سری لنکا میں مقیم مشہور کاروباری اور سماجی شخصیت محترم جناب جمال صاحب کا دلچسب اور انتہائی معلوماتی انٹرویو

سری لنکا کی مشہور کاروباری اور سماجی شخصیت محترم جمال صاحب ان دنوں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ہیں جب مجھے پتہ چلا تو میں نے ان سے انٹر ویو کےلئے وقت طے کیا اور عزیز آباد، کرچی میں انٹر ویو کےلئے پہنچ گیا۔ محترم جمال صاحب بہت دلچسپ شخصیت کے مالک ہیں۔70سے زائد ممالک کی سیر کر چکے ہیں۔ ان کی مہمان نوازی ، وسیع القلبی اور اخلاص کی بدولت سری لنکا اور پاکستان کے کاروباری اور سماجی حلقوں میں قدر کی نگا سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کے اس انٹرویو میں آپ کو سر ی لنکا سے متعلق تمام امور کے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا۔
سوال : اپنے بارے میں کچھ بتائےے ، زندگی کے شب و روز کیسے گزرے، سری لنکا کیسے پہنچے۔ اور پھر کس بات سے متاثر ہو کر وہیں پر رہنے اور کاروبار کرنے کا فیصلہ کیا؟

جواب: میرا پورا نام تو افضل محمد جمال ہے لیکن سب مجھے جمال کے نام سے ہی جانتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ سری لنکا میں آپ اپنے سرنیم سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ اصل میں ہم لوگوں کا تعلق برما سے ہے۔ میرے 030320121651 copyوالد صاحب برما کے رہنے والے تھے جبکہ میری والدہ محترمہ پاکستان سے تعلق رکھتی تھیں۔ 1966ءمیں ہماری فیملی برما سے ہجرت کرکے پاکستان منتقل ہوگئی میں نے ابتدائی تعلیم قریشی ہائی اسکول اور پھر با قی تعلیم اسلامیہ کالج کراچی سے حاصل کی۔
یہ1978ءکی بات ہے اس وقت میری عمر صرف22سال تھی کہ مجھے مصر کے ایک بحری جہاز پر ملازمت مل گئی، میں نے مصر پہنچنے کےلئے بس کے ذریعے اپنے سفر کا آغاز کیا سب سے پہلے بذریعہ بس پشاور پہنچا پھر افغانستان سے ہوتا ہوا ترکی پہنچ گیا۔ ترکی سے بذریعہ ہوائی جہاز مصر کےلئے روانہ ہوا، مصر پہنچ کر اسکندریہ کی پورٹ سے میں نے اپنی پہلی ملازمت کا آغاز کیا۔ میں نے بہت دیر تک بحری جہازوں پر شیف کی حیثیت سے کام کیا پھر مجھے سری لنکا کے دار الحکومت کولمبو میں واقع فائیو سٹار ہوٹل” گلاداری“ میں شیف کی ملازمت مل گئی اور میں سری لنکا چلا آیا۔ میں 1981ءمیں سری لنکا آیا تھا مجھے یہاں کا ماحول اور لوگوں کا رہن سہن بہت اچھا لگا ان کی زندگی میں ایک ٹھہراﺅ ہے۔ صبح ہوئی تو کام پر چلے گئے شام ہوئی تو گھر کو واپس لوٹ آئے۔ چھوٹا سا ملک ہے اس لئے نہ ٹریفک جیم کا مسئلہ نہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور لوگ بھی سادہ طبیعت کے مالک ، مخلص اور خوش اخلاق، اس لئے میرا دل یہاں پر لگ گیا۔ اس کے علاوہ سری لنکا میں مستقل رہائش اختیار کرنے کی ایک اور بھی وجہ تھی وہ یہ کہ سری لنکا کے ساحل سمندر پر میری ایک مقامی لڑکی سے ملاقات ہوئی۔ بعد میں ہم نے شادی کر لی اور پھر میں نے وہی پر رہنے کو مناسب سمجھا۔

