معروف صحافی، کالم نگار اور روزنامہ اذکار، اسلام آباد کے بیورو جیف محترم راجہ لیاقت علی صاحب کا انٹرویو

ایک رپورٹر کی حیثیت سے صحافت کی دنیا میں قدم رکھنے والے محترم راجہ لیاقت صاحب نے اپنی محنت، قابلیت اور مضبوط قوت ارادی سے شعبہ صحافت میں بہت جلد وہ مقام حاصل کر لیا ہے کہ جس مقام کو حاصل کرنے کی خواہش ہر صحافی کے دل میں ہوتی ہے۔ رپورٹنگ کے شعبہ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے ساتھ ساتھ انہوں نے روزنامہ” اذکار” اسلام آباد میں ” تلخیاں“ کے عنوان سے باقاعدہ کالم نگاری کا بھی آغاز کر دیا۔ ان دنوں وہ اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرے کی درست سمت میں رہنمائی کا فرض بہت خلوص اور غیر جانبداری سے ادا کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کالم قارئین میں دن بدن بہت مقبول ہو رہا ہے۔
صحافت کے شعبہ میں میری بڑھتی ہوئی دلچسپی نے مجھے مجبور کیا کہ میں تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے فارغ اوقات میں شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات کے انٹر ویو کا سلسلہ شروع کروں، ا س سے ایک تو مجھے آسانی کے ساتھ صحافت کے اسرار و موز کو سمجھنے کا موقع ملے گااور ساتھ ہی میری ویب سائٹ کے وزیٹر کو نئی نئی معلومات اور شخصیات کے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا۔ اپنی اس خواہش اور شوق کوپایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے میں نے پاکستان کی نامور شخصیات کی ایک لمبی لسٹ بنائی ہوئی ہے انشاءاﷲ آہستہ آہستہ آپ کو یہاں پر ملک کی بہت سی نامور شخصیات کے انٹر ویو پڑھنے کو ملیں گے۔
محترم راجہ لیاقت صاحب کا انٹر ویو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ان کا یہ انٹر ویو میرے لیے رہنمائی اور معلومات کا ذریعہ تو ہی ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ انہوں نے اس انٹر ویو میں جو دلچسپ معلومات مہیا کی ہیں وہ آپ کے علم میں بھی اضافہ کا باعث بنیں گی۔ تو لیجئے حاضر خدمت ہے محترم راجہ لیاقت صاحب کا انٹر ویو۔

