جادوئی کمالات سیکھنے کے شائقین کیلئے تحفہ خاص، پاکستان کے نامور اور عالمی شہرت یافتہ میجک ماسٹر ایم مجاہد صاحب کا انٹرویو

پاکستا ن میں جب بھی میجک ماسٹر ز کا ذکر آئے گا تو سب سے پہلے ایم مجاہد صاحب کا نام آئے گا، انہوں نے اپنے فن کی بدولت، عزت، دولت اور شہرت کی بلندیاں حاصل کرکے پاکستان میں اپنا ایک مقام بنایا ہے۔ آج پاکستان میں ان کے لاکھوں پرستار موجود ہیں۔ انہوں نے اپنی قابلیت اور مہارت سے ہر عمر اور طبقہ کے شائقین سے داد حاصل کی۔ دل موہ لینے والی گفتگو کرنے والے اور دلچسپ شخصیت کے مالک پاکستان کے مشہور میجیشن ایم مجاہد صاحب کا انٹرنیٹ پر یہ پہلا انٹر ویو ہے۔ ان کے اس انٹر ویو سے آن لائن قارئین کو بہت زبردست معلومات حاصل ہوں گی، جادوئی کمالات سیکھنے کے شائقین کےلئے ان کا یہ انٹرویو ایک تحفہ ہے۔
سوال: آپ اپنے بچپن کے بارے میں کچھ بتائیں، میجک ماسٹر بننے کا خیال کیسے آیا؟
جواب: کراچی شیر شاہ کا علاقہ میری جائے پیدائش ہے جبکہ میں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ فاران اسکول بلدیہ ٹاﺅن سے حاصل کی ،جب میں اسکول میں پڑھتا تھا تو ہمارے اسکول میں بھی میجک ماسٹر اپنے پروگرام کےلئے آتے تھے۔ جب میجک ماسٹر اپنا شو پیش کر رہا ہوتا تھا تو سارے بچوں کے چہرے خوشی سے دَمک رہے ہوتے تھے۔ ہم بہت تالیاں بجاتے ، تب یہیں سے میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ میں بھی بڑا ہو کر کوئی ایسا کام کروں جس سے بچوں میں میری مقبولیت ہو اور وہ بے اختیار تالیاں بجانے پر مجبور ہوجائیں۔ ویسے بھی کسی عقلمند نے کہا ہے کہ اگر زیادہ عرصہ تک مقبول رہنا چاہتے ہیں تو پھر بچوں سے دوستی کریں اور اگر آپ بچوں میں مقبول ہوجائیں گے تو آپ کی مقبولیت کافی عرصہ تک قائم رہے گی۔ بس یہی سوچ کر میں نے اس فن کو سیکھا اور الحمدﷲ میں مطمئن ہوں کہ میں اپنے اس فن کی بدولت عوام میں خوشیاں بانٹ رہا ہوں۔
سوال: یہ فن آپ نے کس سے سیکھا اور اس میں مہارت حاصل کرنے میں کتنا عرصہ لگا؟
جواب: یہ فن میں نے اپنے استاد پروفیسر ایم جے خان صاحب سے سیکھا مجھے اس فن سے وابستہ ہوئے40سال ہوگئے ہیں لیکن سیکھنے کا عمل آج بھی جاری ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی کام ہو، زندگی کے ہر قدم پر آپ کو کچھ نہ کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہی رہتا ہے۔ سیکھنے کا عمل کبھی بھی ختم نہیں ہوتا، میں تو ابھی بھی اپنے آپ کو اسٹوڈنٹ ہی سمجھتا ہوں لیکن الحمدﷲ میں میجک کے ایک ہزار کمالات جانتا ہوں جس کا میں نے ورلڈ چیلنج بھی کیا ہو اہے۔ مثلاً نظروں سے گلاس توڑنا، کاغذ جلا کرنوٹ بنانا، برف سے سگریٹ جلانا، رومال سے کبوتر بنانا، ایک گیند سے کئی گیندیں بنانا، زبان سے تار گزارنا، جسم کی حرارت سے بلب جلانا، اخبار میں دودھ غائب کرنا، تاش کے تمام پتے بادشاہ بنانا، جادو سے کپڑوں میں آگ لگانا، ہاتھ سے نوٹ غائب کرنا، غبارے سے کبوتر بنانا، 50 کے نوٹ کو 500 کے نوٹ میں تبدیل کرنا، کوئی بھی چیز غائب کرنا، پانی سے شربت بنانا، 7 رنگوں کا گیم، گلاس سے سکہ غائب کرنا، حکم سے پانی گرانا، کہنی سے سکہ غائب کرناوغیرہ وغیرہ۔
