انٹرنیٹ پر ہیکرزکے طریقہ واردات پر ایک نظر اور ان سے محفوظ رہنے کےلئے مفیدتدابیر پر مشتمل ایک راہنما تحریر

Hacking

My this article was published in Daily Ausaf Sunday Magazine on 10 Nov 2013.

Hacking

My this article was published in Daily Ausaf Sunday Magazine on 27 Oct 2013. (Page 2)

آپ انٹر نیٹ کوباقاعد گی سے استعمال کرتے ہیں یا صرف کسی ضرورت کے تحت ، دونوں صورتوں میں آپ کو انٹرنیٹ پر موجود شکاریوں سے بچنے کی تدابیر کا علم ہونا بہت ضروری ہے۔ ورنہ کوئی بھی ہیکر آپ کے کمپیوٹر میں گھس کر آپ کی ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ پھر اس کے بعد ہیکر آپ کے فیس بک ، ای میل اکاؤنٹ اور کریڈٹ کارڈ کے پاسورڈکو آسانی سے حاصل کرکے ان کے ذریعے آپ کی ساکھ کو یا آپ کو مالی طورپر نقصان پہنچا سکتا ہے۔وہ شخص جو آپ کی اجازت کے بغیر آپ کے کمپیوٹر میں گھس کر آپ کی ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کر کے آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہواسے ہیکر کہتے ہیں ۔ اب ہیکنگ صرف انٹرنیٹ اور کمپیوٹر تک محدود نہیں رہی ، بلکہ ہیکرز جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے طیاروں کو ، اے ٹی ایم مشین کو اور کسی بھی طرح کے سیکیورٹی سسٹم میں داخل ہو کر اس پر کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔ اس تحریر میں آپ کو یہ جاننے کا موقع ملے گا کہ ایک ہیکر کس طرح کام کر تا ہے اور اس سے بچنے کیلئے کیا تدا بیر اختیا ر کر نی چاہیں۔
اس وقت انٹرنیٹ پر بہت سے ہیکرز،گروپس کی صورت میں کام کر رہے ہیں جن کا صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ دوسرں کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیل حاصل کرکے ان کی دولت پر ہاتھ صاف کرنا ، یہ کسی کو بھی کنگال کر سکتے ہیں۔ کچھ ہیکرز خفیہ ایجنسیوں کی سرپرستی میں اپنے ملک کے مفادات کے لئے کام کرتے ہیں ، یہ ہیکرز اپنے کام میں بہت ماہر ہوتے ہیں جو دشمن ملک کے حساس کمپیوٹرز تک رسائی حاصل کر کے ان کی خفیہ اور حساس معلومات پر مشتمل فائلز کو چرا سکتے ہیں، ڈلیٹ کر سکتے ہیں، کرپٹ کر سکتے ہیں یا ان کے کمپیوٹر نیٹ ورک میں وائرس چھوڑ کر انہیں بھاری نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ انٹر نیٹ پر بہت سے شوقیہ ہیکرز بھی پائے جاتے ہیں جو بلاوجہ لوگوں کو تنگ کرتے رہتے ہیں یہ کبھی کسی کی ویب سائیٹ ہیک کر لیتے ہیں ، کبھی ان پر کسی کے فیس بک اکاؤنٹ کو ہیک کرنے کا جنون سوار ہوتا ہے اور کبھی یہ کسی کی ای میل کے پیچھے پڑے ہوتے ہیں۔

یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہیکنگ ایک خطرناک شوق ہے،اور کسی کی اجازت کے بغیر اس کی ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کرنا یا کسی کی ساکھ کو مجروح کرنا غیرقانونی اور آگ سے کھیلنے کے مترا دف ہے لیکن پھر بھی دنیا بھر کے نوجوان ہیکنگ سیکھنے کے جنون میں مبتلا ہیں ۔ بہت سے باصلاحیت اور ذہین نوجوان اپنے اس شوق کی وجہ سے جیل کی ہوا کھا چکے ہیں، کچھ نے خود کشی کر لی اور چند ایک کو قتل کر دیا گیا۔ اس کے باوجود ہیکنگ سیکھنے کے خواہش مند نوجوانوں کی تعداد میں کمی کی بجائے دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ جبکہ سمجھ دا راور ذہین نو جوا ن وہ ہے جو اپنا قیمتی وقت اور صلا حیتیں مثبت کا موں پر لگا ئے اور انٹر نیٹ پر ہیکنگ سیکھنے کی بجائے اگر اتناہی وقت وہ ویب سا ئٹ ڈیزا ئننگ یا دوسرے کمپیو ٹر کورسز کو سیکھنے پر لگا ئے تو تھو ڑے ہی عر صہ بعد وہ اس قا بل ہو جا تا ہے کہ ما ہا نہ ہزا روں روپے کما سکتا ہے۔
شائد یہ محض ایک اتفاق ہے کہ اکثر ہیکرز کو نوجوانی میں ہی موت کا سامنا کرنا پڑا۔ حال ہی میں مشہور ہیکر بارنابی جیک کی اچانک موت کا معمہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا۔ دنیا بھر میں اپنی ہیکنگ کی صلاحیتیوں سے شہرت اور عزت حاصل کرنے والے 35 سالہ بارنابی جیک جو اب اس دنیا میں نہیں رہے انہوں نے2010 میں ہیکنگ کے ذریعے اے ٹی ایم مشین کو ڈالرز اگلنے پر مجبور کرنے کا مظاہرہ کر کے بہت نام کمایا ۔ان کی اس صلاحیت کو ’جیک پوٹنگ‘ کا نام دیا گیا ۔ 25جولائی 2013ءکی شام وہ اپنے سان فرانسسکو میں واقع اپارٹمنٹ میں مردہ حالت میںپائے گئے۔ ان کی موت ایک ایسے وقت پر ہوئی جب وہ ایک ہفتہ بعد ہیکنگ کی بین الاقوامی کانفرنس میں ایک ہائی پروفائل پریزنٹیشن دینے والے تھے۔
بارنابی جیک اپنی صلاحیتوں کے باعث میڈیکل ڈیوائسز اور اے ٹی ایم مشینوں میں نصب چھوٹے کمپیوٹرز کے نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرنے کے حوالے سے بین الاقوامی شہرت رکھتے تھے۔ جیک کو ان مسائل کو حل کرنے میں مدد دینے کی وجہ سے اکثر عالمی کانفرنسوں اور تحقیقی اجتماعات میں مدعو کیا جاتا تھا۔ یکم اگست 2013 کو لاس ویگاس میں ’بلیک ہیٹ‘ ہیکرز کا ایک عالمی کنونشن منعقد ہو رہا تھا۔ جیک اس کنونشن میں دل کی دھڑکنوں کو قابو میں رکھنے کے لیے جسم میں نصب کیے جانے والے پیس میکرز pacemakers اور ڈی فیبریلیٹرز defibrillators کو ہیک کرنے کی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے والے تھے۔ جیک نے اس کانفرنس میں شرکت سے پہلے ہی دعو یٰ کر دیا تھا کہ وہ کسی بھی ایسے شخص کو 30 فٹ کے فاصلے سے ہلاک کرسکتا ہے جس کے جسم میں دل کی دھڑکنوں کو کنٹرول کرنے والا آلہ نصب ہو۔
