میرے سکول “کوکس” جی بی ایس ایس کراچی، کی ہیڈمسٹریس محترمہ نگہت جہاں صاحبہ کا انٹرویو

 میڈم نگہت جہا ں ہما رے سکو ل کی آن ہیں، ان کے حسن سلوک کی وجہ سے تمام طلبا دل سے ان کا احترام کرتے ہیں۔ میرے لئے یہ بہت اعزاز کی با ت ہے کہ میڈم نے اپنے ایک سٹو ڈنٹ کو انٹرویو کا مو قع دیا۔  میں نے میڈم سے جو بھی سوال کیا انہو ں نے بغیر کسی لگی لپٹی کے اس کا بہت زبردست انداز میں جوا ب دیا ۔

ہمارے سکول میں” کوایجوکیشن سسٹم” ہے اور کوایجوکیشن سسٹم کے طلباء کی تعلیم پر کیا اثرا ت مر تب ہو تے ہیں میڈم نے اس سوال کے جواب میں جو مثا ل دے کر کوایجوکیشن سسٹم کے بارے میں سمجھا نے کی کو شش کی ہے  اس میں پو ری پاکستا نی قوم کے لئے ایک پیغا م مو جود ہے۔اس انٹرویو کو پڑھنے کے بعد یقینا آپ بھی ان کے خیالا ت سے اتفا ق کریں گے تو لیجئے حا ضر خدمت ہے۔ “کوکس”انگلش میڈیم سکول مسلم آبا د کی ہیڈمسٹریس محتر مہ نگہت جہا ں صا حبہ کا انٹر ویو ۔

سوال: اپنی تعلیمی قا بلیت اور خا ندانی پس منظر کے با رے میں کچھ بتائیں؟

جواب: میری تعلیمی قا بلیت بی اے بی ایس سی ، بی ایڈ، ایم اے ایم ایڈ ہے۔ خا ندا نی پس منظر میں یہ ہے کہ 25112011245میرے والد چیف انجینئر تھے ۔ میری والدہ علی گڑ ھ سے بی اے بی ایڈ تھیں۔ میرے نانا انڈیا میں جیلر تھے ، میرے دادا فوج میں کیپٹن تھے اور میرے پڑنانا کی قبر آج بھی علی گڑھ یونیورسٹی میں ہے۔ ہما را خا ندان ممبئی سے ہجرت کرکے پا کستان آیا ہے ۔خا ص بات یہ ہے کہ آج سے 60سال پہلے بھی ہما ری سا ری فیملی اعلیٰ تعلیم یا فتہ تھی ۔یہی وجہ ہے کہ میری امی نے اپنی تعلیمی قابلیت کو استعما ل کر نے کے لئے کرا چی میں سکو ل بنا یا ، تاکہ نئی نسل کی فلاح و بہبود اور ان کی گر ومنگ کر نے میں آسا نی ہو ۔

سوال : دوران تعلیم مستقبل میں کیا بننے کا ارادہ تھا َ؟ آپ نے شعبہ تعلیم سے وا بستہ ہو نے کا فیصلہ اپنی مر ضی سے کیا ہے یا والدین کے کہنے پر ؟