سوال: پاکستان میں اس وقت کتنے لوگ اس فن سے وابستہ ہوں گے؟
جواب: پاکستان میں اس وقت ہزاروں لوگ اس فن سے وابستہ ہیں اور یہی فن ان کا ذریعہ روزگار بھی ہے۔
سوال: اگر کوئی آپ کے پاس میجک ماسٹر بننے کی ٹریننگ حاصل کرنے کے لئے آئے تو وہ یہ فن کتنے عرصہ میں سیکھ سکتا ہے اور آپ اس کی کیا فیس وصول کرتے ہیں؟
جواب: میں سمجھتا ہوں کہ میجک آئٹم کو سیکھنے جیسا پر کشش فن دنیا میں اور کوئی نہیں ہے۔ جب آپ کسی کے سامنے اپنا کھیل دکھاتے ہیں تو اس کو ایک دم جھٹکا لگتا ہے۔ اسی وجہ سے لوگ اس کو بہت دلچسپی سے mmujahidpic2سیکھتے ہیں۔ وہ لوگ جو ہم سے میجک کی آئٹمز سیکھنے کے لئے رابطہ کرتے ہیں ہم ان کو میجک کے 20کمالات سیکھانے کا 5 ہزار روپے لیتے ہیں۔ ہمارے پاس جو مہارت اور تجربہ ہے اس کی بنیاد پر ہم ایک یا دو گھنٹے میں 20 کمالات سکھا دیتے ہیں۔ ویسے عام طور پر ایک میجک کو سیکھنے میں ایک سے 2 منٹ لگتے ہیں۔ اس کے بعد سیکھنے والے کی دلچسپی پر منحصر ہے کہ وہ 5 دن یا 10 دن میں مسلسل پریکٹس کرکے ان 20 میجک آئٹمز پر عبور حاصل کر لے۔ بہت سے لوگوں نے ہم سے کمالات سیکھنے کے بعد اس کو ذریعہ روزگار بھی بنایا ہے۔
سوال: کراچی کے لوگ تو آپ کے پاس آکر یہ فن سیکھتے سکتے ہیں۔ دوسرے شہروں میں رہنے والے افراد جو اس فن کو سیکھنا چاہیں ان کے لئے آپ نے کیا سہولت رکھی ہے؟
جواب: میجک کے کمالات سیکھنے کے خواہش مند پورے پاکستان سے ہم سے رابطہ کرتے ہیں زیادہ تر لوگوں کا یہ کہنا ہوتا تھا کہ کراچی آکر سیکھنے میں ہمارا بہت زیادہ خرچہ ہوگا، اس بنا پر دوسرے شہروں میں رہنے والے شائقین کے لئے ہم نے ایک” سی ڈی ” کا پیکیج تیار کیا ہے۔ اب10سال سے زائد عمر کا کوئی بھی فرد پاکستان کے کسی بھی شہر سے بذریعہ ڈاک ہم سے” سی ڈی ” پیکیج منگوا سکتا ہے، ہم نے یہ ہوم ڈلیوری سروس اس لئے بھی شروع کی ہےکہ بہت سے لوگ سیکھنا تو چاہتے ہیں ۔ لیکن ان کے پاس فارغ وقت نہیں ہوتا ،اب ہر کوئی ” سی ڈی “کی مدد سے گھر بیٹھے جادوئی کمالات سیکھ سکتا ہے۔
ہمارا یہ ” سی ڈی ” ٹریننگ کورس پانچ ہزار روپے کا ہے۔ جو بھی اس کورس کو منگوانا چاہتا ہے۔ وہ ہمیں فون کرکے اپنا ایڈریس لکھوا دیتا ہے تو ہم یہ ” سی ڈی ” پیکیج بذریعہ  وی پی بھیج دیتے ہیں۔ جولوگ ہم سے یہ منگواتے ہیں ہم انہیں اس کی لائف ٹائم گارنٹی دیتے ہی کہ اگر کسی وجہ سے وہ ” سی ڈی ” ٹوٹ جائے یا خراب ہو جائے تو بغیر کسی معاوضے کے وہ ہم سے دوبارہ منگوائی جا سکتی ہے۔ اگر دس سال بعد بھی وہ ہم سے رابطہ کریں تو بھی ہم ان کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہیں۔
دیکھیں! آپ کسی بھی بڑے ریستوران پر چلے جائیں وہاں پر آپ کو لکھا ہوا ملے گا کہ فری ہوم ڈلیوری سروس، ابھی کال کریں اور گھر بیٹھے اپنی پسند کی چیز منگوا لیں اس لئے ہم نے بھی ہوم ڈلیوری کی سہولت مہیا کر دی ہے او رجب سے ہم نے یہ سروس متعارف کرائی ہے اب لوگ ہمارے پاس آکر سیکھنے کے بجائے گھر بیٹھے ہی” سی ڈی ” منگوا کر جادوئی کمالات سیکھ لیتے ہیں۔
سوال: آپ کو ٹریننگ سینٹر چلاتے ہوئے کتنا عرصہ ہوگیا ہے؟