سوال: آپ نے کہاں تک تعلیم حاصل کی اور صحافت کے شعبہ میں کیسے آئے؟

جواب: میں نے میٹرک تک تعلیم اپنے آبائی قصبہ مغلاں ضلع چکوال میں حاصل کی پھر گریجویشن گورنمنٹ کالج جہلم سے کیا اور ماس کمیونیکیشن میں ایم اے پنجاب یونیوسٹی لاہور سے کیا۔ اس کے باوجود کہ میرے پاس 22112011188صحافت میں ایم اے کی ڈگری تھی لیکن میں نے نہ تو صحافت کے شعبہ کو جوائن کیا اور نہ ہی کبھی صحافی بننے کے بارے میں سوچا، اس کی وجہ یہ تھی کہ میری ساری فیملی درس و تدریس یا پھر آرمی سے وابستہ ہے۔ میں خود بڑا انٹر سٹڈ تھا فوج میں جانے کے لئے میں نے دو مرتبہ “آئی ایس ایس بی” میں گیا لیکن سلیکٹ نہ ہوا، تو پھر میں نے راولپنڈی میں اپنا ایک سکول بنا لیا جو آج بھی چل رہا ہے۔
صحافت کے شعبہ میں میری آمد اتفاقاً ہی ہوئی۔ روزنامہ جنگ راولپنڈی کے سر کولیشن منیجر چوہدری اسحاق صاحب نے ریٹائرڈ منٹ کے بعد اپنا ایک اخبار نکالا۔ ایک دن وہ گھر آئے ہوئے تھے اور کہنے لگے کہ کیا کر رہے ہو، میں نے بتایا کہ اسکول چلا رہا ہوں، انہوں نے کہا تم نے ماسٹر کس سبجیکٹ میں کیا ہے میں نے کہا جی!جرنلزم میں تو وہ کہنے لگے کہ آپ ہمارے پاس آﺅ کام کرو بس یہ اتفاقاً بات ہوئی اور میں اگلے دن ان کے دفتر میں چلا گیا۔ انہوںں نے مجھ سے پوچھا کہ صحافت کے کون سے شعبہ میں کام کرنا چاہو گے۔ میرے ذہن میں کرائم رپورٹر بننے کا خیال تھا کہ یہ شعبہ بڑا دلچسپ ہے تو میں نے کہا جی! میں کرائم رپورٹنگ کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے مجھے ایک بہت سینئر رپورٹر محبوب صابر کے ساتھ منسلک کر دیا کہ یہ آپ کو دو ماہ میں ٹرینڈ کر دیں گے۔ وہ بہت مصروف آدمی تھے میں ان کے پیچھے پیچھے پھرتا تھا اور مجھے ان سے لفٹ نہیں ملتی تھی۔ خیر ان سے مجھے ٹریننگ تو نہ مل سکی البتہ اس دوران میری ایک اور سینئر رپورٹر سے ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے مجھے سمجھایا کہ رپورٹنگ کسی سے سیکھی نہیں جاتی بلکہ خود سیکھنا پڑتی ہے آپ کو اﷲ تعالیٰ نے جو خداداد صلاحیتیں دی ہیں ان کو استعمال میں لاﺅ۔ روزانہ اخبارات کا مطالعہ کرو، کرائم کی خبریں پڑھو اور ایک ہی خبر جو مختلف اخبارات میں شائع  ہوئی ہو اس کا آپس میں موازنہ کرنے کے بعد اپنی ایک خبر بناﺅ۔
یہ اﷲ کا شکر ہے کہ لکھنے کا شوق ہونے کی وجہ سے مجھے ان کے مشورہ پر عمل کرنے میں دقت پیش نہیں آئی اور ان کا یہ قیمتی مشورہ میرے لئے بہت رہنمائی کا باعث بنا۔ پھر جب ایک ماہ گزرنے کے بعد میری پہلی خبر میرے نام کے ساتھ اخبار میں شائع ہوئی تو میں اتنا خوش ہوا کہ جس طرح ایک چھوٹا بچہ لالی پاپ ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ میں نے اپنے دوستوں کو فون کر کر کے بتایا کہ آج کے اخبار میں میری دی ہوئی پہلی خبر شائع ہوئی ہے۔ اس کے بعد پھر سلسلہ چل نکلا۔
رپورٹنگ تو میں کرنے لگا لیکن در اصل مجھے کالم نویسی کا شوق تھا جب میں مشہور صحافیوں کے کالم پڑھتا تھا تو دل میں اکثر آتا تھا کہ میں بھی کبھی ان جیسا لکھ سکوں گا۔ مجھے یاد ہے کہ آج سے سات سال پہلے روزنامہ ” اساس“ اسلام آباد میں میرا پہلا کالم شائع ہوا، یہ کالم میں نے ایجوکیشن کے شعبہ میں پائی جانے والی خامیوں کے بارے میں لکھا تھا۔ مجھے اس کا بہت اچھا رسپانس ملا بس پھر کیا تھا اس کے بعد باقاعدگی سے کالم لکھنے شروع کر دئیے۔

