شیدی قبیلے سے تعلق رکھنے والی یونیورسٹی کی طالبہ محترمہ اقراء قمبرانی صاحبہ کا انٹرویو

پاکستان میں شیدی قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں۔ انہیں شیدی بلوچ اور مکرانی بھی کہا جاتا ہے۔ وہ اب بھی افریقی باشندوں کی مانند اپنی واضح شناخت رکھتے ہیں۔ شیدی قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد بابا منگھو پیر کو اپنا روحانی پیشوا مانتے ہیں۔ شیدی قبیلے سے تعلق رکھنے والی خواتین کا تعلیم کی طرف رجحان کم ہے البتہ محترمہ اقراءقمبرانی اس سے لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ وہ نہ صرف اندرون سندھ کی ایک یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں بلکہ سوشل ورکر بھی ہیں اور خاص طور پر اپنی کمیونٹی کی فلاح و بہبود اور ان میں تعلیم کے شعور اور اس کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے بہت جدوجہد کر رہی ہیں۔ مجھے امید ہے ان کا یہ انٹرویو اس لحاظ سے باقی تمام انٹرویو ز سے منفرد ہے کہ اس میں آپ کو ان کی کمیونٹی کے رسم ورواج کے ساتھ ساتھ محترمہ اقراءقمبرانی کی مثبت تنقید بھی پڑھنے کو ملے گی۔ میں ان کا بہت مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھے انٹرویو دیا ۔

سوال: آپ نے ابتدائی تعلیم کہاں حاصل کی اور ان دنوں کس شعبہ میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں؟

جواب: میں کلاس 2تک ایک مدرسہ iqra2میں پڑھی ہوں اُن دنوں ہمارے ٹاﺅن ٹنڈو باگو میں پرائیوٹ اسکول نہیں تھے۔ جب میں کلاس 3میں ہوئی تو ہمارے ٹاﺅن میں 2اسکول بن چکے تھے ، پھر میں 3سے 5کلاس تک اور ینٹ پبلک اسکول ٹنڈوباگو میں تعلیم حاصل کی۔ میرے والدین کی خواہش تھی کہ میں انٹر تک وہیں پڑھوں پر وہا ں مخلوط تعلیم تھی اس لئے چھٹی کلاس کےلئے گورنمنٹ گر لز ہائی اسکول ٹنڈو باگو میں داخلہ لے لیا اور پھر وہیں سے میٹر ک پاس کیا ۔ میٹرک کے بعد کالج میں داخلے کےلئے مجھے قریبی شہر بدین کے آرمی کالج میں داخلہ لینا پڑا ۔ ہمارے ٹاﺅن سے روزانہ بدین شہر کے کالج میں جانے کے لئے 40 منٹ بس پر سفر کرنا پڑتا تھا ۔ میں نے فرسٹ ائیر آرمی پبلک اسکول اینڈ کالج بدین سے کیا اور سیکنڈ ائیر رحیم کالج بدین سے، اس کے بعد اسلامیہ کالج بدین سے ’بی کام‘ مکمل کرنے کے بعد میں نے یونیورسٹی آف سندھ لا ڈ کیمپس بدین میں’ بی ایس‘ کمپیوٹر سائنس میں داخلہ لے لیا ۔

سوال: بچپن سے ہی آپ کو کیا بننے کا شوق تھا اور کیا اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے آپ کو خاندان کی طرف سے کسی مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا ؟

