر تھی، لیکن میں نیوز ڈیسک میں ہوتے ہوئے بھی صبح کے وقت میں رپورٹنگ کرتا تھا۔ میں ”خبریں“ آفس سے صبح  فجر کی اذان کے وقت اپنی ڈیوٹی سے فارغ ہوتا تھا ۔اور گھر آنے کے بعد مجھے بہت کم سونے کا موقع ملتا۔ تھوڑی سی نیند پوری کر کے ہی میں جلد اُٹھ جاتا اور رپورٹنگ کے لئے نکل پڑتا۔ حالانکہ یہ میری جاب نہیں تھی، بس مجھے رپورٹنگ کا شوق تھا، جنون تھا۔ میرے اس اضافی کام اور شوق کو دیکھتے ہوئے اخبار مالکان اس بات پر مجبور ہوگئے کہ انہیں مجھے سب ایڈیٹر کے شعبہ سے رپورٹنگ کے شعبہ میں منتقل کرنا پڑا۔ جب میں سب ایڈیٹر سے رپورٹنگ میں گیا تو اس شعبہ میں اپنی جگہ بنا نے کےلئے مجھے بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹنگ کےلئے مجھے جو بیٹ دی گئی وہ پا کستان مسلم لیگ( ن ) کی تھی اور اس وقت نواز شریف وزیراعظم تھے۔ اس  بیٹ کے صحافی اپنی فیلڈ کے بڑے مگر مچھ تھے جبکہ میں ابھی نیا نیا آیا تھا ۔ صحا فت کے شعبہ میں بھی ایک ما فیا ہوتا ہے۔ وہ کسی اور کو خبر کی ہوا نہیں لگنےدیتے لیکن میں نے محنت کی اورایسی ایسی خبریں نکالیں کہ پھر وہ مگرمچھ مجھ سے رجوع کرنے لگے کہ یار ہمیں بھی خبر دے دیا کرو۔
رپورٹنگ کے شعبہ سے وابستہ ہوئے ابھی مجھے زیا دہ عرصہ نہیں ہوا تھا کہ میری اہک خبر نے پورے پاکستان میں میری پہچان بنادی۔ ان دنوں میں روزنا مہ’ ’ اوصا ف “ اسلام آباد سے منسلک تھا۔ مشرف کی حکو مت آچکی تھی، میں نے اپنے اخبار کو ایک خبر دی، میری یہ خبر سپر لیڈ میں چھپی کہ ”مشرف گورنمنٹ کا نواز شریف فیملی سے پہلا رابطہ “ مشرف کے دورِ حکومت میں اس طرح کی خبر لگانا بہت حوصلے کی بات تھی۔ کیونکہ یہ خبر مشرف گورنمنٹ کے لئے نقصان کا باعث بن سکتی تھی۔ میں شکریہ ادا کر تا ہوں حنیف صابر صاحب کا جو اس وقت ایڈیٹر تھے اور نہوں نے بہت دلیری کا مظاہرہ کیا اور یہ خبر شا ئع کر دی۔ اس خبر کی تفصیل میں، میں نے یہ بھی بتایا تھا کہ نوا ز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کا فیصلہ ہو گیا ہے اور اب مسلم لیگ (ن) کی صدارت شہباز شریف کریں گے۔ جب یہ خبر شائع ہوئی تو اس وقت نواز شریف فیملی جدہ میں تھی۔ ” آئی ایس پی آر “ جو فوج کا ادارہ ہے، اس کی طرف سے فوری تردید آگئی کہ مشرف حکومت نے نوا ز فیملی سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ وہ رپورٹنگ ما فیا جو اپنے آپ کو بڑا پھنے خان سمجھتے تھے اور جن کا خیا ل تھا کہ ہمارے بڑے سورس ہیں انہوں نے بھی کہا کہ مشر ف اور میاں برادران میں کوئی 22112011163154رابطہ نہیں ہوا اور نہ ہی شہبا ز شریف کو پا رٹی کا صدر بنا یا جا رہا ہے۔ میری بیٹ کے تمام صحافیوں کا یہ خیال تھا کہ اس خبر کے ذریعے میں نے اپنے اُوپر ہی خودکش حملہ کر لیا ہے۔ اور اب میرا کرئیر ختم ہو جائے گا ۔ اس خبر کو پڑھنے کے بعد روزنا مہ ایکسپریس کے ایڈیٹر مسعود ملک صاحب جو ان دنوں نوائے وقت میں چیف رپورٹر تھے، ان کے نواز شریف فیملی کے ساتھ بہت اچھے تعلق ہیں۔ انہوں نے مجھے بلا کر کہا کہ یار تم نے بہت بڑی خبر دے دی ہے، اگر یہ خبر بائونس ہو گئی تو تمہارا کرئیر تباہ ہو جائے گا۔ تو میں نے اُنہیں کہا کہ آپ بے فکر رہیں ایسا کچھ نہیں ہو گا ۔ اگلے دن مجھے چیف ایڈیٹر نے بلایا اور بتا یا کہ ایجنسیوں کی طرف سے بڑا پریشر آیا ہے۔ تومیں نے اُنہیں تسلی دی کہ میرا سورس اس میٹنگ میں موجود تھا جس سے میں نے یہ خبر نکالی ہے۔ آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اب میری خوش قسمتی دیکھئے کہ اگلے دن جاوید ہا شمی جو جیل میں تھے، لاہور کی عدالت میں پیشی پر آئے۔ وہاں اُنہوں نے صحا فیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ اوصا ف میں چھپنے والی خبر بالکل درست ہے۔ جاوید ہاشمی کا یہ بیان روز نامہ ”اوصا ف “ میں تین کالم میں شائع ہوا تو” آئی ایس پی آر “ نے بھی مان لیا، اور دو سینئر صحافی مجید نظامی صاحب اور زبیرملک صاحب جو میاں برادران کے پا س جدہ گئے تھے انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی کہ ہم نے مشرف کے کہنے پر نواز فیملی سے رابطہ کیا تھا۔ جب ہر طرف سے یہ خبرسچ ثا بت ہوگئی تو پھر مجھے اس کا رسپانس بھی بہت ملا۔ میری یہ ایک خبر پورے پاکستان میں، میری پہچان کا باعث بن گئی۔ پھر میری بیٹ کے جتنے بھی سینئر رپورٹر تھے بشمول ڈان اخبار سے لے کر جنگ، نوا ئے وقت، تک وہ روزانہ مجھ سے لازمی رابطہ کرتے تھے کہ کوئی خبر ہے۔
اس کے علاوہ میں نے ایک اور خبر دی تھی کہ” میاں اظہر کو صدارت سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا اورنئے صدر چوہدری شجاعت ہوں گے “اس وقت میاں اظہر مسلم لیگ (ق) کے صدر تھے۔ یہ خبر بھی سپر لیڈ ہی چھپی تھی۔ اور وزیراعظم جمالی صاحب کے استعفیٰ  کی خبر بھی سب سے پہلے میں نے ہی دی تھی کہ ” آج جمالی اپنے عہدہ سے استعفیٰ  دے دیں گے“۔ ان خبروں کی اشاعت کے بعد میری بیٹ کے جتنے بھی رپورٹر تھے وہ سمجھ گئے کہ یہ باخبر صحافی ہے اور اس کی خبریں صحیح ہوتی ہیں۔ اس کے بعد پھر اللہ تعا لیٰ  نے ایسا کرم کیا کہ میں شعبہ صحافت میں آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔

سوال: اس وقت آپ صحا فیوں کی کون کون سی تنظیم سے وابستہ ہیں اور ماضی میں کون کون سی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا موقع ملا ، اس عرصہ میں ہونے والے تجربات اور خدمات کو بیان کرنا پسند کریں گے؟

جواب: بھائی ! آپ نے یہ بہت لمبا سوال کیا ہے اور اس ایک سوال میں آپ نے بڑے سوال کر دئیے ہیں۔ “پی ایف یو جے” اس وقت پاکستان میں صحا فیوں کی واحد نمائندہ تنظیم ہے اورمیں ” پا کستان فیڈرل یو نین آف جرنلسٹ “ کی مرکزی باڈی کا ایگزیکٹو ممبر ہوں۔ “پی ایف یو جے” کی پورے ملک کے ہر بڑے شہر میں شاخیں موجود ہیں۔ جس طرح کراچی یو نین آف جرنلسٹ  ، کوئٹہ یو نین آف جرنلسٹ، راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ ، ایبٹ آباد یونین آف جرنلسٹ، ملتان یو نین آف جرنلسٹ، گوجرانوالہ یو نین آف جرنلسٹ ، غرض یہ کہ پاکستان کے ہر بڑے شہر میں “پی ایف یو جے” کی شاخیں موجود ہیں ۔
میں راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ22112011160 کا 2010-09ء میں صدر رہا ہوں اس سے پہلے دو مرتبہ 2007-08 میں “آر ائی یو جے” کا جنرل سیکریٹری رہاہوں۔ 2006میں وائس پریذیڈنٹ تھا، 2005 میں خزا نچی تھا، اس پہلے جوائنٹ سیکریٹری تھا ۔میں “آر ائی یو جے” کی “پاور پولیٹکس” میں ہمیشہ ان رہا ہوں۔ آپ کو اپنے لئے
ہمیشہ خود جگہ بنانی پڑتی ہے۔ کوئی آکر آپ کو دعوت نہیں دیتا کہ جناب جی! آپ آئیں اور سیاست میں حصہ لیں، بندہ اپنی مرضی سے سیاست میں آتا ہے۔ صحافت کی سیاست میں بھی اپنا مقام بنانے کے لئے مجھے کافی محنت کرنا پڑی۔ میں ہمیشہ ان تمام صحافی دوستوں کا مشکور رہوں گا۔ جنہوں نے مجھ  پر اعتماد کیا اور اپنے قیمتی ووٹوں کے ذریعے مجھے منتخب کیا۔ میں اللہ تعا لیٰ کا بھی بہت شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے صحافیوں کی فلاح و بہبود کےلئے کام کرنے کا مو قع دیا ۔ “آر ائی یو جے” میں مختلف عہدوں پر فرائض کی ادائیگی کے دوران، صحافیوں کے حقوق کا تحفظ میری اوّلین ترجیح میں شامل رہا۔ لیکن اس کے علاوہ ملکی مفاد یا قومی سلامتی کے لئے جب بھی کسی قربا نی کی ضرورت پڑی تو ہم نے کبھی بھی خاموشی یا چشم پوشی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
جب مشرف نے 3 مئی 2007ء میں ایمرجنسی لاگو کی تو پورے ملک میں ہُو کا عالم تھا۔ کسی سیاسی جماعت یا تنظیم نے مشرف کے اس اقدام کے خلاف آواز بلند نہ کی۔ اس وقت میں “آر ائی یو جے” کا جنرل سیکریٹری  تھا۔ ہم نے ڈائریکٹ مشرف حکومت کو چیلنج کیا۔ چیف جسٹس کے حق میں سب سے پہلے “آر ائی یو جے” نے ہی اسلام آباد ہوٹل کے سامنے احتجاجی کیمپ لگایا تھا۔ ہم پر ایجنسیوں کی طر ف سے بہت پریشر تھا ۔ لیکن ہم ڈرے نہیں اور مشرف کے خلاف 77 دن تک تحریک چلائی جو بلا آخر انقلا ب کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ بہت کم لوگ یہ بات جا نتے ہیں کہ چیف جسٹس کے حق میں سب سے پہلے تحریک کا آغا ز صحافیوں نے ہی کیا تھا۔ پھر بعد میں تما م سول سوسائٹی کے لوگ، وکلاء، سیاستدان، سابق بیورو کریٹ ہمارے ساتھ شامل ہوتے گئے۔ اس احتجاجی تحریک کے دوران دو عیدیں بھی آئیں جو ہم نے اُسی کیمپ میں فٹ پا تھ پر گزاریں۔ ہماری اس کامیاب تحریک سے حوصلہ پاکر ہی وکلاء نے تحریک چلانے کا فیصلہ کیا تھا۔