جواب: دو ران تعلیم میرا ارادہ ڈا کٹر بننے کا تھا ۔ لیکن میرے انٹر میں اچھے نمبر نہیں آئے، آئی توفرسٹ ڈویژن تھی ۔ پھر میرے بی ایس سی میں بہت اچھے ما رکس آئے ۔ مجھے میڈیکل میں آسا نی سے ایڈ میشن مل سکتا تھا لیکن اُن دنو ں کچھ ایسے حا لا ت تھے کہ کراچی والو ں کا جو ایڈمیشن تھا وہ نواب شاہ میڈیکل کا لج میں یا حیدرآبا د میں مل رہا تھا ۔ میرے والدین اتنی دور بھیجنے کےلئے تیا ر نہیں تھے یو ں میرا ڈاکٹر بننے کا خوا ب دھرا کا دھرا رہ گیا ۔
میری والدہ کا مشورہ تھا کہ اگر میڈیکل میں ایڈمیشن نہیں ہوا تو میں بی ایڈ کر لو ں کیو نکہ ” نیشنلائزیشن ” کے بعد  اس ز ما نے میں یہ تھا کہ بی ایڈجو ہے یہ انٹر نیشنل ڈگری ہے تو اس طرح سے میں اپنی وا لدہ کی خوا ہش کی وجہ سے اس طرف آگئی ۔لیکن شعبہ تعلیم سے وابستہ ہو نے کا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔میری والدہ چو نکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں اس لئے انھیں تعلیم کے شعبہ سے بہت دلچسپی تھی ویسے بھی اس دور میں والدین یہ سمجھتے تھے کہ میڈیکل اورایجوکیشن، لڑکیو ں کےلئے سب سے اچھے اور موزوں شعبے ہیں ۔پھر اس کے بعد کیو نکہ میری رگوں میں ، میرے دو ران خون میں ایجوکیشن ہی ایجو کیشن تھی اس لئے میں نے اس شعبہ کا انتخاب کر ہی لیا اور پھر میں اس فیلڈمیں بہت کامیا ب ہوئی۔

سوا ل :آپ کو شعبہ تعلیم سے وابستگی کے دوران کون کو ن سی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا مو قع ملا ؟

جواب: میری کا رکر دگی اور تعلیمی قا بلیت کو دیکھتے ہوئے محکمہ تعلیم نے 1997 تا 1999 تک مجھے سبڈویژن ایجوکیشن آفیسرکی ذمہ داری سو نپی ۔ پھر اس کے بعد میری کا ر کر دگی کو دیکھتے ہو ئے ہما ری ڈائریکڑر نے مجھے ڈسٹر کٹ ایسٹ کے” کمپلین سیل”  کا انچا رج بنا دیا ۔ میں وز ٹنگ ٹیم میں بھی رہی ہوں، اس کے علا وہ بورڈ آ فس میں بھی کا م کرنے کا مو قع ملا ہے میں نے شعبہ تعلیم کو کبھی مالی فائدے کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھا ۔ بلکہ میں نے اسے ایک مشن سمجھا ہے اور اپنے فرا ئض پوری ایما ندا ری سے اداکرنے کی کوشش کی ۔
سوال :آپ کا ہمارے “کوکس”  سکول میں بحیثیت ایچ ایم کی ذمہ داری کا تجربہ کیسا رہا ، اورآپ کب سے یہ ڈیوٹی سرانجا م دے رہی ہیں ؟
جواب: یہ تجربہ میرے لئے بہت اچھا رہا کیونکہ اس سے مجھے جنریشن کو ریفائن کرنے کا مو قع ملا ۔25112011253
میں نے مئی 2008 ءمیں یہاں پر چارج سنبھا لا۔ مجھے بہت اچھا اسکو ل ملا یہ انگلش میڈیم اسکو ل ہے ، اور ہمارااسٹا ف بھی بہت اچھا ہے ۔ اسکول میں آنے کے بعد میرا ایک تجربہ یہ ہے کہ جو بھی  ہیڈآف دی انسٹی ٹیو ٹ ہو، اس کے پا س فل پاور ہو ۔ لیکن افسوس کہ ہما رے پا س وہ پاورز نہیں ہیں، اور بغیر پاورز کے اسکول چلا نا بہت مشکل ہے ۔ ہم ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لے سکتے جو غلط کا م کرتے ہیں کیو نکہ ہما رے پا س اس کا کوئی اختیا ر ہی نہیں ہے۔ابھی ہمیں ایک اور بہت بڑا مسئلہ درپیش ہے جو کا فی عرصہ سے حل نہیں ہورہا۔ ہمارے ہا ں جو پرا نے اور تجربہ کارسا ئنس ٹیچرز تھے جب وہ ریٹا ئرڈ ہوئے تو اس کے بعد ہمیں اُن کا متبادل نہیں مل سکا وہ بہت اچھا پڑھا رہے تھے انکے جا نے کی وجہ سے ہما رے بچو ں کی کا رکردگی پر بھی اثر پڑا ہے ۔ با ربا ر ہم نے اپنی ہائی اتھاریٹیز کولکھا ہے کہ ہمیں سا ئنس ٹیچر کی ضرور ت ہے۔ اس کےعلا وہ ہمیں کمپیوٹر کی کلا سزکےلئے بھی ٹیچر ضرورت ہے۔لیکن ابھی تک ہمیں کوئی رسپانس نہیں مل رہا ۔ میری محکمہ تعلیم سے درخوا ست ہے کہ وہ ہما رے اس اہم مسئلہ کو فو ری حل کرے ۔