سوال: بچپن میں کس قسم کے خواب دیکھتے تھے یا کیا بننے کا شوق تھا؟

جواب: میں کرکٹ کا بہت اچھا کھلاڑی بھی ہوں، عمران خان میرا آئیڈیل ہوا کرتا تھا میں عمران خان کی طرح کرکٹر یا پھر فوجی آفیسر بننا چاہتا تھا۔ میں جب رات کو بستر پر لیٹتا تھا تو آنکھیں بند کرکے عمران خان بن جایا کرتا تھا۔پھر میں ویسٹ انڈیز کو آسٹریلین کو باﺅلنگ کرا رہا ہوتا تھا۔ اور پھر خیالوں ہی خیالوں میں ان کے تمام کھلاڑیوںں کو آﺅٹ کئے جاتا اور پھر خود ہی نعرے بھی لگا رہا ہوتا یہ تھے میرے بچپن کے خواب۔22112011178
میں قومی سطح پر کرکٹر تو نہ بن سکا البتہ دنیائے کرکٹ کے سپر اسٹارز کے ساتھ کھیلنے اور گپ شپ کرنے سے میرا کرکٹ کا آدھا خواب ضرور پورا ہو گیا۔ راولپنڈی میں “کےایل ” گراﺅنڈ کے ساتھ ہی میرا گھر ہے اور ڈاکٹر قدیر خان کی وجہ سے ان دنوں یہاں پر انٹر نیشنل ٹیموں کے درمیان تین روزہ میچ منعقد ہوا کرتے تھے۔ دنیا بھر کی بڑی بڑی ٹیمیں اس گراﺅنڈ میں کھیلنے کے لیے آتی تھیں۔ یہاں پر مجھے پاکستان کے مایہ ناز کرکٹرز شعیب اختر، اظہر محمود، رزاق اور وسیم کے علاوہ دیگر بہت سے قومی کھلاڑیوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کا موقع ملا، سہیل تنویر کے ساتھ میں نے ٹینس بہت کھیلی ” کے ایل ” گراﺅنڈ میں آنے والی ان کرکٹ ٹیموں کے درمیان جتنے بھی نامور کرکٹر تھے ساﺅتھ افریقہ کے ، سری لنکن، آسٹریلین اور ویسٹ انڈیز وغیرہ ان سب کے کھلاڑیوں کے ساتھ باکس میں بیٹھ کر گپ شپ کرنے کا موقع ملتا رہتا تھا۔ یہی بہت ہے اب انسان کی ہر خواہش تو پوری نہیں ہوتی۔

سوال: صحافت کے شعبے میں آنے کے بعد سوچ میں کیا تبدیلی آئی؟

جواب: سوچنے کا انداز بدل گیا کہ انسان کا اس دنیا میں آنے کا صرف یہی مقصد نہیں ہے کہ کھانا کھاﺅ اور سو جاﺅ، اس کے علاوہ اپنی ذات سے ہٹ کر دوسروں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے کا جذبہ بیدار ہوا۔ شخصیت میں نکھار آیا۔ اور یہ علم ہوا کہ دنیا تو ہماری سوچ سے بھی آگے ہے صرف آپ اکیلے ہی با صلاحیت نہیں بلکہ ایک سے بڑھ کر ایک فنکار موجود ہے۔

سوال: کیا صحافی بن کر معاشی طور پر خوش حالی آسکتی ہے؟

جواب: صحافت ایک مقدس پیشہ ہے اور جو لوگ ایمانداری اور نیک مقاصد کے جذبے سے سر شار ہو کر صحافت کے شعبے کو جوائن کرتے ہیں۔ انہیں اس کا صلہ ملتا ہے۔ میرے بہت سے جاننے والے صحافی دوست اس وقت لاکھوں روپے تنخواہ لے رہے ہیں۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جو بہت نچلے لیول سے اپنی محنت کے بل بوتے پر اوپر آئے ہیں۔ پھر بھی میں یہی مشورہ دوں گا کہ وہ لوگ جن کی فیملی بیک گراﺅنڈ مضبوط نہیں یا وہ مالی طور پر غیر مستحکم ہیں انہیں بہت سوچ سمجھ کر صحافت کے شعبہ کا رخ کرنا چاہیے کیونکہ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کو کئی کئی ماہ تنخواہ کے بغیر گزارا کرنا پڑتا ہے۔ اور جب وقت پر تنخواہ نہ ملے تو ان صحافیوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر وہ مالی طور پر مستحکم ہوں گے تو اس قسم کے جھٹکے آسانی سے بر داشت کر لیں گے۔