لیکن اس کانفرنس سے پہلے ان کی اچانک موت نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے اور ابھی تک ان کی موت کی وجوہات کا تعین نہیں کیا جا سکا، کچھ لوگو ں کا خیا ل ہے کہ انہوں نے خود کشی کی جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے انہیں قتل کیا گیا۔ موت کی وجہ چاہے کوئی بھی ہو لیکن دنیا ایک باصلاحیت انسان سے محروم ہو گئی ۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام ہیکرز کو بدنامی ، جیل یا خود کشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، بہت سے ایسے ہیکرز بھی ہیں جو اپنی صلاحیتوں کی بنیا د پر بڑی بڑی آئی ٹی کی کمپنیوں میں ملازمت کر رہے ہیں لیکن یہ وہ ہیکرز ہیں جنہوں نے اپنی شرارتوں سے توبہ کر لی اور اب اپنی مہارت کو مثبت مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ بین الا اقوامی سطح پر اپنی صلاحیت یا مہارت کی بنیاد پر ہیکرز کوان مختلف ناموں سے پہچانا جاتا ہے ۔بلیک ہیٹ ہیکر، وائیٹ ہیٹ ہیکر، گرے ہیٹ ہیکر اور سکرپٹ کیڈیز۔
بلیک ہیٹ ہیکرز کی تعریف ہم یوں کر سکتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو کمپیوٹر پروگرامنگ میں مہارت رکھتے ہیں اور ہیکنگ کے میدان میں ہر فن مولا ہوتے ہیں۔ یہ ہیکنگ کے لئے ایڈوانس پروگرامنگ اور سوشل انجینئرنگ کا استعمال کرتے ہیں، اپنے سافٹ ویئر یا ہارڈویئر ٹولز خود تیار کرتے ہیں۔ہیکرز کی یہ سب سے خطر ناک قسم ہے جو کسی قانون کا احترام نہیں کرتے ۔وائیٹ ہیٹ ہیکرزیا ایتھیکل ہیکرز ، دونوں کا ایک ہی مطلب ہے کہ یہ مہذب اور انسانیت کا درد رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں ۔یہ تمام تر مہارت کے باوجود کسی غیر قانونی کام میں ملوث نہیں ہوتے یہ لوگوں کے سکیورٹی کے مسا ئل کو حل کرنے میں ان کی معاونت کرتے ہیں ۔ گرے ہیٹ ہیکرز، یہ ہیکرزکی وہ قسم ہے جو اچھے اور برے یعنی دونوں کاموں میں ملوث ہو سکتے ہیں ۔یہ بلیک ہیٹ اور وائیٹ ہیٹ ہیکرز، دونوں کی خصوصیات کے مالک ہوتے ہیں اور یہ موسمی مزاج کے مالک ہوتے ہیں اور حالات اور ضرورت کے مطابق اپنے طریقہ کار کا تعین کرتے ہیں ۔ سکرپٹ کیڈیز، ان کوہم شوقیہ ہیکر کہہ سکتے ہیں ۔یہ بلیک ہیٹ ہیکرز کی ایک قسم ہے جو ہیکنگ میں اپنا نام بنانے کے لئے بنے بنائے سافٹ وئیراستعمال کر کے مختلف ویب سائیٹس اور کمپیوٹر نیٹ ورکس پر حملہ آورہوتے ہیں ۔ان لوگو ں کے پاس ہیکنگ کا علم کم ہوتا ہے لیکن یہ نقصان زیادہ پہنچاتے ہیں ۔
ہیکنگ اور ہیکرز کے بارے میں بنیادی باتیں آپ کے علم میں آچکی ہیں اب مسئلہ یہ ہے کہ ہیکرز اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کن کن طریقوں کو استعمال کرتے ہیں اور ہم ان کی کار وائیوں سے کس طرح اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکتے ہیں ۔