سوال: بحری جہاز پر ملازمت کے دوران آپ کو کتنے ملکوں کی سیر کرنے کا موقع ملا اور کس ملک کا ماحول سب سے اچھا لگا؟

جواب: میں تقریباً 70ملکوں کی سیر کر چکا ہوں مختلف ملکوں کی سیر کے دوران مجھے قدرتی حسن اور مناظر، اخلاق و کر دار، کلچر اور لباس کے لحاظ سے ترکی کا شہر استنبول سب سے اچھا لگا وہاں کے لوگ بھی بہت پیارے ہیں۔ ان کے کھانے بھی بہت لذیذ ہیں۔ مشرق بعید میں بھی بہت اچھے ممالک ہیں لیکن مجھے انڈونیشیا پسندآیا اگر آپ کو کبھی انڈو نیشیا جانے کا اتفاق ہو تو جب آپ جکا رتہ سے تھوڑا باہر نکل کر مضافات میں جائیں گے تو وہاں کے لوگ آپ کے ساتھ بہت محبت سے پیش آتے ہیں خاص طور پر جب انہیں پتا چلے کہ آپ مسلمان ہیں اور کسی دوسرے ملک سے آئے ہیں تو آپ کی بہت آﺅ بھگت کرتے ہیں۔ یورپ میں مجھے فرانس اور سپین بہت پسند آئے وہاں کے لوگ غیر ملکیوں کے معاملے میں بہت وسیع القلب ہیں اور ان کے ساتھ بہت حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔ ہاں البتہ مجھے جرمن لوگوں کا رویہ اتنا پسند نہیں آیا وہ غیر ملکیوں کو خوش آمدید کہنے کے معاملے میں کنجوس واقع ہوئے ہیں وہ اتنے خوش اخلاق نہیں اب پتا نہیں یہ ان کا کلچر ہے یا اس کی کیا وجہ ہے۔

سوال: آپ سری لنکا کے کس شہر میں مقیم ہیں اور وہاں پر آپ کی کیا کاروباری مصروفیات ہیں؟

