پامسٹری کے ذریعے انسان کے کردار، ماضی و حال اور مستقبل کے بارے میں کس حد تک درست اندازہ لگایا جاسکتا ہے؟ انٹرویو پامسٹ ظفر الدین نظامانی

میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ پامسٹری کے علاوہ تین علوم ایسے ہیں کہ جن کی مدد سے کسی کی سوچ معلوم کی جاسکتی ہے یا مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے درست رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے ، وہ تین علوم یہ ہیں ، خواب کی تعبیر، استخارہ کے ذریعے اور باڈی لینگوئج سے ، جس کو ان علوم پر عبور حاصل ہوتا ہے وہ ان علوم سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے ۔
یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ پوشیدہ رازوں کو جاننے کی جستجو کرتا ہے اور آنے والے وقت کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، palmist-zaffar-udin-nazamiانسانی ہاتھ پر موجود لکیروں میں کیا کچھ لکھا ہوا ہے بہت سے لوگ یہ جاننے کے خواہش مند ہوتے ہیں تا کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں درست فیصلے کر سکیں۔ پامسٹری وہ علم ہے جس کی مددسے ہم اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں لکھے ہوئے رازوں کوجان سکتے ہیں ۔ہر مذہب ، مسلک اور علوم کے ماننے والے اور نہ ماننے والوں کے پاس دلائل کے انبار موجود ہوتے ہیں ، ہر کوئی اپنی عقل اور علم کے مطابق جس چیزکو اپنا لیتا ہے پھر وہ اس کے خلاف کوئی بات سننے کو تیا ر نہیں ہوتا ۔پامسٹری کا علم درست ہے یا غلط ہے میں اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتا ،اس انٹرویو کو کرنے کا مقصد صرف اتنا ہی تھا کہ پامسٹری کے علم کے بارے میں لوگوں سے جو سوالات سننے کو ملتے ہیں ، کسی ایکسپرٹ سے رابطہ کر کے درست جوابات معلوم کئے جائےں ۔ ہاتھ کی لکیروں سے حاصل ہونے والی معلومات سے عملی زندگی میں کس حد تک فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے ؟ ایسے تمام سوالوں کے جوابات اس انٹرویومیں موجود ہیں ۔پامسٹ ظفر الدین نظامانی صاحب عرصہ 39 سال سے پامسٹری کے علم سے وابستہ ہیں ، نہ ہی وہ خدائی دعوے کرتے ہیں اور نہ ہی لوگوں کو غلط مشورے دے کر گمراہ کرتے ہیں ۔نظامانی صاحب کے اس انٹر ویو میں دئے گئے جوابات سے آپ کو بھی پامسٹری کے علم کو سمجھنے میں مدد ملے گی ۔
سوال: اپنے بارے میں کچھ بتائیں کہ آپ نے پامسٹری کا علم کیسے حاصل کیا؟
جواب: انہوں نے بتایا کہ میں صوبہ سندھ کی ڈسٹرکٹ بدین کی تحصیل ماٹلی سے تعلق رکھتا ہوں ، 1972 میں جب 9thکلاس میں پڑھتا تھا اس وقت سے لے کر آج تک مجھے پامسٹری سے جنون کی حد تک عشق ہے۔ اس کی وجہ پامسٹری کی سچائی ہے ، میں علم ِ نجوم ، رمل ، جفر اور دیگر علوم کی بھی سمجھ رکھتا ہوںلیکن جو حقیقت مجھے پامسٹری سے معلوم ہوئی وہ کسی اور علم سے نہیں ملی ۔ پامسٹری کے علم کو سیکھنے میں میرا کوئی استاد نہیں ، میرے والد صاحب اس علم کو جانتے تھے لیکن مجھے بتاتے نہیں تھے اس لئے مجھے اس علم کو سیکھنے کے لئے بہت محنت کرنا پڑی ۔
اب تو اس علم کو سیکھتے ہوئے ایک عمر گزر گئی ہے ، جب میں کسی انجان آدمی کا ہاتھ دور سے ہی دیکھتا ہوں تو اس کے ہاتھ کی ساخت سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ کس مزاج کا آدمی ہے ، مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہاتھ مجھ سے باتیں کر رہا ہے ، ہاتھ کی لکیریں دیکھے بغیر صرف ساخت سے ہی آدمی کے بارے میں 50 فیصد درست اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔

سوال: کسی پامسٹ کی قابلیت کو کس طرح معلوم کیا جا سکتا ہے؟
جواب: اچھے پامسٹ کی پہچان یہ ہے کہ آپ اپنے ہاتھ کے پرنٹ بھیج کر تھوڑے کومنٹ لے لیں ، آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ پامسٹ کیساہے ، جو پامسٹ انسان کا مزاج نہ بتا سکتا ہو میرے نزدیک وہ پامسٹ ہی نہیں ہے ۔میں آپ سے یہ بھی کہوں گا کہ اپنا ہاتھ ہر ایک کو نہ دکھایا جائے ، جب یہ یقین ہو جائے ہاتھ دیکھنے والا واقع ہی اچھا پامسٹ ہے تو صرف اس کو اپنا ہاتھ دکھائیں۔ اگر آپ نے کسی پامسٹ کو براہ راست ہاتھ دکھانا ہو تو کسی دوست یا رشتہ دار کی موجود گی ہاتھ نہ دکھائیں ۔

سوال: عام آدمی اگر دست شناسی کا علم حاصل کرنا چاہے تو پامسٹری کی کون سی کتاب سے بہتر رہنمائی مل سکتی ہے؟کتابوں کی مدد سے اپنے ہاتھ کی لکیروں کے بارے میں کس حد تک جانا جا سکتا ہے ؟ramooz-e-dust-shansi
جواب: میرے علم کے مطابق میر بشیر سے بڑھ کر کوئی پامسٹ نہیں گزرا، ان کی انگلش بکس میں نے پڑھی نہیں، اس لئے کہ میری انگلش نہ ہونے کے برابر ہے ،ان کی اردو میں لکھی ہوئی دوکتابیں ، رموز ِ دست شناسی اور داستانِ تقدیر سے بڑھ کر مجھے اور کسی کی کتاب پسند نہیں ہے ۔ کیرو بڑا نام ضرور ہے لیکن میر بشیر کے آگے کچھ بھی نہیں ۔حقیقت تو یہ ہے کہ صحیح علمی رہنمائی نہیں مل سکتی جب تک تجربہ اور تحقیق شامل نہ ہو تب تک بات سمجھ میں نہیں آتی ، ہاں اگر کسی صاحب علم سے رہنمائی حاصل کی جائے تو سیکھنے والا جلد ہی درست اندازہ لگانے کے قابل ہو سکتا ہے ۔

سوال: زیادہ تر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہاتھ کی لکیروں سے ماضی کے بارے میں اندازہ لگانا آسان ہوتا ہے جب کہ مستقبل کے بارے میں درست اندازہ لگانا ممکن نہیں ؟
جواب : یہ قدر ت کا کمال ہے کہ ہر انسان کے ہاتھ کی لکیروں میں زندگی کے تمام واقعات و حادثات کے بارے میں وارننگ موجود ہے ۔ پامسٹری بہت گہرا علم ہے اگر کوئی اچھا پامسٹ ہوتو وہ آنے والے واقعات کے بارے میں بھی درست اندازہ لگا سکتا ہے ،شرط یہ ہے کہ آپ جس کو ہاتھ دکھا رہے ہیں وہ دیہاڑی لگانے والا اور اناڑی نہ ہو۔