سوال: جب سے آپ نے “کوکس” میں ایچ ایم کا چا رج سنبھا لا ہے تو طلباءکی فلا ح و بہبود کے لئے کیا کیا اقدا مات کیے گئے ہیں ؟

جوا ب : ایک ادارہ کی سر براہ ہو نے کے نا طے میرایہ فر ض ہے کہ میں اس با ت کا خیا ل رکھوں کہ بچہ امیر ہے یا غریب ، اس کا تعلیمی سلسلہ منقطع نہ ہو اور الحمداللہ ہم اپنا فرض پو ری ذمہ داری سے ادا کر رہے ہیں ۔
جب سے میں نے یہ ذمہ داری سنبھالی ہے ۔ بچوں کی غیر نصا بی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی حو صلہ افزا ئی کی جاتی ہے جبکہ پہلے ایسا نہیں تھا ۔ جیسا کہ ابھی اکتوبر 2011ءمیں سپارکو نے خلا میں انسان کے اُ ڑا ن کے پچا س سال کےعنوان سے کراچی کے اسکولز کے بچو ں کے درمیان مختلف مقا بلے منعقد کرائے اس میں ہمارے اسکول کے بچو ں نے بھی حصہ لیا تو اس میں بچو ں کا ٹیلنٹ بھی سا منے آیا ۔ اس پرو گرا م میں شرکت پر کا فی اخراجا ت آئے جو ہم نے فراہم کئے۔ سب سے بڑی با ت یہ کہ میرے آنے کے بعد اے اور اے ون گریڈ میں بچے پاس ہو ئے ۔جمشید ٹاون میں “کوکس” وہ واحداسکو ل ہے جس کے زیادہ تر بچے اے اور اے ون گریڈ میں پا س ہو تے ہیں ۔

سوال: گو رنمنٹ سکولوں میں پڑھنے والے طلبا ءکس طریقے کو اپناکر پرا ئیوٹ سکولوں میں پڑھنے والے طلباء سے اچھے نمبر حا صل کر سکتے ہیں؟

جواب: گورنمنٹ اسکو لو ں میں پڑھنے والے طلباءکسی طر ح بھی پیچھے نہیں ہیں ۔ وہ پرا ئیوٹ اسکو لوں 25112011240میں پڑھنے والے بچوں سے کئی گنا ہ زیادہ با صلا حیت ہوتے ہیں ۔
آپ اسی سے اندازہ لگا لیں کہ سپا رکو کے مقابلہ میں کراچی کے ٹاپ ٹین اسکولوں نے حصہ لیا اور اس کمپیٹیشن  میں ما ما پا رسی گرلزاسکول نے ماڈل میکنگ میں پہلا انعام حاصل کیا جبکہ دوسر ے نمبر پر ہمارا اسکو ل آیا ،تو یہ گو رنمنٹ اسکول سارے کراچی کے اسکولوں میں ٹاپ پر کیسے آگیا ۔ اس لئے میں پو رے اعتما د کے سا تھ یہ کہہ سکتی ہوں کہ صر ف تعلیم میں ہی نہیں بلکہ ہر میدا ن میں گو رنمنٹ اسکو لوں کے بچے پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھنے والے بچوںسے صلا حیت میں کم نہیں ہیں
ہو تا یہ ہے کہ گو رنمنٹ اسکولوں میں ٹیچرز پر جب سختی کی جا تی ہے کہ بھئی آپ صحیح نہیں پڑ ھا رہے، آپ ٹا ئم پر یا ریگولرنہیں آرہے تواگر اس ٹیچر کی اپروچ اوپر تک ہے تو انہو ں نے جا کر ایچ ایم کا تبا دلہ کر ادیا یا خو دا یسے اسکو ل میں چلے گئے جہاں 50 بچے ہیں اور 100ٹیچر ہیں ۔ان حا لا ت میں ایک ایچ ایم کس طر ح اسکول کو کنٹرول کر سکتا ہے یا ایک طالب علم کس طرح اچھے نمبر حاصل کر سکتا ہے ۔

