جعلی ایس ایم ایس کرنے والا شیطانی سافٹ وئیرجوآپ کی پرسکون زندگی میں زہر گھول سکتا ہے

SMS-Spoofing

My this article was published in Daily Ausaf Sunday Magazine on 06 Oct 2013.

انٹر نیٹ پرای میل(E-mail) ، وائس میل(Voice Mail) ،جی پی ایس (Global Positioning System)، آئی پی ایڈریس(Internet Protocol) یا اے آر پی(Address Resolution Protocol) اور کسی بھی فرد کی کالرر آئی ڈی(Caller Identification)کو سافٹ وئیر پروگرام کے ذریعے کنٹرول کر کے اپنے مزموم مقا صد کو جعل سازی سے پورا کرنے کے لئے، دھوکہ دہی کا جو طریقہ اختیار کیا جاتا ہے اس کو سپوفنگ کہتے ہیں ۔ آپ صر ف اس ایک چھوٹے سے واقعہ سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ سپوفنگ کے ذریعے پڑھے لکھے ، سمجھ دار اور یہا ں تک کہ میڈیا والوں کو بھی آسانی سے بے وقوف بنایا جا سکتا ہے ۔ 2009 میں اوکاڑہ کے رہائشی ، ایک طالب علم عمار افضل نے اوریکل نائن (Oracle 9) میں ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے کا دعویٰ کیا اس کے علاوہ یہ بھی دعویٰ کیا کہ مائیکروسافٹ کی ونڈوز ڈیویلپمنٹ کے لئے جو ٹیم کام کرتی ہے وہ نہ صرف اس کا حصہ ہے بلکہ مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کی جانب سے انہیں کمپنی کا اعزازی مینجنگ ڈائریکٹر بھی مقرر کیا گیا ہے۔عمار کا کہنا ہے کہ باقی لوگوں کو مائیکروسافٹ ڈیویلپر ٹیم کا حصہ بننے کے لیے ہزاروں ڈالر ادا کرنا پڑتے ہیں جبکہ بل گیٹس نے عمار کو اپنی طرف سے وظیفہ دے کر اس ٹیم کا حصہ بنایا۔ اس کے ان دعووں کی بنیا د پر ،الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا نے اس کوبہت کوریج دی یہاں تک 7 مئی 2009 کو روز نامہ ایکسپریس کے معروف کالم نگار عمار چودھری نے بغیر کسی تحقیق کے ا پنے کالم آج اور کل میں ”عمارافضل ،ہم شرمندہ ہیں “ کے عنوان سے جو کالم لکھا جس میں عمارافضل کو ایک قومی ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا،عمارافضل نے اپنے دعووں کی بنیا د پر خوب شہرت حاصل کی ۔ در حقیقت عمارا فضل کوئی آئی ٹی ایکسپرٹ یا جینئس نہیں تھابلکہ اس کے تمام دعوے جھوٹے تھے اور اس نے manager@microsoft.com کی ای میل کو سپوف کیا اورمیڈیا کو خودہی manager@microsoft.com کے ای میل ایڈریس سے میلز کیں جس سے سب نے یہی سمجھا کہ وہ بحیثیت Microsoft مینیجر ای میلز کررہا ہے جب کہ اس نے میڈیا والوں کو بے وقوف بنانے کے لئے اس ای میل کو سپوف کیا تھا۔