جواب: میں سری لنکا کے دار الحکومت کو لمبو سے 9کلو میٹر کے فاصلے پر مشہور سیاحتی مقام ماﺅنٹ لوینیا کے علاقے میں رہائش پذیر ہوں۔ یہ علااقہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کراچی کا کلفٹن ہو۔ کولمبو جانے والے سیاح سب سے پہلے یہیں پر آتے ہیںاور اس سیاحتی مقام سے بہت لطف اندوز ہوتے ہیں۔ باقی رہی بات کا روبار کی تو میں ان دنوں ریٹائرڈمنٹ کی زندگی بسر کر رہا ہوں میرے پاس چند کمرے ہیں جو میں سیاحوں یا کاروباری حضرات کو کرایہ پر دیتا ہوں یا کبھی کوئی فری لانسر والا کام آجائے تو وہ کر لیتا ہوں۔
میرے پاس جو چند رہائشی کمرے ہیں وہ ماہانہ اور روزانہ کی بنیا د پر کرایہ پر حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ میں یہاں پر اس کی تھوڑی سی تفصیل بتا دیتا ہوں تا کہ سری لنکا آنے والے سیاحوں کو یہاں پر رہائش کے اخراجات کا اندازہ ہو جائے۔ جو لوگ مجھ سے روزانہ کی بنیاد پر کمرےہ کرایہ پر حاصل کرتے ہیں تو میں ان سے 1500سری لنکن جو13ڈالر روزانہ بنتے ہیں، کرایہ لیتا ہوں۔ اگر کوئی ماہانہ کی بنیاد پر کمرہ کرائے پر لے تو اس 030320121655copyسے20,000سری لنکن روپے جو 165ڈالر بنتے ہیں کرایہ لیتا ہوں میرے پاس کرایہ کےلئے موجودہ کمروں میں تمام جدید سہولیات فریج، ٹی وی ، اے سی اور اٹیچ باتھ وغیرہ کی سہولت بھی شامل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ میرے پاس چھوٹے سائز کے سنگل بیڈ کمرے بھی ہیں جن کا کرایہ میں نے بہت مناسب رکھا ہے یعنی صرف 10,000سری لنکن روپے ماہانہ جو82ڈالر بنتے ہیں۔ صرف اتنا ہے کہ انچھوٹے سائز کے کمروں میں فریج، ٹی وی اور اے سی کی سہولت نہیں ہوتی۔ البتہ اٹیچ باتھ ضرور ہوتا ہے۔
وہ سیاح یا کاروباری حضرات جو سری لنکا آتے ہیں وہ سستی اور اچھی رہائش حاصل کرنے کےلئے میرے ان فون نمبرز اور ای میل پر رابطہ کر سکتے ہیں۔toungoowalas@hotmail.com فون رہائش :0094112726754 موبائل فون: 0094723332192 میرے پاس جو بھی پاکستانی یا دوسرے ملکوں سے تعلق رکھنے والے سیاح اور کاروباری حضرات تشریف لاتے ہیں میں ان سے ہر ممکن تعاون کرتا ہوں، اگر میرے پاس کمرے خالی نہ بھی ہو ں تو میرے آس پڑوس میں کافی گیسٹ ہاﺅس سز ہیں میں وہاں پر ان کے لئے رہائش کا انتظام کرادیتا ہوں۔ اگر کوئی فیملی یا گروپ کی صورت میں آرہے ہیں تو ایئرپورٹ سے لانے اور چھوڑنے کےلئے ٹرانسپورٹ کا انتظام کر دیتا ہوں غرض ان کو جو بھی معلومات یا سہولیات یا رہنمائی درکار ہو تو میں ان کے ساتھ مکمل تعاون کرتا ہوں۔

سوال: آپ نے سری لنکا کی نیشنلٹی کب حاصل کی اور ایک پاکستانی کو اس کا کیا فائدہ ہوتا ہے؟

جواب: مجھے1996ءمیں سری لنکا کی نیشنلٹی ملی، سری لنکا کی نیشنلٹی حاصل کرنے کےلئے ضروری ہے کہ آپ کی سری لنکن نیشنل لڑکی کے ساتھ شادی ہوئی ہو او رپھر شادی کے پانچ سال گزرنے کے بعد آپ کو نیشنلٹی ملتی ہے۔ اگر کوئی مستقل طور پر سری لنکا میں رہنا چاہتا ہے یا وہاں پر کاروبار کرنا چاہتا ہے تو اس کو سری لنکن نینشنلٹی کا بہت فائدہ ہوتا ہے اور اس کی بہت سے اضافی ٹیکسوں کے بوجھ سے جان چھوٹ جاتی ہے۔

سوال: کیا آپ سری لنکا میں بولی جانے والی زبان سمجھ اور بول سکتے ہیں اور ان کی زبان سیکھنے میں آپ کو کتنا وقت لگا؟

جواب: سری لنکا میں تین زبانیں سمجھی اور بولی جاتی ہیں۔ سنہالی یا سنگلم تامل اور انگلش وہاں پر ہر دوسرا شخص انگلش بول اور سمجھ لیتا ہے ۔ اﷲ کے فضل سے میں سنگلم زبان پوری بول لیتا ہوں، لیکن میں نے آج تک لکھنے کی کوشش نہیں کی البتہ تامل زبان مجھے نہیں آتی۔ میری بیوی سنگلیز تھی اس لئے میں آسانی سے یہ زبان سیکھ گیا لیکن پھر بھی اس پر مکمل عبور حاصل کرنے کےلئے مجھے دو سال کا عرصہ لگا۔

سوال: سری لنکا کا نظام ماحول اور کلچر کیسا ہے، اور سری لنکا میں بنیادی انسانی ضروریات زندگی پاکستان سے مہنگی ہیں یا سستی ہیں؟

