جدید ٹیکنالوجی کے کاروبار اور ملازمتوں پر اثرات

کیا مڈل کلاس ملازمین، ہنر مند افراد اور مزدور طبقہ بے روزگار ہو جائے گا؟

My this article was published in Roznama Dunya's Sunday Magazine on 15 May 2016.

My this article was published in Roznama Dunya’s Sunday Magazine on 15 May 2016.

مصنوعات کی لاگت میں کمی اور کم وقت میں بہتر نتائج حاصل کرنے کے لئے دنیا بھر میں جدید ٹیکنالوجی اور خودکارربوٹس پرتیزی سے کام ہو رہا ہے جو صنعتوں اور اداروں میں افرادی قوت کی جگہ لے سکیں۔ ایسا محسو س ہوتا ہے کہ جیسے جیسے صنعتوں میں اشیاءسازی اور فیصلہ سازی کے میدان میں خود کار مشینوں، ربوٹس اور کمپیوٹر کا استعمال بڑھتا جائے گا تو یہ ممکن ہے کہ بہت سے لوگوں کو اپنے روزگار سے محروم ہونا پڑے۔پاکستان میں بھی کاروباری اور صنعتی اداروں میں یہ سوچ پیدا ہو رہی ہے کہ کس طرح کم افرادی قوت، کم اخراجات اور کم وقت میں زیادہ بہتر نتائج اورپیداوار حاصل کی جا سکتی ہے ۔بہت سے اداروں میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا آغاز ہو چکا ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ٹیکنالوجی آخرکار وائٹ کالر ، بلیو کالر جابز ، صنعتی کارکنوں ، دستکاروں ،نچلے درجے کے ملازمین کی جگہ لے لے گی اور یہ ملازم پیشہ افراداپنے روزگارسے محروم ہو جائیں گے اور موجودہ دور کی بہت سی پرکشش ملازمتوں کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا ۔خودکارربوٹس ، سمارٹ مشینوں اور سافٹ وئیر کے استعمال سے ملازمتوں کی گنجائش کم ہورہی ہے۔
امریکہ بے روزگاری کے بحران سے پیدا ہونے والے مسائل کا سامنا کر چکا ہے، 2007 سے 2009 کے دوران امریکی کاروباری اورصنعتی اداروں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے بہت سے ملازم پیشہ افراد کو اپنی ملازمت سے محروم ہونا پڑا جس سے روزگارکاشدید بحران پیدا ہوا ، وائٹ کالر اور بلیوکالر جابز کا مستقبل خطرے میں پڑ گیاکیونکہ بہت سے اداروں میں ربوٹس اور سافٹ وئیر کا استعمال عام ہو گیا۔اس پریشان کن صورتحال کی وجہ مڈل کلاس ملازمت کا حصول مشکل ہو گیااور جو افراد بر سر روزگار تھے انہیں بے روزگاری کے خوف نے نفسیاتی مریض بنا دیا۔
سافٹ بینک کے بانی ماسایوشی سن، نے 30 سال پہلے پیش گوئی کی تھی کہ سب کے پاس پرسنل کمپیوٹر یا پھر پی سی جیسی ڈیوائس ہوںگی۔ان کا کہنا ہے کہ میں د یکھ رہا ہوں کہ آنے والے سالوں میں مصنوعی دماغ انسانی دماغ سے بہتر ہوجائے گا۔ شماریات کے لئے دس لاکھ گنا تیز ہوگا، دس لاکھ گنا سٹوریج کی سہولت ہوگی اور مصنوعی دماغ کے ذریعے مکالمہ دس لاکھ گناتیز ہو گا۔ جب ایساہوگا تو بزنس ماڈل ،لائف سٹائل اور تکنیک بالکل مختلف ہوگی۔ وہ کہتے ہیں کہ تجارت کو کمپیوٹنگ کی طاقت کا استعمال کرناچاہئے۔ انہیں خیالات سے ملتی جلتی پیشن گوئیاں آج سے دس سال پہلے بل گیٹس نے بھی کی تھی ، انہوں نے ایک عالمی یادداشت جاری کی تھی، جس کا عنوان تھا ”کام کرنے کی نئی دنیا“۔ اس میں بل گیٹس نے آئندہ دس سالوں میں افراد اور اداروں کے کام کرنے کے انداز میں ہونے والی نمایاں تبدیلیوں کا تصور پیش کیا تھا۔ ان کی تمام پیشن گوئیاں تو درست ثابت نہیں ہوئی لیکن ان کی کہی ہوئی بہت سی باتیں سچ ثابت ہو چکی ہیں۔ جیساکہ انہوں نے کہا تھا کہ سافٹ ویئر ہمارے مددگارہو ں گے اوریہ سافٹ ویئر ہمارے کام کرنے کے انداز سے سیکھیں گے، اور ہماری ضروریات کو سمجھیں گے اور ترجیحات متعین کرنے میں مدد دیں گے۔ ان کہی ہوئی یہ اور دیگر بہت سی باتیں سچ ثابت ہوگئی ہیں۔
اب ڈیجیٹلائزیشن کو روکنا ممکن نہیں۔آئندہ سال جاپان میں 4400مربع میٹر کے رقبہ پر مشتمل پہلا اِن ڈور ”روبو فارم “ تیا ر ہوجائے گا ، اس روبو فارم میں روزانہ سلاد کے تیس ہزار پودوں کی پیدا وار کی گنجائش ہوگی ۔ اس زرعی فارم کے تمام انتظامات اور کنٹرول ربوٹس کے ہاتھ میں ہوگا جس سے پیدا واری لاگت کم ہو جائے گی ۔ ما ہرین کا اندازہ ہے کہ ربوٹس کے استعمال کی وجہ سے اخراجات کی نصف بچت ہوگی ۔ اسی طرح جرمنی میں مصنوعی ذہانت کے ایک ریسرچ سنٹر میں کم وقت میں خریداری کے منصوبے پر تحقیق جاری ہے۔ اس تحقیق کی روشنی میں انہوں نے تجرباتی طور پر ایک سپر سٹور پرخریداری کاجو نیا طریقہ متعارف کرایا ہے اس میں تمام نظام ڈیجیٹل ہوگا، خریداری کے بعد کیش کاو¿نٹر پر تمام اشیاءخود کار طریقے سے سکین ہوں گی اور آپ رقم کی ادائیگی گاڑی کے ساتھ منسلک کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کر سکیں گے ۔ خریداری کا یہ جدید نظام بہت جلد دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کر لے گا اور سپر سٹورز کا انظا م ربوٹس اور سافٹ وئیر کی مدد سے چلایا جائے گا۔
ملک بھر میں سی این جی سٹیشنوں کی بھرمار ہے لیکن کیا انہوں نے کبھی یہ سوچا ہوگا کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ جب لوگ گھروں میں ہی گاڑی میں گیس فلنگ کر لیا کریں گے۔بہت جلد یہ وقت آنے والا ہے جب گاڑیوں میں گیس بھر وا نے کےلئے نہ تو فلنگ سٹیشنز کی ضرورت ہو گی اور نہ ہی قطاروں میں لگ کر گھنٹوں انتظار کرنا پڑے گا ۔امریکہ میں سی این جی کے متبادل اے این جی (Absorbed Natural Gas) سسٹم پر تحقیق آخری مراحل میں ہے ۔ اے این جی ابھی کمرشل بنیادوں پر دستیاب نہیں ہے لیکن بہت جلدلوگ اے این جی ANG سسٹم کے تحت اپنی گاڑیوں کو گھروں میں عام استعمال ہونے والی گیس ایک کم قیمت کمپریسر کی مدد سے خود بھی بھر سکیں گے۔ اسی طرح شکاگو میں قائم ادارے امپوسبل ابجیکٹس(Impossible Objects) کے چئیرمین رابرٹ سوارٹز اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ تھری ڈی پرنٹرز کی مدد سے جیٹ طیاروں،سپورٹس کاروں، ڈرون طیاروں، راڈارزاور مختلف مشینوں میں استعمال ہونے والے مہنگے پرزے اب کاربن کے ریشوں سے تیارکئے جائیں۔ کاربن کے ریشوں کی مدد سے تیار ہونے والے پرزے وزن میں ہلکے اور ایلومینیم سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں اور ہر کوئی انہیں خرید سکتا ہے۔