میکرو پاک سلوشنز، سافٹ وئیر ہائوس کے چیف ایگزیگٹیو محترم فیضان اسلم صاحب کا انٹرویو

پاکستان کی خدمت کے جذبے سے سرشار محترم فیضان اسلم صاحب نے زیرو انویسٹمنٹ سے اپنے سافٹ ویئر ہاﺅس کی بنیاد رکھی۔ اﷲ کے فضل و کرم سے آج پاکستان میں اُن کے دو بڑے سافٹ ویئر ہاﺅس ہیں جبکہ ایک فرنچائز آفس کینیڈا میں کام کررہا ہے۔ پاکستانی نوجوانوں کےلئے ان کی شخصیت اور کام ایک روشن مثال کی طرح ہے۔ اگر ہم بھی چاہیں تو ان کے نقش قدم پر چل کر اپنے مستقبل کو محفوظ بناسکتے ہیں۔
میکرو پاک سلوشنز کے چیف ایگزیکٹیو محترم فیضان اسلم صاحب کا یہ انٹرویو خاص طور پر ان افراد کےلئے بہت حوصلہ افزاء ہے جو وسائل کی کمی کے باوجود کچھ کر گزرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ، وہ سافٹ ویئر انجینئرز جو اپنا سافٹ ویئر ہاﺅس بنانا چاہتے ہیں یا وہ سٹوڈنٹس جو سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کی فیلڈ میں آنا چاہتے ہیں ان سب کےلئے ہی یہ انٹرویو کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔
میں محترم فیضان اسلم صاحب کا بہت ممنون ہوں کہ انہوں نے مجھے اس انٹرویو کےلئے سکائپ پر ایک گھنٹہ 18منٹ کا وقت دیا۔ وہ بہت مصروف انسان ہیں اس کے باوجود انہوں نے میرے ہر سوال کا تسلی بخش اور faizanaslamprofilepicnew1تفصیلی جواب دیا۔ البتہ اس انٹرویو کے بعد مجھے ایک عجیب صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جب میں نے انٹرویو میں لگانے کےلئے تصاویر طلب کیںتوان کا مؤقف تھا کہ مجھے نمود و نمائش کا شوق نہیں، آپ میری تصویروں کے بغیر ہی انٹرویو لگادیں۔ میرے پرزور اصرار پر بلا آخر انہوں نے تصاویر مہیا کر ہی دیں۔ اس انٹرویو کو اَپ لوڈ کرنے میں تاخیر کا سبب تصویروں کا انتظار ہی تھا۔

سوال: آپ نے تعلیم کہاں کہاں سے حاصل کی اور بچپن میں آپ کو کیا بننے کا شوق تھا؟

جواب: میں نے ڈی پی ایس، ساہیوال سے ایف ایس سی کرنے کے بعد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی آف اسلام آباد سے سافٹ ویئر انجینئر کی ڈگری حاصل کی۔ دورانِ تعلیم میرا شمار ٹاپ ٹین طالب علموں میں تو ہوتا تھا لیکن میں کبھی ٹاپر نہیں رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے رٹا لگانے کی عادت نہیں تھی۔ میری زیادہ توجہ پریکٹیکل ورک پر ہوتی تھی۔
بچپن میں ہر بچہ کچھ نہ کچھ بننے کے خواب ضروردیکھتا ہے اسی طرح میں نے بھی ڈاکٹر بننے کا سوچا تھا وہ اس لئے کہ میرے ایک دوست یاسر جمال کے ابو ڈاکٹر تھے۔ میں جب ان کو کام کرتے ہوئے دیکھتا تو یہ مجھے بہت آسان لگتا کہ جب ان کے پاس کوئی مریض آتا تو وہ اس سے دوائی لکھنے کی فیس لے لیتے تھے۔ میں مزاجاً ذرا سُست طبیعت کا مالک ہوں اور میری سوچ یہ تھی کہ میں کوئی ایسا کام کروں جس میں زیادہ ٹینشن نہ ہو اور میں اسے اپنی خوش قسمتی کہوں گا کہ اﷲ نے مجھے اس سے بھی اچھا کام دے دیا۔

سوال: ساہیوال سے آکر اسلام آباد میں سافٹ ویئر انجینئر کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران کن کن مراحل سے گزرنا پڑا؟