جواب: سری لنکا کی گورنمنٹ بہت اچھی ہے وہاں پر تمام مذاہب کے ماننے والوں کو برابر ی کی بنیاد پر مذہبی آزادی حاصل ہے۔ ان کا تعلیمی نظام اور معیار بھی بہت اچھا ہے یہی وجہ ہے کہ پورے ایشیا میں سری لنکا وہ واحد ملک ہے جس میں شرح خواندگی کا تناسب92فیصد ہے۔ سری لنکا بہت صاف ستھرا ملک ہے وہاں کے گلی کوچوں میں آپ کو گندگی نظر نہیں آئے گی۔ نوجوانوں کی تربیت اور فلاح و بہبود کےلئے اچھے قوانین بنائے گئے ہیں وہ نوجوان جس کی عمر21سال سے کم ہے کوئی نشہ آور چیز مثلاً وائن یا سگریٹ وغیرہ نہیں خرید سکتا وہاں پر اس معاملے میں قانون بڑا سخت ہے۔
سری لنکا میں آپ کو نائٹ کلب اور جواءخانے تو ملیں گے لیکن ان کا ماحول بنکاک کی طرح نہیں، اتنی فحاشی و عریانی نہیں، مکمل ایشیا ئی ماحول ہے ہر چیز ایک حد کے اندر رہ کر ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر آپ ساحل سمندر پر جاتے ہیں تو وہاں پر بھی آپ کو اچھا ماحول ہی ملے گا آپ وہاں پر فیملی کے ساتھ بلا جھجک جا سکتے ہیں۔
سری لنکا کا موسم بھی بہت اچھا ہے حالانکہ سری لنکا ٹراپیکل030320121657 (Tropical) کنٹری ہے لیکن پھر بھی وہاں اتنی زیادہ گرمی نہیں پڑتی جس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں بہت زیادہ ہریالی ہے ،چاروں طرف ساحل سمندر ہے اس وجہ سے وہاں یہ ہوتا ہے کہ جب ذرا سی گرمی بڑھتی ہے تو ساتھ ہی اﷲ تعالیٰ اپنی رحمت بر سا دیتا ہے۔وہاں گرمیوں میں درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ34ڈگری تک جاتا ہے۔ وہاں کا موسم ایسا ہے کہ جس کی وجہ سے سری لنکا کے شامیں بہت سہانیں ہوتی ہیں۔
اب میں آپ کو سری لنکا کے کلچر کے بارے میں بتاتا ہوں وہاں پر رہنے والے زیادہ تر لوگ بدھ مذہب کے پیرو کار ہیں ان کا اپنا کلچر اور مذہبی روایات ہیں جو ہمارے کلچر اور روایات سے بالکل مختلف ہیں۔ بدھ مذہب میں چاند کی چودھویں رات کو بہت زیادہ مذہبی اہمیت کا حاصل ہے۔ ہر ماہ چاند کی چودہ تاریخ کو جسے مقامی زبان میں پویاڈے کہا جاتا ہے اس دن مذہبی رسومات اور عبادات کی ادائیگی کا خاص طور پر اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس دن حکومت کی طرف سے سرکاری چھٹی ہوتی ہے۔ بدھ مذہب کے پیرو کار مذہبی فرائض کی ادائیگی کےلئے اپنے قریبی ٹیمپلز میں جاتے ہیں وہاں ٹیمپلز کو مقامی زبان میں” پن سلا“ کہتے ہیں۔
اس طرح وہ نئے سال کی تقریب13اپریل کو مناتے ہیں۔ اس موقع پر حکومت کی طرف سے تین چار دن کی چھٹیاں ہوتی ہیں لیکن عوام اپنے طور پر دس دن جشن اور چھٹیاں مناتے ہیں۔ وہ لوگ جو دور دراز یا قریبی مضافات سے کولمبو میں کام کرنے کےلئے آتے ہیں وہ یہ چھٹیاں واپس جاکر اپنے خاندان والوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔ اب کے آپ کے سوال کے آخری حصے کا جواب یہ ہے کہ…. سری لنکا میں رہنا، کھانا پینا اور دیگر ضروریات زندگی، پاکستان سے قدرے مہنگی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں پر زیادہ تر اشیاءباہر سے امپورٹ ہوکر آتی ہیں۔ رہائش کا حساب تقریباً ایک جیسا ہی ہے ٹرانسپورٹ بھی اتنی مہنگی نہیں ہے۔ پاکستان اور سری لنکا کے کرنسی ریٹ کا فرق کچھ اس طرح ہے 100پاکستانی روپے کے بدلے آپ کو134سری لنکنن روپے ملتے ہیں۔ سری لنکا میں پاکستانی ہوٹل بھی ہیںاگر آپ کسی ہوٹل سے بریانی کی ایک پلیٹ لیتے ہیں تو 250تا290سری لنکن روپے میں بریانی کی پلیٹ مل جاتی ہے۔ اگر آپ وہاں کا مقامی کھانا کھاتے ہیں تو ایک پلیٹ چاول4سبزیوں اور مرغی یا مچھلی کے سالن کے ساتھ120سے150سری لنکن روپے میں مل جاتی ہے۔ پیپسی کی بوتل40روپے میں ملتی ہے۔
وہاں پر کاروبار کرنے کا انداز بھی پاکستان سے مختلف ہے۔ وہاں پر تمام کاروباری مراکز رات کو8سے9بجے کے دوران بند ہوجاتے ہیں۔ صرف چند ایک بڑی سپر مارکیٹ ہی رات10سے11بجے تک کھلی رہتی ہیں۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ پاکستان کے کاروباری حضرات بھی ان کے نقش قدم پر چلیں صبح جلدی دکانیں کھولیں اور رات کو جلدی گھر واپس آئیں تا کہ اپنے بچوں کے ساتھ بھی کچھ وقت گزار سکیں۔