سوال: زیادہ تر ہاتھ دکھانے والوں کی دلچسپی کس قسم کی معلومات کو حاصل کرنے میں ہوتی ہے؟
جواب: خواتین کی دلچسپی شادی اور افیئرز میں ہوتی ہے جبکہ مرد حضرات دولت ، عشق اور ملک سے باہر جانے کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں ۔
جہاں تک میں پامسٹری کے علم کو سمجھا ہوں، میرے خیال میں لوگ عام طور پر جن معلومات کو حاصل کرنے کے لئے ہاتھ دکھاتے ہیں اس کی بجائے اگر دیگر معا ملات میںمثلاً بچیوں کی شادی ، صحت ، کسی سے کاروباری شراکت کرنے سے پہلے اور بچوں کے کریئر کا انتخاب کرتے وقت اگر ہاتھ کی لکیروں کو مد ِ نظر رکھتے ہوئے فیصلے کئے جائیں تو نقصان سے بچنے کی امید رکھی جا سکتی ہے ۔ہر انسانی ہاتھ پر ایسے کافی نشانات موجود ہوتے ہیں جن سے یہ سب کچھ معلوم کرکے بہت سی اُلجھنوں سے بچ سکتے ہیں ۔

سوال: اگر کوئی اپنی شریک حیات کا انتخاب کرنے سے پہلے خود ہی اندازہ لگانا چاہے کہ ہماری جوڑی کامیاب رہے گی یا نہیں تو کیا کوئی ایسی لکیر بھی ہے جس سے یہ معلوم کیا جا سکے ؟
جواب: ہاتھ میں شادی کی اچھی لائنز کامیاب شادی کی نشاندہی کرتی ہیں اگر لڑکی اور لڑکے ، دونوں کے ہاتھوں میں یہ لائنز اچھی ہوں تو یہ جوڑا کامیاب رہے گا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ صرف شادی کی لائن کو دیکھ کر صحیح اندازا لگانا ممکن نہیں ہوتا اس کے لئے دونوں فریقوں مزاج اور ہاتھ کی تمام لکیروں کا جائزہ لینا پڑتا ہے ۔ بہتر تو یہ ہوگا کہ منگنی وغیرہ کرنے سے پہلے ہی لڑکی اور لڑکے کے ہاتھ کے پڑنٹ کسی اچھے پامسٹ کو دکھا کر رائے لے لیں ۔

سوال: اگر آپ کو معلوم ہو جائے کے ہاتھ دکھانے والے کی زندگی ختم ہونے والی ہے تو پھر اُسے کس طرح یہ بات سمجھائی جاتی ہے ؟
جواب: کسی کی زندگی کے خاتمے کی پیشن گوئی نہ میں کرتا ہو نہ ہی کرنی چاہئے ۔کسی کی زندگی کا خاتمہ کب اور کیسے ہونا ہے یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ۔ کسی ایسی صورت میں جب کسی کی زندگی خطرے میں ہو تو اس کو مناسب انداز میں سمجھایا جاتا ہے کہ گاڑی تیز نہ چلائیں حادثہ ہو سکتا ہے یا آنے والی بیماری وغیرہ کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں ۔مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ شخص پریشان ہو کر ہمت نہ ہار جائے ۔

