بلاگنگ کے ذریعے انٹرنیٹ سے گھر بیٹھے ماہانہ ہزاروں ڈالر کمائیں

 اپنی قابلیت کی بنیاد پر انتہائی کم سرمایہ کاری سے با عزت روز گار حاصل کریں

Online Earning - Blogging

My this article was published in Daily Ausaf Sunday Magazine on 17 Nov 2013.

آپ نے انٹرنیٹ سے ڈالر کمانے کی باتیں تو بہت سنی ہوں گی لیکن کیا واقعی ہی انٹرنیٹ سے گھر بیٹھے پیسے کمانا ممکن ہے اور وہ بھی حلال طریقے سے تو اس کا جواب ہے کہ جی ہاں ! اب انٹرنیٹ سے پیسے کمانا ایک خواب نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ اگر آپ کو انٹرنیٹ سے پیسے کمانے کے صحیح طریقوں کا علم ہو تو آپ بھی انٹرنیٹ سے پیسے کما سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ سے پیسے کمانے کیلئے آپ کو بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت بھی نہیں ہوتی اور صرف ایک کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کنیکشن کی مدد سے آپ اپنے کام کا آغاز کر سکتے ہیں۔یہ جو اخبارات میں انٹرنیٹ سے پیسے کمانے کے اشتہارشائع ہوتے ہیں ، ان کے جھانسے میں نہ آئیں یہ صرف آپ سے رجسٹریشن فیس ہتھیا کر رفوچکر ہو جاتے ہیں ۔ انٹرنیٹ سے پیسے کمانے کے جتنے بھی طریقے ہیں اس میں رجسٹریشن فیس کا کوئی چکر نہیں ہوتا۔ جوبندہ آپ سے رجسٹریشن کے نام سے پیسے مانگے ، سمجھ لیں دھوکے باز ہے۔وہ بہت سے لوگ جو ان فراڈیوں کے ہاتھوں لٹ چکے ہیں ، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انٹرنیٹ سے پیسے کمانے کا خیال ہی سب فراڈ ہے۔
انٹر نیٹ سے پیسے کمانے کے طریقے تو بہت ہیں اور اس ایک آرٹیکل میں سارے طریقوں کی تفصیل بیان کرنا ممکن نہیں ، اس تحریر میں صرف بلاگنگ سے پیسے کمانے کے بارے میں بتایا جائے گا۔ انٹرنیٹ پر بلاگ یا اپنی ویب سائٹ بنا کر اس سے پیسے کمانا سب سے معروف اور آسان طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ شروع شروع میں جب انٹر نیٹ سے پیسے کمانے کی ہوا چلی تو بہت سے لوگوں نے مختلف موضوعات پر ویب سائٹس اور بلاگ بنائے لیکن سخت محنت کے بعد ان کو حاصل ہونے والی ماہانہ آمدن اتنی کم تھی کہ ان کی دلچسپی برقرار نہ رہی اور انہوں نے بلاگنگ چھوڑ دی۔ انٹرنیٹ سے پیسے کمانے کیلئے بلاگنگ کے حوالے سے کبھی یہ تصور بھی پایا جاتا تھا کہ اچھوتے اور منفرد موضوعات پر بلاگ یا ویب سائٹ بنائی جائے تاکہ زیادہ لوگوں کی توجہ حاصل کی جا سکے لیکن کچھ وقت گزرنے کے بعد ان تصورات کی ہوا نکل گئی اور اب یہ عالم ہے کہ ہر دوسرا شخص انفارمیشن ٹیکنالوجی پر بلاگ بنا رہا ہے۔ اور اس سے اچھے خاصے پیسے کما رہا ہے۔