سوال: سری لنکا میں پہلی مرتبہ جانے والے پاکستانیوں کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور سری لنکا کا ویزا حاصل کرنے کےلئے کیا شرائط ہیں؟

جواب: سری لنکا بہت محبت کرنے والے لوگوں کا ملک ہے۔ یہاں پر آنے والے کسی بھی سیاح یا کاروباری فرد کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ہر سیاحتی مقام پر گیسٹ ہاﺅسز، ہوٹلز، ریسٹورنٹ، منی ایکسچینجرز اور دیگر ہر قسم کی سہولیات آسانی سے مل جاتی ہیں۔ پورے ملک میں انگلش سمجھی اور بولی جاتی ہے۔ صرف ان کے کھانوں کے حوالے سے چھوٹا سا مسئلہ ہوتا ہے کہ ان کے کھانوں میں سپائسز زیادہ ہوتی ہیں وہ کھانے ہم پاکستانی نہیں کھا سکتے اس کا بھی حل موجود ہے کہ وہاں پر بے شمار پاکستانی اور انڈین ریسٹورنٹ موجود ہیں آپ وہاں سے کھانا کھا سکتے ہیں۔ بس ایک بات کا خیال رکھیں کہ سری لنکن دکانیں ساری رات کھلی نہیں رہتیں اس لئے اگر آپ نے کوئی کھانے کی چیز خریدنی ہے تو بر وقت خرید لیں ورنہ پھر آپ کو صبح تک صبر کرنا پڑے گا۔ وہاں کی پبلک اور پرائیوٹ ٹرانسپورٹ بھی رات کو گیارہ، بارہ بجے، تک ہی چلتی ہے البتہ ٹیکسی اور رکشہ آپ کو24گھنٹے ملتے ہیں۔
سری لنکا ہمارا دوست ملک ہے اس کے عوام اور حکومت پاکستانیوں کو اچھی نگاہ سے دیکھتے ہیں اگر آپ بغیرہ ویزہ کے سری لنکا پہنچ جاتے ہیں اور آپ کے پاس ریٹرن ٹکٹ ہے تو ایئر پورٹ پر ہی آپ کو30دن کےلئے انٹری مل جاتی ہے۔ جنوری2012ءسے نیا قانون بن گیا ہے اور اب آپ کو15ڈالر انٹری فیس ادا کرنا پڑتی ہے یہ انٹری ویزا پہلے بالکل مفت تھا۔ وہ لوگ جو کاروباری مقاصد کےلئے سری لنکا آنا چاہتے ہوں ان کےلئے بہتر یہ ہے کہ ویزا لے کر آئیں۔ آپ پاکستان میں سری لنکن ایمبیسی یا قونصلیٹ سے10ڈالر ویزافیس ادا کرکے ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔

سوال: سری لنکا آنے والوں کو کن مقامات کی سیر ضرور کرنی چاہئے؟

جواب: سری لنکا تو سارا ہی سیر کرنے کے لائق ہے۔ جب آپ سری لنکا پہنچتے ہیں تو کولمبو سے9کلو میٹر کے فاصلے پر پہلا سیاحتی مقام ماﺅنٹ لوینیا  ہے جہاں میں رہتا ہوں اس کے علاوہ آکا ڈوآ کے بیچیز  بہت خوبصورت ہیں۔ آنے جانے کےلئے آپ انٹرسٹی کی بسیں بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ یا اپنی گاڑی بھی بک کرا کے جا سکتے ہیں۔ وہ آپ سے فی کلو میٹر کے حساب سے کرایہ لیں گے۔ انا رادھا پورا کا علاقہ ہے یہ بھی بہت پیارا علاقہ ہے پھر اس کے آگے چلے جائیں تو چائے کے باغات کا علاقہ نوراو اایلیا بڑی شاندار اور پر سکون جگہ ہے یہاں پر آپ کو دن میں بھی دھوپ نظر نہیں آئے گی دنیا کی بہترین چائے کی پتی ان باغات میں ہی پیدا ہوتی ہے ۔ اگر آپ کولمبو سے شمال کی طرف چلے جائیں تو وہاں پر نیگمبو کے بیچز بھی دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں وہاں پر آپ کو بدھ مذہب کے آثار قدیمہ بھی دیکھنے کو ملیں گے غرض یہ کہ پورا ملک سری لنکا دیکھنے کے قابل ہے یہاں پر پاکستان کے مری، کاغان، اور سوات جیسے ٹھنڈے اور پر فضا مقام بھی ہیں۔ قدرتی نظاروں اور پہاڑی علاقوں پر مشتمل تاریخی مقامات بھی ہیں اور آپ کا دل کرے گا کہ یہاں پر اور رک جاﺅں اور رک جاﺅں اگر آپ باقاعدہ پلاننگ کرکے آئیں گے تو آپ آسانی کے ساتھ15دن میں ساری اچھی جگہوں کی سیر کرسکتے ہیں۔

سوال: سری لنکا کے مقامی کھانے کس طرح کے ہوتے ہیں؟ اور کون سے سری لنکن کھانے ایسے ہیں جو ہم آسانی سے کھا سکتے ہیں؟

