شمسی توانائی کے ذریعے بجلی کا حصول

سولر پاور سسٹم کی اشیاءکی خریداری سے پہلے ایک بار اس تحریر کو ضرور پڑھ لیں

My this article was published in Daily Ausaf Sunday Magazine on 26 January 2014.

My this article was published in Daily Ausaf Sunday Magazine on 26 January 2014.

بجلی کے شدید بحران سے پوری قوم اذیت میں مبتلا ہے۔ بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے سینکڑوں چھو ٹی بڑی فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں۔ عوام نفسیاتی مریض بنتے جا رہے ہیں۔اگر شمسی توانائی کے منصوبوں کابر وقت آغاز کیا جاتا تو یقیناً آج پاکستان بجلی کے بحران میں مبتلا نہ ہوتا۔اس بحران سے نجات حاصل کرنے کے لئے ہمیں ہر سطح پر شمسی توانائی کے ذریعے بجلی کے حصول کی سنجیدہ کوشش کرنا ہوگی۔ شمسی توانائی کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کا طریقہ انتہائی سادہ اور آلودگی سے پاک ہے۔ شمسی توانائی کے ذریعے بجلی حاصل کرنے کے لئے ہمیں صرف ایک مرتبہ سرمایہ کاری کرنا پڑتی ہے جبکہ کے اس کے نتیجہ میں ایک طویل عرصہ کے لئے توانائی کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ ویسے بھی دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی توانائی کے مقابلہ میں سورج کی روشنی سے 36 گنا زیادہ توانائی حاصل ہوسکتی ہے۔ اور خوش قسمتی ہمارے ملک میں ، سال کے تقر یباً 300 دن، سورج کی دھوپ میسر ہوتی ہے۔ سورج کی دھوپ انسان کے پاس ایک ایسا خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔ اب ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم قدرت کی عطا کردہ اس نعمت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔اگر ہم ملک میں خوش حالی دیکھنا چاہتے ہیں، تو اس کا بہترین حل یہ ہے، کہ ہمیں شمسی توانائی کی اہمیت کے شعور کو عام کرنا ہوگا۔ خاص طور پر عوام کی فلاح وبہبود کیلئے کا م کرنے والی ا ین جی اوز کوشمسی توانائی کے منصوبو ں کی تکمیل کیلئے عوام کی رہنمائی اور مدد کیلئے آگے بڑ ھنا ہوگا۔ شمسی توانائی کسی بھی ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔اوراگرہم یہ فیصلہ کر لیں کہ ہم نے پاکستان سے بجلی کے بحران کو ختم کرنا ہے تو وہ دن دور نہیں جب ہر گھر میں شمسی توانائی کے ذریعے بجلی پیدا کر نے کی سہولت موجود ہو گی۔