سوال: ہاتھ کی لکیریں کتنی دیر بعد تبدیل ہوتی ہیں ؟ کیا مثبت سوچ اپنا کر ہاتھ کی لکیروں پر اثرانداز ہوا جاسکتا ہے ؟
جواب: ہاتھ کی لکیریں اصل میں دماغ کی نمائندگی کرتی ہیں ، ہینڈ ریڈنگ دراصل مائنڈریڈنگ ہے ،اچھی مثبت سوچ سے ہاتھ کی لیکروں میں مثبت تبدیلی آتی ہے اور منفی سوچ سے منفی لکیریں وجود میں آتی ہیں ۔ہاتھ کی لکیریں 6 ماہ بعد تبدیل ہو سکتی ہیں۔ مثبت سوچ میں تبدیلی آ نے کے بادجود ہاتھ کی بنیادی لکیریں جیسے ، زندگی ، دماغ ، دل اور قسمت کی لکیر یں تبدیل نہیں ہوتیںالبتہ ان میں سے نکلنے والی شاخیں تبدیل ہو تی ہیں جس سے اچھی یا بری ریڈنگ معلوم ہوتی ہے۔یہ علم صرف تجربہ اور تحقیق کا علم ہے ، اس میں عبادت و ریاضت کا کوئی عمل دخل نہیں ۔ مجھے ہاتھ کی سچائی دیکھ کر اللہ تعالیٰ یاد آتا ہے کہ اس نے کتنا بڑا راز ان لکیروں میں رکھا ہے ۔حیرت ہوتی ہے کہ اگر پامسٹ اچھا جاننے والا ہے تو ہاتھ دکھانے والا شخص اس کے سامنے ننگا ہوجاتا ہے۔
ہم ہاتھ کی لکیروں میں چھپے ہوئے رازوں کو جان کر اہم معاملات سے متعلق زیادہ اچھے اور بہتر فیصلے کر سکتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم اپنی قسمت اور تقدیر کو نہیں بد ل سکتے اور نہ ہی ہم خود کو ان تکالیف سے بچا سکتے ہیں جو مقدر میں لکھی جا چکی ہیں پھر بھی ہماری زندگی سے جڑے ہوئے بہت سے معاملات ایسے ہیں جن کو کرنے سے پہلے اگر ہاتھ کی لکیروں کا جائزہ لے لیا جائے تو کسی بڑے نقصان یا صدمے سے بچا بھی جا سکتا ہے ۔

سوال: کچھ لوگ ہاتھ دکھانا پسند نہیں کرتے ، کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ وہ بھی آپ کو ہاتھ دکھانے کے لئے آئے ہوں ؟
جواب: جو مذہب کو اچھی طرح جاننے والے ہیں وہ اس علم کی مخالفت نہیں کرتے ، بہت سے اچھے بزرگ مجھے اپنا ہاتھ دکھا چکے ہیں اور وہ مانتے بھی ہیں کہ یہ کوئی غلط علم نہیں ہے ، ہاں البتہ اسلام میں ایسے علوم پر یقین نہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے اس لئے میں بھی یہ کہوں گا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ایک ایسی ہستی ہے جو کامل اور پاک ذات ہے، انسان چاہے کتناہی علم والا کیوں نہ ہو لیکن وہ کامل نہیں ہو سکتا ۔اس سے کوئی بھی غلطی ممکن ہے ۔

سوال: کون سی قسم کے ہاتھ ایسے ہیں کہ جن کے بارے میں اندازہ لگانے میں مشکل پیش آتی ہے؟ کبھی آپ کا کوئی اندازہ غلط بھی ہوا ؟
جواب: وہ ہاتھ جن میں لکیریں بہت کم ہوتی ہیں ،ان کو پڑھنے میں تھوڑی دقت ضرور پیش آتی ہے لیکن ہم اپنے تجربہ کی مدد سے درست اندازہ لگا لیتے ہیں ، اس بات سے انکا ر نہیں کیا جاسکتا کہ ہماری ہر ریڈنگ درست ہوتی ہے، کئی مرتبہ مجھ سے بھی ریڈنگ میں غلطی ہوئی ہے ۔جس کی بڑی وجہ درست طریقے سے غور نہ کرنا اور کسی کی ظاہری شخصیت سے متاثر ہو نا وغیرہ ہیں ۔

