معروف ادیب و صحافی محترم احمد اعجاز صاحب کا ایک دلچسپ، معلوماتی اور یادگار انٹرویو

معاشرے میں ادب سے عدم دلچسپی کے باوجود بھی معیاری ادب کی تخلیق کا سلسلہ رکا نہیں۔” کہانی مجھے تلاش کرتی ہے”، “کہانی کی کہانی” یہ دونوں کتابیں محترم احمد اعجاز صاحب کی تخلیق ہیں۔ان کی جاندار تحریروں نے ادب میں ان کی ایک الگ پہچان اور مقام بنا دیا ہے ان کی تحریریں ادب سے لگاؤ رکھنے والوں کے لئے انمول تحفہ اور وہ جنہیں ادب کی سوجھ بوجھ نہیں ، انہیں بھی غوروفکر پر مجبور کرتی ہیں۔اگر آپ معیاری ادب کو پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں تو آپ کو ان دونوںکتب کے مطالعہ سے محروم نہیں رہنا چاہئے۔ حال ہی میں ان کی ایک نئی کتاب “شناخت کا بحران۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستانی سماج کا عمرانی مطالعہ” کے نام سے شائع ہوئی ہے اس کتاب میں انہوں نے پاکستان میں انتشار اور دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے اسباب پر روشنی ڈالی ہے، پاکستان کے موجودہ حالات کو بغور سمجھنے کےلئے یہ کتاب بہت معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ نوجوان ادیب محترم احمد اعجاز صاحب ادب کی خدمت کے علاوہ روزنامہ “اوصاف” اسلام آباد میں میگزین ایڈیٹر کے فرائض بھی سرانجام دے رہے ہیں، اس کے علاوہ “لیمپ پوسٹ” کے عنوان سے ان کا ہفتہ وار کالم روزنامہ “نئی بات”میں باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے۔ میں محترم احمد اعجاز صاحب کا بہت ممنون ہوں کہ انہوں نے اپنی انتہائی مصروفیت کے باوجود مجھے انٹرویو کے لئے وقت دیا۔

سوال: آپ کو لیہّ سے اسلام آبا د کے سفر میں کن مراحل سے گزرنا پڑا؟

جواب : لیہ سے اسلام آباد کے سفر میں ،مَیں نے بہت کچھ کھویا ہے ۔مَیں نے اپنا بھولپن کھویا ہے۔تاوقت اپنا آپ کھو 24112013295رہا ہوں۔ چھوٹے شہر سے بڑے شہر میں آنے کے لیے بہت کچھ کھونا پڑتا ہے ۔یہ ہجرت آسان نہیں ۔حضوراکرمﷺجب مکہ کو چھوڑنے لگے تو ایک نظر مکہ پر ڈال کر کہا کہ ”اے مکہ مَیں تم سے بہت محبت کرتا ہوں مگر یہاں کے باسی ظالم ہیں ، مجھے رہنے نہیں دیتے“۔بڑا شہر سمندر جیسا ہوتا ہے جو اپنے اندر داخل ہونے والوں کو اُٹھا کر باہر پھینک دیتا ہے۔مجھے بھی بار ہا اس شہر نے اُٹھا کر باہر پھینکا ،مگر مَیں بہت ڈھیٹ واقع ہوا۔مَیں اپنی توہین سے طاقت لیتا ہوں اور آگے کی طرف بڑھتا ہوں۔

 
سوال: ادب کی طرف آپ کا رجحان کیسے ہوا آپ نے باقاعدہ لکھنے کا آغاز کب کیا ؟

جواب: اَدب کی طرف رجحان کا ذریعہ بھی ہجرت ٹھہری۔لیہ سے فیملی نے جب ساہیوال بہ سلسلہ روزگار ہجرت کی تو مَیں پانچ برس کا تھا۔وہ ہجرت میرے شعور میں رَچ بس گئی۔پھر پڑھنے کی طرف راغب ہوا۔لکھنے کی طرف 2004سے متوجہ ہوا۔پہلی کتاب افسانوں کا مجموعہ تھا۔جس میں میرا بھولپن تھا۔مجھے توہین اور دُکھ لکھنے کی طرف کھینچتے ہیں ۔دُکھ کی قسمیں بھیڑ کے جسم پر بالوں سے بھی زیادہ ہیں ۔

