پاکستان میں پہلے آن لائن ایجوکیشن سسٹم کے ڈائریکٹر جناب عبدالواحد سے ایک تفصیلی ملاقات

جب میں نے پہلی مرتبہ کلک 2 لرن کو وزٹ کیا اور دیکھا کہ یہ صرف500 روپےماہانہ لے کر طلباء کو امتحان کی تیاری کی سہولت مہیا کر رہے ہیں، تو میں نے سوچا کہ یہ ہمیں500روپے میں کیا دیں گے۔ لیکن جب میں نے تفصیل کے ساتھ ویب سائٹ کا جائزہ لیا تو میرے دل نے کہا کہ یار! انہوں نے جو کام کر دکھایا ہے اگریہ2000 ماہانہ بھی لیں تو وہ کم ہے۔ میرے دل میں تجسّس پیدا ہوا کہ ان لوگوں سے ایک ملاقات کروں جو اس پراجیکٹ کو چلا رہے ہیں۔جب میں انٹر ویو کےلئے پہنچا تو دوران انٹر ویو انہوں نے جو معلوما ت فراہم کیں اور ان کا سیٹ اپ دیکھ کرمیں بہت متا ثر ہوا ۔
میں حیران ہوں کہ ایک اکیلے فرد نے پاکستان میں فروغ تعلیم کےلئے ایک ایسے پراجیکٹ کی بنیاد رکھ دی ہے جو Mr. Abdul Wahid the Director Cick2Learn, Pakistanپاکستان میں تعلیم کے فروغ کےلئے ایک سنگ میل ثا بت ہو گا ۔ مجھے نظر آ رہا ہے کہ آنے والے دور میں یہ پر اجیکٹ پاکستانی طلباءکے معیار تعلیم کوبلند کرنے میں بہت اہم کر دار ادا کر ے گا۔ ان کی اس کاوش پر انہیں جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے وہ کم ہے، حیرت اس بات پر ہے کہ اس سے پہلے کسی بھی بڑے تعلیمی ادارے یا این جی او کو اس کا خیال ہی نہ آیا۔
آج ہم آپ کو ایک ایسی شخصیت محترم عبد الواحدصاحب سے متعا رف کرا رہے ہیں جو کراچی کی معروف کاروباری شخصیت ہیں، وہ آل پاکستان فوڈ اینڈ ویجیٹیبل ایسوسی ایشن کے چیئر مین بھی رہے اور ان دنوں کلک 2 لرن کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے پاکستانی طلباءکی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔
سوال: بورڈ کے امتحانات کی تیاری کے لئے آپ نے طلباءکو آن لائن پڑھائی کی سہولت مہیا کی ہے۔ آپ کے ذہن میں یہ آئیڈیا کیسے آیا؟
جواب: میرے ایک دوست میجر ریٹائرڈ اکرم  “ایف سی” کالج لاہور میں کمپیوٹر سائنس کا مضمون پڑھاتے ہیں، انہوں نے مجھے یہ آئیڈیا دیا، ان کا یہ آئیڈیا میرے دل کو لگا، لیکن میں نے اس پراجیکٹ کو کاروباری نقطہ نظر کی بجائے فلاحی بنیادوں پر شروع کرنے کا فیصلہ کیا، میری دلی خواہش تھی کہ میں کوئی ایسا کام کروں جو میرے  لئے صدقہ جاریہ کا باعث بن جائے اس لئے میری یہ ترجیح نہیں ہے کہ مجھے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل ہو، میں تو بس اپنے اس پراجیکٹ کے ذریعے فروغ تعلیم کے نیک کام میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتا ہوں۔
سوال: جب آپ نے کلک 2 لرن ویب سائٹ بنانے کا فیصلہ کیا تو آپ کے قریبی احباب کے کیا تاثرات تھے؟