سوال: سناہے کچھ لوگوں کے ہاتھ میں کامیابی کی لکیر ہی نہیں تھی لیکن وہ پھر بھی دنیا میں کامیاب ہوئے ، اس بات میں کس حد تک حقیقت ہے ؟
جواب: یہ حقیقت ہے کہ بہت سے ہاتھوں میں کامیابی کی لکیر نہیں تھی لیکن وہ لوگ عملی زندگی میں کامیا ب ہوئے، اصل میں ہم کامیا بی کی لکیر کو شہرت کی لکیر مانتے ہیں اور اسے سورج کی لکیر کہتے ہیں جس کا مطلب روشنی ہے ۔پامسٹری ایک ایسا علم ہے کہ صرف ایک لکیر کی ریڈنگ سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ، اس کے لئے ہاتھ کی ساخت ، انگلیوں، انگوٹھے اور تمام لکیر وںکا بغور جائزہ لیا جاتا ہے ۔جس انسان میں اچھی صلاحیتیں ہوتی ہیں اس کو کامیابی کی لکیر کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی جیسا کہ ذہانت کے لئے دولت کی شرط نہیں ہوتی ۔جس کے ہاتھ میں کامیابی کی لکیر ہوتی ہے اسے بہت مواقعے ملتے ہیں جبکہ وہ لوگ جن کے ہاتھ میں کامیابی کی لکیر نہیں ہوتی اگر انہیں مواقعے نہ بھی ملیں تو اپنی صلاحیتیوں اور جدوجہد کی بنیاد پربھی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں

سوال: آپ نے پروفیشنل پامسٹ کی حیثیت سے کام کا آغاز کب کیا ؟
جواب: یہ 1998 کی بات ہے کہ میں صرف پامسٹوں سے ملنے کے لئے پنجاب آیا تھا ،ہم چار دوست تھے ، سب سے پہلے معظم خان سے ملے ، اس کے بعد مطیع الرحمان اور آخر میں ایم اے ملک سے ملاقات کی ، یہ آخری ملاقات بڑی مایوس کن تھی ، انہوں نے ہم سے اپنی فیس بھی لے لی لیکن کوئی ایسی بات نہ بتا سکے کہ جس سے ہم مطمئن ہوتے ، جب ہم واپس ماٹلی پہنچے تو پہلی بار میں نے پروفیشنل پامسٹ کی حیثیت سے کام کا آغاز کیا ،پہلے 100روپے فیس رکھی ،کام بہت زیادہ آنا شروع ہوگیا ، پھر 200روپے کر دی ، جب 500 روپے کے بعد 1000روپے فیس کرنے کے باوجود بھی کام کم نہ ہواتو میں نے وہ دکان ہی بند کر دی جہاں میں ہفتے میں صرف ایک دن کے لئے بیٹھتا تھاکیونکہ میرے لئے اتنا زیادہ وقت نکالنا ممکن نہیں تھا ۔
اب میری فیس 6000 روپے ہے ، لوگ گھر پر ہی رابطہ کر لیتے ہیں ، میں اپنے کلائنٹ کے ہاتھ کا پرنٹ خود لیتا ہوں اور ہاتھوں کے اہم نشانات کو لکھ لیتا ہوں۔ ہاتھ کی لکیروں کا مکمل جائزہ لینے میں مجھے دس سے پندرہ دن لگ جاتے ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب میرا دل کرتا ہے میں اس وقت کام کرتا ہوں اور جب موڈنہیں ہوتا تو کام پڑا رہتا ہے ، میں کسی سے ایڈوانس فیس وصول نہیں کرتا ، جب ہاتھ کا پرنٹ لکھ لیتا ہوں تو پھر پرنٹ دے کر پیسے لیتا ہوں ۔کوئی کلائنٹ مجھے یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپ نے میرے پرنٹ کیوں نہیں لکھے، اس وجہ سے میں ایڈوانس فیس وصول نہیں کرتا ۔ میں نے بہت ہاتھ دیکھے ہیں اور اپنے ہاتھ سے 2000 لوگوں سے زیادہ کے پرنٹ لئے ہیں ۔
بعض پاکستانی کلائنٹس کا طرز ِ عمل بہت عجیب ہوتا ہے کہ آپ نے ہمیں درست معلومات کم بتائی ہیں اور فیس زیادہ لے لی ہے ، میں اکثر ان سے ایک سوال کرتا ہوں کہ جب آپ کسی تجربہ کار ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو پہلے فیس ادا کرتے ہیں اس کے بعد وہ بیماری کی علامات بھی آپ سے حاصل کرتا ہے اور ہزاروں روپے کے ٹیسٹ بھی کرواتا ہے اور اس سب کے بعد بھی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی کے اس کے علاج سے مریض کو شفاءمل جائے گی ، ہم یہ تو برداشت کر لیتے ہیں لیکن کسی پامسٹ سے ہونے والی چھوٹی سی غلطی کو بھی نظرانداز کرنے کے لئے تیا ر نہیں ہوتے ۔