جواب: جب میں اسلام آباد میں سافٹ ویئر انجینئر بننے کی تعلیم حاصل کررہا تھا تو یونیورسٹی اخراجات کے لئے مجھے گھر والوں سے 6700 روپے ماہانہ ملتے تھے۔ حالانکہ یہ معقول رقم تھی لیکن پھر بھی مشکل سے گزارا ہوتا تھا۔ اس وقت اکثر میرے دل میں خیال آتا کہ پتہ نہیں اپنا کیا بنے گا۔ پھر ہوا یوں کہ دورانِ تعلیم ہی مجھے وطین ٹیلی کام میں انٹرن شپ کرنے کا موقع مل گیا اور انٹرن شپ کے بعد مجھے وطین میں ہی کار پو ریٹ سیلز کی جاب مل گئی جو کمیشن بیسڈ تھی میں نے سب سے پہلے اپنی یونیورسٹی کو ہی ٹارگٹ کیا ۔ اس کام میں پیسہ بہت تھا۔ مجھے ہر ماہ 50سے 60 ہزار روپے مل جاتے تھے۔ بس پھر میں نے بہت انجوائے کیا۔ دوستوں کی پرتکلف دعوتیں ہوتیں، بائیک لے لی، مجھے دل کھول کر خرچ کرنے کی عادت پڑگئی، آپ خود ہی سوچیں سٹوڈنٹ لائف میں آپ کو 60,50 ہزار روپے ماہانہ مل جائیں اور پوچھنے والا بھی کوئی نہ ہو تو دل کھول کر خرچ کرنے کی عادت پڑ ہی جاتی ہے میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
ابھی وطین ٹیلی کام کے ساتھ کام کرتے ہوئے مجھے صرف تین ماہ ہی ہوئے تھے کہ میں نے یہ جاب چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ جاب میری فیلڈ سے متعلق نہیں تھی اور آنے والے وقت میں مجھے اس جاب کا کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا تھا ۔بس اسی بنا پر میں نے یہ جاب چھوڑ دی۔
میرا روم میٹ جو میری ہر پُرتکلف دعوت میں شامل ہوتا تھا، ہوٹلوں کے کھانے کھا کھا کر اس کی عادتیں بھی خراب ہوگئیں تھیں، وہ مجھ سے اکثر کہتا کہ یارفیضان! کچھ کرو اب اپنا گزارا نہیں ہوتا، میں بھی روزانہ سوچتا تھا کہ اب کون سا ایسا کام کروں جس سے چار پیسے بھی آجائیں، اور میری پڑھائی بھی متاثر نہ ہو، ایک دن میرا روم میٹ مجھے کہنے لگا کہ میرا ایک دوست انٹرنیٹ پر لکھنے لکھانے کا کام کرتا ہے، اس سے ملتے ہیں لیکن میرا دل یہ کام کرنے پر آمادہ نہیں ہوا۔اسی دوران مجھے ایک دوست کی معرفت برطانیہ سے آفر آئی کہ انٹرنیٹ سے ڈیٹا جمع کرنے کا کام کرلیں گے، ہم نے وہ کام 200 ڈالر میں کرنے کی حامی بھرلی، ہم نے اﷲ کا شکر کیا کہ کوئی کام تو ملا، اب صبح یونیورسٹی جانا اور رات کو ڈیٹا انٹری کا کام کرنا یہ کافی محنت طلب کام تھا ہمارا برا حال ہوگیا، لیکن کام مکمل کرنے کے بعد 200ڈالر ملے تو دل خوش ہوگیا، کیونکہ کافی دیر کے بعد دوبارہ پیسے ہاتھ لگے تھے، وہ ہمارے کام سے بہت مطمئن ہوئے اس کے بعد انہوں نے ہمیں مزید پراجیکٹ دئیے۔ میرے روم میٹ کا faizandistriایم بی اے مکمل ہوگیا اور میرا بھی آخری سمسٹر آگیا، تو وہ کہنے لگا کہ ہم جتنا بھی کام کرتے تھے ہماری مشترکہ محنت ہوتی تھی لیکن میں چاہتا ہوں کہ  اب ہم علیحدہ علیحدہ اپنا اپنا کام کریں میں نے کہا ٹھیک ہے۔
جیسے آپ خوش۔ میرا روم میٹ بہت اچھا انسان تھا مجھے پتہ تھا کہ اس نے یہ بات کسی لالچ میں نہیں کی، اس لئے مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوا۔ پھر اس کے تین چار ماہ بعد تک میں اپنے آخری سمسٹر میں مصروف ہوگیااور کوئی کام نہیں کیا۔ یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد میری اس سے ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگا کہ مجھے تو جاب مل گئی ہے اس لئے اب میری ڈیٹا انٹری کے کام میں دلچسپی نہیں رہی لیکن آپ اس کام کو مت چھوڑو…. تو پھر میں نے دوبارہ UKکے دوستوں سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ کوئی کام ہے تو انہوں نے مجھے ایک پراجیکٹ دے دیا۔ انہیں دنوں مجھے ایک فیس بک فرینڈ عمران نے کال کی کہ مجھے دس ہزار روپے کی ضرورت ہے۔ میں نے اسے کہا کہ یار! میں تو خود سٹوڈنٹ ہوں۔ اتنے زیادہ پیسوں کا انتظام نہیں کرسکتا۔ ہاں تم ایسا کرو کہ ہاسٹل آجاﺅ، مل بیٹھ کر اس کا کوئی حل نکالتے ہیں۔ جب عمران میرے پاس آیا تو میں نے اسے بتایا کہ میرے پاس اس مسئلے کا صرف ایک ہی حل ہے کہ اگر تم میرے ساتھ انٹرنیٹ پر ایک مہینہ کام کرادو، تو میں تمہیں دس ہزار روپے دے دوں گا۔ وہ میرے ساتھ کام کرنے پر آمادہ ہوگیا۔ ہم نے ڈٹ کر کام کیا اور اس کے نتیجہ میں مجھے پہلے سے زیادہ پیسے ملے۔ میں نے اپنے وعدے کے مطابق دس ہزار روپے اس کو دے دئیے پھر اس کے بعد عمران نے میرے ساتھ تین ماہ تک کام کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ میرا پہلا ایمپلائی تھا۔ اور میں اس وقت خود سٹوڈنٹ تھا۔ مجموعی طور پر اسلام آباد میں تعلیم حاصل کرنا ایک خوشگوار تجربہ ثابت ہوا۔