مشرف کے غلط اقداما ت پر احتجا ج کرنے والے صحا فیوں کو مختلف طرح کے لالچ دے کرروکنے کی کوشش کی جا تی اور ایجنسیوں کے ذریعے بھی ڈرا یا جا تا ۔اس طر ح کا ایک واقع میرے ساتھ بھی پیش آیا ۔یہ ان دنوں کی با ت ہے کہ جب میں ” آر آئی یو جے” کا صدر تھا ۔ مشر ف کے کہنے پر” اے آر وائی” اور”جیو”  کی نشر یا ت کو بند کر دیا گیا ۔میں نے اس پر احتجا ج کی کا ل دے دی ۔رات ڈیڑھ بجے کے قریب مجھے ایک نامعلوم نمبر سے کا ل آئی کہ ،ہم آپ کے خیر خواہ ہیں ، آپ نے جو احتجا ج کی کا ل دی ہے اس میں آپ کا نقصا ن بھی ہو سکتا ہے ۔مجھے اس کا ل کے ذریعے میٹھے اندا ز سے ڈرانے کی کوشش کی گئی لیکن میں نے اس کی کوئی پروا ہ نہ کی اوراگلے دن ہم نے بھر پو ر احتجاجی مظا ہر ہ کیا ۔البتہ میں نے اپنے قریبی دوستوں سے اس وا قعہ کا ذکر ضرور کر دیا تا کہ اگر میرے ساتھ کوئی گڑبڑ ہو تو کم از کم دوستوں کو تو یہ پتا ہو کہ اصل معا ملہ کیا ہے ۔
اس احتجا جی مظا ہر ے میں حا مد میر نے اپنی تقر یر میں میر ے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کا ذکر کر دیا۔ایجنسیوں کو ہم سے اس کی اُ مید نہیں تھی ۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ انہو ں نے بعد میں مجھے کبھی تنگ نہ کیا ۔اُس دو رمیں تنظیم کی ذمہ داری نبھا نا بہت مشکل کام تھا ۔
اب میں آپ کے سوال کا آخری حصہ جو” آر آئی یو جے” میں خد ما ت کے حوا لہ سے ہے اس کی طر ف آتا ہو ں ۔جب میں 2009 میں” آر آئی یو جے”  کا صدرمنتخب ہوا تو میں نے خا ص طو ر پر وہ صحا فی جو بزرگی یا بیما ری کی وجہ سے ما لی مشکلا ت کا شکا ر تھے ۔انہیں گورنمنٹ سے بھی اور اپنے جاننے والے احباب سے بھی مالی امدا دلے کر دی ۔وہ صحا فی جن کو ما لی مشکلا ت کی وجہ سے بچیوں کی شادی میں دشواری کا سامنا تھا ان کی بھی ہر طر ح سے امداد کی ۔ یہ تما م کام میں نے اس انداز سے کیا کہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو ۔میری صدارت کے دو ر میں ہی ” آر آئی یو جے” کے ما ہا نہ میگزین کی اشاعت کا آغا ز ہو ا لیکن بعد میں میرے جانے کے بعد وہ بند ہو گیا ۔مجھے بس ایک بات کا افسوس ہے کہ منہا ج برنا صا حب کی زندگی پر ڈاکومینٹری تیا ر نہ کرسکا ۔میں نے دو تین مر تبہ کوشش کی لیکن وہ اتنے بیما ر تھے کہ وقت نہ دے سکے ۔ میری بہت خواہش تھی کہ جن کے نا م پر ہماری تنظیم جسے ہم” آر آئی یو جے”  بر نا گروپ کہتے ہیںان کی زندگی اور جدوجہد کے بارے میں نئی نسل کو ضرور علم ہو۔  منہا ج برنا صا حب بہت عظیم انسان تھے ۔انہوں نے ضیا ءالحق کے خلا ف بڑی جدوجہد کی تھی ۔اس بات کا مجھے ہمیشہ افسو س رہے گا کہ ان کی زندگی پر ڈاکومینٹری نہ بنا سکا۔ اب میں  ”     آرآئی یو جے” کے موجودہ عہدے داران سے گزا رش کروںگا کہ وہ پر ویز شو کت صاحب
آئی ایچ راشد صاحب، عبد الحمید چھاپرا صاحب اور دیگر سینئر صحافی لیڈروں پر ڈاکو منٹری تیار ہونی چاہیے، یہ ہمارا اثاثہ ہیں، موجودہ ذمہ داران کو میری اس تجویز پر غور کرنا چاہیے، لیکن مجھے افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ اب صحافتی یونینز میں مفاد پر ستوں کا ٹولہ شامل ہو گیا ہے۔ انہوں نے اپنے اوپر لیبل تو جر نلسٹ کا لگایا ہوا ہے لیکن کام کسی اور کے لیے کر رہے ہیں۔ ان کی تر جیح صرف اپنے مفادات کا تحفظ ہے۔ ایسے لوگوں کی وجہ سے صحافتی تنظیموں کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ مفاد پر ست عناصر کے غلط کاموں کی وجہ سے جو صحیح کام کرنے والے صحافی ہیں ان کے حصے میں بھی بد نامی آرہی ہے۔