ہیکرز کسی بھی کمپیوٹر تک رسائی حاصل کرنے کے لئے مختلف طریقے اختیار کرتے ہیں ، جن میں سے چند ایک یہ ہیں، کی لاگر (Keylogger) ، یہ سب سے سادہ اور زیادہ استعمال ہونے والاطریقہ ہے، کی لاگر کی دو اقسام ہوتی ہیں ، ایک ہارڈوئیر کی لاگر اور دوسری سافٹ وئیر کی لاگر، ہارڈوئیر کی لاگر ، کی بورڈ کی تار کے ساتھ منسلک کر دیا جاتا ہے اور بظاہر وہ ایک چھوٹی سی ڈیوائس جو کی بورڈ کی تا ر کا حصہ ہی محسوس ہوتی ہے وہ کی بورڈ پر دبائے جانے والے ایک ایک بٹن کا ریکارڈر محفوظ کر لیتی ہے ، ان ڈیوائسز کو عام طور پر انٹرنیٹ کیفے اور دفاتر وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے ۔جب کہ سافٹ وئیر کی لاگر کوکمپیوٹر میں باقاعدہ طور پر انسٹال کرنا پڑتا ہے ،یہ بھی سارے دبائے جانے والے بٹنوں کو محفوظ کر لیتا ہے اور ای میل یا ایف ٹی پی FTP کے ذریعے ہیکرز تک پہنچادیتا ہے ۔ کی لاگر کو USB سے بھی انسٹال کیا جا سکتا ہے اور اس کے علاوہ انٹرنیٹ کے ذریعے بھی کمپیوٹر میں بھیجا جا سکتا ہے ۔ اگر آپ یہ جاننا چاہیں کہ کسی نے آپ کی نگرانی کے لئے آپ کے کمپیوٹر میں کی لاگر انسٹال تو نہیں کر دیا تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے کنٹرول پینل سے چیک کر یں کہ کوئی ایسا سافٹ ویئر تو موجودنہیں جو آپ نے انسٹال ہی نہ کیا ہو، اور اگر کمپیوٹر استعمال کرتے وقت آپ کا کمپیوٹر کسی مخصوص وقت کے لئے ہینگ ہو جائے تو اس بات کا خدشہ ہوسکتا ہے کہ آپ کے کمپیوٹر میں کی لاگر اپنی کاروائی سرانجام دے رہا ہے۔اگر آپ کی لاگر سے محفوظ رہناچاہتے ہیں تو کوشش کریں کہ آپ کے کمپیوٹر میں بہترین اینٹی وائرس اور فائیروال انسٹال ہو، جیسا کہ کیسپرسکائی(Kespersky)، بٹ ڈیفینڈر(Bit Defender) اور اے وی جی (AVG)بہت اچھے اینٹی وائرس ہیں جبکہ کوموڈو (Comodo)اورزون الارم (ZoneAlarm) کا شمار اچھے فائیر وال میں ہوتا ہے۔ کی لاگر ز سے بچنے کے لئے اینٹی کی لاگر ز کا استعمال بھی کیا جاتا ہے اور اس کا استعمال بہت مفید ہے ، اگر ممکن ہو تو KeyScrambler کو اپنے کمپیوٹر میں ضرور انسٹال کر لیں، یہ بہت اچھا اینٹی کی لاگر ہے ۔
فیشنگ(Phishing) ، کسی کا بھی اکاؤنٹ ہیک کرنے کے لئے فیشنگ ایک بہت کار آمد طریقہ ہے ، اس میں جس ویب سائیٹ کے اکاؤنٹ کو ہیک کرنا ہوتا ہے اس ویب سائیٹ کے لاگن پیج کی نقل تیار کر کے اسے ای میل کے ذریعے صارف تک بھیجا جاتا ہے ۔ شائد کبھی آپ کو بھی کوئی ایسی ای میل آئی ہو کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر آپ اپنا پاس ورڈ کنفرم کریں، اس سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ جب بھی آپ کو کوئی ایسی ای میل موصول ہوتو فوری طور پر اپنی تفصیل مہیا کرنے کی بجائے یہ تصدیق کر لیں کہ یہ جو پیج آپ کو ای میل میں آیا ہے کیا وہ اسی ویب سائیٹ کے URL پہ ہے ۔ سوشل انجینئرننگ(Social Engineering ) یا پاسورڈ کا اندازہ لگانا ، اگر ہیکر کے پاس کسی کی کوئی ذاتی معلومات ہو تو ہیکر اس کے پاس ورڈکا اندازہ لگا کر اس کے اکاو¿نٹ تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔ اس سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ کوئی ایسا پاس ورڈ منتخب کریں جو آپ کی ذاتی معلوت سے متعلق نہ ہو بلکہ اس سے بالکل مختلف ہو ۔ ڈکشنری اٹیک(Dictionary Attack) ، یہ تیز ترین اور بہت خطرناک حربہ ہے ۔ اس کی مدد سے صرف کمپیوٹر یا سرور کے پاس ورڈ کو ہی ہیک کیا جاسکتا ہے۔ جب ہیکر زنے کسی بھی کمپیوٹر کے پاس ورڈ کو معلوم کرنا ہوتو وہ اکثر اسی طریقہ کار کو اختیار کرتے ہیں، اس کے لئے مختلف سافٹ وئیر ایپلیکیشنز سے مدد لی جاتی ہے جیسا کہ L0phtCrack وغیرہ ۔اس سافٹ وئیر میں ڈکشنری کے تمام الفاظ کو لوڈ کر دیا جاتا ہے ، پھر یہ سافٹ وئیر تمام الفاظ اور مختلف حروف کی مدد سے پاس ورڈ کو تلاش کرتا ہے اور جب کوئی لفظ میچ ہوجائے تو وہ ہیکرکے علم میں آجاتا ہے ۔ڈکشنری اٹیک کسی انکرپٹڈ میسج یا فائل کو،ڈیکرپٹ کرنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ پاس ورڈ کو منتخب کرتے وقت ڈکشنری الفاظ کے علاوہ اس میں کچھ سپیشل کریکٹر(@, !, #, $, %, ^, &, یہ اور اس سے ملتے جلتے تمام حروف یا نشانات ث کہلاتے ہیں) شامل کر لئے جائیںتو ڈکشنری اٹیک سے بچا جاسکتا ہے ۔ ہائبریڈ اٹیک (Hybrid Attack) ، یہ بھی کافی مشہور طریقہ ہے جو کہ پاس ورڈ ہیکنگ میں استعمال ہوتا ہے ، اس طریقہ کار میں ہیکر عام پاس ورڈ کے آگے نمبر یا سپیشل کریکٹر استعمال کرتے ہیں کیوں کہ جب ہم اپنا پاس ورڈ تبدیل کرتے ہیں تو عام طور پر پرانے پاس ورڈ کے آخر میں کچھ نمبروں کا اضافہ کر لےتے ہیں مثال کے طور پر پہلے ہمارا پاس ورڈ school تھا اور پھر ہم نے اسے تبدیل کر کے school123 کر لیا۔ اس طریقہ کار سے بھی پاس ورڈ بہت آسانی سے ہیک ہوجاتا ہے۔ بروٹ فورس اٹیک (Brute Force Attack) ،ہیکنگ کا یہ طریقہ کارپیچیدہ ،دقت طلب اور وقت طلب ہے ۔اس کوبہت کم ہیکر استعمال کرتے ہیں، اس میں ہیکرخود کی بورڈ کے ایک ایک حر ف کو دبا کر چیک کر تا ہے اور جب تک صحیح لفظ معلوم نہ کر لے وہ یہ عمل دہراتا رہتا ہے ۔بعض اوقات اس طریقہ کار میں L0phtCrack سافٹ وئیر کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہیکنگ کے لئے ٹروجن اور مختلف قسم کے وائرس سے بھی مدد لی جاتی ہے۔
ہرحکومت، ادارہ اور فرد ،ہیکرز سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیا ر کرتے ہیں، اس کے باوجود بھی ہیکرز کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی لیتے ہیں ، اسکا مطلب یہ نہیں کہ ہم احتیاطی تدابیر اختیار کرنا چھوڑ دیں کہ جب ہیکر نے تو کاروائی ڈالنی ہی ڈالنی ہے تو پھر اتنی احتیاطیں کرنے کا کیا فائدہ۔یہ مثبت سوچ نہیں ہے ۔ ہیکرز سے بچنے کے لئے ہر وہ احتیاط جو آپ کے علم میں آجائے اس پر عمل کر لینے میں ہی بہتری ہے۔