سوال: سافٹ ویئر ہاﺅس بنانے کا خیال کیسے آیا اور شروع شروع میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟

جواب: سافٹ ویئر ہاﺅس بنانے کے بارے میں تو کبھی سوچا نہیں تھا بس خود بخود سب کچھ ہوتا گیا الحمدﷲ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اپنا بزنس زیرو انویسٹمنٹ سے شروع کیا اور گھر والوں سے یا کسی سے کوئی سپورٹ نہیں لی۔ میں آپ کو اس کی تھوڑی سے تفصیل بتادیتا ہوں۔ جب عمران تین ماہ کام کرنے کے بعد چلاگیاتو میرے ایک سینئر محمد شاہد بھائی جو ایم ایس سی کے سٹوڈنٹ تھے اور میرے بہت اچھے دوست بھی تھے۔ ان دنوں وہ خود پچّیس ہزار روپے ماہانہ پر جاب کررہے تھے، میں نے انہیں اپنے ساتھ کام کرنے کی آفر کی ، جو انہوں نے قبول کرلی۔ اس کے بعد میں نے اپنے ایک اور دوست افتخار کو بھی بحیثیت ایمپلائی رکھ لیا۔ اب ہمارے پاس ہاسٹل میں جگہ کم پڑگئی تو ہم نے اسلام آباد میں ایک دوست کے ذریعے ایک کمرے کا انتظام کرلیا۔ اس دوران میری تعلیم مکمل ہوگئی اور میں یونیورسٹی سے فارغ ہوگیا۔
جب میں والدین سے ملنے کےلئے ساہیوال گیا تو اپنے والد محترم کی خدمت میں پچاس ہزار روپے پیش کئے۔ میں نے کہا کہ یہ میری پہلی کمائی سمجھیں۔ ابا جی بہت حیران بھی ہوئے اور خوش بھی…. اور پوچھنے لگے کہ تم نے اتنے سارے پیسے کیسے کما لئے تب میں نے انہیں تفصیل کے ساتھ بتایا کہ میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ کام بھی کرتا رہا ہوں اور اب اﷲ کے فضل سے اسلام آباد میں اپنے سافٹ ویئر ہاﺅس کی بنیاد بھی رکھ چکا ہوں۔ ابا جان کہنے لگے کہ یار! ابھی مزید تعلیم حاصل کرلو یا کوئی جاب وغیرہ کرلو پتہ نہیں مستقبل میں تمہارا یہ کام چلے یا نہ چلے میں نے انہیں بتایا کہ جاب کرنے کا تو کوئی ارادہ نہیں اور میں نے جتنا پڑھ لیا ہے اُمید ہے کہ اس سے ہی کام چل جائے گا۔ میں نے ان سے ایک سال کی مہلت مانگی کہ اگر تو میں ایک سال میں سیٹ ہوگیاتو ٹھیک ہے ورنہ جیسے آپ کہیں گے ویسے ہی کرلوں گا۔ شکر ہے انہوں نے میری بات مان لی۔
اب گھر والوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ ساہیوال میں بھی ایک آفس بنالوں۔ میں ڈرتا تھا کہ ساہیوال ایک چھوٹا شہر ہے پتہ نہیں یہاں سافٹ ویئر ہاﺅس چلے گا بھی کہ نہیں۔ جب گھر والوں کا اصرار زیادہ بڑھا تو میں نے اس بارے میں اپنے ایک ٹیچر محترم شہباز صاحب سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ اگر تمہاری ترجیح صرف پیسہ ہے تو پھر اسلام آباد میں ہی کام کرو اور اگر تم سمجھتے ہو کہ زندگی میں کچھ چیزیں پیسے سے بھی زیادہ اہم ہوتی ہیں تو پھر والدین کی خواہش کا احترام کرلو۔ اور ویسے بھی تمہارے پاس ابھی ایک دو سال کا وقت ہے تم تجربہ کرسکتے ہو اگر کامیابی مل جاتی ہے تو اس کو جاری رکھو اور اگر فرض محال کامیابی نہیں بھی ملتی تو جلدی سنبھل جاﺅ گے کیونکہ ابھی تم ابتدائی سٹیج پر ہو اور اگر یہی تجربہ دو سال بعد کروگے تو ذمہ داریاں بڑھ چکی ہوں گی اور ناکامی کی صورت میں سنبھل نہیں سکوگے۔
میں نے اُن کے مشورے پر عمل کیا اور اپنے ایک دوست اسد سے کہا کہ یار مجھے ساہیوال سے کوئی اچھا بندہ ڈھونڈ کر دو تو اس نے مجھے کہا کہ آپ شیروبھائی سے مل لیں۔ شیرو بھائی سے ملاقات ہوئی اور ساہیوال میں وہ میرے پہلے ایمپلائی تھے۔ اب میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ ساہیوال میں سافٹ ویئر ہاﺅس کا آغاز کیسے کیا گیا۔ میں نے اپنا بیڈروم خالی کیا اور اس میں ہی دو کرسیاں اور دو ٹیبل رکھ کر کام کا آغاز کردیا۔ اب تین سال کے بعد ساہیوال میں میرا اپنا ملٹی سٹوری سافٹ ویئر ہاﺅس ہے۔ اﷲ کا کرم ہے مجھے بہت اچھی ٹیم ملی ہے اور ہمارے پاس الحمدﷲ کام بھی بہت ہے۔ شروع شروع میں مشکلات بس یہ ہوتی ہیں کہ اچھا کام کرنے والا سٹاف ڈھونڈنے میں تھوڑی مشکل پیش آئی، اس کے علاوہ اور کوئی ایسی خاص مشکل پیش نہیں آئی۔

سوال: ایک سافٹ ویئر ہاﺅس بنانے کےلئے کتنا سرمایہ چاہیے اور پھر بزنس کہاں کہاں سے حاصل کیا جاسکتا ہے؟

جواب: جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ میں نے اپنا سافٹ ویئر ہاﺅس زیرو انویسٹمنٹ سے شروع کیا۔ اس کام میں پیسے سے زیادہ آپ کی تخلیقی صلاحیت کام آتی ہے۔ اگر آپ میں تخلیقی صلاحیت موجود ہے۔ تو پھر صرف ایک macrogroupکمپیوٹر اور انٹرنیٹ کنکشن کی مدد سے بھی اچھا بزنس حاصل کرسکتے ہیں۔سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کی فیلڈ میں کوئی آپ کی ڈگری نہیں دیکھتا بلکہ یہاں پھر تو آپ کا کام آپ کی پہچان بنتا ہے۔ اس مارکیٹ میں نئے نئے آئیڈیاز متعارف کرانے والے کو بہت پذیرائی ملتی ہے۔
اگر آپ میں صلاحیت ہے تو پھر بزنس حاصل کرنا بھی کچھ مشکل نہیں۔ انٹرنیٹ نے تمام باﺅنڈریز کو ختم کردیا ہے۔ دنیا ایک گلوبل ولیج بن گئی ہے۔ اب سافٹ ویئر کی گلوبل مارکیٹ آپ کی پہنچ میں ہے آپ دنیا بھر کی کمپنیوں سے جتنا چاہے بزنس حاصل کرسکتے ہیں۔ اور کہیں بھی بیٹھ کر کام کرسکتے ہیں۔