سوال: کو ن سی ایسی خبریں ہو تی ہیں جن پر صحا فیو ں کو جان سے مار نے کی دھمکیوں کا سا منا کر نا پڑ تا ہے ؟

جواب: یہ آپ نے بڑا خطرناک سوال کر دیا ہے لیکن میں آپ کو اس سوال کا جواب ضرور دوں گا۔ اب تک 22112011205تقریباً66صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ بحیثیت صحافی فرائض کی ادائیگی کے دوران ایک صحافی کو بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر وہاں جن علاقوں میں ملی ٹینٹ گروپ بر سر پیکار ہیں۔ جب میں” آر آئی یو جے” کا صدر تھا تو اس عرصہ کے د وران قبائلی علاقوں میں کام کرنے والے بہت سے صحافی اپنی جان کے تحفظ کے لیے اسلام آباد آکر پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ ان کا کہنا یہ ہوتا تھا کہ اگر ہم ملی ٹینٹ گروپوں کے خلاف خبر لگائیں تو وہ مارتے ہیں۔ اگر ان کے حق میں لگا دیں تو دوسری طرف سے پریشر آجاتا ہے اور اگر دونوں کے حق میں لگائیں تو ہماری فورسز مارتی ہیں۔ ہم آزادی کے ساتھ اپنے فرائض بھی ادا نہیں کر سکتے۔
یہ تو تھی قبائلی علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کی روداد، لیکن اسلام آباد میں رہ کر کام کرنے والے صحافی بھی تشدد سے محفوظ نہیں ہیں۔ دو تین جرنلسٹوں کے ساتھ سنگین قسم کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ عمرچیمہ کو اغواءکرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس نے فوج کے حوالے سے ایک خبر لگائی تھی لیکن ہماری ایجنسیوں نے اس بات کی تر دید کی کہ یہ کام ہم نے نہیں کیا۔ لیکن اندر کھاتے سب صحافی یہ جانتے ہیں کہ یہ کام کس کا تھا۔
ویسے میں کہوں گا کہ ایک صحافی کو ملک کے مفاد کو مد نظر رکھ کر خبر شائع کرنی چاہیے۔ مگر بعض اوقات ایسی خبروں پر بھی جان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ کہ جس خبر میں ملکی مفاد کو تو کوئی خطرہ نہیں ہوتا لیکن بعض اوقات کوئی خبر حکومت کی با اثر شخصیت کے خلاف ہو تو ان کی طبیعت پر یہ چیز نا گوار گزرتی ہے اور اس صحافی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مثلاً جب پر ویز مشرف صدر تھا تو مسعود ملک صاحب جو اس وقت نوائے وقت میں چیف رپورٹر تھے انہوں نے مشرف سے سوال کیا کہ آپ نے جو کیاہے وہ غیر قانونی ہے؟ تو مشرف نے انہیں اس سوال کے پاداش میں نوائے وقت سے فارغ کر ا دیا تھا۔ بعد میں ملک صاحب ایکسپریس کے ایڈیٹر بن گئے۔
غرض یہ کہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے اور جو بھی اپنے فرائض کو ایمانداری سے ادا کرے گا اسے مشکلات کا سامنا کرنا ہی پڑے گا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ صحافی ان مشکلات سے گھبرا جاتے ہیں ، ایسا ہر گز نہیں الحمداﷲ پاکستان کے صحافیوں کو اﷲ تعالیٰ نے اتنا حوصلہ اور جرات عطا کی ہے کہ انہوں نے کسی بھی حکومت کے آگے سرنڈر نہیں کیا۔