سوال: آپ کے خیال میں طلباء پر کوایجوکیشن کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں ؟

جواب: طلبا ءپر کوایجوکیشن کے اچھے اثرا ت بھی مر تب ہو رہے ہیں اور برے بھی میں نے تو ”کو ایجوکیشن“ میں ہی پڑھا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ لڑکے اور لڑکیو ں کے اکھٹے پڑھنے سے بہت سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں ۔ اس لئے میں کبھی بھی” کو ایجو کیشن “کی ہمت افزا ئی نہیں کر وں گی ۔ میں ” کو ایجو کیشن “ کو کبھی بھی پسند نہیں کر تی یہ سب انگریز کی با قیا ت ہیں وہ خود تو چلا گیا لیکن اس کا بنا یا ہوا نظا م آج بھی چل رہا ہے ۔
کوایجوکیشن کے مسائل یہ ہیں کہ ایک لڑکا بہت اچھا پڑھنے والا ہے ۔ دو سری طرف سے لڑکی نے اُسے لائن ما ر د ی اور اس کی تو ّجہ پڑھا ئی سے ہٹ گئی ،خرا ب ہوا۔ ۔ ۔ ۔  نہیں ہوا ، بچہ ۔ ۔ ۔ اب ایک لڑکی بہت اچھی پڑ ھنے والی ہے لیکن لڑکے نے اُسے تنگ کرا ، اچھا چلو اس نے کوئی رسپانس نہیں دیا مگر وہ ڈسٹرب تو ہو گئی ۔
آپ چا ہے آج سے 60سا ل پہلے دیکھ لیں یا آج کا دور،” کو ایجوکیشن“ کا رزلٹ ایک ہی ہے کیو نکہ آج سے 60سال پہلے بھی آم کا ذائقہ وہی تھا اور آج بھی وہی ہے ۔ میری اس با ت پر ماں با پ کو بھی توجہ دینی چا ہیے،وہ لڑکیو ں کو پڑھنے کے لئے وہاں نہ بھیجیں جہا ں کوایجوکیشن سسٹم ہو۔
میں تو یہ کہتی ہو ں کہ جب اتنی بلڈنگز بن رہی ہیں ،اتنے ادارے بن رہے ہیں تو ہونا تو یہ چا ہیے ناں کہ لڑکوں کی یونیورسٹی الگ کر یں اور لڑکیوں کی یونیورسٹی الگ کریں ۔ اگر لڑکو ں اور لڑکیو ں کے اسکول بھی الگ الگ ہو ں تو اس میں اسٹوڈنٹ کے لئے بہت بہتری ہے ۔ گورنمنٹ اگر سنجیدہ ہو تو یہ مسئلہ آسانی سے حل ہوسکتا ہے ۔

سوال: کیا وجہ ہے کہ سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے زیادہ تر طالب علموںمیں خود اعتما دی کی کمی پا ئی جاتی ہے ؟