سوال: آپ کون کون سی سروسز مہیا کررہے ہیں اور اگر کوئی آپ سے سافٹ ویئر یا ویب سائٹ بنوانا چاہے تو آپ اس کا کتنا معاوضہ لیتے ہیں؟

جواب: ویسے تو ہم بہت سی سروسز مہیا کررہے ہیں جو آپ ہماری ویب سائٹ پر تفصیل سے دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن ہما را زیادہ تر کا م آن لائن یا ویب بیسڈ ایپلی کیشنز کا ہے اور دنیا بھر میں اس وقت زیا دہ تر کا م ویب بیسڈ ایپلی کیشنز کا ہی ہو رہا ہے۔ سافٹ ویئر انڈسٹری دو قسم کی ہے ایک لوکل اور دوسری انٹرنیشنل، بنیادی طور پر ہم سافٹ ویئر ایکسپورٹ کررہے ہیں اور اس بزنس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ پاکستان میں 2016ءتک یہ ٹیکس فری بزنس ہے۔ ہم نے تو کلائنٹ کی ڈیمانڈ پر سروسز مہیا کرنا ہوتی ہیں۔
ان دنوں ہم یو ایس اے میں ایئرلائن کے بزنس سے وابستہ ایک کمپنی کےلئے ویب بیسڈ ایپلی کیشن بنارہے ہیں، ہمیں اس ایپلی کیشن پر کام کرتے ہوئے تقریباً دو ماہ ہوچکے ہیں اور ابھی اس کو مکمل ہونے میں مزید ایک ماہ لگ جائے گا۔ ہم جس طرح کا کام کررہے ہیں، اس میں کوئی پہلے سے طے شدہ فکس معاوضہ نہیں ہوتا، بلکہ کسی بھی کام کو دیکھنے کے بعد ہی معاوضہ بتایا جاتا ہے۔ بس ہمیں ایک سہولت ہے کہ ہمارے انٹرنیشنل کلائنٹس تعلیم یافتہ اور اس کام کی اہمیت کی سمجھ بوجھ رکھنے والے ہیں اور انہیں اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ہمیں کتنی محنت کرنا پڑتی ہے، اس لئے انہیں اچھا معاوضہ دیتے ہوئے کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی اور ہمیں بھی اُن کا کام کرکے خوشی ہوتی ہے۔
اس کام میں بس ایک خطرہ ہے اور اس بزنس کی شاید سب سے بڑی خامی بھی یہی ہے کہ اس کام میں آپ کو یہ پتا نہیں ہوتا کہ کسی پراجیکٹ پر کتنا ٹائم لگے گا یا کلائنٹ آپ کو کتنا تنگ کرے گا کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ نے جو معاوضہ طے کیا ہوتا ہے اس پر آمدن سے زیادہ خرچ ہوجاتا ہے۔

سوال: پاکستان میں کس قسم کے سافٹ ویئرز کی زیادہ ڈیمانڈ ہے اور بیرونِ ممالک میں کس قسم کے سافٹ ویئرز کی زیادہ ڈیمانڈ کی جاتی ہے؟