جواب: میرا تعلق کاروباری گھرانے سے ہے۔ کسٹم ہاﺅس میں میرا اپنا کلیئرنگ ہاﺅس ہے۔ میں پاکستان سے بہت سے ممالک کو فوڈ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹ کر رہا ہوں لیکن جب میں نے اس پراجیکٹ کو شروع کرنے کا ارادہ کیا تو ہر آدمی نے میری حوصلہ شکنی کی میرے دوست، بھائی، فیملی ممبر، پارٹنرز غرض سبھی میرے اس کام کے مخالف تھے ان سب کا خیال تھا کہ یہ آپ کی فیلڈ نہیں اور ویسے بھی یہ ایک مشکل کام ہے۔
سوال: جب آپ نے اس پروگرام کو شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا تو پھر آغاز میں کیا کیا مشکلات پیش آئیں؟
جواب: دیکھیں! شروع شروع میں تو کوئی مشکل پیش نہیں آئی پراجیکٹ شروع کرنے کے لئے کثیر سرمایہ کی Moneeb Junior Interviewing Mr. Abdul Wahidضرورت تھی الحمدﷲ ہم نے دل کھول کر پیسہ خرچ کیا، ہم نے ماہرین کی خدمات حاصل کرکے لاہور اور کراچی میں آفس بنا کر کام کا آغاز کیا ابھی تک ہم اس پر بہت پیسہ خرچ کر چکے ہیں۔ آپ کی سوچ سے بھی زیادہ ،البتہ ہمیں اب کچھ مشکلات کا سامنا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اس کی مارکیٹنگ میں تھوڑے کمزور رہ گئے ہیں۔ یا شاید پاکستان میں ابھی یہ آئیڈیا نیا ہے اور لوگوں کو اسے سمجھنے میں دقت پیش آرہی ہے۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ کسی نئی ٹیکنا لوجی کو استعمال کرنے کے لئے لوگوں کی ذہن سازی کرنا ایک مشکل کام ہے۔ میں معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ ہمارے ہاں انٹر نیٹ کا زیادہ مس یوز ہو رہا ہے، طالب علموں کا رجحان موج مستی کی طرف زیادہ ہے، لیکن ان سب باتوں کے باوجود بھی ہم نے حوصلہ نہیں ہارا اور ہم اپنے مستقبل کو بہت تابناک دیکھ رہے ہیں۔
 سوال: آپ اسٹوڈنٹس کو کیا کیا سروسز آفر کررہے ہیں؟
جواب: پاکستان میں جتنے بھی تعلیمی بورڈہیں، اگر کوئی طالب علم ان تعلیمی بورڈز کے نصاب کے مطابق آن لائن تیاری کرنا چاہتا ہے۔ تو انٹر نیٹ پر اس کی سہولت موجود نہیں تھی۔ الحمدﷲ سب سے پہلے یہ اعزاز ہمیں حاصل ہوا ہے کہ ہم نے طلباءکے لئے بورڈ کے نصاب کو کرائٹیریا بنایا، ہم نے

www.click2learn.edu.pk

کے نام سے جو ویب سائٹ بنائی ہے, اس پر ہم نے تمام بورڈ کے نصاب تعلیم کے مطابق تمام سبجیکٹ کی تیاری کی مکمل سہولت مہیاکر دی ہے۔ اب میں یہ بات گارنٹی سے کہہ سکتا ہوںکوئی بھی طالب علم جو ہمیں جوائن کرتا ہے اگر وہ باقاعدگی سے ہماری ویب سائٹ سے پڑھائی کرے تو وہ کبھی فیل نہیں ہو سکتا وہ انشاءاﷲ بہت اچھے نمبروں سے پاس ہوگا۔
ہم نے اپنی ویب سائٹ پر میٹرک (سائنس و آرٹس) ایف اے، ایف ایس سی، آئی سی ایس اور آئی کام کے طلباءکے