سوال: آپ اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرے میں کیا تبدیلی لانا چاہتے ہیں ؟

جواب: مجھے زندگی سے بے پناہ پیار ہے ،مَیں زندگی کو خوبصورت بنانے کے لیے لکھتا ہوں۔

سوال: آپ صحافت کے شعبہ میں کب آئے اور آپ کو کو ن کون سے اخبار میں کن ذمہ داریوں پر کام کرنے کا موقع ملا؟

جواب: مَیں صحافت میں باقاعدہ 30اکتوبر 2012میں آیا۔روزنامہ اوصاف سے کام کا آغاز کیا۔اب اس وقت روزنامہ اوصاف ہی میں ”میگزین ایڈیٹر “کے طور پر اپنی صحافتی خدمات سرانجام دے رہا ہوں۔

سوال: صحافت کے شعبہ میں نئے آنے والوں کو بہت مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے کیا آپ کو بھی اپنی جگہ بنانے کے لئے سخت جدوجہد کرنا پڑی ؟562918_562908307092141_1854548171_n

جواب: پاکستان کے ہر شعبے میں قدم رکھنے کے لیے بہت مشکلات پیش آتی ہیں ۔کیوں کہ یہاں میرٹ کی ضرورت نہیں ہے۔جہاں میرٹ کو ملحوظ نہ رکھا جائے تو وہاں بااصول افراد کے لیے بہت مشکلات ہوتی ہیں ۔علاوہ ازیں یہ بُونوں کا ملک ہے ۔بڑے قد کے لوگ(مَیں یہ ہر گز تاثر نہیں دے رہا کہ مَیں بہت ہی اہم اور بڑے قد کاٹھ کا حامل ہوں ۔یہاں عمومی بات کی جارہی ہے )یہاں گوارا نہیں ۔جبھی تمام ادارے نااہل لوگوں سے بھرے پڑے ہیں ۔اور تباہ ہو چکے ہیں ۔

سوال: آپ نے باقاعد ہ کالم لکھنے کا آغاز کب کیا اورآپ کے کالم کس کس اخبار میں باقاعدگی سے شائع ہورہے ہیں ؟

جواب: مَیں نے کالم لکھنے کا آغاز 2010کے اختتامی دنوں روزنامہ خبریں سے کیا۔لیکن پھر کچھ مصروفیت کی وجہ سے ایک سال لکھنے کا عمال رُکا رہا۔آج کل کالم روزنامہ نئی بات میں لکھ رہا ہوں ۔

سوال: کیا موجودہ دور کے ادیب اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں ؟ آپ کے خیا ل میں ایک اچھے ادیب میں کیا خوبیاںہونی چاہئیں؟

جواب: ادیب اپنی ذمہ داری بھول چکا ہے ۔وہ اپنی لکھت کو ثقافتی1463574_656126717743583_1835586883_n سرگرمی کا حصہ نہیں بنا سکا۔جبھی ادب اور خود ادیب معاشرے کے کسی کونے کھدرے میں پڑے ہانپ رہے ہیں ۔ادیب کی بنیادی خوبی آگاہی ٹھہرتی ہے ۔انفرادی آگاہی بھی اور اجتماعی آگاہی بھی۔جب تک ایک ادیب خود اور ماحول سے آگاہ نہیں ہوگا تو وہ معاشرے کی خدمت کیسے کرے گا۔؟ہمارے ادیب کے ہاں آگاہی کا عمل رُک چکا ہے ۔نائین الیون کے بعد جو ہمارے سماج کا مجموعی مزاج بنا ،ادیب اُس مزاج سے آگاہ نہ ہوسکا۔یوں نئے تناظرمیں ہمارے ہاں ادبی پلیٹ فارم سے کوئی نئی چیز سامنے نہ آسکی۔یہ ادیب کا خود او رماحول سے عدم آگاہی کا نتیجہ ہے ۔

