موبائل ، کمپیوٹر کو وائرس اور ہیکرز سے بچانے کے طریقے

احتیاطی تدابیر اور اینٹی وائرس کا درست انتخاب آپ کو بے شمار پریشانیوں سے بچا سکتا ہے

اینٹی وائرس ایک ایسا سافٹ وئیر ہوتا ہے جو ہمارے کمپیوٹر ، موبائل اور لیپ ٹاپ پر ہونے والے وائرس حملوں کو روکتا ہے،ان کو تلاش کرتا ہے اور ان کا خاتمہ کرتا ہے اور ہیکرز کی شرارتوں سے محفوظ رکھتا ہے ۔

My this article was published in Daily Ausaf Sunday Magazine on 28 September 2014.

My this article was published in Daily Ausaf Sunday Magazine on 28 September 2014.

اینٹی وائر س کا استعمال مشکوک سافٹ وئیرز کا سراغ لگانے اور ان کو ختم کرنے کےلئے بھی کیا جاتا ہے جیسے ، Worms, Trojans, Adwares, Spyware, Keyloggers وغیرہ ۔ اس وقت مارکیٹ میں مختلف قسم کے اینٹی وائرس دستیاب ہیں جن میں سے کچھ تو ایسے ہیں جنہیں ہم انٹرنیٹ سے مفت یا صرف DVDs خرید کر استعمال کرسکتے ہیں، جبکہ کچھ اینٹی وائرسز کو استعمال کرنے کیلئے سا لانہ کی بنیاد پر ادائیگی کرنا پڑتی ہے ۔

وہ اینٹی وائرس (Primium Anti Virus) جن کو استعمال کرنے کیلئے ادائیگی کرنی پڑتی ہے وہ تیس دن کے ٹرائل ورژن میں بھی دستیاب ہوتے ہیں ۔

 وہ لوگ جو پیسے خرچ کرنے کی بجائے مفت میں ملنے والی سہولتوں سے فائدہ اُٹھانے کے عادی ہیں وہ مفت میں دستیاب اینٹی وائرس شوق سے استعمال کرتے ہیں ،جب کہ مفت اینٹی وائرسزمیں بہت سے فیچرز اور سہولتیں موجود نہیں ہوتیں، وہ اینٹی وائرس کا ایک بیسک ورژن ہوتا ہے ، مفت میں ملنے والے زیادہ تراینٹی وائرسز میں ہر قسم کا وائرس ختم کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی البتہ چند ایک مفت اینٹی وائرس ایسے بھی ہیں جن کی کارکردگی اطمنان بخش ہے ۔ مثال کے طور پر AVG Antivirus 2014 Free میں وہ تمام فیچرز موجود ہیں جو آپ کے کمپیوٹر کی سکیورٹی کو یقینی بناتے ہیں ، اس اینٹی وائرس کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں اینٹی سپائی وئیر (Anti Spyware)،ای میل سکینر، لنک سکینر بھی شامل ہوتے ہیں اور AVG کو کسی بھی ونڈوز پہ چلایا جا سکتا ہے ۔ Free Antivirus Avira بھی بہتر ین ہے، یہ ونڈوز کے علاوہ Mac اور Linux کے لئے بھی دستیا ب ہے اور یہ ہمارے کمپیوٹر میں کسی بھی قسم کے وائرس کو ڈیٹیکٹ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔avast! Free Antivirus 2014 بھی ان سب سے کچھ کم نہیں ، اس کا شمار سب سے زیادہ انسٹال ہونے والے اینٹی وائرسز میںہوتا ہے۔ اس کی مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ یہ کمپیوٹر کے کام کرنے کی رفتار اور کارکردگی پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ یہ اینٹی وائرس بھی ہے اور اینٹی سپائی وئیر بھی ۔ یہ تمام اینٹی وائرس انٹرنیٹ پر مفت دستیاب ہیں اوراس کی CD یا DVD بھی خرید کر بھی انہیں انسٹال کیا جا سکتا ہے۔ انٹرنیٹ سے غیر معروف اینٹی وائرس ڈاﺅن لوڈ کرنے کا تجربہ کرنے سے گریز کرنا ہی بہتر ہے کیونکہ گوگل کے مطابق گیارہ ہزار ایسی ویب سائٹس ہیں جہاں سے اشتہارات کے ذریعے جعلی اینٹی وائرس لوگو ں کو فراہم کئے جا رہے ہیں جو آپ کے کمپیوٹر سے ڈیٹا چرا لیتے ہیں ۔