سوال : دورانِ صحا فت پیش آنے والا کو ئی ایسا دلچسپ وا قعہ جو آپ کو ہمیشہ یا د رہے گا ؟

جواب: یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں روزنامہ ” پاکستان“ لاہور میں شوبز رپورٹر تھا۔ اسٹوڈیوز میں آنے جانے سے ایک پروڈیوسر ندیم ملک جو ابھی فلم انڈسٹری میں نووارد تھے۔ میرا ان کے ساتھ اچھا تعلق بن گیا۔ وہ فون کرتے اور میں خبر لگا دیتا۔ ایک دن میں آفس میں ہی تھا کہ ان کا فون آگیا کہ آپ ذرا آئیں…. آپ سے ایک نئی ہیروئن کا انٹر ویو کرانا ہے۔ ان کا آفس رائل پارک میں تھا میں وہاں پہنچ گیا۔ ان کا آفس کافی بڑا تھا اور اس میں ایک بیڈ روم بھی تھا۔ وہ مجھے بیڈ روم میں لے گئے وہاں ایک بہت خوبصورت ٹین ایجر لڑکی بیٹھی تھی۔ وہ مجھے یہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گئے کہ آپ اس کا انٹر ویو کریں۔ میں آدھ گھنٹے تک واپس آتا ہوں۔
وہ آدھ گھنٹے کے بعد واپس آئے تو میں اس نئی اداکارہ کا انٹر ویو کرنے میں مصروف تھا۔ وہ آکر مجھ سے بڑے ناراض ہوئے کہ ” یار انٹرویو نہیں کیا تو نے؟“ میں نے ان سے کہا کہ جناب انٹر ویو ہی تو کر رہا ہوں۔ تو وہ آگے سے بولے” جا توں ویں سائیں ایں“ اس کے اس تبصرہ کے بعد مجھے سمجھ آئی کہ وہ مجھے کس انٹر ویو کا کہہ کر گئے تھے۔ اس کے بعد وہ جب بھی مجھے ملے، شرارت سے مجھے” سائیں رپورٹر“ ہی کہہ کر مخاطب کیا۔
میں اﷲ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میرے اﷲ نے مجھے ان قبیح عادتوں میں مبتلا ہونے سے محفوظ رکھا۔ در اصل وہ مجھے خوش کرناچاہتے تھے لیکن شاید انہیں مجھ کو سمجھنے میں غلطی لگی۔ ایک اور چھوٹا سا واقعہ بیان کرنا چاہوں گا۔ جب 2002ءمیں رپورٹنگ میں آیا تو اس وقت مسلم لیگ کے ایک بہت بڑے سیاستدان کی طرف sochkragzarسے5000روپے ماہانہ کی آفر آئی۔ ان کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ اپنی خبروں کی بھر پور کوریج کے لیے چند صحافیوں کے ساتھ انڈر سٹینڈنگ کر لیتے اور پھر انہیں ہر ماہ با قاعدگی سے ادائیگی کرتے۔ ان دنوں میری تنخواہ 7500روپے تھی اور یہ ایک معقول آفر تھی۔ لیکن میں نے انکار کر دیا۔ اور آفر کرنے والے کو کہا کہ ان سے کہہ دیں کہ اس تکلف کی ضرورت نہیں ان کی جو بھی خبر بنتی ہوگی وہ ضرور شائع ہوگی اور اس میں کوئی بد دیانتی نہیں ہوگی۔
ہونا تو یہ چاہےے تھا کہ میرے انکار پر وہ ناراضگی کا اظہار کرتے لیکن اس کے بر عکس ان کا میرے ساتھ رویہ پہلے سے بہتر ہو گیا۔ پھر جب میں” آر آئی یو جے” کا صدر بنا تو اکثر صحافی دوستوں کے جائز کاموں کے لیے انہیں کہنا پڑتا تو وہ تر جیحی بنیادوں پر ایکشن لیتے۔ بہت مر تبہ ایسا بھی ہوا کہ کسی جر نلسٹ دوست کی بیٹی کی شادی یا بیماری کی وجہ سے اسے مالی تعاون کی ضرورت ہوتی تو میرے کہنے پر فوراً اس کی مدد کردیتے۔ آج ہمارا بہت اچھا تعلق ہے۔ میں بھی ان کی بہت عزت کرتا
ہوں۔اور وہ بھی میری عزت کرتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ حق پر ہوں گے تو صحافت کے شعبہ میں آپ کو عزت اور آگے بڑھنے کے مواقع زیادہ ملیں گے۔