یہ طریقہ کاربہت آسان اور کم خرچ ہوگا ،اب مطلوبہ پرزے کا ڈیزائن کمپیوٹر کی مدد سے تیار کیا جائے گااور اس کے بعد محض ایک بٹن کو دبانا پڑتا ہے اور مطلوبہ پرزہ چند گھنٹوں کے اندر تیار ہو جاتا ہے اور یہ تمام عمل تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے مکمل کیا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں بھی زندگی کے ہر شعبہ میں جدید ٹیکنالوجی کا عمل دخل بڑھ چکا ہے مثال کے طور پر طبعی ٹیکنالوجی کی صنعت میں تیز رفتار ترقی نے اب ربوٹ کے ذریعے سرجری کو آسان بنا دیا ہے۔ امریکہ میں ربوٹ کے ذریعے سرجری اب معمول کی بات ہے۔ اس طر ح کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔
اب آپ جدید ٹیکنالوجی کا کمال دیکھیں کہ اُبر (Uber) ٹیکسی کی سروس دنیا بھر کے 382 اہم شہروں میں دستیاب ہے ۔ چین میں اُبر کی گاڑیوں پر روزانہ دس لاکھ کے قریب لوگ سفر کرتے ہیں۔ اُبر کمپنی چین کے مزید 100 شہروں میں کاروبار پھیلانے کیلئے ایک ارب دس کروڑ ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہی۔ حال ہی میں اُبر (Uber) کی سروس کے آغاز نے چین کے شہر تیانجن (Tianjin) میںٹیکسی ڈرائیورز میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ اب وہاں کے مقامی ٹیکسی ڈرائیور اپنی آمدنی بچانے کیلئے جدوجہد رہے ہیں۔جب میں یہ آرٹیکل لکھ رہا تھا تو میرے ذہن میں یہ آیا کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ اُ بر ٹیکسی کی سروس پاکستان کے بڑے شہروں میں بھی شروع ہو جائے گی تو پھر رکشہ، رینٹ اے کار اور ٹیکسی ڈرائیوروں کا روزگار متاثر ہو گا ، ابھی میر ا آرٹیکل مکمل نہیں ہوا تھا کہ چند  دن  پہلے اُبر نے لاہور سے اپنی سروس کا آغاز کر دیا ہے۔جس تیز رفتاری سے کام کرنے کے انداز تبدیل ہورہے ہیں اس سے آنے والے 20 یا 25 سالوں میں کون کون سے شعبے متاثر ہوسکتے ہیں اب تھوڑا سا ذکر ان پیشوں اور شعبوں کا بھی ہو جائے جن کا مستقبل تاریک ہو سکتا ہے ،مثلاًپاکستان میں ٹیوشن سنٹرز کا کاروبار بہت منافع بخش ہے جب کہ 2025 تک فری لانس پروفیسرز کی کافی ڈیمانڈ ہوگی ، آن لائن تعلیم حاصل کرنے کا رجحان عروج پر ہوگا، اُس وقت اپنی یونی ورسٹی بنانے کے لئے صرف بہترین آن لائن ٹیچنگ کا انداز ، نصابی کتب اور مارکیٹنگ کو کا میابی کی ضمانت سمجھا جائے گا۔حال ہی میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے طالباءکے تھیسز(Thesis) چیک کرنے کے لئے ایک سافٹ وئیر تیار کروایا ہے، اس میں بہت سی خوبیاں ہیں ، یہ اردواور انگریزی کے تھیسز چیک کر سکے گا اور اگر کسی نے تحریرکہیں سے چرائی ہوگی تو اس کا علم بھی ہو جائے گا ۔یہ ایک سافٹ وئیر آنے والے وقت میں پیپر چیک کرنے والے اساتذہ کا روزگار ختم کر دے گا ۔اب تو لاہور پولیس نے بھی تفتیش کے لیے ایپلی کیشنز استعمال کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔
انٹر نیٹ پر کاروبار کی ایک نئی دنیا تخلیق ہوچکی ہے ، اپنے کام میں مہارت رکھنے والے فری لانسرزگھر بیٹھ کر کام کر رہے ہیں ۔اسی طرح شاپنگ سنٹرز اور سپر سٹورز سے خریداری کے رجحان میں نمایا ںکمی ہوئی ہے اور لوگ آن لائن شاپنگ کو ترجیح دے رہے ہیں ، مستقبل میں اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ دکانوں پر خریداری کم ہونے کی وجہ سے ان کے کرایوں میں نمایا ںکمی ہوگی اور شاپنگ سنٹر بنانے کا رجحان بہت کم ہو جائے گا۔ ہمارے ہمسایہ ملک کی ایک صنعتی تنظیم ایسو چیم(ASSOCHAM) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں اسی خطرے کی نشان دہی کی ہے۔ انہوں نے دس بڑے شہروں کے اعداد و شمار کی بنیاد پر جو رپورٹ تیار کی ہے اس کے مطابق شاپنگ سنٹرز کے کاروبار میں 25 سے 30 فیصد کمی واقع ہوئی ہے ۔ اس رپورٹ کے مطابق ، بڑھتی ہوئی مصروفیت اور جدید طرز ِزندگی کی وجہ سے لوگ شاپنگ سنٹرز جا کر خریداری کرنے کے بجائے آن لائن خریداری کی جانب تیزی سے متوجہ ہو رہے ہیں۔
انٹرنیٹ کی وجہ سے جہاں بہت سے لوگو ں کو روز گار بھی ملا ہے وہاں انٹرنیٹ کی وجہ سے بہت سے کام متاثر بھی ہوئے ہیں جیسا کہ ڈیجیٹل میڈیا نے پرنٹ میڈیا کی سرکولیشن کم کردی ہے ، کتابوں کی خریداری کے رجحان میں کمی آئی ہے اور انٹرنیٹ نے روایتی پبلسٹی کا انداز تبدیل کر دیا ہے جس سے پرنٹنگ پریس انڈسٹری کا کاروبار بھی متاثر ہوا ہے ۔اب فیس بک نے براہِ راست ویڈیو سٹریمنگ کی سہولت مہیا کر دی ہے ، مجھے تو ایسے لگتا ہے کہ آنے والے وقت میں اس سہولت کی وجہ سے الیکٹرانک میڈیا کی مقبولیت میں کمی آئے گی ۔
سی بی آر ای(CBRE) کی ایک رپورٹ کے مطابق 2025 تک موجودہ دور کی آدھی ملازمتیں ختم ہو جائیں گی۔2030 تک رئیل اسٹیٹ کے بزنس کا انداز بالکل بدل جائے گا، خریدو فروخت اور ٹرانزکشن آن لائن ہو ں گی۔آج کی نوجوان نسل کو ایسے پریشان کن چیلنج کا سامنا ہے کہ انہیں ایک ایسے کیر ئیر کے لئے تیار ہونا پڑ رہا ہے جن کی ملازمتوں کا ابھی وجود ہی نہیں ہے۔اسی بات کی مزید وضاحت ڈاکٹر کیتھی این ڈیوڈسن نے اس انداز سے کی ہے وہ کہتی ہیں کہ سکولوں میں پڑھنے والے 65 فیصد طالب علم اپنی عملی زندگی میں ایسی جابز کریں گے جس کا ابھی وجود ہی نہیں ہے۔
کیا جدید ٹیکنالوجی سب کچھ ختم کر دے گی ؟ایسا تو نہیں ہے ۔ ٹیکنالوجی کے ملازمتوں پراثرات کی ایک تجزیاتی رپورٹ بتاتی ہے کہ بہت سے ملکوں میں ٹیکنالوجی کی وجہ سے جابز میں اضافہ کی بجائے کمی ضرور ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود جی ڈی پی(GDP) ہمیشہ کم ہونے کی بجائے زیادہ ہوا ہے۔آنے والے دس ، 20 سال ٹیکنالوجی کی ترقی کے ہیں ، اس دوران بہت سی چیزیں بنیںگی ، نئی نئی ایجادات ہوں گی اور بہت سی چیزوں کا وجود ختم ہو جائے گا اور تقریباً 20 سال بعد ہم ایک مستحکم مقام پر پہنچ جائیں گے۔یہ ایسے ہی ہو گا جیسے 50سال کی عمر کے لوگوں نے اپنی زندگی میں بہت سی ایجادات کو وجود میں آتے ، عروج پر پہنچتے اور پھر ختم ہوتے دیکھا ہے ۔ مثلاً وی سی آرآیا ، عروج پر پہنچا اور ختم بھی ہوگیا۔