سوال: آپ کے خیال میں انسان اپنی قسمت خود بناتا ہے یا قسمت اسے بناتی ہے؟

جواب: قسمت کو بنانے میں انسان کا کر دار اور سوچ بہت اہم کر دار ادا کرتے ہیں۔ قسمت کا بننا ایک ایسا معاملہ جو 2211201118801کہ اﷲ کی تائید اور مدد کے بغیر تو پایہ تکمیل نہیں پاتا لیکن اﷲ تعالیٰ بھی صرف ان ہی کی تائید اور مدد کرتے ہیں جو خود بھی ہمت اور کوشش کرتے ہیں اگر ہم یہ سوچ کر بیٹھ جائیں کہ قسمت میں جو لکھا ہے وہ ہو کر ہی رہے گا۔ یہ سوچ غلط ہے۔اب دیکھیں ہماری سوچ میں بھی عجیب طرح کے تضاد پائے جاتے ہیں۔ ایک طرف تو ہم کہتے ہیں کہ زندگی اور موت کا مالک خدا ہے اور اس کی مرضی کے بغیر ایک پتا بھی حرکت نہیں کر سکتا اور دوسری طرف ہم امریکہ سے ڈرتے بھی ہیں۔

سوال: آپ کو صحافت میں اس مقام تک پہنچنے کے لیے کیا کیا جدوجہد کرنا پڑی؟

جواب: سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے کوئی خاص جدوجہد نہیں کرنا پڑی میں اپنا شمار ان خوش قسمت افراد میں کرتا ہوں ۔ جن کو اچھے دوست مل جاتے ہیں۔ جب میں نیا نیا صحافت کے شعبے میں آیا تو مجھے بہت اچھے اور مخلص دوست مل گئے اشفاق ساجد صاحب جیسےاور جمیل مر زا صاحب جیسے انہوں نے مجھے بہت گائیڈ کیا اور ہر طرح سے میری سپورٹ کی اس لئے مجھے کچھ خاص جدوجہد نہیں کرنا پڑی۔

سوال: آپ کوکالم نویس بننے کا خیال کیسے آیا کیا آپ نے کسی کے مشورہ دینے پر کالم نگار بننے کا فیصلہ کیا؟

جواب: صحافت کے شعبے میں میری پہلی انٹری تو رپورٹر کی حیثیت سے ہی ہوئی تھی لیکن میرا اصل شوق کالم نویسی ہی رہا یہی وجہ ہے کہ رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ میری توجہ کالم نویسی پر بھی رہی۔ مجھے خود پر اعتماد بھی تھا کہ میں اچھا لکھ سکتا ہوں ،
شروع شروع میں تھوڑی کنفیوژن ضرور تھی پتا نہیں لوگ کیا رسپانس دیں گے لیکن جب لوگوں نے میری تحریروں کو پسند کرنا شروع کیا اور مجھے اچھا رسپانس ملنے لگا تو پھر یقین ہو گیا اور اﷲ کا شکریہ ادا کیا کہ میں واقعی لکھ سکتا ہوں اور پھر آج تک با قاعیدگی سے کالم لکھنے کا سلسلہ جاری ہے۔

سوال: آپ نے اپنے کالم کے لیے” لوگو“ کا انتخاب کس طرح کیا؟

جواب: ایک دن ہم پریس کلب میں بیٹھے ہوئے22112011182 تھے وہاں دوستوں کے درمیان یہ بات ہوئی کہ یار! کالم تو میں لکھ رہا ہوں لیکن میرے ذہن میں یہ نہیں آرہا کہ اس کا ” لوگو“ کیا ہونا چاہےے تو وہیں بیٹھے ہوئے ایک دوست نے کہا کہ میں نے تمہاری جو تحریریں پڑھی ہیں۔ ان میں تلخی بہت نظر آتی ہے۔ تم اپنے کالموں میں بہت زیادہ تنقید کرتے ہو۔ اس لحاظ سے تمہارے کالم کا عنوان تلخیاں ہی مناسب رہے گا۔ دوستوں کو یہ مشورہ میرے دل کو بھی لگا اور پھر میں نے اپنے کالم کا ”لوگو“ ”تلخیاں “ منتخب کر لیا۔