جواب: مجھے اپنے ٹریننگ سینٹر ”ایم جے میجک گروپ“ کو چلاتے ہوئے تقریباً 30سال ہو گئے ہیں۔
سوال: ا بھی تک کتنے لوگ آپ سے یہ فن سیکھ چکے ہیں؟
جواب: اگر میں حساب لگانے بیٹھوں کہ اب تک کتنے لوگ مجھ سے یہ فن سیکھ چکے ہیں تو اس کی تعداد لاکھوں میں بن جائے گی۔ پاکستان میں بحیثیت پروفیشنل کام کرنے والے99%میجیشن ہمارے شاگرد ہیں۔ ایک دور تھا کہ میں روز کم از کم10 لوگوں کو یہ فن سکھایا کرتا تھا۔ اس کے علاوہ اسکولوں میں ہمارے پروگرام ہوتے ہیں وہاں ہزاروں بچے ہمارے شو کو دیکھتے ہیں اور ہم جس اسکول میں بھی پروگرام کرتے ہیں وہاں کے بچوں کو ایک آئٹم ضرور سکھاتے ہیں۔ اب دیکھیں اگر کسی اسکول میں ایک ہزار بچہ ہمارا شو دیکھ رہا ہے تو ووہ ایک ہی وقت میں سب میرے شاگرد بن گئے۔ جبکہ میں روزانہ مختلف اسکولوں میں 2 سے 3 پروگرام کرتا ہوں۔ آج بھی میں ایک اسکول میں پروگرام کرکے آیا ہوں۔
سوال: میجک کے کمالات سیکھ کر ایک عام آدمی کو کیا فائدہ ہوتا ہے زیادہ تر لوگ کیا سوچ کر اس فن کو سیکھتے ہیں؟
جواب: ہمارے فن کو سیکھنے والے افراد دو کیٹگریز سے تعلق رکھتے ہیں ایک بالکلmmujahidpic غریب طبقہ کے لوگ  اور دوسری ہائی کلاس کیٹیگری۔ درمیانی کلاس کے لوگ اس کو سیکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ وہ لوگ جو احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم کوئی فن سیکھ لیں جس سے لوگوں میں نمایاں ہوجائیں، جبکہ ہائی کلاس کے لوگوں کے پاس پیسہ بے انتہا ہوتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے لئے خوشیاں خریدنا کوئی مشکل کام نہیں ،اب رہ گیا درمیانہ طبقہ تو وہ اپنے کام سے کام رکھتا ہے۔ ہمارے فن میں خاص بات یہ ہے کہ جب ہم پروگرام کر رہے ہوتے ہیں تو وقتی طور پر انسان اپنا دکھ درد بھول جاتا ہے۔ چاہے وہ کتنا ہی غمگین کیوں نہ ہو بے اختیار تالی بجانے پر مجبور ہوجاتا ہے، چاہے وہ عام آدمی ہے یا کوئی بڑا آدمی ہے،وقتی طور پر ریلیکس ہوجاتا ہے۔ ہمارے کھیل کی وجہ سے اگر لوگوں کا دل بہل جائے تو اس سے بڑی بات اور کیا ہوگی۔ یہی وہ وجوہا ت ہیں جس کی بنا ءپر لو گ اس فن کو سیکھتے ہیں
سوال: کیا حکومتی سطح پر اس فن کی کوئی سر پرستی ہو رہی ہے؟
جواب: حکومت نے کیا کسی کی سرپرستی کرنی ہے اس وقت پورے پاکستان کے یہ حالات ہیں کہ اگر آپ روزانہ محنت کریں گے تو کچھ کھائیں گے اگر حکومتی سطح پر اس فن کی تھوڑی سی بھی سرپرستی ہوجاتی تو میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم دنیا کے کسی بھی میجیشن سے کم نہیں ہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے میجیشن جو ہواﺅں میں اُڑنے یا جہاز کو غائب کرنے کا مظاہرہ کرتے ہیں یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ اصل مسئلہ پیسے کا ہے ان مظاہروں کو کرنے کےلئے پس پردہ جو سامان استعمال ہوتا ہے وہ اتنا مہنگا ہے کہ ہم اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ۔ ہماری حالت تو یہ ہے کہ اگر ہمارا کوئی میجک آئٹم500روپے میں تیار ہو رہا ہے تو اس کے بارے میں بھی دس مرتبہ سوچنا پڑتا ہے کہ ہم  اس کے اخاجات کس طرح کم کر سکتے ہیں۔ ایک دور میں میں نے حبیب بینک پلازہ کو غائب کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور سچ میں، میں غائب کرکے دکھا بھی سکتا ہوں۔ میں نے اس شو کو کرنے کےلئے حکومت سے ما لی معا ونت کی درخواست کی تھی لیکن مجھے حکومت کی طرف سے کوئی رسپانس نہیں ملا ، اگر حکومت آج بھی مالی تعا ون کر نے پر تیار ہو جا ئے تو میں حبیب بینک پلازہ کو غا ئب کر کے دکھا سکتا ہوں ۔