دنیا بھر میں آئے روز سپوفنگ کے ذریعے دھوکہ دہی کے ایک سے بڑھ کر ایک واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں دنیا جہاں تیزی سے ترقی کر رہی ہے وہا ں اس کا منفی استعمال بھی ہو رہا ہے۔ انٹر نیٹ پر اب موبائل پر جعل سازی سے ایس ایم ایس کر نے والا ایک ایسا سافٹ وئیر موجود ہے جس سے کسی دوسرے فرد کے موبائل نمبر سے اس کے علم میں لائے بغیر آسانی سے جعلی ایس ایم ایس کیا جا سکتا ہے یہ بھی سپوفنگ کی ایک قسم ہی ہے جسے ایس ایم ایس سپوفنگ”SMS Spoofing“ کہتے ہیں ۔جعلی ایس ایم ایس کے بارے میں لوگو ں کو شعور دلانا بہت ضروری ہے ، لوگو ں کو بے وقوف بنا نے کی یہ ایک نئی ٹیکنیک ہے۔ پاکستان میں اس سافٹ وئیر کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اب کوئی بھی کسی کے موبائل نمبر سے کسی کو بھی ایس ایم ایس بھیجے سکتا ہے ۔
ایک سپوف ایس ایم ایس یا جعلی ایس ایم ایس بھیجنے والے سافٹ وئیر کی مدد سے ہم اپنی مرضی کا نمبر یا نام سیٹ کر سکتے ہیں ۔ مثلاً میں اپنے کیسی دوست کو ایس ایم ایس بھیجنا چاہتا ہو ں لیکن میں نہیں چاہتا کہ اس کے پا س میرا نمبر جا ئے اور میں ”Google“ کے نام سے ایس ایم ایس سینڈ کرنا چاہتا ہوں تو میں سافٹ وئیر میں”Google“ لکھ دوںگااور اس میں ”Google“ کے علاوہ میں کوئی نام لکھ سکتا ہوں جیسے ”USAMA“ ، اس سافٹ وئیر کا کمال یہ ہے ایس ایم ایس وصول کرنے والے کو یہ پتا نہیں چلے گا کہ اس کے پا س SMS کہا ں سے آیا ہے ، وہ یہی سمجھے گا کہ اسے GOOGLE نے یا USAMA نے ایس ایم ایس بھیجا ہے ۔یہ ٹیکنیک ”Masked Message“ بھیجنے کے لئے استعما ل کی جاتی ہے جیسے ہم Jazz، Ufone ، Facebook میسج رسیو کر تے ہیں لیکن کسی نمبر کی بجائے وہاں انگریزی حروف میں نام لکھا ہوتا ہے۔
لوکل مارکیٹ میں دستیاب اس طرح کے جتنے بھی سافٹ وئیر مو جود ہیں وہ جعلی ایس ایم ایس بھیجنے کے لئے انٹر نیشنل وینڈرز کی سروسز استعمال کرتے ہیں ۔ اس وقت دنیا میں بے شمار انٹر نیشنل وینڈرزموجود ہیں جو اپنے کلائنٹس کو ” SMS Masking“ کی سہو لت فراہم کر تے ہیں تاکہ وہ اپنے برانڈ نیم سے لوگو ں کو میسج کر سکیں ۔ یہ سافٹ وئیر کسی پاکستانی نے نہیں بنایا بلکہ انہوں نے پہلے سے بنے اس سافٹ وئیر میں کچھ تبدیلیا ں کر کے اسے انٹر نیٹ پر ”VGB Fake SMS Sender“ کے نا م سے پیش کر دیا ہے ، یہ سافٹ وئیر بھی انٹر نیشنل وینڈرز کے نیٹ ورک کو استعمال کرتا ہے، اور انٹر نیٹ پر اس کے علاوہ اور بھی کئی سافٹ وئیر زموجود ہیں جن کے ذریعے ایس ایم ایس سپوفنگ کی جا سکتی ہے ۔ انٹرنیٹ پر عبدالوحاب نام کا ایک شخص اس سافٹ وئیر کو فروخت کر رہا اس اورعلاوہ اور بھی بہت سے لوگ پاکستا ن میں یہ شیطانی سافٹ وئیر بیچ رہیے ہیں اور یہ سافت وئیر 1000سے 1500 روپے کا مل جاتا ہے۔
