نیوزی لینڈ کے، وے کاٹو مینجمنٹ سکول کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور مینجمنٹ کنسلٹنٹ کے طور ہر دنیا بھر کی اہم شخصیات اور اداروں کو سروسز فراہم کرنے والے محترم پروفیسر ڈاکٹر جنزمیولر کا انٹرویو،

اعلیٰ تعلیم یافتہ ایسوسی ایٹ پروفیسر اور چھ مختلف اداروں اور کمپنیوں کے ڈائریکٹر/فاﺅنڈر/چیئرمین مسٹر پروفیسر ڈاکٹر جنز میوُلرسے،جو بھی ایک بار ان سے ملا قا ت کر لےتا ہے یا وہ ادارے جو ان سے سروسز حاصل کرتے ہیں وہ ان کے گرویدہ ہو جاتے ہیں ۔اُن کی بے پناہ صلاحیتوں کی وجہ سے دُنیا بھر کے تمام بڑے بڑے کا روباری ادارے اور اہم شخصیات اپنے کا روباری مسائل سے نمٹنے کےلئے اور اپنے کاروبار کو مز ید ترقی دینے کےلئے اُ ن سے مینجمنٹ کنسلٹنٹ کی سروسز حاصل کرتے ہیں۔
مسٹر پروفیسر ڈاکٹر جنز میوُلر اس وقت جو کام کررہے ہیں اور جن کا روباری اداروں کی قیادت کررہے ہیں ان کا مختصر تعارف یہ ہے ، بحیثیت ایسوسی ایٹ پروفیسر ، وے کاٹو مینجمنٹ سکول ، نیوزی لینڈ۔وزٹنگ پروفیسر، ناردرن ایلونوئی یونیورسٹی ، ڈیکلب ، امریکہ۔ ایگزیکٹو چیئرمین ، ٹری ایکسیس لمیٹڈ۔ایگزیکٹو چیئر مین ٹاش کمپیوٹر پرائیوٹ لیمٹڈ،۔بحیثیت پبلشر، روزی سمتھ لمیٹڈ۔ فاﺅنڈیشن چیئر مین انٹرنیشنل کوالٹی ایجوکیشن فاﺅنڈیشن۔ڈائریکٹر فارمیک۔
مسٹر پروفیسر ڈاکٹر جنز میوُلر آٹھ مختلف زبانوں پر عبور رکھتے ہیں اور سیروسیاحت کے بھی بہت شوقین ہیں وہ meullerدنیا کے تمام اہم ممالک کی سیر کر چکے ہیں حالانکہ ان دنوں وہ بہت مصروف زندگی گزار رہے ہیں لیکن پھر بھی وہ سیروسیا حت کےلئے کچھ نہ کچھ وقت نکال ہی لیتے ہیں ۔مسٹر جنز میوُلر کی خدمات حاصل کرنے والے ان کے قدردان پو ری دنیا میں موجود ہیں ، دنیا کے تمام بڑے بڑے ممالک کی اہم اور وی آئی پیز شخصیات کے ساتھ ان کی تصاویر ان کے فیس بک اکاﺅنٹ میں موجود ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کے وہ ایک کامیاب ، باصلاحیت اور بڑے انسان ہیں ، ان تمام تر صلاحیتیوں کے باوجود جب میں نے ان سے انٹرویو کے لئے وقت مانگا تو انہوں نے اپنے قیمتی وقت سے کچھ وقت نکا ل کر مجھے انٹرویو دے دیا اس پر میں ان کا تہہ دل سے مشکور ہوں ، مجھے اُمید ہے کہ ان کا یہ انٹرویو ہر ملک کے لو گو ں کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوگا۔

سوال: آپ اپنے بارے میں کچھ بتائیں کہ آپ نے کہاں تک تعلیم حاصل کی ؟

جواب : میں نے ایم بی اے ، ناردرن ایلونوئی یونیورسٹی ، ڈیکلب ، امریکہ سے کیا ۔ جورِس ڈاکٹر کی ڈگری ویسٹرن سٹیٹ یونیورسٹی، کالج آف لائ، کیلی فورنیا ، امریکہ سے حاصل کی۔ ما سٹرزآف لائ، گولڈن گیٹ یونیورسٹی ، کیلی فورنیا ، امریکہ سے حاصل کیا۔ ما سٹرزآف ایڈوانس مینجمنٹ، ڈروکرکلیئرماﺅنٹ یونیورسٹی ، کیلی فورنیا سے کیا اور پی ایچ ڈی یونیورسٹی آف کینٹربری نیوزی لینڈ سے کی ۔

سوال: آپ کا بچپن کہاں پر گزرا اور آپ بچپن میں کیا بننا چاہتے تھے؟

جواب: میرا بچپن جرمنی میں گزرا ، مجھے بچپن سے ہی سیروسیاحت کا شوق تھا اور میں بہت سیروسیاحت کی ہے ۔
سوال: آ پ نے اپنی پہلی ملازمت کون سی کی اور آپ کو اس مقام تک پہنچنے کےلئے کتنی جدوجہدکرنا پڑی ؟

جواب: میں نے اپنی ملازمت کا آغاز ایک چیف ایگزیکٹیو کے ڈرائیور کے طو ر پر کیا ، اس کے بعد مجھے اسی کمپنی کا سیلزمین بنا دیا گیا اور آج ساتھ سال بعد یہ کمپنی میں خود چلا رہا ہوں ۔