سوال: آپ اپنے کالمز میں کس چیز پر زیادہ فوکس کرتے ہیں؟

جواب: میرا زیادہ تر فوکس کرپٹ لوگوں کی کرپشن پر ہوتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی طاقتور یا بڑا ہی کیوں نہ ہو اگر وہ کرپشن کرے گا تو میں اس کے خلاف ضرور آواز بلند کروں گا۔میں کبھی بھی اصل حقائق عوام تک پہنچانے میں کوتاہی سے کام نہیں لیتا چاہے اس سے کسی کی ناراضگی کا ہی نہ سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔

سوال: آپ کا کوئی ایسا کالم جس پر بہت پذیرائی ملی ہو یا فوری ایکشن ہوا ہو؟

جواب: ویسے تو بہت سے ایسے کالم ہیں کہ جن کے چھپتے ہی اگلے دن بڑی عجیب و غریب قسم کے ری ایکشن کا سامنا کرنا پڑا لیکن میں یہاں پر صرف ایک کالم کی مثال دوں گا۔ حنیف عباسی مسلم لیگ(ن) کے راولپنڈی سے ایم اَین اَے، ہیں، اور سستی روٹی سکیم کے چیئرمین بھی۔ انہوں نے کسی سے کالم لکھوایا کر روزنامہ” جناح“ اسلام آباد میں اپنے نام سے چھپوایا ۔ انہوں نے اس کالم میں شروع سے لے کر آخر تک میاں شہباز شریف کی بہت چاپلوسی کی، اپنے اس کالم میں انہوں نے لکھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف رات2بجے مجھے فون کرکے پوچھتے ہیں کہ حنیف عباسی!” راولپنڈی میں کوئی بھوکا تو نہیں سویا، کوئی ایسا شخص تو نہیں جس کو دوائی نہ ملی ہو۔“ غرض یہ کہ اپنے اس کالم سے حنیف عباسی یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ شہباز شریف کے ساتھ میرا بہت گہرا تعلق ہے ۔ ان کے اس کالم میں جو سب سے خاص فقرہ تھا اس میں وہ یوں فرماتے ہیں کہ:” شہباز شریف وہ انجن ہے جو اس ملک کو کھینچنے کی صلاحیت رکھتا ہے”۔
میں نے ان کے اس کالم کے جواب میں کالم لکھا۔ جس میں، میں نے لکھا کہ چلیں کسی حد تک آپ کی یہ بات مان لیتے ہیں کہ شہباز شریف وہ انجن ہے۔ لیکن حنیف عباسی صاحب آپ ایک بات یاد رکھیں کہ اگر گاڑی کے انجن میں ایک پرزہ بھی خراب ہو تو وہ پورے انجن کا ستیا ناس کر دیتا ہے اور آپ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے انجن میں وہی خراب پرزہ ہیں۔ جو پورے انجن کو خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
میرے اس کالم پر انہوں نے بڑے سخت ردعمل کا اظہار کیا، میرے اخبار کے ایڈیٹر اور مالکان سے میری شکایت کی، جب انہوں نے مجھ سے اس بارے میں پوچھا تو میں نے انہیں جواب دیا کہ میں نے تو وہی لکھا ہے جو سچ تھا۔ اب اگر انہیں اس سے تکلیف ہوئی ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ اس کے بعد اب وہ میرا کالم با قاعیدگی سے پڑھتے ہوں گے۔