سوال: ہاتھ کی تصاویر کس طرح بنائی جائیں کہ پامسٹ کوپرنٹ لکھنے میں آسانی ہو؟
جواب: صلاحیت کے بغیر کوئی بھی اچھا پامسٹ نہیں بن سکتا ، جتنے زیادہ پرنٹ لے گا وہ اتنا ہی اچھا پامسٹ بنے گا ۔ پرنٹس لینے کے کافی طریقے ہیں لیکن میرا ہاتھ کے پرنٹ لینے کا طریقہ یہ ہے کہ میں پرنٹ لینے سے پہلے ایک سفید پیپر لے کر سب سے پہلے کلائنٹ کا پورا نام ، پرنٹ کی تاریخ ، تاریخ پیدائش ، ہاتھ کی ساخت ، انگوٹھا اور انگلیوں کی لچک کس حد تک ہے لکھ لیتا ہوں ۔پھر انگلیوں اور انگوٹھے کی پور کی سکیل سے پیمائش کرتا ہوں ، ہتھیلی اور انگلیوں کی الگ الگ پیمائش کرتا ہوں ، انگلیاں گرہ دار ہیں یا سپاٹ ، یہ بھی معلوم کر کے لکھ لیتا ہوں ، ہاتھ کے ابھا ر جو نمایاں ہوتے ہیں انہیں لکھ لیتا ہوں اور انگلیوں کے ناخن کس طرح کے ہیں وغیرہ وغیرہ یہ سب لکھ لیتا ہوں پھر سادہ دسفید پیپرپر کالی سیاہی لگا کر ہاتھ کے 2، 2 پرنٹ لے کر اس پر ریڈنگ لکھتا ہوں ۔
لیکن وہ لوگ جو کسی دوسرے شہر میں مقیم ہیں اور مجھے اپنے ہاتھ کے پرنٹ بھیجنا چاہیں تو وہ ہاتھ کے ہر زاویہ سے اچھی ریزولیشن میں تصاویر بنا کر بذریعہ ای میل مجھے بجھواسکتے ہیں ۔

سوال: پامسٹری کے موضوع پر آپ جو کتاب لکھ رہے ہیں اس میں کیا خاص بات ہوگی ؟
جواب: میں کوشش کر رہا ہوں کہ اپنی اس کتاب میں ہاتھوں سے متعلق معلومات کا بہت تفصیل اور باریک بینی سے جائزہ پیش کروں تاکہ اس علم کے شوق رکھنے والوں کو بہتر رہنمائی میسر آسکے اس کے علاوہ میرا جو 39سال کا تجربہ ہے اس کی روشنی میں وہ تمام باریکیا ںسمجھانے کی کوشش کر وں جو کتابوں میں نہیں ملتی ، میرے پاس ہاتھ کے بہت سے ایسے اصل پرنٹس موجود ہیں جن سے متعلق میرے بتائے ہوئے اندازے درست ثابت ہوئے ، ان کے ذریعے اس علم کو سیکھنے والوں کے لئے آسانی ہو گی۔اس کے علاوہ کچھ ایسی ہدایات و معلومات بھی لکھوں گا جو بہت خاص ہوں گی ۔

Email: palmist.zaffaruddin@gmail.com



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


One thought on “پامسٹری کے ذریعے انسان کے کردار، ماضی و حال اور مستقبل کے بارے میں کس حد تک درست اندازہ لگایا جاسکتا ہے؟ انٹرویو پامسٹ ظفر الدین نظامانی

Leave a Reply

Translate »