سوال : کوئی ایسی یا د گا ر خبر یا رپورٹ جس پر کسی سیا ست دان نے سخت ردِّعمل کا اظہا ر کیا ہو ؟

جواب: ہاں ایک خبر ایسی تھی یہ2002ءکے الیکشن تھے اور نواز شریف کے قریبی ساتھی سینیٹر ظفر علی شاہ دو حلقوں سے الیکشن لڑ رہے تھے میں نے خبر لگا دی کہ راولپنڈی کے حلقہ سے ان سے ٹکٹ واپس لے لی جائے گی، اس خبر پر انہوں نے بڑا ری ایکٹ کیا، میرے اخبار کے دفتر میں آگئے ، ہمارا چیف ایڈیٹر نان پروفیشنل آدمی تھا اس نے مجھے بلایا اور ان کے سامنے پوچھنے لگا کہ آپ کی اس خبر کا سورس کیا ہے لیکن میں نے سورس بتانے سے صاف انکار کر دیا، میرا طریقہ کار یہ ہے کہ اگر کسی سورس نے مجھے خبر دی ہے تو میں کاﺅنٹر چیک لازمی کرتا ہوں اور کسی بھی صورت میں اپنے سورس کو ایکسپوز نہیں کرتا۔ میری اس خبر پر انہوں نے کافی ہنگامہ کھڑا کیا کہ یہ خبر غلط ہے۔ لیکن بعد میں انہوں نے الیکشن اسلام آباد سے ہی لڑا میری خبر سچ ثابت ہوئی۔ اور آج کل میری ان سے بھی اچھی دوستی ہے۔

سوال: اگر ایک طا لب علم صحا فت کے شعبہ میں آنا چا ہے تو اُسے کیا طر یقہ اختیا ر کر نا چا ہے ؟

جواب:صحافت ایک مقدس پیشہ ہے۔ پہلے پہل جو لوگ صحافت کے شعبہ سے وابستہ ہوئے ان کے پاس کوئی ڈگری یا ٹریننگ نہیں تھی۔ انہیں اپنا مقام بنانے کے لیے بہت سخت محنت کرنا پڑتی تھی۔ لیکن آج حالات بالکل مختلف ہیں۔ وہ اسٹوڈنٹ جو صحافت میں اپنا کر یئر بنانا چاہتے ہیں ان کے لیے سیکھنے کے بہت سے مواقع موجود ہیں۔
ایک صحافی معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں کا بہت گہرائی سے مشاہدہ کرتا ہے۔ صحافی کسی بھی معاشرے کی آنکھ، کان اور دماغ ہوتا ہے۔ وہ جو دیکھتا اورسنتا ہے اس میں اسے بد دیانتی نہیں کرنی چاہیے۔ صحافت میں آنے والے اگر ان اصولوں کو پلے باندھ لیں تو کامیابی ان کے قدم چومے گی۔ انشاءاﷲ ۔
بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو صحافت کی چمک دھمک سے متاثر ہو کر صحافت کے شعبے کو جائن کر رہے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ایک صحافی پرائم منسٹر سے مل رہا ہے۔ وزیر وں سے مل رہا ہے۔ جو لوگ باہر کے ممالک سے آرہے ہیں ان کے انٹر ویو کر رہا ہے۔ ایک فون کال پر اس کے سارے کام ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب وہ خود صحافت کے شعبہ سے وابستہ ہوتے ہیں تو پھر انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ ایک صحافی کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور کتنی سخت محنت کرنی پڑتی ہے۔
آج کل یہ بھی ہو رہا ہے کہ اگر کسی نے جرنلزم میں ایم اے کر لیا تو وہ یہ سمجھنے لگ جاتاہے کہ صحافی بننا میرا حق بنتا ہے۔ حالانکہ ایسی بات نہیں بہت سے ایسے لوگ صحافت میں بہت بلند مقام پر پہنچے جن کے پاس کوئی ڈگری نہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کریں۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک اچھا صحافی بننے کے لئے ڈگری کے علاوہ اور بھی بہت سی خوبیوں کا ہونا ضروری ہے۔ایک صحافی جو معلومات مہیا کرتا ہے وہ انفارمیشن عوام کی امانت ہوتی ہے اور کسی بھی خبر کو کبھی بھی توڑ مروڑ کر یا اس انداز سے پیش نہیں کرنا چاہےے کہ اس کا حلیہ ہی بگڑ جائے اور نہ ہی اپنے جذبات کو خبر میں شامل کیا جائے باقی جب آپ صحافت کے شعبہ میں آئیں گے تو ساری باتیں خود بخود سیکھ جائیں گے نہیں سیکھیں گے تو لوگ آپ کو سکھا دیں گے۔