جواب: بچپن میں مجھے ڈاکٹر بننے کا شوق تھا،لیکن قسمت پہلے مجھے انجینئرنگ کی طرف لے گئی اور اس وقت میں کمپیوٹر سائنس میں سیکنڈ ائیرکی اسٹوڈنٹ ہوں۔ جب میں نے میٹرک کے بعد فرسٹ ائیر کیلئے آرمی پبلک کالج بدین میں داخلہ لیا تو اس وقت میں اپنے ٹاﺅن کی پہلی لڑکی تھی جو دوسرے شہر میں پڑھنے کیلئے گئی اور وہ بھی’ کوایجوکیشن‘ میں۔ اس وجہ سے شروع شروع میں کچھ تبصرے ہوئے لیکن میرے گھر والوں کی طرف سے کوئی مزاحمت نہیں ہوئی اور اب تو الحمداللہ! ہمارے ٹاﺅن اور خاص طورپر ہماری کمیونٹی کی کافی لڑکیاں کالج میں پڑھ رہی ہیں۔ حالانکہ انہیں روزانہ ٹنڈوباگو سے بدین آنا پڑتا ہے۔

سوال: آپ کو تقریر کرنے کا شوق کب سے ہے اور آپ کی تقریروں میں دوسروں کے لئے کیا پیغام ہوتا ہے ؟

جواب: میں نے اسکول کے دور سے ہی تقریریں کرنا شروع کر دیں تھیں، اور اب تو مجھے کالج کیمپس اور اپنی iqra1کمیونٹی کے پروگرامز میں تقریریں کرنے کا موقع ملتا ہی رہتا ہے۔ کالج میں تو تقریریں مختلف عنوانات پر ہوتی ہیں لیکن اپنی کمیونٹی کے پروگرامز میں میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ انہیں تعلیم کی افادیت سے آگاہ کروںتاکہ انہیں معاشرے میں اپنا مقام بنانے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

سوال: تعلیم کے علاوہ آپ کے اور کیا مشاغل ہیں ؟مستقبل میں آپ نے کس شعبہ زندگی کے ساتھ وابستہ ہونے کا سوچا ہے ؟

جواب: تعلیم کے علاوہ مجھے شاعری سے لگاؤ ہے اور مجھے مطالعہ کا بھی بہت شوق ہے۔ میں جو شاعری کرتی ہوں آپ اسے میرے بلاگ پر پڑھ سکتے ہیں۔ میں نے مستقبل میں ایک اچھی رائٹر اور سوشل ورکر بننے کا سوچا ہوا ہے۔

سوال: آپ شیدی برادری سے تعلق رکھتی ہیں ، شیدی کمیونٹی کے اباﺅ اجداد کا تعارف اور منفرد رسم ورواج کے بارے میں کچھ بتائیں؟