شمسی توانائی سے میری دلچسپی اس وقت پیدا ہوئی جب بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے تنگ آ کر میں نے اپنے کمپیوٹر کو سولر انرجی کے ذریعے چلانے کے بارے میں سوچا، سولر انرجی کے ذریعے کمپیو ٹر چلانے پر کتنے اخراجات آئیں گے ،یہ معلومات حاصل کرنے کے لئے میں نے صدر اور ریگل ، کراچی کی دکانوں کا سروے کیا۔اس دوران مجھے جو معلومات حاصل ہوئیں،بجائے اس کے کہ میرا کنسیپٹ کلیئر ہوتا۔۔۔۔۔ میری کنفیوژن میں اور اضافہ ہو گیا۔ ہر دکاندار نے ایک نئی کہانی سنائی ، وہ تمام لوگ جو اس وقت سولر پینل فروخت کر رہے ہیں وہ بتاتے کچھ ہیں اور دیتے کچھ ہیں۔پھر میں نے کراچی کے ہر بڑے ہول سیلر کے ریٹ اور انکے سولر پینلز اور دیگر اشیاءکی کوالٹی چیک کی۔ پوری مارکیٹ میں صرف ایک دو دکاندار ہی ایسے تھے جنہوں نے واضح بات کی ۔
ہو سکتا ہے کہ اس تحریر کو پڑھنے والے نوے فیصد افراد شائد اتنے بھاری اخراجات برداشت نہ کر سکیں جو شمسی توانائی سے بجلی حا صل کرنے پر آتے ہیں۔میری محدود معلومات کے مطابق دو پنکھوں اور چار انرجی سیورز کو سولر انرجی پر چلانے کے لیے پورا سسٹم تیار کرنے پر جو ان اشیاءکو 24 گھنٹے بجلی فراہم کر سکے اس پر ڈیڑھ سے دو لاکھ تک خرچہ آ جاتا ہے۔ اگر جیب اجازت دے تو یہ مہنگا نہیں۔اس آرٹیکل میں دی گئیں معلومات کا آپ کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ جب آپ سولر انرجی کی مصنوعات کی خریداری کریں گے تو کوئی آپ کو دھوکہ نہیں دے سکے گا۔سولر انرجی حاصل کرنے کے لئے سولر پینل کے علاوہ اور بھی بہت سی اشیاءکی ضرورت پڑتی ہے جن کی مکمل تفصیل مہیا کی جا رہی ہے۔
سولر پینل کا تعارف
b30db7fa-1359303918-d_picسولر پینل ایک ایسی ڈیوائس ہے جو روشنی کو بجلی میں تبدیل کر دیتی ہے ۔ ایک سولر پینل مختلف چھوٹے چھوٹے سولر سیلز کا مجمو عہ ہوتا ہے ۔ اُن سولرسلز کو ایک بڑی شیٹ پر لگا کر بجلی حاصل کی جاتی ہے۔ ایک سولر سیل 0.5 وولٹ ہی پیدا کرتا ہے جبکہ سیل کے سائز کے فرق کی وجہ سے ایمپیر کم یا زیادہ ہو جاتے ہیں۔کسی سولر پینل کے وولٹ معلوم کرنے کے لئے یہ فارمولا Watt divided by Ampere = Voltsاستعمال ہوتا ہے ۔ ایک شیٹ پر جو چھوٹے چھوٹے سیلز لگے ہو تے ہیں ان کی تعداد کو گن کر بھی وولٹ معلوم کئے جا سکتے ہیں ۔0.5 وولٹ کا ایک سولر سیل آدھے واٹ کا کرنٹ بناسکتا ہے ۔تمام سولر پینل جو توانائی پیدا کرتے ہیں اُ ن کو واٹ میں شمار کیا جاتا ہے۔مثال کے طور پر اگر ہم 180 واٹ کا ایک اچھا سولر پینل خریدتے ہیں تو اس سولر پینل سے 26 وولٹ حاصل ہوں گے اور وہ 6.9 ایمپیئر پیدا کرے گا۔ اب اس کی کیلکولیشن اس طرح ہوگی Volts x Ampares = Wattsتو واٹ کے بارے میں معلوم ہوسکے گا اور اگر ہمیں وولٹ اور واٹ کو پتا ہو تو اس Watt divided by Volts = Ampare فارمولے کے ذریعے ہم ایمپیئر معلوم کر سکتے ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان میں زیادہ تر لوگ لوکل سولر پینل کو جرمنی کا کہہ کر بیچ رہے۔سولر پینل کی اقسام اور دیگر ٹیکنیکل معلومات۔
