ناروے کے قومی دن کے موقع پرناروے ایمبیسی، اسلام آباد میں پروقار تقریب

زمانہ قدیم سے ہی ناروے ایک آزاد ملک کی حیثیت رکھتا تھا۔ لیکن 1319ءمیں ناروے کو سویڈن کے ساتھ شامل کرلیاگیا۔ 1380ءمیں اسے ڈنمارک کا حصہ بنا دیا گیا۔ نپولین کے جنگوں کی اثرات کی وجہ سے 1814 ءمیں ڈنمارک اور ناروے علیحد ہ ہو گئے۔ ناروے ، جنگ جیتنے والوں کے ساتھ تھا اس بنا پر انہوں نے ناروے کو حاصل کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ یہ مطالبہ نارو یجین عوام کو پسند نہیں تھا۔ ساڑھے چار سو سال بعد 1814ءمیں ڈنمارک نے ناروے کو دوبارہ سویڈن کے حوالے کردیا اور بالآخر بہت طویل جدوجہد کے بعد 7 جون 1905 ءکو ناروے نے سویڈن سے علیحدگی اختیار کرکے اپنی آزادی کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔ ڈینش شہزادہ کارل کو ناروے کا بادشاہ منتخب کیا گیا۔ اس نے نارویجن بادشاہ ہوکن کانام چنا۔ بادشاہ ہوکن ہفتم 1905ءسے 1957ءمیں اپنی وفات تک ناروے کا بادشاہ رہا۔
اگرچہ 17مئی کو ناروے کا قومی دن منایا جاتا ہے لیکن دراصل 17 مئی ناروے کا یوم آئین ہے۔ 17 مئی 1814ءکوناروے نے اپنا آئین بنایا اسی مناسبت سے 17 مئی کو نارو ے کا قومی دن قرار دیا گیا۔ ناروے میں قومی دن نہایت شان و شوکت اور جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔اوسلومیں سکول کے1200 بچوں نے1870 میں پہلی مرتبہ باقاعدہ ایک جلوس نکال کر ناروے کے قومی دن کو منانے کا آغاز کیا۔17 مئی کو بچوں کا دن بھی کہا جاتا ہے بچوں کو سارا سال اس دن کا انتظاررہتا ہے۔ اس دن کو منانے کی تیاریاں مہینوں پہلے شروع کر دی جاتی ہیں۔ ملک بھر کے سکولوں میں قومی دن کے حوالے سے خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اس موقع پر قومی فخر اور خوشی کامنفرد انداز دیکھنے کو ملتا ہے۔ ناروے زندہ باد کی گونج ہر طرف سنائی دیتی ہے۔
قومی دن کی تقریبات میں بچے بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ناروے کے قومی دن کی مناسبت سے ہر شہر میں سکول کے بچے ناروے کے جھنڈے اور جھنڈیاں لہراتے اور گاتے ہوئے شہر کا چکر لگاتے ہیں۔ ہرسکول کے جلوس کے آگے ایک یا دو بچے اس سکول کا جھنڈا اٹھائے ہوتے ہیں۔ یہ اعزاز حاصل کرنے کے لئے ہر سکول کے طالب علم سخت محنت کرتے ہیں۔ اس جھنڈا بردار طالب علم کے پیچھے عمدہ یونیفارم میں سکول کا بینڈ ہوتا ہے۔ جو موقع کی مناسبت سے قومی دھنیں بجا تا ہے ، سرخ و سفید قومی لباس اور نیلے پرچم کے ساتھ قومی ترانے”ہاں ہم اس ملک سے محبت کرتے ہیں“کی دھن کی گونج ہر طرف سنائی دیتی ہے۔ دوپہر کے بعد سکولوں، پارکوں ، اور شہری مراکز میں تقاریر ہوتی ہیں۔ شام کو مقامی سطح پر ہر علاقے میں بچوں کیلئے مختلف دلچسپ سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جشن آزادی کی اس خوشی میں بچوں کے علاوہ ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے مرد اور خواتین ،تارکین وطن بھی یکساں مسرت اور جوش وخروش سے اس دن کو مناتے اور تقریبات میں شریک ہوتے ہیں۔
ناروے کے قومی دن کی رنگا رنگ تقریبات کو دیکھنے کے لئے دنیا بھر کے سیاح دارالحکومت اوسلو کا رخ کرتے ہیں۔ اوسلو میں سکول کے بچوں کا جشن آزادی کا جلوس بڑا طویل ہوتا ہے۔ مختلف سیاسی پارٹیوں کے نمائندگان اور شہری انتظامیہ پر مشتمل ایک منتخب کمیٹی اس جلوس کے انتظامی معاملات کو کنٹرول کرتی ہے۔ یہ جلوس اوسلو کی مرکزی شاہراہ” کارل یوہان“ پر مارچ کرتا ہوا ، ناروے کی قومی اسمبلی کے صدر اور پھر ناروے کے بادشاہ کو سلامی پیش کرتا ہے۔ اس پر مسرت موقع پر ناروے قومی اسمبلی کے صدر ، بالکونی میں کھڑے ہو کر جلوس کے شرکاءکو ہاتھ ہلا ہلا کر خوش آمدید کہتے ہیں جبکہ ناروے کا بادشاہ اپنے خاندان کے ہمراہ شاہی محل کی بالکونی میں کھڑے ہو کر بچوں کے اس جلوس کی سلامی لیتا ہے۔ اس دن ٹیلی وڑن پر اوسلو اور دیگر شہروں کے جلوس براہ راست نشر کئے جاتے ہیں۔
ناروے کے قومی دن کے موقع پر پاکستان میں بھی ہر سال 17 مئی کو ناروے ایمبیسی اسلام آباد کے زیر اہتمام ایک پر وقار تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔جس کا سہرا پاکستان میں تعینات ناروے کے سفیر(Tore Nedrebo)کے سرپر جاتا ہے۔ اس تقریب میں مختلف ممالک کے سفیروں کے علاوہ مقامی افراد کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔ مہمانوں کواس شاندار اور رنگا رنگ تقریب میں ناروے کی ثقافت سے ہم آہنگ ہونے اور اسے سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


Leave a Reply

Translate »