جواب: جب آدمی ہر طر ف سے ” بیلنسڈ” ہو ، مطلب یہ کہ مالی لحا ظ سے ، اسٹیٹس کے لحا ظ سے تو پھر وہ خود اعتمادی سے آگے بڑتا ہے ۔ خو د اعتما دی میں کمی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہےکہ گو رنمنٹ اسکولوں میں پڑھنے والے بچے وسا ئل کی کمی کا شکار ہوتے ہیں اس لئے وہ ” انڈر ایسٹی میٹ ‘”رہتے ہیں اور خو د اعتمادی کی کمی چیزوں کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے ۔اس کے علاوہ ہر وقت کی ڈانٹ ڈپٹ اور کیا ،کیوں ، کیسے سے بھی بچے کے اندر خود اعتما دی ختم ہو جاتی ہے اور وہ کسی کے سامنے زیادہ کھل کر با ت نہیں کرسکتے ان کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ جب کوئی بچہ سوچ لیتا ہے کہ ہم معا شر ے میں فِٹ فاٹ ہیں تو اس سوچ سے ہی اس کی خود اعتمادی میں اضا فہ ہو جاتا ہے۔

سوال کیا آ پ گو رنمنٹ سکولوں کی حا لت پر مطمئن ہےں ؟

جواب : میں با لکل بھی مطمئن نہیں ہو ں، گو رنمنٹ اسکو لوں میں سروس سیکورٹی کی وجہ سے کرپشن بہت عام ہوئی ہے۔ اساتذہ پڑھا نا نہیں چا ہتے ، صر ف انہیں تنخوا ہیں ملتی رہیں اور وہ گھروں پر بیٹھے رہیں یہ ان کی خواہش ہے ۔

سوال: کیا کو چنگ اور ٹیو شن کی مدد حا صل کیے بغیر بھی گو رنمنٹ سکولوں کے طلباء اچھے نمبر حاصل کر سکتے ہیں ؟

جواب: وہ کہتے ہیں ناں! مرتا کیا نہ کرتا ، اس لئے کہ جب اسکول میں ٹیچر پڑھا ہی نہیں رہےتو بچے کہیں نہ کہیں سے تو پڑھیں گے ناں۔ اب دیکھیں جب اولیول کے بچے ایک ایک سبجیکٹ کے چھ چھ ہزا ر روپے دے کر کو چنگ کر رہے ہیں۔ جب ٹاپ اسکولوں کے بچے ٹیو شن پڑھ رہے ہیں ۔تو اگر گورنمنٹ اسکولوں کے بچے ٹیو شن پڑھ لیں گے تو اس میں کوئی حرج والی بات نہیں ہے ۔ٹیچرز نے تو سوچ لیا ہے کہ ہم پڑھا ئیں یا نہ پڑھا ئیں ہمیں تو تنخواہ مل ہی جانی ہے۔ اب آپ خود ہی بتا ئیں کہ بچے کیا کریں انہیںمجبوراً کسی نہ کسی سے مدد لینی ہی پڑھتی ہے ۔

سوال : آپ کو طلباء کی کن حرکتو ں پر غصہ آ تا ہے ؟

جواب : طلبا ءکی شرار تیں مجھے بہت اچھی لگتی ہیں ۔ مجھے شریر بچے بہت پسند ہیں ۔ کیو نکہ بچپن میں ،میں بھی بے حد شریر ہوا کر تی تھی ۔لیکن جب بچے کہنا نہیں مانتے تو اس وقت غصہ آتا ہے یا وہ کام کر تے ہیں جو بد تمیزی میں آتا ہے ۔