مونو کرسٹلائن (Mono-Crystalline): مونو کرسٹلائن سولر پینل کی پہچان یہ ہے کہ اس کے سولر سیل بلیک کلر کے ہوتے ہیں۔ پتلے پیس یا ویفر ، کالے رنگ کے ایک بڑے کرسٹل سیلیکان کو کاٹ کر یا اس کا پتلا سا مونو کرسٹلائن سیل بنا ہوا ہوتا ہے ۔ ان میں سب سے زیادہ ایفی شنسی ہوتی ہے ۔ اس کو بنانے پر سب سے زیادہ انرجی خرچ ہوتی ہے اور یہ 100فیصد رزلٹ 5سال تک دیتا ہے ۔ اس کے بعد اس کی کارگردگی کم ہونی شروع ہو جاتی ہے ۔ مونوکرسٹلائن ان علاقوں کے لئے زیادہ موزوں ہے، جہاں پر درجہ حرارت کم ہوتا ہے۔
پولی کرسٹلائن(Poly-Crystalline): پتلے سیلیکان کے ویفرز کو کاٹ کر بنایا جاتا ہے ۔ بہت سارے کرسٹل آپس میں مکس ہوتے ہیں ۔ ان میں ایفی شنسی کم ہوتی ہے ۔ ان کا سائز بھی بڑاہوتا ہے ۔گرم علاقوں لاہور، گجرات، بھاولپور، ملتان اور کراچی کے لئے Poly موزوں ہیں اور یہ نیلے کلر میں ہوتے ہیں اور اس میں دھوپ کی شدت کو برداشت کرنے کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے۔
لوڈ(Load): وہ آلات جو آپ UPSیا سولر پاور سسٹم پر چلانا چاہتے ہیں ۔ اس کو کلو واٹ فی گھنٹہ میں ظاہر کیا جاتا ہے ۔ مثلاً اگر 3پنکھے، 4 انرجی سیور چلانا ہوں تو اس کا لوڈ تقریباً 400 واٹ بن جاتا ہے ۔ لوڈ معلوم کرنے کے لئے تمام الیکٹرنک اشیاءجو آپ UPSیا سولر پینل پر چلانا چاہتے ہوں ، ان کی پاور واٹ میں جمع کر لیں ۔
ایفی شنسی (Efficiency): سولر پینل کی قیمت اس کی ایفی شنسی کے مطابق بدلتی ہے ۔ جتنی کم ایفی شنسی کا حامل پینل ہوگا وہ اتنا ہی سستا ہوگا ۔ ایفی شنسی سے مراد اس کی آو¿ٹ پٹ پاور ہے۔ یعنی وہ کتنی out put (واٹ میں) فراہم کر سکتا ہے ۔ ایک مربع میٹر کے پینل کو ایک ہزار واٹ بجلی فراہم کرنی چاہیے لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر ایسا نہیں ہوتا اور اس کی آو¿ٹ پٹ بہت کم ہوجاتی ہے۔
اسی وجہ سے ہر پینل میں اس کی ایفی شنسی بیان کی جاتی ہے یعنی وہ کتنی بجلی فراہم کر رہا ہے۔کسی پینل کی ایفی شنسی کا 10فیصد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک ضرب ایک میٹر کا پینل 100واٹ تک آو¿ٹ پٹ فراہم کررہا ہے۔ایفی شنسی20فیصد ہونے کا مطلب یہ ہوا کہ ایک ضرب ایک میٹر کا پینل 200واٹ تک آو¿ٹ پٹ فراہم کر رہا ہے لیکن پریکٹیکلی 10% سے 17فیصد تک سولر پینل پائے جاتے ہیں ۔
ایفی شنسی (Efficiency) کس کام آتی ہے؟