سوال: آپ کے خیا ل میں نئے لکھنے والے میرٹ کی بیا د پر آگے آتے ہیں یا سفا رش اور تعلق کی بنیا د پر ؟

جواب: آپ اس میں دونوں باتیں ہی شامل کر سکتے ہیں۔ میرٹ بھی اور تعلق یا سفارش بھی۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ پاکستان کا ماحول ہی ایسا ہے کہ تعلق اور سفارش کے بغیر صرف صلاحیت کی بنیاد پر کم لوگوں کو ہی آگے نکلنے کا موقع ملتا ہے۔ صحافت کے شعبے میں اگر آپ میرٹ کے ذریعے آتے ہیں تو اس میں آپ کے لیے ترقی کرنے کے زیادہ چانسز ہوتے ہیں اور اگر آپ کسی تعلق یا سفارش کی بنا پر آتے ہیں تو آپ کو بہت زیادہ محنت کرکے اپنی جگہ بنانا پڑتی ہے اور اگر آپ نے اپنی اچھی کارکردگی سے جگہ بنا لی تو ٹھیک ہے ورنہ زیادہ دیر تک چل نہیں سکتے۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے کہ اس میں آنے کے لیے ہو سکتا ہے آپ کو سفارش یا تعلق استعمال کرنا پڑے لیکن ساتھ ٹیلنٹ ہونا بھی ضروری ہے۔ میں بہت سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں کہ جو آئے تو سفارش سے لیکن ان میں ٹیلنٹ بھی بہت تھا۔

سوال: کیا وجہ ہے کے شعبہ صحا فت میں نئے آنے والو ں کو اپنا مقا م اور پہچا ن بنا نے کےلئے مفت کا م بھی کر نا پڑ تا ہے ؟

جواب: پاکستان میں جرنلزم ہی واحد ایک ایسا شعبہ ہے جس میں لوگ مفت کام کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ جتنی محنت یہاں کرتے ہیں اس سے آدھی محنت بھی کسی اور شعبہ میں کریں تو بہت زیادہ پیسہ کما لیں۔ مفت کام کرنے کے ٹرینڈ سے صحافت میں کرپشن کا در وازہ کھلا اب آپ خود ہی سوچیں کہ ایک بندہ جو روزانہ گھر سے دفتر آکر کام کرے اور پھر مہینہ پورا ختم ہونے کے بعد وہ خالی جیب لیے گھر چلا جائے تو وہ اپنے گھر کا خرچ کس طرح چلائے گا۔ اخباری مالکان کو بھی پتا ہوتا ہے کہ کون کس طرح اپنا خرچ چلا رہا ہے اس لیے سچی بات تو یہ ہے کہ یہ تالی دونوں ہاتھوں سے بج رہی ہے۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے پاکستان میں اس کے لیے موثر قانون کی ضرورت ہے۔ جو صحافت کے شعبہ سے وابستہ کارکنان کے حقوق کا تحفظ کر سکے۔

سوال: ایک قو می اخبا ر میں کس عہدے پر کا م کر نا پُر کشش سمجھا جا تا ہے؟

جواب: کسی بھی قومی اخبار میں سب سے پر کشش ڈیوٹی رپورٹر کی ہوتی ہے۔ بحیثیت رپورٹر فرائض کی ادائیگی کے دوران رپورٹر کے پبلک ریلیشن میں بہت زیادہ اضافہ ہوتا ہے۔ اگر اخبار بڑا ہو تو اس میں سب ایڈیٹر کے عہدے پر کام کرنے والے صحافی بھی انجوائے کرتے بشرطیکہ وہ محنتی ہوں۔ لیکن اس کے پبلک ریلیشن اتنے نہیں بنتے جتنے ایک رپورٹر کے بنتے ہیں۔ صحافت کے شعبے میں آنے والوں کی اکثریت یہی خواہش رکھتی ہے کہ انہیں رپورٹنگ کے شعبہ میں کام کرنے کا موقع ملے۔

سوال : کیا جدید ٹیکنالو جی اور انٹرنیٹ کی وجہ سے اخبا ر ی صحا فت کے مستقبل پر کو ئی منفی اثرا ت پڑسکتے ہیں ؟

جواب : جدید ٹیکنا لوجی کے آنے سے اخبارات کی سر کولیشن متاثر تو ہوئی ہے۔ لیکن پرنٹ میڈیا یعنی اخبار کا ایک اپنا مقام ہے۔ آپ اخبار کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ میرا خیال ہے کہ جو فرق پڑنا تھا وہ پڑ گیا، اب آنے والے دور میں اخبار کی اہمیت پر کوئی خاطر خواہ منفی اثرات مرتب ہونے کی امید نظر نہیں آتی۔

سوال: آپ کے خیا ل میں پا کستا ن کے سیاستدا ن کس حد تک عوام اور ملک کے سا تھ مخلص ہیں ؟