وہ بہت سے نوجوان جن کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ فوج جوائن کر کے اپنے ملک کی خدمت کریں گے لیکن آنے والے وقت میں ربوٹس ان کی جگہ لے لیں گے، جن میں سب سے پہلے امریکہ اس کے بعد چائناپھر روس اور اسرائیل اور اس کے بعد باقی دنیا اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اُٹھائے گی ۔ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت آنے والے وقت میں کسی بھی جگہ سے کہیں بھی حملہ کرنے کی صلاحیت ہوگی ۔اس ترقی کی وجہ سے جہاں بہت سی جابز ختم ہوں گی ، وہاں نئی ملازمتوں کے مواقعے بھی پیدا ہوں گے ، مثلاً فوجی ربورٹس کی دیکھ بھال سے متعلق ملازمت ، ڈرون آپریٹر ، ربوٹ ڈیزائنر اور سائبر وار فیئر ایکسپرٹ وغیرہ ۔ہمیں اس بات کو مدنظر رکھ کر کسی شعبہ کا انتخاب کرنا ہوگا۔آنے والے وقت میں تخلیقی ذہانت،سوشل اور ایموشنل انٹیلی جنس کے شعبوں میں ملازمت کے مواقعے زیادہ ہوں گے۔
پاکستان میں مڈل کلاس ملازمت کا حصول کتنا مشکل ہے یہ ہم سب جانتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پوری قوم بھیڑ چال کے فارمولے پر عمل کر ر ہی ہے ، ہماری اس عادت اور سوچ نے ہمیں بہت نقصان پہنچایا ہے ، ہم بہت سے فیصلے اس بنیا د پر کرتے ہیں کہ فلاں نے اس کام سے بہت پیسے کمائے ہیں یا اس فیلڈ میں بہت کامیاب ہوا ہے ،ہم بھی یہی کریں گے ، یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر نوجوانوں کی خواہش ہے کہ وہ کمپیوٹرکی فیلڈ میں مہارت حاصل کریں کیونکہ دیگر ملازمتوں کی نسبت کمپیوٹرٹیکنالوجی کے میدان میں پرکشش تنخواہ کا حصول اور ترقی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ لیکن ہماری بد نصیبی یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں کمپیوٹر اور جدید ٹیکنالوجی کے نام پر جو نصاب پڑھایا جا رہا ہے وہ اس قابل نہیں ہے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد کوئی طالب علم اپنی قابلیت اور مہارت کا مظا ہرہ کر سکے اس لئے عملی زندگی میں انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ تا ہے ۔
جدید ترقی نے کام کرنے کے تمام انداز بدل دئیے ہیں جس سے مجموعی طور پر مڈل کلاس کے ملازمین، ہنر مند افراد اور مزدور طبقے کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ اگر ہم دورِجدید کے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو اپ ڈیٹ نہیں کریںگے تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں بھی اپنی ملاز مت سے محروم ہونا پڑے ۔کاش ایسا ہو کہ ہماری حکومت بھی مستقبل کی ضرورتوں اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق پالیسیاں بنائے، تعلیمی نصاب کو مستقبل کی ضرورتوں کو مدِنظر رکھ کر مرتب کیا جائے اور کم از کم ہر ایک سال بعد نصاب کو لازمی اپ ڈیٹ کیا جائے ، تعلیمی ادارے آنے والے وقت کو ذہن میں رکھ کر اور ملک میں دستیاب ملازمتوں کے اعدادوشمارکو مدِنظر رکھ کر ایسے کورسز ،ڈگریز اور ہنر متعارف کروائیں کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد کسی کو ملازمت تلاش کرنے میں دشواری نہ ہواور اس فرد کو کم از کم اپنی زندگی میں ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے روز گار سے محروم نہ ہونا پڑے۔



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


Leave a Reply

Translate »