سوال: ایک اچھے کالم نگار میں کیا خوبیاں ہونی چاہئیں؟

جواب: ایک کالم نویس کو کسی بھی پارٹی کا وکیل نہیں بننا چاہیے۔ اس کی ذاتی ہمددردیاں چاہے کسی کے ساتھ 2211201118802بھی ہوں لیکن اس کے کالم میں وہ چیز نظر نہیں آنی چاہیے۔ اس کے علاوہ معاشرے میں اور دنیا بھر میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر ہونی چاہیے۔ جدید ٹیکنا لوجی یعنی انٹر نیٹ سے استفادہ کرنا جانتا ہو، اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرے، ملکی اور عوامی مفاد پر اپنے ذاتی مفاد کو ترجیح نہ دے میرا خیال ہے کہ صحافیوں کے ساتھ ساتھ اگر تو یہ خوبیاں ہر پاکستانی بھی اپنے اندر پیدا کرلے توہمارے ملک کے آدھے سے زیادہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

سوال: بحیثیت کالم نگار آپ کو دوسرے کون کون سے کالم نگاروں کی تحریریںاچھی لگتی ہیں؟

جواب: دوسرے کالم نگاروں کی تحریروں سے متاثر ہونا تو فطرتی بات ہے کیونکہ اس سے آپ اپ ڈیٹ بھی رہتے ہیں اور یہ پتا چل جاتا ہے کہ کون کیا لکھ رہا ہے۔ ویسے میں جاوید چوہدری صاحب، حسن نثار صاحب، اور ہارون الرشید صاحب کے کالم با قاعدگی سے پڑھتا ہوں۔ اور انگلش میں ایاز امیر جو ہمارے چکوال سے ایم این اے بھی ہیں۔ اور ثناءبچہ ان کے کالم بھی با قاعدگی سے پڑھتا ہوں۔ اورمیں ان کی تحریروںں سے متاثر بھی ہوں۔

سوال: یہ جو سننے میں آتا ہے کہ کالم نگار” پے رول“ پر کام کرتے ہیں اس کے بارے میں کچھ بتائیں گے کہ اصل حقیقت کیا ہے؟

جواب: ایک اچھا صحافی کبھی بھی پے رول پر کسی کے لیے کام نہیں کرتا۔ مگر یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ کچھ مفادات پرست عناصر نے ذاتی مفاد کی وجہ سے اصولوں پر سمجھوتہ کر لیا ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کچھ کالم نگارسیاسی پارٹیوں کے وکیل بنے ہوئے ہیں ۔ کچھ گورنمنٹ کے پے رول پر بھی ہیں اور کچھ ایجنسیوں کے پے رول پر کام کررہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی صحافی پے رول پر کام کر رہا ہوتا ہے تو پھر اس کی اپنی کوئی سوچ نہیں اس کو جو ہدایات ملتی ہیں وہ اس کے مطابق ہی لکھتا ہے اور اسی خدمت کے عوض وہ پیسے وصول کرتا ہے۔ جو لوگ اپنے مقام کا فائدہ اٹھا کر یہ مذموم کام کرتے ہیں۔ انہیں کوئی بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھتا اور ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ قارئین کا ان کی تحریروں سے اعتماد اٹھ جاتا ہے اور بلآخر وہ اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔

سوال: رپورٹنگ کے دوران پیش آنے والا کوئی یادگار یا دلچسپ واقعہ؟

جواب: میرے ایک دوست نے مجھے انگلینڈ سے فون کیا کہ میرے ابو انگلینڈ سے آرہے ہیں۔ ان کا پاسپورٹ گم ہو گیا تھا اور اب وہ ٹریول ڈاکومنٹس پر آرہے ہیں آپ انہیں ایئر پورٹ سے ریسیو کر لیں تا کہ انہیں کوئی مسئلہ نہ ہو۔میرا گھر ایئر پورٹ کے پاس ہی ہے۔ میں6بجے ایئر پورٹ پہنچ گیا تا کہ انہیں ریسیو کر سکوں۔ سارے مسافر باہر آگئے میں وہاں تین گھنٹے تک انتظار کرتا رہا لیکن وہ باہر نہیں آئے تو میں معلومات کے لیے امیگریشن آفس چلا گیا۔ میں نے ان کو اپنا تعارف نہیں کرایا، کہ میں جرنلسٹ ہوں۔ وہاں پر موجود اہلکار نے مجھے بتایا کہ آپ کے انکل کے پاس پاسپورٹ نہیں ہے اور اب وہ پاسپورٹ سیل میں جائیں گے ان پر تو ایف آئی اے کا کیس بنے گا۔2211201118803
دوسری طرف میرے دوست کے والد کو جس انسپکٹر نے اندر روکا ہوا تھا وہ ان سے تین لاکھ روپے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ میرے دوست کے والد نے اس انسپکٹر سے کہا کہ میرا بھتیجا باہر آیا ہوا ہے اس سے بات کر لیں۔ انسپکٹر میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ یہ بہت سیریس کیس ہے آپ کو کم از کم تین لاکھ کا انتظام کرنا ہوگا۔ ہماری پوری شفٹ ہوتی ہے سب کو حصہ جانا ہوتا ہے اس میں سیدھا سیدھا ڈیڑھ لاکھ تو ڈپٹی ڈائریکٹر کے پاس چلا جاتا ہے۔ اس کو یہ پتا نہیں تھا کہ میں اس کی ساری گفتگو ریکارڈ کر رہا ہوں۔ اس کا بھاشن سننے کے بعد میں سیدھا ڈپٹی ڈائریکٹر خالد خٹک صاحب کے پاس چلا گیا اور انہیں اپنا تعارف کرایا، وہ پوچھنے لگے کہ کس سلسلہ میں آئے ہیں، میں نے جیب سے ٹیپ ریکارڈ نکالی اور آن کرکے ان کے سامنے ٹیبل پر رکھ دی پہلے تو ان کا رنگ اڑ گیا، پھر وہ کہنے لگے میں ابھی آپ کے انکل جو انگلینڈ سے آئے ہیں ان کو اور پوری شفٹ کو بلواتا ہوں۔
تھوڑی دیر میں ہی ساری شفٹ اور انکل جو انگلینڈ سے آئے تھے سب کے سب ڈپٹی ڈائریکٹر صاحب کے کمرے میں حاضر ہوگئے۔ میں نے اس انسپکٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر صاحب کو تو میں کیش ڈیڑھ لاکھ روپے دے دوں گا جو ان کا حصہ بنتا ہے۔ اور آپ لوگوں کا بھی جتنا جتنا حصہ بنتا ہے بتا دیں، جب ان کو پتا چلا کہ میں جرنلسٹ ہوں تو ان کے ہوش اڑ گئے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر صاحب نے اس پوری شفٹ کو وہیں پر معطل کیا اور میں بغیر کسی ادائیگی کے انکل کو لے کر آگیا، اس واقعہ کا فائدہ یہ ہوا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر صاحب نے تمام امیگریشن کاﺅنٹرز پر لکھ کر لگوا دیا تھا کہ اگر کوئی بندہ کسی وجہ سے پیسوں کا مطالبہ کرے تو آپ میرے آفس یا موبائل نمبر پر رابطہ کریں۔ مجھے اس بات کی خوشی ہوئی کہ چلومیری وجہ سے کئی لوگوں کا بھلا ہوگیا۔

سوال: کوئی ایسی خواہش جس کے پوری ہونے کا بے تابی سے انتظار ہے؟

جواب: میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ ہمارے ملک میں جو نیچے سے لے کر اوپر تک کرپشن کا بازار لگا ہوا ہے۔ اس کا خاتمہ ہوجائے اور مجھے اپنی زندگی میں پاکستان میں ایسا سسٹم دیکھنے کا موقع ملے کہ مظلوموں کو اپنے گھر کی دہلیز پر انصاف ملے اور کسی بندے کو اپنے حق یا انصاف کے حصول کے لیے در در کے دھکے نہ کھانے پڑیں۔ بس یہی میری سب سے بڑی خواہش ہے۔



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


Leave a Reply

Translate »