حکومتی و نجی ادارے ، ملٹی نیشنل کمپنیز اور کارپوریشنز وغیرہ کمپیوٹر سکیورٹی کے نقطہ نظر کی بنا پر Primium Anti Virusکے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں ۔ اگر پیسے خرچ کر کے ہی اینٹی وائرس خریدنا ہو تو کیسپر سکائی ) (Kaspersky اس وقت سب سے بہترین اینٹی وائرس ہے۔اس میں وہ تمام فیچرز اور سہولتیں موجود ہیں ۔ کیسپر سکائی کے موبائل ورژن میں پریمیئم کے علاوہ مفت کی سہولت بھی موجود ہے۔ اس کے بعد BitDefender کا نمبر آتا ہے، یہ بھی با لکل Kaspersky کی طرح کا ہے لیکن یہ سسٹم پہ بہت کم بوجھ ڈالتا ہے اور اس کو کریک بھی آسانی سے کیا جا سکتا ہے جس کے بعد ہم بے فکر ہو کر اینٹی وائرس استعمال کر سکتے ہیں اور اسے اپ ڈیٹ بھی کر سکتے ہیں ۔ پریمیئم اینٹی وائرس کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ آپ کو ایک سافٹ وئیر میں بہت سے فیچرز مل جاتے ہیں ، جیسے کہ Parental Control جس کے ذریعے آپ وہ تمام ویب سائیٹس بلاک کر سکتے ہیں جن تک آپ اپنے بچوں کو رسائی نہیں دینا چاہتے اور پریمیئم اینٹی وائرسس میں اینٹی سپائی وئیر بھی ہوتا ہے اور کچھ اینٹی وائرس Key Logger کی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں تاکہ آپ اپنے بچوں یا سٹاف پر نظر رکھ سکیں اور ان میں ایڈوانس فائر وال (Firewall) بھی ہوتی جو آپ کو انٹر نیٹ پہ وائرس حملوں سے بچاتی ہے اورجب آپ کوئی ویب سائٹ کھولتے ہیں تو آپ کو آگاہ کر دیتی ہے کہ اس ویب سے آپ کو خطرہ ہے یا نہیں۔

 وہ لوگ جو Windows سیون اور ایٹ وغیرہ استعمال کرتے ہیں ، ان میں یہ خیا ل عام ہے کہ ہمارا کمپیوٹر محفوظ ہے اور اب اسے کسی اینٹی وائرس کی ضرورت نہیں کیونکہ اس میں Window Defender اینٹی وائرس ’ بِلٹ اِن ‘ موجود ہوتا ہے۔ جبکہ مائیکروسافٹ کے اس اینٹی وائرس کو ہیکرز آسانی کے ساتھ بریچ یا بائی پاس کر سکتے ہیں ، میرا مشورہ یہ ہے کہWindow Defender پر انحصار کرنے کی بجائے کوئی اچھا سا اینٹی وائرس انسٹال کر لینا چاہئے۔ اگر ہم اپنے لیپ ٹاپ ، کمپیوٹریا موبائل کو اینٹی وائرس کے بغیر استعمال کرتے ہیں توہماری ڈیوائیسز کسی بھی وقت وائرس کا شکار ہو سکتی ہیں اور ہیکر ز بھی اس صورتحال سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ کمپیوٹر میں وائرس کس طرح آتا ہے۔ صرف تین ایسے ذرائع ہیں جن کے ذریعے ہماری ڈیوائیس میں وائرس داخل ہو سکتا ہے ، وہ ہیں یوایس بی ،سی ڈی ،ڈ ی وی ڈی یا انٹرنیٹ ۔