سوال: کیا وجہ ہے کہ دن بہ دن طلبا ءمیں تعلیم حا صل کر نے کی لگن کم ہورہی ہے ؟

جواب: خا ندانی اثرا ت بچو ں پر سو فیصد اثرانداز ہو تے ہیں میں آپ کو بتاوں! ماں باپ بچو ں کی تعلیم و تر بیت کہ ذمہ دار ہو تے ہیں۔ ہم تو صرف بک نا لج دے سکتے ہیں ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کر سکتے ہیں لیکن جہاں تک رویوّں کا تعلق ہے اس میں سب سے اہم کردار ما ں با پ کا ہے ۔
بچےکواسکول میں تعلیم کےلئے بھیجنے والے ما ں با پ ہی ہیں۔ انہیں چا ہیے کہ وہ دیکھیں کہ بچہ کیا پڑھ رہا ہے اسکول جا بھی رہا ہے یا نہیں ۔ ۔ ۔ ۔  وہ اسکو ل میں جا ئیں ایچ ایم سے پو چھیں ، استا دوں سے پو چھیں کہ کیا با ت ہے کیوں پڑھائی نہیں ہو رہی یہ سا را چیک اپ رکھنا ما ں باپ کا کام ہے ۔

سوال : حکو مت کی طر ف سے طلبا کو مفت کتا بیں مہیا کر نے کے کیا مثبت نتا ئج سامنے آئے ہیں ؟

جواب: کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ دوسری سا ئیڈ سے مہنگائی بڑھ گئی ہے صر ف مفت کتا بیں دینے سے فر ق نہیں پڑیگا ۔  اب ان بچوں کے لئے اپنی دیگر ضرو ریا ت کو پو را کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

سوال : بچوں کو ایک اچھا طالب علم بنا نے کے لئے ،والدین اپنی ذمہ داریاں کس حد تک پو ری کر رہے ہیں ؟

جواب: وا لدین چا ہتے تو ہیں کہ ہمارے بچے پڑھیں لیکن وہ اپنی ذمہ داری پو ری نہیں کر تے ، میں آپ کو بتا وں !بچے کی اصل تر بیت پرائمری سے ہی شروع ہو جا تی ہے پا نچویں کلا س تک بچے کی شخصیت  مکمل ہوجا تی ہے۔ کسی بھی بچے کی بنیا د خراب کرنے والے ۔ ۔ ۔ ۔  غیر تر بیت یا فتہ پرا ئمری ٹیچر ہیں۔ اگر ٹیچر تر بیت یا فتہ ہوں تووہ پرائمری تعلیم پر زیادہ تو جہ دیں اور اگر والدین اس با ت کو سمجھیں تو بچے کی اچھی شخصیت بنا نے میں کامیا بی حا صل کی جا سکتی ہے ۔

سوال : کیا آپ سندھ بو رڈ کے نصا بی کتب کے معیار سے مطمئین ہیں؟

جواب: نہیں میںتو بالکل بھی مطمئن نہیں ہوں ہم لو گ تو 200سال پیچھے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم تر قی یافتہ مما لک کے نصا ب کا جا ئزہ لے کر، نئے سرے سے نصاب مرتب کر یں ، تاکہ ہم بھی ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ چل سکیں ۔

سوال: اگر آ پ کو وزیر تعلیم بنا دیا جائے تو سرکا ری سکو لوں کے معیارِ تعلیم کو بلند کر نے کے لئے کےا اقدامات کریں گی؟

جواب: پہلے تومیں بننا پسند ہی نہیں کروں گی ۔ اگر فر ص کر یں کہ قسمت نے بنا دیا تو میرا سب سے پہلا کا م یہ ہو گا کہ میں سب سے پہلے اُن لوگو ں کی ایک لسٹ بنا ؤں گی جو رشوت دینے اورلینے میں ملوث ہوں گے اس کی و جہ یہ ہے کہ جب تک سسٹم سے کرپٹ لوگ نہیں نکلیں گےآپ تعلیمی معیار بہتر نہیں کر سکتے۔ میں سب سے پہلے اُ ن عنا صر کو ہٹا نے کی کوشش کروں گی جن کی وجہ سے معیار تعلیم خراب ہو رہا ہے ۔اور اُن کی جگہ ایسے ایما ندار لوگو ں کو آگے لا ؤں گی جو اپنا فرض ادا کرنے میں ذمہ دار ی کا مظا ہرہ کریں ۔

سوال: کیا آپ سمجھتی ہیں کہ گورنمنٹ سکو لو ں میں پڑھانے وا لے اسا تذہ اپنے فرا ئض ایمانداری سے ادا
کر ر ہے ہیں ؟