سولر پینل خریدتے وقت یہ تسلی کر لیں کہ دکان دار آپ کو اس کی جو آو¿ٹ پٹ(واٹ) بتا رہا ہے کیا آپ کو وہ پورے ہی ملیں گے۔ یعنی اگر آپ نے 400واٹ کے پینل خریدے ہیں تو 400 واٹ ہی ملیں گے۔یہاں ایک غلط فہی کا امکان ہوسکتا ہے کہ کم ایفی شنسی لاسز ہوں۔ یعنی غلط فہمی یہ ہو سکتی ہے کہ شائد اگر آپ 400 واٹ کے پینل خرید رہے ہیں تو اس کا 10یا 20فیصدکا مطلب محض 40یا 80واٹ آو¿ٹ پٹ کا حصول ہو۔ ایسانہیں ہے۔کم ایفی شنسی درحقیقت آپ کے ” Area“ کے نقصان کو ظاہر کرتی ہے ۔ جتنی کم ایفی شنسی کے حامل سولر پینل ہوں گے ا تنا زیادہInstallation area درکار ہوگا۔جبکہ جتنی زیادہ ایفی شنسی کے پینل ہوں گے اتنا ان کا سائز چھوٹا ہوگا لیکن اتنی ہی ہوگی جتنی بڑے سائز کے پینل کی ہوگی ۔ جس سولر پینل کی ایفی شنسی زیادہ اس کو زیادہ اچھا سمجھا جاتا ہے۔
شمسی توانائی کو ہم ان طریقوں سے اپنے مقصد کے لئے استعما ل کر سکتے ہیں ۔ سولر پینل سے DCکرنٹ حاصل ہوتا ۔ ہمارا بجلی کا نظام ACکرنٹ پر ہے۔سولرپینل سے حاصل ہونے والی توانائی کو چارج کنٹرول کے ذریعے سٹیبلائز کیا جاتا ہے اور پھر اس توانائی کو استعمال میں لایا جاتا ہے۔ جب ہم سولر پینل سے ڈائریکٹ بجلی حاصل کر کے استعمال کرنا چاہیں تو اس کے لئے ہمیں تمام اشیاءمثلاً پنکھا، لائٹس اور کیبل وغیرہ DCلگانی پڑیںگی ۔ جب آپ سولر پینل سے براہ راست بجلی حاصل کرتے ہیں تو آپ بیٹریز کے اخراجات سے تو بچ جاتے ہیں لیکن اس کا ایک نقصان یہ ہے کہ رات کے وقت اور بارش کے موسم میںآپ بجلی حاصل نہیں کر سکیں گے۔یہ طریقہ پاکستا ن میںکامیاب نہیں ہے ۔ ہمارا بجلی کا نظام ACکرنٹ پر مشتمل ہے ۔اس لئے سولر پینل سے جو DCکرنٹ حاصل ہوتا ہے اس کو ACکر نٹ میں کنورٹ کرنے کے لئے اس میں انورٹر لگانا پڑتا ہے انورٹر DC کو AC کرنٹ میں تبدیل کر دیتا ہے ۔ اس طرح ہم عام پنکھوں ، لائٹوں اور دیگر الیکٹرونکس اشیاءکو باآسانی استعمال کر سکتے ہیں۔ چونکہ ہمیں رات کے اوقات میں بھی بجلی کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے بیٹریوں کا اضافہ کر نے سے ہم سورج کی روشنی نہ ہونے کی صورت میں بھی بجلی کو سٹور کر کے استعمال میں لا سکتے ہیں۔ا س پر اخراجات تو کچھ زیادہ آتے ہیںلیکن زیادہ تر لوگ اس کو ترجیح دیتے ہیں۔سولر پاور سسٹم کو تیار کرنے میں استعمال ہونے والی ہر چیز کی اپنی اہمیت ہے اگر آپ کوئی بھی چیز ہلکی کوالٹی کی استعمال کریں گے تو کبھی بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکتے ۔ مثلاً استعمال ہونے والی کیبل سستی ہو گی تو سولرپاور سسٹم کی 30فیصد بجلی کو ضائع کر دے گی۔جب آپ سولر پاور سسٹم لگانا چاہیں تو اچھی قسم کے چارج کنٹرولر کا انتخاب کریں کیونکہ سولر پینل چاہے کتنی بھی اچھی کوالٹی کے ہوں اگر آپ نے چارج کنٹرولرہلکی کوالٹی کا لگا ئیں گے تو آپ کبھی بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکتے۔ اگر آپ MPPT چارج کنٹرولر استعمال کرتے ہیں تو یہ آپ کو 15فیصد زیادہ رزلٹ دے گا۔چارج کنٹرولر کا استعمال اس لئے ضروری ہے کہ سولر پینل 18سے 20 وولٹ فراہم کرتے ہیں جبکہ بیٹری کوصرف 14سے ساڑھے چودہ وولٹ درکار ہوتے ہیں۔ بہت سے عام چارج کنڑولر وولٹ کو ریگولیٹ تو کر دیتے ہیں لیکن ان میں ایمپیئر کو بڑھانے کی صلاحیت نہیں ہوتی جبکہ عام چارج کنٹرولر آپ کے سولر سسٹم کی پاور کو ضائع کرتا رہتاہے ۔چارج کنٹرولر عام طور پر تین قسم کے ہوتے ہیں۔
-1 سادہ یاٹو سٹیج کنٹرولز : یہ Shunt Transistors پر انحصار کرتے ہوئے وولٹیج کو ایک یا دو سٹیج میں کنٹرول کرتے ہیں ۔ ان کا کام محض اتنا ہوتا ہے کہ جب بیٹریا ں مکمل طور پر چارج ہو جائیں تو یہ سولر سسٹم کو چارجنگ سے علیحدہ کر دیں۔
-2 تھری سٹیج یا PWM: یہ الیکٹرونیکلی سادہ کنٹرولرز سے زیادہ بہتر ہوتے ہیں ۔ سادہ الفاظ میں اس کی وضاحت یوں کی جاسکتی ہے کہ یہ بیٹری کی چارجنگ کی صورت حال کے مطابق اس کے چارجنگ ریٹ کو ایڈجسٹ کرتے ہیں ۔ یعنی خالی بیٹری کو زیادہ تیزی سے چارج کرنا اور پھر چارجنگ کو آہستہ کرتے جانا۔ ٹیکنیکلی یہ کنٹرولرز بیٹری کی کنڈیشن کو مانیٹر کرتے ہیں پھر اس کے مطابق اپنے سگنلز یا پلززیا چارجنگ پلزز بھیجتے ہیں ۔ اگر بیٹری بہت زیادہ ڈاو¿ن ہے تو یہ جلد ی جلدی چارجنگ پلز بھیجتے ہیں اس طرح بیٹری کی لائف طویل رہتی ہے۔
-3 MPPT: یہ سب سے ایڈوانس چارج کنٹرولر ہے ۔ یہ 15سے 30 فیصد تک زیادہ پاور فراہم کرتے ہیں۔ان کو ” Equalizer“بھی کہا جا سکتا ہے۔MPPTکے استعمال سے آپ کے لائن لاسز کم ہوتے ہیں اگر زیادہ پینل سیریز میں لگانا چاہیں تو ان کے اپمیئرز کو جمع کر لیتا ہے۔
اگر آپ سولر پینل سیریز میں لگانا چاہتے ہیں تو ہمیشہ ایک ہی سائز ، وولٹ، واٹ، ایمپیئر کے ہونے چاہیں اور سولر پینل خریدتے وقت اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ جو سولر پینل ہم خریدرہے ہیں ان میں ایک ہی سائز کے سولر سیل لگے ہوں۔ سولر پینلز کو براہ راست بیٹریوں سے کنیکٹ کرنے کا ایک نقصا ن ”اوور چارجنگ “ کی صورت میں بھی ہوتا ہے۔سولر پینل سے بنیادی طور15سے 21 وولٹ تک آوٹ پٹ حاصل کی جاسکتی ہے۔
اسی طرح بیٹری کی عمر بڑھانے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر آپ کی ضرورت 150 امپیئر کی ہے توآپ 200 امپیئر کی بیٹری استعمال کریں ۔ اچھے چارج کنٹرولر کے استعمال سے بیٹری کی زندگی میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اس کو تباہ ہونے سے بچاتا ہے۔چارج کنٹرولر یا چارج ریگولیٹر کا کام پینلز سے بیٹری تک آنے والے کرنٹ کو مناسب حد تک لانا ہوتا ہے یعنی ریگولیٹ کرنا ہوتا ہے ۔ اگر سولر پینل سے آنے والے کرنٹ کو ریگولیٹ نہ کیا جائے تو بیٹر یز تباہ ہو جائیں گی۔