بلاگ سے پیسے کمانے کے لئے ہمیں اپنے بلا گ پر ایڈسنس لگانا ہوتی ہیں ۔ایڈسنس گوگل کی اشتہارات کی سروس ہے جو آپ کو اپنے بلا گ پر اشتہار لگانے کے عوض معاوضہ ادا کرتی ہے ۔ عام طور پر پہلا بلاگ بنانے کے فوراً بعد آپ ایڈسنس کا اکاؤنٹ حاصل نہیں کر سکتے ۔ اپنے بلاگ کے لئے ا یڈسنس کا اکاؤنٹ کم از کم بلاگ بنانے کے تین ماہ بعداپلائی کرنا چاہئے ۔بعض اوقات یہ ہوتا کہ جب آپ اشتہارات کے حصول کے لئے گوگل ایڈ سنس اکاؤنٹ اپلائی کرتے ہیں تو آپ کا اکاؤنٹ اپروو نہیں ہوتا، اس پر دل برداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، محنت جاری رکھیں اورکوشش کریں کہ آپ کے بلاگ پر روزانہ دوتین پوسٹس ضرور ہوں ، اپنے بلاگ پر دوسری ویب سائیٹس کے مضامین چوری کر کے نہ لگائیں کیونکہ اس سے آپ کا بلاگ کاپی رائیٹس کی زد میں آجائے گا اورآپ کو گوگل ایڈسنس اکاؤنٹ کی اپروول میں مشکل ہوگی۔اگر کسی وجہ سے آپ کو گوگل ایڈسنس اکاؤنٹ نہیں ملتا تو اس کے متبادل راستے بھی ہیں ، مثال کے طور پر BuySell Ads, info links, Adfly, clicksor وغیرہ کے ذریعے بھی آپ پیسے کما سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ یا اخبار ات میں جو لوگ یہ اشتہارات دیتے ہیں کہ وہ معاوضہ لے کر گارنٹی سے گوگل ایڈسنس اکاؤنٹ کی اپروول لے دیں گے ، ان کے چکر میں نہ آئیں، اس قسم کے اکاؤنٹ بہت جلد بلاک ہوجاتے ہیں ۔ کبھی خود یا اپنے جاننے والوں کو اشتہارات پر کلک کرنے کا نہ کہیں ۔ اگرآپ پروفیشنل بلاگر بننا چاہتے ہیں تو اس کام کا باقاعدہ آغاز کرنے سے پہلے انٹرنیٹ پر گوگل ایڈسنس کے قواعد و ضوابط کا بغور مطالعہ کریں اور فی زمانہ بلاگنگ کے حوالے سے جو نئے ٹرینڈ متعارف ہو رہے ہیں ،ان کو اپنانے کی کوشش کریں ۔
اگر آپ بھی انٹرنیٹ سے آن لائن ارننگ  کے لئے ویب سائٹ یا بلاگ بنا نا چاہتے ہیں تو پھر اردو میں بلاگ بنانے کا خیال دل سے نکال دیں۔ جب آپ کا ٹارگٹ یہ ہو کہ ڈالروں سے کھیلنا ہے تو پھر اپنے بلاگ کو اس انداز سے بنائیں کہ غیر ملکی وزٹرز، زیادہ آئیں پاکستانی وزٹر کو بھول جائیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی پاکستانی وزٹر آپ کے بلاگ پر لگے ہوئے ایڈ سینس کے اشتہار پر کلک کرتا ہے تو آپ کے حصے میں صرف سینٹ ہی آئیں گے جبکہ اگر اسی اشتہار پر امریکہ سے کلک ہوتا ہے تو گوگل آپ کو ڈالرز میں ادائیگی کرتا ہے۔ گوگل ایڈسینس کے وہ اشتہارات جو” ٹیک بلاگ(Tech Blog)“ پر آتے ہیں گوگل ان کی سب سے زیادہ ادائیگی کر رہا ہے ،اسی بنا پر دنیا بھر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے موضوع پر بلاگ بنانے کے رجحان میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔بلاگنگ سے پیسے کمانے میں کچھ وقت تو ضرور لگتا ہے لیکن جب ڈالر جیب میں آنے شروع ہوتے ہیں توطبعیت گلاب ہو جاتی ہے ۔