جواب: سری لنکن کھانوں میں مرچیں زیادہ ہوتی ہیں ہم صرف چند ایک سری لنکن کھانے ہی کھا سکتے ہیں۔ ان کا ایک کھانا ہے چاول اور کڑھی وہ ہم کھا سکتے ہیں اس کھانے میں ابلے ہوئے چاولوں کے ساتھ4سبزیاں ہوتی ہیں یہ سبزیاں کو کونٹ کے دودھ میں تیار ہوتی ہیں اور ساتھ میں مرغی یا مچھلی کا سالن ہوتا ہے۔ ساتھ میں پاپڑ، تلی ہوئی مرچیں اور کوکونٹ کی چٹنی بھی ہوتی ہے۔ آپ اس ڈش کو ضرور چیک کریں مجھے امید ہے کہ آپ کو یہ کھانا پسند آئے گا۔ اسی طرح ان کا ایک کھانا ہے” کُتوّ روٹی“ یہ کھانا چپاتی یا پراٹھے کو کاٹ کر سبزی یا سالن کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں جس طرح کٹاکٹ تیار ہوتا ہے اس کو تیار کرنے کا طریقہ بھی بالکل ایسے ہی ہے یہ کھانا پاکستانی بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔
سری لنکا کا ایک اور کھانا جس کو مقامی زبان میں” ہاپو“ کہتے ہیں یہ دال پر مشتمل ایک بہت زبردست ڈش ہے۔ دال کو پکاتے وقت اس میں کوکونٹ کا دودھ اور چاول کا آٹا ڈالا جاتا ہے، یہ نمکین کھانا ہے اس میں مرچیں نہیںہوتیں آپ کو جب بھی سری لنکا آنے کا موقع ملے تو آپ مقامی کھانوں کو ضرور کھائیں۔

سوال: سری لنکا کے مقامی لوگوں کی کون سی عادت آپ کو بہت اچھی لگتی ہے اور ان کی کون سی عادت ایسی ہے جو آپ کو اچھی نہیں لگتی؟

جواب: سری لنکا کے لوگوں کی ایک عادت بہت اچھی ہے کہ ان میں جھگڑے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ جذباتی نہیں ہوتے۔ بڑے بردبار اور نرمی سے پیش آنے والے لوگ ہیں۔ ہمارے پاکستانیوں کی طرح وہ ہر بات پر بہت جلد ہی ہائپر نہیں ہوتے۔ بس ان کی ایک عادت پسند نہیں کہ وہ بہت سست ہیں باقی سب ٹھیک ہے۔

سوال: سری لنکا میں رہنے کے دوران کون کون سی تلخ اور خوشگوار یادیں ایسی ہیں جو زندگی کا حصہ بن گئی ہیں اور بھلائے نہیں بھولتیں؟

جواب: تلخ یاد تو یہ ہے کہ میں نے سری لنکا میں اپنا ریسٹورنٹ کھولا تھا، اب شاید اﷲ کو ایسے ہی منظور تھا کہ وہ صرف پانچ سال چلا اور پھر مجھے اس کو بند کرنا پڑا اس میں مجھے70لاکھ روپے کے قریب نقصان ہوا۔ یہ1995ءسے1999ءکے عرصے کی بات ہے حالات بڑے خراب ہوگئے تھے ایل ٹی ڈی کے تخریب کار بہت دھماکے کر رہے تھے وہ ہر بزنس پر بڑا مشکل دور تھا۔ لیکن اب اﷲ کا شکر ہے کہ سری لنکا میں بڑا پر سکون ماحول ہے آپ رات کے وقت بے خوف و خطر کہیں بھی چلے جائیںآپ کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔
خوشگوار یادیں تو بہت ہیں لیکن سب سے خوشگوار یاد یہ ہے کہ میری بیگم کے ساتھ میرا پہلا تعارف سری لنکا کے ساحل پر ہی ہوا تھا۔ ( جو اب اس دنیا میںنہیں ہے) میں ایک دن ساحل سمندر پر پائن ایپل کھا رہا تھا اور وہ وہاں پر ایکسر سائز کر نے کےلئے آئی تھی۔ میرے سامنے سے گزری تو مجھے بہت غور سے دیکھنے لگی میں نے اس سے کہا کہ کیا دیکھ رہی ہو کیا پائن ایپل کھانے کو دل چاہ رہا ہے تو وہ بولی میں یہ سستے والا پائن ایپل نہیں کھاتی اگر تم نے مجھے کھلانا ہے تو میرے لئے ایپل لے کر آﺅ۔ اس زمانے میں ہمارے علاقے میں سپر مارکیٹ کا رجحان نہیں تھا میں دوسرے دن کولمبو شہر گیا وہاں پر صرف ایک ہی سپر مارکیٹ تھی میں نے ان سے ایپل خریدے اور ساحل سمندر پر پہنچ گیا۔ جب وہ ایکسر سائز کرنے کےلئے آئی تو میں نے اس سے کہا کہ تم نے کل ایپل کھانے کا کہا تھا یہ لو میں تمہارے لئے چھ سیب لے آیا ہوں، وہ وہاں کی مقامی یعنی سنگلیز تھی بس اس دن سے میری اس کے ساتھ دوستی ہوگئی۔ چند ملاقاتوں کے بعد میں نے اسے پرپوز کیا اس کے بعد ہماری شادی ہوگئی۔ شادی کے بعد ہم پاکستان آگئے، یہاں پر ایک سال رہے، اﷲ نے پہلی اولاد بیٹی کی نعمت سے نوازا۔پھر اس کے بعد ہم دوبارہ سری لنکا چلے گئے اور آج تک وہیں پر زندگی کے شب و روز گزار رہے ہیں۔

