”دی سیکرٹ“ ایک ایسی ڈاکومنٹری فلم جو آپ کی زندگی میں خوشیا ں بھر دے

کیا صرف مثبت خیالات اور سوچ سے تقدیر اور قسمت بدل سکتی ہے ؟
بے روزگاری اور حالات کے ستائے ہوئے افراد کیلئے ایک راہنما تحریر

10مارچ 1981 ءکا دن میں کبھی نہیں بھول سکتا ، اس دن نے میری زندگی ہمیشہ کے لئے بدل کر رکھ دی ، میرا جہاز کریش ہوگیا تھا ، جب مجھے ہسپتال پہنچایا گیا تو میں لقوے کی حالت میں

My this article was published in Daily Ausaf Sunday Magazine on 25 May 2014.

My this article was published in Daily Ausaf Sunday Magazine on 25 May 2014.

تھا۔ میری ریڑھ کی ہڈی کچل گئی تھی ، میرے جبڑے ٹوٹ چکے تھے اور میرے پھیپھڑے بھی سخت متا ثر ہوئے تھے ، ناں میں کچھ کھا ، پی سکتا تھا اور نہ ہی سانس لے سکتا تھا، میں تو صرف پلکیں جھپکا سکتا تھا، ڈاکٹروں نے کہ دیا تھا کہ میں زندگی بھر بے جان سا رہوں گا اور صرف پلکیں ہی جھپکا سکوں گا۔
ڈاکٹروںنے جو کہا اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑا ، اصل بات یہ تھی کہ میں کیا سوچتا تھا ، اس وقت میری جو حالت تھی اس کے باوجود میں اپنے آپ کو ایک نارمل انسان کی طرح دیکھنے لگا کہ جو ایک دن ہسپتال سے چل کر نکلے گا ، مجھے صرف اپنے دماغ سے کام کرنا تھا اور اگر دماغ آپ کا ساتھ دے تو آپ چیزوں کو پھر سے سمیٹ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ میرے پھیپھڑے بیکار ہو چکے ہیں اور میںپھر کبھی خود سانس نہیں لے پاﺅ ں گا، لیکن میرے اندر سے ایک آواز مجھ سے کہتی رہی کہ گہری سانس لو ، گہری سانس لواور پھر میں نے اپنے طور پر سانس لینے کی کوشش کی اور آخر کار ایک دن میں خود سانس لینے کے قابل ہوگیا ، یہ بات ڈاکٹر وں کی سمجھ سے باہر تھی کہ یہ کیسے ممکن ہو گیا۔ در اصل میں نے اپنے دماغ میں کسی ایسی بات کو آنے ہی نہیں دیا تھا جو میرے مقصد اور بحالی کے مضبوط ارادے کو مجھ سے جدا کرتی، میں نے اپنے دل میں ٹھان لیا تھا کہ میں کرسمس کے دن ہسپتال سے چل کر نکلوں گا۔ یہی میری خواہش تھی، پھر آٹھ مہینوں بعد وہ دن آ ہی گیا جب میں اپنے دو پیروں پر چل کر ہسپتال سے باہر نکلا، ڈاکٹروں کے تاثرات تھے کہ یہ ناممکن ہے۔ وہ لوگ جو اس وقت یہ تحریر پڑھ رہے ہیں ،میری مثال ان کے سامنے ہے کہ انسان وہی بنتا ہے جو وہ سوچتا ہے۔
اپنی قوت ارادی اور مثبت سوچ کی بدولت معذوری کو شکست دینے والے ا س باہمت انسان کی روداد کومیں نے ” دی سیکرٹ” کے نام سے بنائی گئی ایک ڈاکومنٹری فلم سے منتخب کیا ہے۔ یہ ایک ایسی ڈاکومنٹری ہے جسے دیکھنے کے بعد میری ذاتی سوچ میں واضح تبدیلی آئی جس کا مجھے بہت فائدہ ہوا ، اگر آپ بھی اپنے حالات بدلنا اور مثبت خیالات اور سوچ اپنانا چاہتے ہیں توڈیڑھ گھنٹے کے دورانیہ پر مشتمل اس ڈاکومنٹری کو”او کھے سوکھے” ہو کر ایک بار دیکھ ہی لیں ، یہ کوئی ایکشن فلم نہیں ہے، ہو سکتا ہے شروع میں آپ تھوڑی بوریت محسوس کریں لیکن اگر آپ نے یہ فلم دیکھ لی تو مجھے ا±مید ہے کہ یہ ڈاکومنٹری آپ کے سوچنے کے انداز میں مثبت تبدیلی لائے گی اور آپ کو انقلابی فیصلے کرنےکا حوصلہ عطا فرمائے گی۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کتابی اور بیکار باتیں ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے حالات بدلنے میں سنجیدہ نہیں ہیں اس ڈاکومنٹری کا مرکزی نقطہ نظر ہی یہ ہے کہ اگر آپ اپنے حالات بدلنا چاہتے ہیں تو پہلے اپنی سوچ کو بدلیئے۔ جیسا آپ سوچیں اور محسوس کریں گے ویسا ہی پائیں گے۔ یہ ایک ایسی زبردست ڈاکومنٹری ہے جس میں بتائے گئے طریقوں پر عمل کر کے زندگی کی تلخیوں کو کم کیا جا سکتا ہے، ناکامیوں پر قابو پایا جا سکتا ہے، محرومیوں اور غربت سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے ،مایوسی اور نا امیدی کوخوشگوار زندگی میں بدلا جا سکتا ہے،خواہشوں اور خوابوں کو حقیقت کا روپ دیا جا سکتا ہے، غرض یہ کہ آپ جو کچھ بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں اس احساس کو اپنے اندر کیسے جگائیں؟ خود اعتمادی کیسے پیدا کریں، حالات کو بدلنے کے لئے کیا حکمت عملی اپنائیں اس ڈاکومنٹری میں ان سب معموں کوحل کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ یہ ڈاکومنٹری آپ کسی بھی ٹورنٹ سائیٹ سے اردو زبان میں بھی ڈاو¿ن لوڈ کر کے دیکھ سکتے ہیں ۔ اگر آپ اور کو انگریزی زبان کو سمجھنے میں مشکل پیش نہیں آتی تو زیادہ بہتر یہ ہے کہ آپ اس ڈاکومنٹری کو انگریزی میں دیکھیں ،کیونکہ اردو ڈبنگ میں ہندی کے بہت سے مشکل الفاظ استعما ل کئے گئے ہیں، جب کبھی بھی آپ کو انٹر نیٹ سے انگزیزی میں کوئی فلم ڈاﺅن لوڈ کرنے کی ضرورت محسوس ہو تو وہ فلم ڈاﺅن لوڈ کریں جس میں سب ٹائٹل بھی موجود ہو، اس کا یہ فائدہ ہوتا ہے وہ انگریز ی زبان میں جو بھی بات کرتے ہیں وہ ساتھ ساتھ انگریزی میں لکھی ہوئی بھی نظر آتی ہے۔
اس ڈاکومنٹری میں جیک کینفیلڈ جو اب ایک معروف رائٹر ہیں ، اپنی سوچ کی تبدیلی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ” میں نے اس راز (The Secret) کو سمجھا کہ یہ یقینا میرے لئے بدلاو¿ کا ذریعہ ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ میرے ڈیڈ ایک نیگٹو انسان تھے، انہیں لگتا تھا کہ امیر لوگ برے ہوتے ہیں، یہ لوگوں کا خون چوستے ہیں، انہیں ستاتے ہیں یا جو بھی پیسے والا ہے اس نے ضرور کسی کو دھوکہ دیا ہوگاتو پیسے کے معاملہ میں میری ایک رائے بن گئی تھی کہ اگر آپ کے پاس پیسہ ہے تو یہ آپ کو برا بنا دے گا۔ میرے ڈیڈ ہمیشہ کہتے کہ پیسہ پیڑ پر نہیں اگتا اور ان کا تکیہ کلام تھاکہ ‘تمہیں میں ارب پتی دکھائی دیتا ہوں کیا’ تو میں یہی مانتا تھا کہ زندگی مشکل ہوتی ہے بڑی محنت کرنی پڑتی ہے لیکن جب میں ’ کلیمنٹ سٹون ‘سے ملا تو میری سوچ، میری زندگی جیسے بدل گئی۔انہوں نے مجھ سے کہا انسان کا دماغ جو بھی سوچ لے وہ پا سکتا ہے۔وہ مجھے کہنے لگے تم اپنے لئے اپنی اُمید سے بڑا کوئی مقام طے کرو اور پھر میں تمہیں سکھاﺅں گا کہ تم اس مقام کو کس طرح حاصل کر سکتے ہو یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب میں سال بھر میں صرف 8ہزار ڈالر کمایا کرتا تھا ، پتہ نہیں کیوں میں سا لانہ اچھی خاصی آمدن کا خواہش مند تھا ،میں نے کہا کہ میں سال میں 1لاکھ ڈالر کمانا چاہتا ہوں ۔ میں نہیں جانتا تھا کہ یہ کیسے ہوگا، میرے پاس نہ تو کوئی پلان تھا اور نہ ہی کوئی ذریعہ ، مگر میں نے اپنے دل کو سمجھایا کہ مجھے اس پر یقین کرنا ہے کہ یہ لازمی ممکن ہوگااور یہ کیسے ہوگا ، میں یہ تقدیر پر چھوڑ دوں گا اور میں نے یہی کیا ۔ W. Clement Stone نے مجھے یہ بات بھی سکھائی تھی کہ میں آنکھیں بند کر کے یہ تصور کروں کہ مجھے سچ مچ اپنی منزل مل گئی ہے ، میں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ ایک ڈالر کے نوٹ پر مارکر سے ایک لاکھ ڈالر لکھے اور اس نوٹ کو کمرے کی چھت پر چپکا دیا ، روزانہ صبح بیدار ہو تے ہی میری نظر اس نوٹ پر پڑتی اور وہ مجھے یاد دلاتا کہ یہی میرا مقام ہے اور پھر میں آنکھیں بند کر کے تصور کرتا کہ میں سالانہ ایک لاکھ ڈالر کما رہا ہوں ، اس سارے عمل کے دوران دلچسپ بات یہ ہے کہ تیس دن تک کچھ خاص نہیں ہوا ، نہ تو کوئی مجھے زبردست پلا ن ہی سوجھا اور نہ مجھے کوئی زیادہ پیسے دے رہا تھا لیکن اس ایک لاکھ والے آئیڈیا کے چار ہفتہ بعد اچانکہ ایک دن جب میں نہارہا تھا تب یہ بات میرے دماغ میں آئی میں نے ایک کتاب لکھی تھی ، میں نے سوچا کہ اگر میں 25سینٹ منافع کے حساب سے چار لاکھ کتابیں بیچتا ہوں تو ایک لاکھ ڈالر تو بن ہی جائیں گے ۔ اب یہ کتاب تو تھی مگر یہ خیال کبھی نہیں آیا ۔TheSecretLogo
میں نہیں جانتا تھا کہ یہ کیسے ہوگا ، کیسے کتاب کی چار لاکھ کاپیاں بیچوں گا، مجھے اس کا کوئی تجربہ نہیں تھا ، اور پھر ایک دن سپر مارکیٹ میں میری نظر “National Enquirer” میگزین پر پڑی میں نے اس سے پہلے بھی اسے ہزاروں بار دیکھا ہوگا مگر یہ آنکھوں سے اوجھل رہا اور آج جیسے یہ اچانک اچھل کر سامنے آگیا ، میرے دل میں خیال آیا کہ اگر اس میں میری کتاب کا ذکر آجائے تو لوگوں کو جلدہی میری کتاب کا پتا چل جائے گا،اور یوں چار لاکھ کاپیاں دیکھتے ہی دیکھتے فروخت ہو جائیں گی۔اس بات کے چھ ہفتے بعد میں نے ہلٹن کالج میں ایک لیکچر دیا اس پروگرام میں 600 کے قریب اساتذہ بھی موجود تھے ، وہیں ایک محترمہ مجھ سے ملیں انہوں نے مجھ سے کہا ! آپ کا لیکچر بہت اچھا تھا ، میں آپ کا انٹرویو لینا چاہتی ہوں ، یہ میرا کارڈ ہے ۔میں نے پوچھا آپ کس کے لئے لکھتی ہیں ، اس نے بتایا کہ میں فری لانسر ہوں ، مگر میرے آرٹیکل ”نیشنل انکوائرر“ میں بھی چھپتے ہیں ۔ میرے دماغ میں ہزاروں گھنٹیا ں بجنے لگی ٹن ٹن ٹن ٹن! میں نے کہا یہ تو بات بن گئی ،جب میگزین میں میرا انٹرویو شائع ہوا تو تیزی کے ساتھ کتابوں کی فروخت شروع ہوگئی ۔اصل بات یہ ہے کہ میں اس ساری چیزوں کو اپنی زندگی میںمتوجہ کر رہا تھا۔جس میں یہ محترمہ بھی شامل تھیں ، بحرحال کہانی کا سارا انت یہ ہے کہ اس سال میں پورا ایک لاکھ ڈالر تو نہیں کما پایا لیکن میں نے 92,327ڈالر کمالئے ۔آپ کوکیا لگتا ہے گُریا راز کام نہیں کرتا نہیں ہم نے کہا یہ تو کمال کا ہے ۔ میری بیوی نے پوچھا اس سے ایک لاکھ ڈالر بنتے ہیں تو کیا دس لاکھ ڈالر بھی بن سکتے ہیں میں نے کہا ! پتہ نہیں لگتا تو ہے، کوشش کر کے دیکھتے ہیں اور پھر وہ دن بھی آگیا جب میرے پبلشر نے میری پہلی کتاب ” چکن سوپ فار دی سول(Chicken Soup for the Sole)“ کی رائلٹی کا چیک بھیجا تو اس نے اپنے دستخط کے ساتھ ایک مسکراتے ہوئے چہرے کا کارٹون بنایا تھا کیوں کہ اس نے اس سے پہلے کسی کو دس لاکھ کا چیک نہیں دیا تھا اور آج میں جس مقام پر ہوں یہ سب اسی کی دین ہے ۔ اس ڈاکومنٹری میں جب Jack Canfieldیہ واقعہ بیا ن کر چکے تو اس کے بعد Dr. Joe Vitale نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ بہت سے لوگ جو یہ دیکھ(پڑھ) رہے ہیںوہ کیا سوچ رہے ہوں گے کہ میں زیادہ پیسے یا کامیابیاں کس طرح حاصل کر سکتا ہوں ، یہ ہرے ہرے نوٹ کہاں سے آئیں گے ، دل میں یہ احساس اور خوف بھی کہ کیا میری آمدنی اتنی ہی رہے گی یا کیا میں بھی زیادہ دولت کما سکتا ہوں؟ میں آپ سے صرف اتنا کہوں گا کہ آپ بھی ارادہ کر لیں اور اس راز کو سمجھنے کے بعد دولت کا حصول کوئی مشکل اور ناممکن کام نہیں ہے ۔ آپ کا کام ہے اعلان کرناکہ آپ تقدیر کے مینیو کارڈ سے کیا چاہتے ہیں ، اگر نقدی ان میں سے ایک ہے تو کہئے آپ اس میں سے کتنا چاہتے ہیں ۔ میں چاہتا ہوں کہ مجھے 30 دنوں کے اندر 25 ہزار ڈالر مل جائیں یا جو بھی رقم آپ چاہیں ، مگر اس پر آپ کو پورا یقین ہونا چاہئے ، اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے Loral Langermeier کہتی ہیں مجھے ہمیشہ بتایا گیا کہ پیسوں کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے تو اس کی جگہ میں نے کہنا شروع کیا ، پیسہ بہت آسانی سے ملتا ہے ، شروع شروع میں یہ جھوٹ لگتا ہے ، دماغ میں یہ بات اُٹھے گی کہ یہ ناممکن ہے، یہ مشکل ہے ۔ہوتا یہ ہے کہ آپ کے دماغ میں ہر وقت یہ سب کچھ ٹینس کے کھیل کی طرح چلنا شروع ہوجاتا ہے ۔
ا س ڈاکومنٹری میں بہت سے سکالرز اور دانشور وں نے بہت مفید باتیں بتائی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آپ کا فوکس اس پر ہونا چاہیے جسے آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں ، جبکہ ہم ہر اس چیز سے لڑتے ہیں جسے ہم نہیں چاہتے ، سچائی یہی ہے کہ جو ہم نہیں چاہتے اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بولتے ہیں ، زیادہ سے زیادہ پڑھتے ہیں اور دیکھتے ہیں اور ایسا کر کے آپ اسی کی جانب بڑھ رہے ہوتے ہیں۔
مان لیجئے کہ اپنی خوشیوں کے ذمہ دار صر ف آپ ہیں ، اپنے آپ کو خوش رکھنا صرف آپ کا کام ہے۔آپ کی خوشیوں کی چابی کسی اور کے پاس نہیں ہو سکتی اور ہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ خوش نما احساس انسانی جسم میں یقینا خوش نما بدلاﺅ لاتے ہیں جبکہ برے احساس اور تناﺅ ہمارے جسم کو کھو کھلا کرتے ہیں اور دماغ پر برا اثر ڈالتے ہیں ۔اگر حالات ویسے نہیں جیسا آپ چاہتے ہیں ، تو اپنی توانائیاںشکایت کرنے میں ضائع مت کیجئے ۔ بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ زندگی نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا ہے جبکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ہر کسی انسان پر ایسا وقت ضرور آتا ہے جب وہ کہتا ہے کہ بہت برا حال ہے یا کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو رہا، بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ قید میں ہیں اور اپنے موجودہ حالات میں بری طرح سے پھسے ہوئے ہیں ، میں آپ کو یہ بتلانا چاہتا ہوں کہ اس وقت آپ کے حالات جیسے بھی ہوں وہ اس وقت آپ کی ابھی کی اصلیت ہے توکیا ہم اپنے ماضی اور حال کا رونا روتے رہیں ، اصل سوال یہ ہے کہ اب کرنا کیا چاہئے؟ کیا آپ اسی طرح اپنے ماضی میں الجھے رہنا پسند کریں گے یا اپنی چاہت پر فوکس کریں گے ، اور جب آپ وہی سوچتے ہیں جس کی چاہ ہو تو ان چاہی چیز کا وجود ختم ہوجاتا ہے، چاہت جب بڑتی ہے تو ان چاہا گم ہو جاتا ہے ۔اب وقت آگیا ہے کہ آپ بھی مثبت سوچ اپنائیں اور اپنے ہاتھ میں قلم پکڑئے اور اپنی تقدیر خود لکھئے اور اس کا نتیجہ وہی ہو گا جو آپ چاہیں گے ۔
آپ شروعات کر سکتے ہیں سوچنے سے ، دل سے سوچیں گے تو آپ اپنے اندر ایک سنگیت ، ایک خوشی کا جذبہ پیدا ہوتا ہوا پائیں گے ۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ باتیں تو بہت اچھی ہیں مگر میں نہیں کر سکتا ، یاوہ مجھے کرنے نہیں دے گی ، یا یہ مجھے کرنے نہیں دے گا ، یا یہ کرنے کے لئے میرے پاس پیسہ نہیں ہے ، یا یہ کرنے کے لئے مجھ میں طاقت نہیں ، یا میں رئیس نہیں ، میں یہ نہیں ، میں وہ نہیں ، میں کچھ بھی نہیں آپ کے ہر ایک نہیں کو آپ نے خود بنایا ہے ۔یاد رکھیں کہ آپ زندگی ویسی ہی ہو گی جیسا آپ اسے بنائیں گے ، اس پہ کوئی اپنا فیصلہ مسلط نہیں کرے گا۔ دنیا کو بدلنا آپ کا کام نہیں ہے نہ ہی لوگو ں کو بدلنا ، آپ کا کام ہے ۔
آپ ایک نئی زندگی، ایک الگ زندگی جیئیں گے اور لوگ آپ کو دیکھ کر پوچھیں گے تم مجھے سے الگ ایسا کیا کرتے ہو؟ اس کا جواب ہے ، صرف ایک ہی بات الگ ہے ، آپ مثبت خیالات اور سوچ کے مالک ہیں اور روشن مستقبل کے یقین کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں اور پھر آپ وہ سب کر سکتے ہیں ، پا سکتے ہیں ، بن سکتے ہیں جو لوگوں کے مطابق آپ کے لئے ناممکن تھا۔ذرا سوچئے اب آپ کیا کرنا چاہیں گے ، اس سنہرے موقع کا فائدہ کیسے اُٹھائیں گے ؟ آپ کا گیت کوئی اور نہیں گا سکتا ، آپ کی کہانی کوئی اور نہیں لکھ سکتا ، آپ کون ہیں ؟ کیا کریں گیں؟ اس کا فیصلہ ابھی کرنا ہوگا ۔یہ تمام باتیں جو آپ کے علم میں آچکی ہیں اتنی آسانی کے ساتھ گلے سے نیچے نہیں اتریں گی ، اگر آپ ان کو کھلے دل سے اپنا لیں تو نتیجے غضب کے ہوں گے ۔



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


4 thoughts on “”دی سیکرٹ“ ایک ایسی ڈاکومنٹری فلم جو آپ کی زندگی میں خوشیا ں بھر دے

  1. Akhlaq Khan

    Yes,These all Secrets of Life you will find and see in Quran, The Secrets of Life is in Quran, what Allah says in Quran about Secrets of Life, “He succeeded, which was his self-control.,who managed to overcome his own Nafas” Overcome to your Nafas is the Secret of Life…

    Reply

Leave a Reply

Translate »