اگر آپ انٹرنیٹ سے ارننگ کے لئے بلاگ بنانا چاہتے ہیں اورآپ کو بلاگ بنانا بھی نہیں آتا تو آپ کسی بھی ویب ڈیزائنر کو معاوضہ ادا کر کے بلاگ بنوا سکتے ہیں ہاں البتہ آپ کی انگلش ضرور اچھی ہونی چاہئے ورنہ آپ کو بلاگ کی تحریروں کے لئے بھی کسی کو ادائیگی کرنا پڑے گی۔ کبھی بھی مفت کے ڈومین اور ہوسٹنگ پر بلاگ نہ بنائیں۔ کوئی ایسی چلاکی یا دو نمبر طریقہ استعمال نہ کریں جو ایڈسینس کا اکا ؤنٹ بلاک ہونے کا باعث بنے۔ بلاگنگ ایک فل ٹائم جاب ہے اور شروع میں تو روزانہ چھ سے دس گھنٹے وقت دینا پڑتا ہے اور اگر آپ باقاعیدگی سے اتنا وقت نہیں دے سکتے تو پھر بہت کم آمدن ہوگی اور آپ جلد ہی دلبرداشتہ ہو جائیں گے۔ وہ لوگ جن کو یکسوئی سے کام کرنے کی عادت نہیں یا جن کو فوری پیسوں کی ضرورت ہے یہ کام ان کی لئے نہیں ہے کیونکہ بلاگ بنانے کے تین سے چھ ماہ کے بعد آپ کی آمدن کا آغاز ہوتا ہے۔
اس تحریر کو پڑھنے کے بعد بہت سے سوالات آپ کے ذہن میں آئیں گے اور میں اکثر اپنے دوستوں سے کہتا ہوں کہ میں نے گوگل سے بہت کچھ سیکھا ہے اور ہر وہ سوال جو آپ کے ذہن میں آئے آپ ایک بار اسے گوگل پر سرچ ضرور کریں ،گوگل آپ کو ہر سوال کا جواب دے گااور اگر آپ کسی معاملے میں رہنمائی کی ضرورت محسوس کریں تومجھے فیس بک پر جوائن کر کے اس حوالے سے کوئی بھی سوال پوچھ سکتے ہیں۔
بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کا شما ر شوقیہ قسم کے بلاگر زمیں ہوتا ہے انہوں نے اپنے گھر کے حالات یا دل کا حا ل بیا ن کرنے کے لئے بلاگ بنائے ہوئے ہیں جب کہ پاکستان میں اس وقت بہت سے لوگوں کا روزگا ر بلاگنگ سے وابستہ ہے ،یہ وہ لوگ ہیں جو پروفیشنل بلاگر ہیں ، ان کا جینا مرنا بلاگنگ سے وابستہ ہے ، میں بہت سے ایسے بلاگرز کو جانتا ہوں ، جو ماہانہ ایک لاکھ سے لے کر دس لاکھ روپے تک صرف بلاگنگ سے کما رہے ہیں۔ میں یہاں پر آپ کا تعارف پاکستان کے ایک ٹاپ بلاگر محتر م غلام سرور صاحب سے کراتا ہوں جو بلاگنگ سے بہت اچھی ارننگ کر رہے ہیں۔ بحیثیت بلاگر جنوری 2013 میں امریکا کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی دعوت پر وہ امریکا کے وزٹ پر تھے ، انہوں نے یو ایس اے کا مشہور زمانہ پروگرام ”انٹرنیشنل وزیٹرز لیڈرشپ پروگرام” اٹینڈ کیا۔ یہ وہ پروگرام ہے جو بہت سے ممالک کے سربراہان مملکت اپنی نوجوانی میں اٹینڈ کر چکے ہیں ، جیسا کہ پاکستانی صدر غلام اسحاق خان ، بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ ، برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر ، گورڈن براون وغیرہ ۔ ”آئی ایل وی پی” ایسا پروگرام ہے جس میں آپ اپلائی نہیں کر سکتے ، امریکن اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آپ کو خود سلیکٹ کرتا ہے، اگر انہیں یہ موقع ملا ہے تو اس کی وجہ بلاگنگ تھی۔ ان کے پاک سولجر بلاگ کی تحریروں میں ان کی وطن سے محبت کا عکس واضح نظر آتا ہے۔ اگر آپ ان کاانفار میشن ٹیکنالوجی سے متعلق بلاگ دیکھیں تو ان کی ہر پوسٹ منفرد اور بے مثال ہے۔
بلاگنگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے غلام سرور صاحب نے کہا کہ بنیادی طور پر میرا تعلق میڈیکل فیلڈ سے ہے اور یہ بلاگنگ وغیرہ اس سے بالکل مختلف چیز ہے ، شروع شروع میں تو میں نے ویسے ہی اپنا پرسنل بلاگ بنایا تھا ، بلاگ بنانے کے تقریباً تین ماہ بعد پہلی ارننگ ہوئی تقریباً 300 ڈالرز ، اور بہت اچھا لگا تھا۔ اب میرا زیادہ وقت بلاگنگ پر ہی صرف ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا بلاگنگ کے لیے ویسے تو عمر کی کوئی حد نہیں ہے مگر میرا مشورہ یہی ہوگا کے نوجوانوں کو پہلے اپنی تعلیم مکمل کرنی چاہیے، اس کے بعد بلاگنگ کی طرف آئیں ، کیوں کے بلاگنگ وقت مانگتی ہے اور اس سے انکی تعلیم کا زیاں ہوگا ، اور اس طرح وہ نہ ہی اچھے سٹوڈنٹ بن سکیں گے اور نہ ہی اچھے بلاگر۔انہوں نے کہا”ویسے تو بلاگ شروع کرتے وقت بہت سی چیزوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے ،جو کہ آپ کے ڈومین نام سے لے کر ویب ہوسٹنگ ، آپکے بلاگ کی دکھاوٹ تک ہر چیز معنی رکھتی ہے مگر جو چیز سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ ہے معیاری مواد ، مطلب کہ اگر آپکا سپورٹس پہ بلاگ ہے تو آپ سپورٹس کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر بہت اچھا مواد اپ لوڈ کریں تو یہ چیز بہت اہمیت رکھتی ہے۔ بلاگ آپکو روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹ کرنا پڑیگا۔ نہیں تو آپکے ریگولر وزیٹرز بھی آپکا بلاگ وزٹ کرنا چھوڑ دیں گے۔اگر توآپ کو کوئی بہت ہی اچھوتا موضوع مل گیا ہے ، تو اس جیسی تو بات ہی نہیں ، اگر نہیں بھی ملتا تو آپ اگر پرانے موضوع پر ہی بلاگ بنا رہے ہیں تو اس میں کچھ نہ کچھ نیا شامل کردیں جو دوسرے بلاگز سے تھوڑا مختلف ہو ، تاکہ آپ کے ریڈر کو آپکا بلاگ دوسروں کی کاپی نہ لگے۔ اسی طرح پھر آپکا بلاگ کامیابی کی طرف جا سکتا ہے آپکو صبر بہت کرنا پڑتا ہے۔ سو محنت کریں باقی اللہ پہ چھوڑ دیں۔“



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


2 thoughts on “بلاگنگ کے ذریعے انٹرنیٹ سے گھر بیٹھے ماہانہ ہزاروں ڈالر کمائیں

  1. Muhammad Imtiaz Khan

    Moneeb Sahib it is a good try to help the unemployed educated persons. May Almighty Allah give you a good return. I want to try this practice, but I have not a lot of knowledge about the world of internet. I am feeling that you may prove a good helper for me in this feild. Just I am serving in a govt. department, but have a little income, which i cannot meet my total requirements. So i tried to earn through internet with yor help. thank you

    Reply

Leave a Reply

Translate »