جواب: پاکستان میں زیادہ تر آﺅٹ ڈیٹڈ سسٹمز کی زیادہ ڈیمانڈ ہے، پاکستان ابھی بہت پیچھے ہے یہاں پر بہت کام ہونے والا ہے۔ ابھی تک پاکستان میں لوگوں کو علم ہی نہیں ہے کہ ایک اچھا سافٹ ویئر ان کے بزنس کی ترقی میں کیا کردار ادا کرسکتا ہے۔ ابھی کچھ وقت لگے گا ۔فی الحال تو پاکستان میں وہی پرانی طرز کے سافٹ ویئر استعمال ہورہے ہیں۔ اور ان کی ہی ڈیمانڈ ہے اگر ہم اپنے کسی پاکستانی کسٹمر کو اپنی مرضی سے کوئی اچھی چیز بنادیں تو انہیں اس کی سمجھ ہی نہیں آتی اس لئے ہم ہمیشہ اپنے کلائنٹ کی خواہش اور ہدایت کے مطابق کام کرتے ہیں۔ پاکستانی کلائنٹس کے ساتھ کام کرتے ہوئے ہمیں اکثر اوقات پریشان کن صورتحال کا سامنا بھی کرنا پرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کلائنٹ کو خود بھی پتہ نہیں ہوتا کہ اس نے کیا بنوانا ہے۔ اکثر کلائنٹس یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہم نے تو ایسے کہا ہی نہیں تھا آپ نے یہ کیا بنادیا…. اب اس میں یہ یہ تبدیلیاں کردیں۔ شاید ان کے نزدیک یہ معمولی بات ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تھوڑی سی بھی تبدیلی کےلئے بہت زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔
اس لئے ہماری ترجیح یہ ہوتی ہے کہ انٹرنیشنل کلائنٹ کا کام زیادہ کیا جائے۔ ہم جوویب بیسڈ ایپلی کیشنز تیار کرتے ہیں اس میں انسانی نفسیات اور کاروبار کی ضرورت کے تمام تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انٹرنیشنل مارکیٹ میں ہمارے کام کو بہت پسند کیا جارہا ہے۔ یہ ویب بیسڈ ایپلی کیشنز کا دور ہے اور بیرونِ ممالک میں سب سے زیادہ ڈیمانڈ آن لائن یا ویب بیسڈ ایپلی کیشنز کی ہی ہے۔ انہوں نے کاروبار میں ترقی حاصل کرنے کےلئے جدید سہولتوں کا استعمال سیکھ لیا ہے اور وہ اس سے بھرپور فائدہ بھی اُٹھارہے ہیں۔

سوال: سافٹ ویئر ہاﺅسز بنانے کے بعد ابھی تک آپ کو جو رسپانس ملا ہے کیا آپ اس سے مطمئن ہیں اور مستقبل میں اپنے آپ کو کہاں پر دیکھ رہے ہیں؟

جواب: الحمدﷲ بہت اچھارسپانس ملا ہے۔ اﷲ کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے۔ باقی رہی بات مستقبل کی تو نیت اچھی ہونی چاہئے تو پھر ا للہ اس کا اجر ضرور دیتا ہے۔

سوال: میں نے سنا ہے کہ بھارت، سافٹ ویئر انڈسٹری سے بہت زیادہ پیسے کمارہا ہے، کیا وجہ ہے کہ ہم ان سے بہت پیچھے ہیں؟

جواب: انڈیا نے ہم سے بہت پہلے سا فٹ وئیر انڈسٹری میں داخل ہو گیا تھا ا س بنا پر اب تو انڈیا کے ہر گلے کوچے میں یہ کام چل رہا ہے۔ اسے پاکستا نی حکومت کی سستی کہہ لیجئے کہ ہم نے اس شعبہ میں کچھ دیر سے قدم رکھا اب پاکستا ن کوشش تو پوری کر رہا ہے مگر آبادی اور وسا ئل کم ہونے کے باعث ہم ان سے کا فی پیچھے ہیں۔

سوال: اگر کسی کے پاس بی اے یا ایم اے کی ڈگری ہو اور اب وہ سافٹ ویئر کی فیلڈ میں آنا چاہے تو کیا انٹرنیٹ کی مدد سے وہ اپنی مدد آپ کے تحت، سافٹ ویئر ڈویلپر بننے کی تعلیم حاصل کرسکتا ہے؟

جواب: یہ ساری بات ہے دلچسپی کی اگر آپ کی دلچسپی ہے تو آپ سب کچھ کرسکتے ہیں۔ ویسے مجموعی طور پر سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اتنی آسان بھی نہیں۔ صرف ویڈیو ٹٹوریلز کی مدد سے اس فیلڈ میں مہارت حاصل کرنا کافی مشکل ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناممکن نہیں۔ یہ ایک ایسی فیلڈ ہے جس میں اگر آپ کو کوئی گائیڈ کرنے والا مل جائے تو آپ بہت آسانی سے اور جلدی سیکھ لیں گے۔