سوال: اس وقت پاکستان اور سری لنکا میں وسیع پیمانے پر تجارت ہور رہی ہے۔ آپ اپنے وسیع تجربات کی روشنی میں پاکستانی تاجروں کو کیا مفید تجاویز دیں گے؟

جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ ا س وقت پاکستان اور سری لنکا کے درمیان جن اشیاءکی تجارت ہو رہی ہے۔ ان میں پاکستان اشیاءکی تجارت نہ ہونے کے برابر ہے وہاں پر ہر طرف میڈ ان انڈیا کی چیزیں ہی نظر آتی ہیں‘ انڈیا کے بزنس مین ہر مہینے کوئی نہ کوئی کاروباری نمائش کا اہتمام کرتے ہیں اور اس سے بہت زیادہ بزنس حاصل کرتے ہیں۔ اب آپ دیکھیں وہاں پر آپ کو زیادہ تر رکشے اور موٹر سائیکل ہندوستان کے بنے ہوئے ملیں گے وہاں پر70فیصد موٹر سائیکل انڈیا کی چل رہی ہیں۔
جبکہ اس وقت پاکستان میں بہت سی کمپنیاں اچھی موٹر سائیکل تیار کر رہی ہیں۔ پاکستانی تاجر وںں کو چاہئے کہ وہ سری لنکا کی مارکیٹ ضرور وزٹ کریں۔ اس کے علاوہ بھی پاکستان میں بہت اچھی کوالٹی کی چیزیں تیار ہوتی ہیں اور جیسا کہ میں نے آپ کو پہلے ہی بتایا تھا کہ سری لنکا میں زیادہ تر اشیاءباہر سے آتی ہیں تو ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی وہاں پر فعال ہو اور وہاں پر اپنی پراڈکٹس کو متعارف کرائیں۔ اگر کسی پاکستانی تاجر کو سری لنکا کی مارکیٹس کے حوالے سے کوئی معلومات چاہئے ہو تو وہ مجھ سے ای میل یا میرے فون نمبر پر رابطہ کر سکتا ہے۔

سوال: کوئی ایسی خواہش جو دل میں ہو اور اس کے پوری ہونے کا انتظار ہو؟

جواب: اﷲ کا شکر ہے کہ زندگی بھر طور طریقے سے گزر رہی ہے۔ میں نے دنیا کے سبھی ممالک کی سیر کی ہے بس دل میں ایک ہی خواہش ہے کہ اپنے والد محترم کے ملک برما میں دوبارہ جانا چاہتا ہوں۔ ان کی ویزہ پالیسی کی وجہ سے میں برما دوبارہ دیکھ نہیں پایا بس یہی ایک خواہش ہے جس کے پوری ہونے کا انتظار ہے۔



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


Leave a Reply

Translate »