جواب: پاکستان میں اس وقت کوئی ایسا سیاستدان نہیں جو پاکستان اور اس کی مظلوم عوام کے ساتھ مخلص ہو۔ سارے سیاستدان ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ مجھے تو کوئی ایسا سیاستدان نظر نہیں آرہا جس نے کرپشن نہ کی ہو۔ کرپشن چاہے ایک روپے کی ہو یا ایک کروڑ روپے کی وہ ہے تو کرپشن ہی۔

سوال: آپ کی شا عری کی کتا ب ” سو چ کے ریگزا ر “تکمیل کے آخری مرا حل میں ہے ،آ پ کو شا عری کا شو ق کیسے پیدا ہو ا ؟

جواب: اس کا جواب گھسا پٹا ہی ہوتا ہے کہ جی مجھے شروع سے ہی شاعری کا شوق تھا۔ ہنستے ہوئے…. اور میرا جواب بھی اس سے ملتا جلتا ہی ہے کہ جب میں پرائمری کلاس میں تھا تو تقریری مقابلوں میں بہت حصہ لیا کرتا تھا۔
تقریریں یاد کرنے کی وجہ سے مجھے علامہ اقبال کے بہت سے شعر یاد ہو گئے آہستہ آہستہ جب ان اشعار کے مفہوم کی سمجھ آنے لگی تو شاعری کا شوق پیدا ہوا۔ جب میں میٹرک میں تھا تو غالب کی شاعری کا مطالعہ شروع کیا لیکن وہ اتنی مشکل تھی کہ مجھے اس کی کوئی سمجھ نہیں آئی۔ میں نے اسے بار بار پڑھا تب جاکر کچھ تھوڑی بہت سمجھ آئی سچی بات تو یہ ہے کہ آج بھی ان کی شاعری کی مکمل سمجھ نہیں آئی۔
مجھے شاعری کرنے کا صحیح معنوں میں شوق، ساحر لدھیانوی اور ساغر صدیقی کی شاعری کو پڑھنے کے بعد ہوا۔ پھر میں نے با قاعدہ شعر کہنے کا آغاز کیا۔ لیکن جب سے اسلام آباد آیا ہوں شعر و شاعری کو بریک لگی ہوئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں شاعری کی طرف زیادہ توجہ دیتا تو آج صحافت کے شعبہ میں اس مقام پر نہ ہوتا۔ میں نے اپنے تمام شوقوں کو خیر باد کہہ کر صرف صحافت پر فوکس کیا۔
اب جو میری شاعری کی کتاب آرہی ہے یہ وہ شاعری ہے جو میں نے بھلے وقتوں میں کی تھی۔ اب اتنی فرصت کہاں، وہ تو گھر والوں اور دوست احباب کے بار بار کہنے پر میں نے بڑی مشکل سے وقت نکال کر اپنی شاعری کو جمع کیا، جتنی بھی شاعری میں نے کی تھی اسے اکٹھا کرنے میں بھی بہت مشکل پیش آئی۔ بہر حال اب اس کی کمپوزنگ مکمل ہو گئی ہے۔ ٹائٹل بن گیا ہے اور انشاءاﷲ بہت جلد کتابی صورت میں پرنٹ بھی ہوجائے گی۔

سوال: کیا آپ اپنے بچوں کو صحا فت کے شعبہ میں لا نا پسند کر یں گے ؟

 جواب: ہنستے ہوئے…. برجستہ تو میں یہی کہوں گا کہ نہیں کیونکہ یہ فیصلہ تو بچوں نے کرنا ہے کہ انہوں نے کس شعبہ زندگی کا انتخاب کرنا ہے۔ البتہ جس زمانے میں میں نے صحافت کا آغاز کیا تھا اس وقت یہی سوچ تھی کہ بچوں کو بھی اس شعبہ میں لائیں گے۔ لیکن آج کل حالات مختلف ہیں اب بچوں کو شعبہ صحافت میں لانے کی بجائے کوئی اور کام سکھائیں گے۔

سوال: سب سے زیا دہ خو شی کس با ت پر ہو تی ہے اور سب سے زیا دہ غصہ کس با ت پر آتا ہے ؟

جواب: بطور صحافی سب سے زیادہ خوشی اس وقت ہوتی ہے جب آپ کی خبر صحیح طریقے سے ڈسپلے ہو۔ اخبار میں خبر کو صحیح جگہ پر دیکھ کر یقینا خوشی ہوتی ہے کہ یار میری محنت رائیگاں نہیں گئی۔ ظاہری بات ہے کہ خبر آپ کی پراڈکٹ ہوتی ہے اور اگر مارکیٹ میں اس کی ویلیو ہو، آپ کو اچھا رسپانس ملے تو آپ کو خوشی تو ہوگی اور غصہ اس وقت آتا ہے جب آپ نے بہت اچھی خبر دی ہو اور سب ایڈیٹر اس کو سنگل کالم میں لگا دے یا جب کوئی نیوز ایڈیٹر کسی اہم خبر کو نظر انداز کر دے تو بہت غصہ آتا ہے۔

Website: www.paknewspoint.com



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


Leave a Reply

Translate »