جب کسی وائرس زدہ کمپیوٹر سے CD، DVDیاUSB میں ڈیٹا کاپی کیا جائے تو اس کمپیوٹر میں موجود وائرس بھی ساتھ ہی کاپی ہو جاتا ہے اور پھر و ہ یو ایس بی یا سی ڈی کسی دوسرے کمپیوٹر میں استعمال کی جائے تو اس میں بھی وائرس آ جائے گا ۔ اس کے علاوہ USBکا بہت منفی اور خطرناک استعمال بھی ہو رہا ہے ۔ کچھ ایسے وائرس بھی ہیں جنہیں USB میں ڈال کر جب کسی بھی کمپیوٹر کے ساتھ منسلک کیا جائے تو وہ اس کمپیوٹر کی ساری فائلیں ڈلیٹ یا کرپٹ کر سکتا ہے ۔ USB کے ذریعے کمپیوٹر کا ڈیٹا چوری کیا جاسکتا ہے اور یہ کام اتنے کم وقت میں ہو سکتا ہے کہ صرف آپ کے کمپیوٹر کے ساتھ USBلگانے اور اتانے کی دیر ہے کہ وہ آپ کے محفوظ کئے گئے پاسورڈاور حساس ڈیٹا چوری کر سکتا ہے یا کمپیوٹر پر وائرس کا حملہ یا کی لاگر انسٹال کیا جا سکتا ہے ۔’ کی لاگر(Key Logger)‘ ایک ایسا سافٹ وئیرہوتا ہے جو آپ کے’ کی بورڈ‘ پر دبائے گئے ہر بٹن کا ریکارڈ محفوظ رکھتا ہے اور پھر وہ اس ریکارڈ کو اس شخص تک پہنچا دیتا ہے جس نے اسے آپ کے کمپیوٹر میں انسٹال کیا ہوتا ہے۔USB کے حملوں سے بچنے کا بہتریں طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے کمپیوٹر میں ایک اچھا سا اینٹی وائرس ضرور انسٹال کریں ۔مزید سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لئے USB Disk Securityکے نام سے ایک سافٹ وئیر دستیاب ہے اسے بھی انسٹال کرلیں ۔

انٹرنیٹ استعمال کرتے وقت بہت محتاط رہنا چاہئے کسی بھی غیرضروری ویب سائٹ یا لنک کو کھولنے کی ضرورت نہیں ، خاص طور پر ایسی ای میل جس میں بہت پر کشش آفر ، انعام نکلنے ، یا فحش تصویر یں ہو ں، اس سے آپ کے کمپیوٹر میں وائرس داخل ہو سکتا ہے ، سپائی وئیر ، کی لاگر آسکتے ہیں ۔انٹرنیٹ پر فری گیمز والی ویب سائٹس سے بھی وائرس کا خدشہ ہوتا ہے ۔انٹرنیٹ سے کوئی غیر ضروری چیز ڈاﺅن لوڈ نہ کریں ۔ جب بھی آپ انٹرنیٹ سے کوئی چیز ڈاﺅن لوڈ کرتے ہیں تو اس کو سکین کرنے کے بعد استعمال کر یں ۔آج کل جو اینٹی وائرس آرہے ہیں وہ آپ کے کمپیوٹر کو خود ہی سکین کرتے رہتے ہیں لیکن وہ عام طور پربنیادی سکینگ ہی کرتے ہیں ۔ مکمل سکینگ آپ کو خود کرنی پڑتی ہے ۔ ہر اینٹی وائرس کا مختلف طریقہ ہوتا ہے ۔ آپ مہینے میں کم از کم دو مرتبہ اپنا کمپیوٹر ضرور سکین کریں۔ اینٹی وائرس کو ہمیشہ اپ ڈیٹ رکھنا چاہئے ۔ زیادہ تر اینٹی وائرس میں اپڈیٹ کا عمل خود کار طریقے سے ہوتا ہے ۔ لیکن بعض اینٹی وائرس ایسے بھی ہیں جس میں آپ کو خود اپڈیٹ کرنا پڑتا ہے۔اپنے کمپیوٹرکی سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لئے آپ کو بہترین قسم کا اینٹی سپائی وئیر بھی ضرور انسٹا ل کرنا چاہئے ۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ آپ کے کمپیوٹر پر جاسوسی کرنے والے سافٹ وئیر کی نشاندہی کرتا ہے اور ’کی لاگر‘ کو بھی آسانی سے پکڑ لیتا ہے ۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا قیمتی ڈیٹا دوسروں کی دسترس سے محفوظ رہے تو اپنی ڈیوائیسز کی حفا ظت کیلئے ان احتیاطی تدابیر کو ملحوظ ِ خاطر رکھیں ۔



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


One thought on “موبائل ، کمپیوٹر کو وائرس اور ہیکرز سے بچانے کے طریقے

Leave a Reply

Translate »