جواب: با لکل بھی نہیں کررہے۔ جب ان پر کوئی پریشرآتا ہےتو، یہ توجہ سے کام کرنے لگ جاتے ہیں ورنہ اُن کی سوچ یہ کہ ہمیں ہر مہینے کے مہینے تنخواہ تو مل رہی ہے،انہیں با لکل بھی خو ف خدا نہیں ہے ۔
کوئی بھی جو ہے نا ں وہ اپنے فرائض صحیح طر یقے سے سر انجا م نہیں دے رہا ۔ نہ ہی انہیں احسا س ہے کہ ہماری جنریشن خراب ہو رہی ہے ۔

سوال : پا کستان کے حا لا ت کیسے درست ہو سکتے ہیں ؟

جواب: سب سے پہلی با ت یہ ہے کہ جو محکمے معا ملات کو کنٹرو ل کر تے ہیں جیسے پو لیس کا محکمہ ہے جب وہ ہی غلط کا موں کی سرپرستی کریں گے تو پا کستان کے حا لات کس طر ح درست ہو سکتے ہیں۔پا کستان کے حا لا ت اسطرح بہتر ہو سکتے ہیں کہ پو لیس کا محکمہ با لکل ختم کر دیا جائے۔ اور پھر ا یما ندا ر اور محنت کر نے والے لو گوں کی ایک ایسی فورس بنا ئی جا ئے جو تما م معا ملا ت کی نگرانی ذمہ داری سے ادا کرے۔ پرا ئیوٹ سکیورٹی ایجنسیوں کو بالکل بند کردیا جا ئے۔ اب ان میں مفاد پرست عنا صر ا ٓگئے ہیں ، اور آج کل جتنی بھی وارداتیں ہو رہی ہیں وہ پرائیوٹ سکیو رٹی گا رڈز کی وجہ سے ہو رہی ہیں ۔

سوال: وہ کون سے ایسے اقدامات ہیں جس سے پا کستا ن کی سلا متی کو بر قرا ر رکھنے میں مدد مل سکتی ہے؟

جواب: دیکھیں پاکستا ن کے جو حا لا ت ہیں ، اس کو تو اللہ نے ہی بر قرار رکھا ہو ا ہے ۔ دنیا وی لحاظ سے میں آپ کو ایک بات بتا وں ، کہ پا کستان میں جتنی بھی سیا سی پار ٹیا ں ہیں اور اس وقت جو بھی حالا ت چل رہے ہیں ان حا لات کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں ایک خیا ل آ رہا ہے کہ اس سے پہلے کہ غیر مسلم اور کا فر لو گ آ کر پا کستان پر قبضہ کر لیں ، یہ ملک سعو دی عر ب کے زیراثر دے دیا جا ئے ۔
وہاں کے شر طے یہا ں آ جائیں اور ایک دو لا کھ آدمیوں کے ہاتھ اور پیر کا ٹ دئیے جا ئیں ، سر قلم کر دئیے جا ئیں تو پاکستان کے حالا ت بہتر ہو جا ئیں گے ۔ اگر آپ یہ ملک کسی کو قبضے میں دے ہی رے ہیں تو کیو ں نہ ہم اسے سعودی عرب کے حوالے کر دیں کم از کم دل کو یہ سکون تو ہو گا کہ اس کو کسی اسلا می ملک نےگود لے لیا ہے میرے خیا ل میں تو پاکستان کی سلامتی اسی میں ہے کیو نکہ  اس وقت جتنے غیر مسلم ہیں ان کی پا کستان کے قدرتی وسا ئل پر نظریں ہیں ۔اور وہ یہا ں پرافراتفری پھیلا کر قبضہ کر نے کے چکر میں ہیں ۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنے منصو بہ میں کا میا ب ہو جا ئیں ، حکومت کو فوری طور پر میرے اس مشورہ پر سنجیدگی غو ر کر نا چا ہیے۔



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


Leave a Reply

Translate »