بہت سے لوگ جنہیں سولر انرجی کے بارے میں مکمل معلومات نہیں ہوتیں وہ سولر پاور سسٹم خریدتے وقت صحیح چیزوں کا انتخاب نہ کرنے کی وجہ سے جب مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پاتے تو ان کا اس ٹیکنالوجی سے اعتماد اُٹھ جاتا ہے اس لئے سولر پاور سسٹم خریدتے وقت ان باتوں کو مدّ نظر رکھیں۔
-1 سولر پینل کی لائف کم از کم 25 سال ہونی چاہئے ۔پاکستان میں زیادہ تر Made in China سولر پینل فروخت ہو رہے ہیں جن کی کوالٹی اتنی اچھی نہیں اس لئے وہ سولر پینل جن کی وارنٹی کی سہولت نہ ہووہ ہر گز نہ خریدیں ۔
-2 اس بات کی گارنٹی ہونی چاہئے کہ جتنے واٹ کا پینل آپ خرید رہے ہیں کیا وہ اتنے واٹ مہیا بھی کرے گا۔
-3 کبھی بھی آپ کم قیمت میں اچھی چیز نہیں خرید سکتے ، اس بات کی یقین دہانی کر لیں کہ جو چیز آپ سستی خرید رہے ہیں اس میں کوئی گڑبڑ تو نہیں۔
-4سولر پینل کی سر ٹیفیکیشن چیک کرنی ہے ۔ اس سے یہ بات کنفرم ہوجاتی ہے کہ یہ کسی لیبارٹری میں ٹیسٹ ہو کر آیا ہے۔سرٹیفیکیشن کوڈکچھ اس طرح سے ہوگا۔TUV ICE 61215نمبر ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ ویری فائڈ ہے۔ اگر اس سے مختلف ہوتو وہ سٹیکر خود ساختہ ہوتے ہیں۔
-5 ہمیشہ سولر پینل کی ٹائپ دیکھ کر خریدیں ۔ اگر چھت پر جگہ کم ہو تو مونو کرسٹلائن سولرپینل بہتر رہیں گے۔
-6 جو سولر پاور سسٹم آپ خرید رہے ہیں اس میں ماو¿نٹنگ یا ٹریکنگ سسٹم ہونا چاہیں تاکہ جب آندھی یا تیز ہوا چلے توآپ کے سولر پینل محفوظ رہیں۔اگر آپ ونڈ سرٹیفائڈ لیں گے تو اس کا فائدہ یہ ہے کہ تیز ہوا چلنے پر اُڑ کر ہمسائیوں کے گھر نہیں جائیں گے۔
-7 انورٹر اچھی کوالٹی کا خریدنا چاہیے کہ جب وہ کرنٹ کو DCسے AC میں کنورٹ کرے توبجلی کنورٹ ہونے کے دوران ضائع نہ ہو۔
-8 آپ جس سے پورا سولر پاورسسٹم خرید رہے ہیں اس سے یہ ضرور معلوم کر لیں کہ انسٹالیشن کے کتنے چارجز ہوں گے۔ کیونکہ اصل برنس انسٹالیشن کا ہے کراچی میں اتنا بیچنے والے نہیں کما رہے جتنا انسٹالیشن والے کما رہے ہیں۔یہاں انسٹالیشن کے 10 ہزار تک لے رہے ہیں۔
مجھے اُمید ہے کہ یہ معلومات آپ کو اچھے سولر پاور سسٹم کی خریدداری میں معاون ثابت ہوں گی۔



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


One thought on “شمسی توانائی کے ذریعے بجلی کا حصول

  1. Awan

    السلام علیکم، بھائی بیٹری کے بارے میں کچھ معلومات دے دین کہ کونسی بیٹری اچھی ہوتی ہے اور بیٹری کو چیک کرنے کا کیا طریقہ ہے کہ اس کی آوٹ پٹ کتنی ہے۔

    Reply

Leave a Reply

Translate »