خا ص طو ر پر نوجوانوں میں اس سافٹ وئیر کے بارے میں بہت سے تحفظات پائے جاتے ہیں ۔ میرا ایک دوست اُسامہ عارف جو O-level کا سٹوڈنٹ اور آئی ٹی کا ایکسپرٹ ہے اس نے اس سافٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جب سے مجھے اس سافٹ وئیر کا علم ہوا ہے اب مجھے وہ میسج جو روٹین سے ہٹ کر ہوتے ہیں ، میں انہیں میسج ڈیٹیلز میں جا کر کنفرم کر تا ہوں کہ کہیں یہ جعلی میسج نہ ہو۔اس نے کہا جو لوگ اس سافٹ وئیر کے ذریعے لوگو ں کو جعلی میسج بھیجتے ہیں انہیں کوئی ایسی شرارت نہیں کرنی چاہیے کہ کسی کی زندگی زہر آلودہ ہو جائے ۔
اللہ نہ کرے کہ کبھی آپ کو کبھی اس اذیت سے گزرنا پڑے کہ آپ کے نام سے کیا گیا جعلی ایس ایم ایس آپ کے لئے مصبیت کا باعث بنے ، اگر فرض کر یں آپ کو ئی ایسا ایس ایم ایس موصول ہوتا ہے جس کے بارے میں آپ یہ کنفرم کرنا چاہتے ہیں کہ یہ ایس ایم ایس جعلی ہے یا آپ پر کوئی اس قسم کا الزام آجائے کہ آپ نے کسی کو بے ہودہ ایس ایم ایس کیا ہے تو پریشان ہونے کی بجائے اس مصیبت سے بچنے کے لئے آپ اس طریقے کے ذریعے یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ایس ایم ایس جعلی ہے یا نہیں ،عام طو ر پر سپوفڈ یا جعلی ایس ایم ایس کا میسج سینٹر ایک انٹرنیشنل نمبر ہوتا ہے ، جیسے +445364978912، +6797124541یا +1312xxxxx یا کوئی انٹر نیشنل نمبر ہو سکتا ہے لیکن پاکستانی نمبر ہونے کے بہت کم چانس ہیں۔ میسج سینٹر ایک ایسا نمبر ہے جو 2 موبائل فونز کے درمیان میسج کے آنے اور جانے کا راستہ ہوتا ہے۔اگر آپ کو میسج سینٹر کا نہیں پتا تو آپ اسے میسج ڈیٹیلز میں جا کر دیکھ سکتے ہیں یااگر آپ ایس ایم ایس سپوفنگ کے شکار ہیں تو آپ اسے غلط ثابت کرنے کے لئے اپنی سیلولر کمپنی سے اپنی کالز کا ریکارڈ حاصل کر سکتے ہیں ، موبی لنک کے علاوہ سب کمپنیز آپ کو آن لائین کال ریکارڈ مہیا کرتی ہیں۔ جعلی میسج یا سپوفڈ میسج آپ کے کال ریکارڈ میں ظاہر نہیں ہو نگے کیونکہ حقیقت میں وہ میسج آپ کے نمبر سے بھیجا ہی نہیں گیا تھا ، اس طرح آپ سے ثابت کر سکتے ہیں کہ یہ میسج جعلی ہے اور آپ کے نمبر سے سینڈ نہیں کیا گیا ۔
پاکستا ن میں اس SMS سپوفنگ سافٹ وئیر کے آزادانہ استعمال پر، حکومتی اداروں کی خاموشی کسی بھی بڑے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔ حکومت کو چاہےے کہ وہ فوری طور پر اس سافٹ وئیر کی خرید و فروخت پر پابندی لگائے اور اس سافٹ وئیر کے ذریعے جعلی ایس ایم ایس کرنے والوں کے خلاف سخت قا نونی کاروائی کر ے ورنہ یہ شیطانی سافٹ وئیر کسی کی پرسکون زندگی میں زہر گھول سکتا ہے۔



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


Leave a Reply

Translate »