سوال: آپ کی کتنی کتابیں شائع ہوچکی ہیں اور ابھی کون کون سے موضوعات پر کتابیں لکھنے کا ارادہ ہے ؟

جواب: میرا ایک افسانوی مجموعہ”کہانی مجھے تلاش کرتی ہے“چار بار چھپ چکا ہے ۔ایک افسانے کی تنقید پر کتاب”کہانی کی کہانی“دوبار چھپ چکی ہے ۔اور ایک تازہ کتا ب ”شناخت کا بحران۔۔۔پاکستانی سماج کا عمرانی مطالعہ“کے عنوان سے NARRATIVE ISLAMABAD سے چھپ چکی ہے اور ایک کتاب ”پاکستان کا مقدمہ “زیرِ طبع ہے ۔

سوال: کیا وجہ ہے کہ نو جوانوں میں ادب سے لگاﺅ کم ہو رہا ہے اور وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں ؟

جواب: جب ادیب نے اپنی ذمہ داری نہ نبھائی تو ادب معاشرتی ترجیح نہ رہا،یوں اس کو تازہ خون نہ مل سکا۔

سوال: ایک ادیب کو دوسرے معاشروں میں جس طرح قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ، کیا پاکستا نی ادیب کو بھی ہمارے معاشرے میں وہ مقام حاصل ہے؟1459322_584450841604554_1608511063_n

جواب: ایک وقت تھا جب دنیا کی طرح ہمارے ادیب کی بھی بہت قدرومنزلت تھی۔اب بھی جو ہمارے سینئراور کچھ جونیئر ادیب ہیں جو اچھا لکھ رہے ہیں ،اُن کو ہمارے ہاں عزت ہے ۔مگر دیگر دنیا کے مقابلے میں ہمارا ادیب اپنے معاشرے میں بے توقیر ہے ۔جس کا وہ خود ذمہ دار ہے ۔

سوال: وہ کون لوگ ہیں جو اپنے آپ کو ادیب توکہتے ہیں لیکن حقیقت میں ادب کی کوئی خدمت نہیں کر رہے ہوتے ؟

جواب:  وہ ایسے لوگ ہیں جو صیحح معنوں میں اَن پڑھ ہیں ۔وہ ادیب نہیں ہیں بلکہ انہوں نے ادب کا چولا پہن رکھا ہے ۔

سوال: پاکستان کے نوجوانوں میں کتاب خریدنے اور پڑھنے کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے ، آپ کے خیال میں آنے والے وقت میں اس کے کیا منفی اثرات ظاہر ہوں گے؟

جواب: کتاب پڑھنے کا رواج ہمارے ہاں شروع دن سے کوئی بہت عمدہ نہیں رہا۔کچھ مخصوص طبقہ تھا جو کتاب سے وابستہ تھا۔ تاہم اب وہ طبقہ بھی معدوم پڑتا نظر آرہا ہے ۔بنیادی طور پر ہم کتاب دشمن لوگ ہیں ۔ہماری ریاست کتاب دشمن ریاست ہے ۔یہاں نیا سوچنے پر نیا کرنے پر پابندی ہے ۔نئے علوم کے لیے ہم نے اپنے دَر بند کیے ہوئے ہیں ۔ایک عرصہ سے ہمارا ہی نہیں پوری مسلم اُمہ کا ذہنی ارتقاءرُکا ہوا ہے ۔ مکالمہ یہاں رُکا ہوا ہے ۔جب مکالمہ پر پابندی اُٹھے گی۔ہم لکھنے اور پڑھنے کی طرف راغب ہوجائیں گے۔

Contact Mr. Ahmed Ijaz : +923332590805  |  +923135493844

Email: kahanighar.ijaz@gmail.com



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


Leave a Reply

Translate »