سوال: دوسرے ملکوں کے میجیشنز اور پاکستانی میجک ماسٹرز کے کام کرنے کے انداز میں کیا فرق ہے؟
جواب: ہماری پاکستانی قوم بہت محنتی ہے اور محنت کرنے پر فخر محسوس کرتی ہے۔ میں یہ دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ ایک پاکستانی میجیشن جتنی محنت کرتا ہے اس سے بڑھ کر محنت دنیا کا کوئی بھی میجیشن نہیں کر سکتا۔ ہم لوگ بغیر ساز و سامان اور وسائل کے وہ کام کر دکھاتے ہیں جس کا  انگریز سوچ بھی نہیں سکتے، جس کام پر وہ لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں وہی کام ہم دو روپے کی جگاڑ سے کر دیتے ہیں۔ کام کرنے کے انداز میں کوئی فرق نہیں ہے فرق یہ ہے کہ ان کے پاس وسائل اور پیسہ ہے جبکہ ہمارے پاس سوائے مہا رت کے اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔
سوال: کیا کوئی ایسا میجیشن بھی ہے جو میجک ٹرکس دکھانے کے دوران جادو سے بھی مدد لیتا ہو؟
جواب: میری سمجھ سے تو باہر ہے کہ ایسا ہوتا ہو کہ کوئی میجیشن اپنے کھیل کے دوران جادو سے مدد لیتا ہو، انسانی فطرت یہ ہے کہ جب اسے کسی چیز کی سمجھ نہیں آتی تو وہ فوراً اس پر جادو کا فتویٰ لگا دیتے ہیں اور اگر کوئی چیز ایک دم نظروں سے غائب ہو جائے تو کچھ لوگ اسے نظر بندی کا کمال سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ حالانکہ ہم جو کھیل دکھا رہے ہوتے ہیں اس میں صرف ٹیکنیکس استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک میجیشن اپنے کھیل کے دوران آپ کے دماغ، آنکھوں اور نفسیات کو ماہرانہ طریقے سے دھوکہ دے رہا ہوتا ہے اور یہ ایک ایسا دھوکہ ہے جس کو دوبارہ کھانے کو دل چاہتا ہے۔
سوال: ابھی تک آپ پاکستان کے کن کن شہروں میں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں؟
جواب: یوں سمجھ لیں کہ آدھا پاکستان گھوما ہے۔ میں پاکستان کے تمام بڑے شہروں کوئٹہ، پشاور، لاہور، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں اپنے میجک شوز کر چکا ہوں۔ میجک شوز کرنے کےلئے آپ کو بہت بڑی چیزوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔
سوال: اس شعبہ میں آنے کے بعد آپ نے اپنی انفرادیت کس طرح بنائی؟
جواب: پاکستان میں جتنے لوگ بھی اس فن سے وابستہ تھے وہ ا پنے نام کے ساتھ پروفیسر لکھا کرتے تھے۔ جب mmujahidpic4میں اس شعبہ میں آیا تو میں نے اپنے نام کے آگے میجک ماسٹر لگایا اور پروفیسر کے ٹرینڈ کو تبدیل کرکے ایک نئی روایت کی بنیاد رکھی۔ میں نے اپنے سینئرز سے کہا کہ کیا ہم کالج میںپڑھاتے ہیں جو اپنے نام کے ساتھ پروفیسر لکھیں تو ان کا جواب یہ تھا کہ سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر لکھنا شروع کیا ہے۔ تب میں نے ان سب کو مشورہ دیا اور سمجھایا کہ وہ اپنے نام کے آگے پروفیسر کی بجائے میجک ماسٹر لکھیں، اس وقت سے پاکستان کا ہر میجیشن اپنے نام کے آگے میجک ماسٹر لکھتا ہے۔ ویسے میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ پروفیسر اور ماسٹر میں بڑا فرق ہے۔ ایک پروفیسر صرف پروفیسر ہے جبکہ ماسٹر کا مطلب ماہر ہے یہ اس سے بڑا لفظ ہے۔