سوال: پاکستان کے تعلیمی اداروں میں ایک سافٹ ویئر ڈویلپر کو جو نصاب پڑھایا جاتا ہے کیا آپ اس سے مطمئن ہیں۔ اگر نہیں تو پھر اس مسئلہ کا کیا حل ہے؟

جواب: ہر گز مطمئن نہیں…. اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری یونیورسٹیز میں ایک سافٹ ویئر ڈویلپر کو جو سبجیکٹ پڑھائے جارہے ہیں اس میں موجود سارا تعلیمی مواد ہی آﺅٹ ڈیٹڈ ہے۔ وہ تمام سٹوڈنٹس جن کو موجودہ نصاب پڑھایا جارہا ہے وہ پاس ہونے کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن عملی زندگی میں اس کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ سٹوڈنٹس کو پریکٹیکل لائف میں بہت مشکل پیش آتی ہے۔ دورانِ تعلیم تو وہ بہت مطمئن ہوتے ہیں کہ ہم نے بہت پڑھ لیا۔ لیکن حقیقت میں اُن کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا۔
کوم سیٹ یونیورسٹی والوں کے ساتھ میری ایک میٹنگ ہوئی تھی انہوں نے بھی یہی سوال کیا تھا کہ ہمیں سٹوڈنٹس کو کیا کیا پڑھانا چاہئے تو میں نے انہیں بتایا تھا کہ سچ پوچھیں تو آپ جو پڑھارہے ہیں اس میں صرف چار مہینوں کا ایک سمسٹر کام کا ہے باقی آپ سٹوڈنٹس کا وقت ضائع کررہے ہیں۔ اکثر یونیورسٹیز میں سافٹ ویئر ڈویلپرز کو فزکس، تھیوری آف آٹومیٹا، میتھ، کیمسٹری، مینجمنٹ، فنانشل اکاﺅنٹنگ اور مارکیٹنگ کے سبجیکٹ بھی پڑھائے marcoofficeجارہے ہیں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ان سبجیکٹس کا سافٹ ویئر کی تعلیم کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ صرف کریڈٹ آورز پورے کرنے کے چکر میں سٹوڈنٹس کو غیر ضروری سبجیکٹ پڑھاکر ان کا وقت ضائع کیا جارہا ہے۔
اگر آپ نے کریڈٹ آورز ہی پورے کرنے ہیں تو کم از کم ان کو وہ پڑھائیں جو ان کے کسی کام بھی آسکے، لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ کوئی یونیورسٹی بھی اس مسئلہ کو حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہی۔
اصل میں ہم وہ قوم ہیں جو اپنے فیصلے خود نہیں کرتی یا تو ہم لوگ انسپائر ہوتے ہیں یا پھر ہم ان کے حکم پر چلتے ہیں۔ ان کے حکم سے مراد میرا اشارہ امریکہ یا اس لابی کی طرف ہے جس کو ہم سٹین ازم بھی کہہ سکتے ہیں جو پو ری دنیا پر اپنا نظام رائج کر نا چاہتے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہے کہ پو ری دنیا کا پیسہ چند ہاتھو ں تک محدود ہو کر رہ جائے ۔
جب تک ہم اپنی ضرورتوں کے مطا بق نصاب تیار نہیں کریں گے ہمارے ڈگری ہولڈرز کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جائے گا۔ یہ مسئلہ اسی وقت حل ہوگا جب سارا سسٹم تبدیل ہوگا۔ ان حالات میں وہ سٹوڈنٹس جو کچھ کرنا چاہتے ہیں یا آگے نکلتا چاہتے ہیں انہیں اس رائج شدہ سسٹم سے نکل کر اپنی دنیا خود بنانا ہوگی۔ دنیا میں جتنے بڑے لوگ مثلاً بل گیٹس، اسٹیو جابز، وغیرہ آگے نکلے وہ رائج شدہ سسٹم کے پیچھے نہیں چلے بلکہ انہوں نے اپنی دنیا خود بنائی۔

سوال: ایک طالب علم کو تعلیمی ادارے کا انتخاب کرتے وقت کن کن خصوصیات کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ کمپیوٹر کی تعلیم کے حوالے سے آپ کے خیال میں پاکستان میں اچھے تعلیمی ادارے کون کون سے ہیں؟