خاص طور پر اپنا کوئی بھی پاس ورڈ منتخب کرتے وقت ان باتوں کا خیا ل ضرور رکھیں اپنے کسی بھی پاس ورڈ کو مستقل بنیادوں پر استعمال نہ کریں ، ہر دو تین ماہ کے بعد پاس ورڈ تبدیل کر لیں۔ایسا پاس ورڈ منتخب نہ کریں جس کا آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہومثال کے طور پر pakistan12345 اپنا نام ، فون نمبر ، تاریخ پیدائیش،نک نیم، کمپنی کا نام وغیرہ ۔آپ کا پاس ورڈ کم از کم 8 یا 10 حروف پر مشتمل ہونا چاہئے اور اپنے ہر اکاؤٹ ، مثلاً ، فیس بک، ای میل وغیرہ کے لئے علیحدہ علیحدہ پاس ورڈ کا انتخاب کریں ۔ اگر آپ انٹرنیٹ کیفے یا دفاتر وغیرہ میں انٹرنیٹ استعمال کر یں تو اپنا کام مکمل کرنے کے بعد اپنا اکاؤنٹ لاگ آؤٹ کرنا مت بھولیں۔کسی بھی دوست یا عزیز کے ساتھ اپنا پاس ورڈ شیئر نہ کریں ۔
پاس ورڈ کے حوالہ سے کچھ عرصہ پہلے سکیورٹی کی ایک فرم ’ٹریسٹیز‘ نے اس بارے میں ایک ملین صارفین سے بات کی اور جو سروے ترتیب دیا گیا ہے اس کے مطابق انٹر نیٹ استعمال کرنے والے سینتالیس فیصد افراد ثاور دوسری سماجی سائٹس کے لیے ایک ہی نام اور ایک ہی پاس ورڈ استعمال کرتے ہیں۔ جو ایک بڑا سیکورٹی رسک ہے جبکہ تہتر فیصد صارفین ایسے ہیں جو آن لائن بینکنگ کے لیے اپنا وہی پاس ورڈ استعمال کرتے ہیں جو وہ دوسری سماجی ویب سائٹ کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ کوشش کریںکہ آپ کاشمار ان لوگوں میں نہ ہو۔ اگر یہ چند احتیاطی تدابیر اختیا ر کر لی جائیں تو کسی بڑے نقصا ن سے بچا جا سکتا ہے ۔
ہیکنگ سے متعلق ان معلوما ت کا مقصد آپ کو ہیکر بننے کی ترغیب دینا نہیں بلکہ یہ بتانا ہے کہ ہیکر کس طر ح کام کرتے ہیں اور ان سے کس طرح محفوظ رہا جا سکتا ہے ۔اگر تمام تر سمجھانے کے با وجود بھی آپ نے ہیکر بننے کا فیصلہ کر لیا ہے تو آپ کو یہ علم ہونا چا ہئے کہ پا کستا ن میں ہیکرز سے نبٹنے اور سا ئبرکرا ئمز کو کنٹرول کر نے کیلئے با قاعدہ قا نو ن سا زی ہو رہی ہے۔ میرا کسی پر زور تو نہیں البتہ یہی مشو رہ ہے کہ اس شوق سے احتیا ط بہترہے۔ ورنہ ایف آئی اے (FIA) پاکستان کا سا ئبر کرا ئم ونگ بہت فعا ل کا کر رہا ہے۔وہ لو گ جو یہ سمجھ رہے ہیں کہ ملک میں سا ئبر کرا ئم نا فذ نہ ہونے کی وجہ سے کھلی چھٹی ہے اور کو ئی پو چھنے والا نہیں تو انہیں یہ ضرو ر یا د رکھنا چا ہیے کہ وہ پا کستا ن میں رہتے ہیں اور یہا ں کا قا نو ن یہ ہے کہ آپ نے کو ئی جرم کیا ہو یا نہ کیا ہو تو بھی قا نو ن والے جب چاہیں آپ کے دروازے پر دستک دے سکتے ہیں اس لئے غیر قا نو نی سر گر میو ں سے ہمیشہ احتیا ط کر نی چا ہیے۔



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


Leave a Reply

Translate »