سوال: میجک کا کوئی ایسا کمال جس کو کرنے کی خواہش دل میں ہو؟
جواب: دل تو چاہتا ہے کہ ہم بھی پاکستان میں وہ کام کرکے دکھائیں جو دوسرے ملکوں کے میجیشن کررہے ہیں لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب گورنمنٹ ہماری سپورٹ کرے، اب دیکھیں ناں ہم کر تو بہت کچھ سکتے ہیں لیکن وسائل نہ ہونے کی وجہ سے بے بس ہیں، جیسا کہ میں نے حبیب بینک پلازہ کو غائب کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن کسی طرف سے کوئی رسپانس نہ ملا اور وہ ایک حسرت ہی رہی دل میں۔
سوال: اپنے پرستاروں کے نام اپنے پیغام میں کیا کہیں گے؟
جواب: زندگی میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو وقت کی پابندی کریں، اس عادت کو اپنا کر آپ سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ میں نوجوان نسل سے کہوں گا کہ وہ وقت کی قدر کرنا سیکھیں ،میری کامیابی میں سب سے اہم رول وقت کی پابندی کا بھی ہے۔ میں نے ہزاروں پروگرام کئے ہیں لیکن آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں کسی پروگرام میں دیر سے پہنچا ہوں، آپ یقین کریں میرا اسٹاف جب کسی پروگرام کی بکنگ کرتا ہے تو وہ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ مجاہد صاحب وقت مقررہ پر پہنچ جائیں گے۔ وہ کبھی لیٹ نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ میں آپ سے یہ کہوں گا کہ اپنی زندگی میں کوئی نہ کوئی ایسا اچھا کام ضرور کر یں جس سے آپ لوگوں میں نمایاں ہوجائیں، اوروہ کام اس انداز سے کریں کہ اس میں انفرادیت ہو، بھیڑ چال نہ ہو، اب دیکھیں! ہم نے بچوں کی ذہنی اور تعلیمی اصلاح کےلئے ماہنامہ ”گوگو“ میگزین نکالا، ہم نے اس کو بالکل ایک نئے انداز سے متعارف کرایا اور آج اﷲ کے فضل سے ”گوگو“ میگزین کا شمار پاکستان کے مقبول ترین رسالوں میں ہوتا ہے۔ میں آپ کو بھی یہی مشورہ دوں گا کہ اپنی ایک الگ پہچان بنائیں۔
سوال: ماہنامہ ”گوگو“ کا ذکر کیا ہے آپ نے، اس بارے میں بتائیے؟
جواب: میں نے چھ سال قبل بچوں کی محبت میں ان کی اصلاح کے لئے بچوں کا میگزین ”گوگو“ کے نام سے شائع کیا۔ جو باقاعدگی سے شائع ہورہا ہے۔ اس کی انفرادیت کی وجہ سے آج گوگو کا شمار پاکستان کے صف اوّل کے بچوں کے میگزین میں ہوتا ہے۔ ہم اس میگزین میں بچوں کےلئے تفریحی، تعلیمی، ادبی، اصلاحی مضامین ترتیب دیتے ہیں تاکہ بچوں میں دلچسپی پیدا ہو کہ وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائیں کہ وہ اپنے والدین اور اپنے ملک کا نام روشن کریں اور ایک کامیاب فرد بن کر ملک و قوم کی ترقی میں معاون بنیں۔



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


Leave a Reply

Translate »