جواب: کبھی بھی بلڈنگ دیکھ کر یونیورسٹی کا انتخاب نہ کریں۔ کسی بھی یونیورسٹی کا معیار اس کے پڑھانے والوں کی قابلیت پر ہوتا ہے۔ اس لئے یونیورسٹی کا انتخاب کرنے سے پہلے وہاں کی فیکلٹی کے بارے میں معلومات حاصل کریں کہ وہاں پر پڑھانے والوں کی قابلیت کیا ہے۔مجموعی طور پر پرائیویٹ یونیورسٹیز سے گورنمنٹ کی یونیورسٹیاں ہزار گنا بہتر ہیں جبکہ سیمی گورنمنٹ یونیورسٹیز سب سے بہتر ہیں۔ مثلاً یو ای ٹی، نسٹ، کیس یونیورسٹی، غلام اسحاق خان یونیورسٹی اور انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد وغیرہ۔

سوال: اگر ایک طالب علم میٹرک کے بعد سافٹ ویئر ڈویلپر بننا چاہتا ہے تو اس کو کون کون سے کورسز یا ڈگری کی ضرورت ہوگی اور اسے اپنی تعلیم مکمل کرنے میں کتنے سال لگیں گے؟

جواب: میٹرک کے بعد 2 سال ایف ایس سی میں اور پھر اس کے بعد چار سال سافٹ ویئر ڈویلپر بننے میں لگتے ہیں۔ اس طرح کل 6 سال ہوگئے۔ اگر آپ نے صرف ڈویلپمنٹ وغیرہ ہی کرنی ہے تو پھر گریجویشن ہی کافی ہے، اور اگر آپ ٹیچنگ کے شعبہ میں آنا چاہتے ہیں تو پھر ایم ایس بھی کرلیں۔

سوال: اگر کوئی ینگ سافٹ ویئر ڈویلپر آپ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہے یا آپ سے رہنمائی حاصل کرنا چاہے تو کیا وہ آپ سے رابطہ کرسکتا ہے؟

جواب: سافٹ ویئر ڈویلپر کا مطلب تو یہ ہے کہ اسے کام کرنا آتا ہے اگر وہ ہماری ٹیم کا حصہ بن کر کام کرنا چاہتا ہے تو پھر اسی صورت میں ممکن ہے کہ اسے آفس میں آکر کام کرنا ہوگا، گھر میں بیٹھ کر کام کرنے کو میں ترجیح نہیں دیتا البتہ ہما را خواتین پر مشتمل کچھ سٹا ف گھر میں رہ کر بھی کا م کرتا ہے ۔
اگر کسی کو بھی رہنمائی کی ضرورت ہو تو وہ مجھ سے ای میل پر رابطہ کرسکتا ہے۔ ویسے میں نئے سافٹ ویئر ڈویلپرز کو مشورہ دوں گا کہ اگر وہ ایپلی کیشنز کی طر ف آنا چاہتے ہیں وہ فوٹو شاپ میں سلائسنگ پر زیادہ سے زیادہ عبور حاصل کریں اور اس کے علاوہ کسی ایک خاص فیلڈ کو منتخب کرلیں کیونکہ اگر آپ کو ایک ایپلی کیشن بھی صحیح استعمال کرنی آجائے تو آپ کے پاس کبھی بھی پیسوں کی کمی نہیں ہوگی۔

سوال: پاکستان کی نوجوان نسل کے نام اپنے پیغام میں کیا کہنا پسند فرمائیں گے؟

جواب: مجھے نوجوان نسل کے ساتھ ایک بہت بڑا شکوہ ہے۔ ساری زندگی پڑھتے پاکستان میں ہیں، وسائل پاکستان کے استعمال کرتے ہیں، اور جب کام کرنے کے قابل بن جاتے ہیں تو اس ملک کو برا بھلا کہتے ہوئے اس ملک کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ بس مجھے یہی کہنا ہے کہ پاکستان جیسا بھی ہے اپنا تو ہے۔ خدارا اس کو نہ چھوڑو، اس جیسا ملک دنیا میں او رکوئی نہیں اور اگر سب باصلاحیت لوگ پاکستان کو چھوڑ کر چلے جائیں گے تو پھر اس کا کیا بنے گا۔

www.macropaks.com، ceo@macropaks.com



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


Leave a Reply

Translate »