جواب: میرے لئے شیدی برادری کے اباﺅ اجداد کا تعارف کروانا تھوڑا مشکل ہوگا، کوئی کہتا ہے ہم افریقہ ہے آئے ہیں اور کوئی کچھ اورکہتا ہے ۔ہم جوبھی ہیں جہا ں سے بھی آئے ہوں لیکن اب ہم پاکستانی ہیں۔ ہم کون ہیں کہاں سے آئے ہیں اس کے بارے میں صر ف اتنا کہوں گی کہ ہماری کمیونٹی اصل میں شیدی نہیں بلکہ سیدّی ہے ۔ ہمارا سلسلہ نصب حضرت بلال رضی اللہ عنہ  سے جا ملتا ہے ۔کیونکہ آپ ﷺ حضرت بلال کو سیدّی کہہ کر پکار تے تھے تو اس بنا پر ہماری کمیونٹی سیدّی ہے مگر کچھ لوگو ں سے یہ بات برداشت نہ ہوئی کہ یہ کالے لوگ کیسے سیدّی ہوگئے تو انہوں نے سیدّی کے اُوپر تین نقطوں کا اضافہ کر کے اسے سیدّی سے شیدی بنا دیا اور قمبرانی ہم حضرت قمبر کی وجہ سے کہلاتے ہیں۔ حضرت قمبر جو حضر ت علی ؓ کے خادم تھے اس بنا پر ہمارا تعلق حضرت قمبر اور بی بی فضہ کی نسل سے بنتا ہے ۔ شیدی برادری میں بہت سے منفرد رسم رواج اور مذہبی عقائد پائے جاتے ہیں۔ اگر آپ کو کبھی منگوپیر کے سالانہ میلہ میں شرکت کا اتفاق ہو تو وہاں پر آپ کو شیدی کمیونٹی کو قریب سے جاننے کا موقع ملے گا۔ ہماری برادری سے تعلق رکھنے والے افراد منگوپیردربار سے حددرجہ عقیدت رکھتے ہیں۔ کراچی کے شمال مغربی حصے ’گڈاپ ٹاؤن‘ اور کیرتھر رینج میں منگھو پیر کی چٹیل پہاڑی پر واقع حضرت بابا منگھو پیر کا mangopeerلگ بھگ سات سو سالہ قدیم مزار ہے۔ جس کے نیچے موجود تالاب میں صدیوں سے مگر مچھوں کا ڈیرا ہے۔ مزار کے مگرمچھوں کے بارے میں عقیدت مندوں کا خیال ہے کہ یہ مگر مچھ خواجہ فرید الدین مسعود شکر گنج کی جوئیں ہیں جو انہوں نے بابا منگھو پیر کو دیں تھیں جو بعد میں ان کی کرامت سے مگر مچھ بن گئیں۔ ہم لوگ ہر سال مزار پر ایک رنگا رنگ میلے کا اہتمام کرتے ہیں۔ ایک ہفتے تک جاری رہنے والے اس میلے میں دور دراز مقامات سے شیدی یہاں آتے ہیں۔اس میلہ کا آغاز مزار کے تالاب میں موجود مگرمچھوں کے سردار’ مور ثواب ‘کے ماتھے پر سندور لگانے کے بعد اسے حلوہ اور بکرے کو ذبح کر کے اس کی سری کھلا کر کیا جاتا ہے۔ شیدیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ اگر مور ثواب ان کا دیا ہوا گوشت نہ کھائیں تو ان کا وہ سال اچھا نہیں گزرتا اور اس سال میلہ بھی نہیں ہوتا۔اور اگر مور ثواب گوشت کھالیں تو میلہ کا آغاز جاتا ہے اور اس خوشی میں تالاب سے کچھ فاصلے پر واقع ایک چھوٹے سے میدان میں ایک ڈرم نما ڈھول بجنے لگتا ہے، اس ڈھول کو مگرمان یا ’مگارمن‘ کہا جاتا ہے۔ مگرمان شیدیوں کے لیے صرف ناچنے گانے کا ساز نہیں بلکہ ان کا روحانی ساز ہے۔ میلے کے شرکاء میلے کے دوران ایسی رسومات ادا کرتے ہیں، جن سے ان پر افریقی تہذیب سے گہرے تعلق کا گمان ہوتا ہے۔ منگھو پیر کے مزار سے بہت سی روایات وابستہ ہیں۔ شیدی قبیلہ سے تعلق رکھنے والوںکا یقین ہے کہ یہاں حاضری دینے سے ان کی مرادیں ضرور پوری ہوتی ہیں۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ منگھو پیر میں ابلتے ہوئے گرم پانی کے چشمے ہر قسم کی بیماری کا علاج ہیں۔ لوگ دور دور سے آکر یہاں نہاتے ہیں، اور یقین کر لیتے ہیں کہ اس سے ان کی بیماریاں ٹھیک ہو جائیں گی۔ وہاں پردھمال ڈالنے والے فقیروں کو لوگ پھولوں کے ہار پہناتے ہیں، ان کے بارے میں ان کا عقیدہ ہے کہ ان کے اندر جنات یا روحیں اتر آئی ہیں، لوگ ان سے اپنی پریشانیوں اور مستقبل کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور تبرک کے طور پر دعا کے دھاگے اور تعویذ بھی لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ محمد صدیق مسافر ، ہوش محمد شیدی کی بر سی کے تہوار وں میں بھی عقیدت مند جوش و خروش سے شریک ہوتے ہیں۔میں ان تہواروں میں باقائیدگی سے شرکت نہیں کرتی البتہ ابھی تک صرف ایک بار محمد صدیق مسافر کی برسی میں شرکت کی ہے۔آپ حیران ہوں گے کہ میں ا بھی تک منگوپیر بھی نہیںگئی اور یہا ں پر میں ایک بات کی وضاحت کر نا ضروری سمجھتی ہوں کہ زیادہ تر شیدیوں کے ذہنوں میں یہ بات گھر کر کئی ہے کہ ناچ گانا ہمارا کلچر ہے ، میں اسے نہیں مانتی اور مجھے اس سوچ سے بالکل بھی اتفاق نہیں ہے اور میں اسے اچھا نہیں سمجھتی ۔

سوال: شیدی برادری کی پسماندگی کی بنیادی وجوہات کیا ہیں ؟ آپ اپنی برادری میں کیا تبدیلیاں دیکھنا چاہتی ہیں ؟

جواب: میرے خیا ل میں شیدی برادری کی پسماندگی کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان میں شعور کی کمی ہے، اگر کسی انسان کو شعور آجائے تووہ اپنی مشکلات کا حل بھی تلاش کر لیتا ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شیدیوں میں غربت بہت زیادہ ہے۔ اس لئے وہ پسماندہ ہیں ، لیکن ہمارے علاقے میں کافی سہولتیں ہیں ، لیکن بہت سی نہیں بھی ہیں۔ جیسے کہ کمیونٹی ہال نہیںہے، جہاں ہم اپنے پروگرام منقد کرسکیں۔ میری خواہش ہے کہ لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع دینا چاہئے۔ ان کو چھوٹا موٹا کام کرنے کی اجازت بھی ہو۔مگر ہماری کمیونٹی میں یہ تھوڑا مشکل ہے کہ لڑکیو ں کو کام کرنے کی اجازت ملے۔

سوال: یونیورسٹی آف سندھ لا ڑ کیمپس بدین کا تعارف کرائیں۔ یونیورسٹی کے کون سے ایسے قواعد وضوابط ہیں جو اسٹوڈنٹس کو اچھے نہیں لگتے ؟آپ کو اپنی یو نیورسٹی کی کون سی خصوصیت سب سے اچھی لگتی ہے ؟

جواب: لا ڑ کیمپس بدین ،یونیورسٹی آف سندھ کی برانچ ہے ، اس کا آغاز 2007میں ہوا ۔یہاں کی سب سے اچھی iqra3بات یہ ہے کہ امن و امان ہے ، دوسری یونیورسٹیز کی طرح یہا ں پر شیعہ ، سنی یا مہاجر اور سندھی کی بنیاد پر ، لڑائی جھگڑے نہیں ہوتے ۔ٹیچر سے لے کر چپراسی تک سب کوآپریٹوہیں ۔لاڑ کی جوبات مجھے اچھی نہیں لگتی وہ یہ ہے کہ لوگ بہت باتونی ہیں اور سہولتیں بھی کم ہیں اور اس کے لئے ہمیں اکثر احتجاج بھی کرنا پڑتا ہے ۔

سوال: کیا اندرون سندھ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوںکو ملازمت کرنے کی اجازت مل جاتی ہے ؟

جواب: ہاں ! اب پہلے سے کافی تبدیلی آگئی ہے ۔ پہلے تو لڑکیوں کوپڑھنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی تھی لیکن اب وہ ملازمت کر سکتی ہیں۔ ہاں مگر ایک بات ہے کہ انہیں ایک خاص حد تک ہی آزادی میسر ہے۔

سوال: پاکستا ن میں رہنے والی خواتین کے نام اپنے پیغام میں کیا کہناچاہیں گی؟

جواب: اپنے حقوق کے لئے آواز ضرور بلند کریں ، لوگوں کو اپنے وجود کا احساس دلائیں ، اپنے اندر خوداعتمادی پیدا کریں اور کھوکھلی دھمکیوں سے ڈرنا چھوڑ دیں ۔



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


Leave a Reply

Translate »