سوال: آپ کی پسندیدہ ملازمت کون سی ہے اور کس کام سے آپ بوریت محسوس کرتے ہیں؟

جواب : جب میں ابھی نوجوان تھا تو میری یہ خواہش ہوتی تھی کہ میں کسی بڑی کمپنی کا چیف ایگزیکٹو یا چیئر مین بنوں لیکن اب مجھے اپنے جونیئر ز مینجرز کو پڑ ھانا اور سکھانا اچھا لگتاہے۔

سوال: اتنی مصروفیت کے باو جود آپ اپنی فیملی او رتفریح کےلئے کس طرح وقت نکالتے ہیں ؟

جواب: میں اپنے وقت کا ایک بٹا تین(1/3) حصہ پیسے کمانے پر صرف کرتا ہوں۔اس طرح ایک بٹا تین(1/3) حصہ میرے پاس فرصت کا ہوتا ہے اور میں اپنے وقت کایہ ایک بٹا تین(1/3) کھیل اور تفریح میں گزارتا ہوں ۔

سوال: آپ مستقبل میں ابھی مزید کیا کرنا چاہتے ہیں اور ان کامیابیوں کو حاصل کرنے کے لئے آپ نے کیا منصوبہ بندی کی ہے ؟

جواب: میں نے آنے والے دس سالوں کی منصونہ بندی کی ہوئی ہے اور میں اسی پلاننگ کے مطابق عمل کررہا ہوں ۔

سوال: وہ کون سا کام ہے جس کے کرنے سے آپ کو بہت اطمینان حاصل ہوا ؟

جواب: میں نے شروع میں جوچند کتابیں لکھیں تھی میں اپنے اس کام سے بہت مطمئین ہو ں۔

سوال: آپ کو دنیا بھر کی کن کن اہم شخصیا ت کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا اور آپ سب سے زیادہ متا ثر کس سے ہوئے ؟

جواب: مجھے امریکن صدور ، ریگن ، کلنٹن اور بش سینیئر کے ساتھ ملنے اور کام کرنے کا موقع ملا ہے ۔ اس کے علاوہ میں بے نظیر بھٹو اور دو درجن سے زیادہ ”ورلڈ لیڈرز“ کے ساتھ مل چکا ہوں ۔

سوال: آپ کے خیال میں ایک اچھے نظام تعلیم میں کیا خصوصیا ت ہو نی چاہیں ، اس وقت کس ملک کا نظام تعلیم سب سے اچھا ہے ؟

 جواب: سب سے اچھا نظام تعلیم وہ ہے جس میں پروفیسرز یہ تسلیم کرتے ہوں کہ ہمارا یہ روزگار ان طلباءکی وجہ سے ہے اور ہم نے ان کو ان کی فیلڈ میں آگے لے کر جانا ہے ۔سب سے اچھا نظام تعلیم امریکہ ، نیوزی لینڈاور آسٹریلیا کا ہے ۔

سوال: آپ مجھے کسی ایسے واقعہ کی مثال دے سکتے ہیں جب آپ کے ساتھ کا م کرنے والوں نے آپ کی رائے کی سخت مخالفت کی ہو تو پھر اس سے کیا صورتحال بنی اور اس پر آپ کا کیا ردِعمل تھا؟

جواب: میرے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہو ا۔

سوال: آپ کو کس بات سے خوشی ہوتی ہے اورآپ کب اُداس ہو تے ہیں اور اپنی اس کیفیت پر کیسے قا بو پاتے ہیں؟

جواب: میں اس بات پر یقین رکھتا ہو ں کہ ہمارے قریبی دوست اچھے ہو نے چاہیں ۔ جب مجھے مدد کی ضرورت ہو تی ہے تومیں ان سے رجو ع کرتاہو ں۔

سوال: آپ کو لوگو ں کی کو ن سی عادتیں اچھی نہیں لگتیں اور آپ اپنے غصے کا اظہار کس طر ح کرتے ہیں ؟

جواب : میں کبھی غصے میں نہیں آتا اور اگر کبھی کوئی مجھے تنگ کرتا بھی ہے تو میں اس سے درگزر کرتا ہو ں اور ان سے دور رہنے کی کوشش کرتا ہوں ۔مجھے لوگوں یہ عادت پسند نہیں کہ جب کوئی مجھ سے رائے مانگنے کے بعد خود ہی بولتا رہتا ہے اور رکنے کا نام ہی نہیں لیتا ۔

سوال: مستقبل میں آپ کا کیا ٹارگٹ ہے اور آپ کی کوئی ایسی خواہش جس کے پو ری ہو نے کا انتظار ہو ؟

جواب: اس وقت میں اپنے کیریئر کی بلندی پر ہوں اور میں اپنی اس پروفیشنل لائف سے بہت خوش ہوں ۔

سوال: نواجوانوں کے نام اپنے پیغام میں آپ کیا کہیں گے ؟

جواب: آپ کسی کو بھی یہ کہنے کا موقع نہ دیں کہ وہ آپ سے کہے کہ آپ یہ کام نہیں کر سکتے ۔آ پ کو اتنی جدوجہد کرنی چاہیے کہ جس سے آپ وہ سارے کا م کرسکیں جن کے بارے میں لوگ یہ کہتے تھے کہ آپ نہیں کر سکتے۔



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


Leave a Reply

Translate »