لئے Learing, Training, Practicing, Testing, Attendance, Performanceکی مکمل سہولت رکھی ہے، ہم نے طلباءکو پڑھائی کے لئے جو مواد مہیا کیا ہے، اس کی خصوصیت یہ ہے کہ ہم نے یہ مواد کہیں سے سکین کرکے نہیں لگایا بلکہ ہم نے بھاری معاوضہ اداکرکے شعبہ تعلیم کے ماہر پروفیسرز اور اساتذہ کرام کی خدمات حاصل کیں انہوں نے بڑی محنت کے بعد بورڈ کے نصاب تعلیم کا ماخذ نکالا، جو ہم نے اپنی ویب سائٹ پر پیش کر دیا۔اب کوئی بھی طالب علم بہت آسانی کے ساتھ یہاں سے اپنے امتحان کی مکمل تیاری کر سکتا ہے۔ ہم نے ہر سوال کو مختلف طریقوں اور مثالوں کے ذریعے سمجھایا ہے تا کہ کسی بھی ذہنی سطح کے طالب علم کو click 2 learn officeپڑھنے اور سمجھنے میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ویسے بھی اب MCQsکا زمانہ ہے اور ہم نے طالب علموں کی سہولت کے لئے اسی طریقے کو اختیار کیا ہے۔ ٹیسٹ کے دوران ہر سوال کے جواب میں مختلف آپشنز موجود ہوتے ہےں، طالب علم نے صرف ایک کلک کے ذریعے کسی ایک جواب پرTickکرنا ہوتا ہے اور اسی لمحے اسے اپنی قابلیت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔
کلک 2 لرن کو موبائل فون پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے وہ طالب علم جن کے پاس کمپیوٹر نہیں وہ بھی اس سے بھر پور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ہم نے اسے بہت فرینڈلی اور استعمال میں آسان بنایا ہے۔ ہم نے اس میں مکمل مانیٹرنگ سپورٹ بھی رکھی ہے اگر والدین چاہیں تو وہ اپنے بچے کی کارکردگی رپورٹ کا جائزہ لے کر اندازہ کر سکتے ہیں کہ بر خوردار نے کچھ پڑھائی بھی کی ہے یا صرف گیمز کھیل کر وقت گزارا ہے۔ ہمارا یہ تعلیمی سافٹ ویئر پروگرام، ہر طالب علم کی کارکردگی پر پوری نظر رکھتا ہے ایک طالب علم نے کتنی دیر آن لائن ہوکر پڑھائی کی، ٹیسٹ میں اس کی پرفارمنس کیسی رہی، وہ کون سے سبجیکٹ میںweakہے۔ اس کو ابھی مزید کتنی محنت درکار ہے، ہم یہ تمام جائزہ پیش کر دیتے ہیں۔ جب طالب علم کو اپنی اصل کارکردگی کا علم ہوتا ہے تو پھر اس کے دل میں مزید محنت کرنے جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ دراصل ہمارا کام وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں پر ایک طالب علم کی نارمل پڑھائی ختم ہوتی ہے ہمارا یہ سٹڈی پروگرام بنیادی طور پر ویلیو ایڈیشن ہے اس کے ذریعے ایک طالب علم پڑھائی کے لئے 24گھنٹے سپورٹ حاصل کر سکتا ہے۔ اب آپ دیکھیں، اس ملک میں ہر دوسرے دن کسی نہ کسی وجہ سے تعلیمی اداروں میں چھٹی ہو جاتی ہے جبکہ ہماری کوئی چھٹی نہیں ہے، آپ جب چا ہے گھر بیٹھے پڑھ سکتے ہیں، ٹیسٹ دے سکتے ہیں، ہمارے سسٹم سے وابستہ ہو کر ایک طالب علم کو ہر طرح سے فائدہ ہی فائدہ ہے۔
میں شعبہ تعلیم سے وابستہ اساتذہ کرام کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہوں گا کہ وہ ایک بار ہماری ویب سائٹ ضرور وزٹ کریں، تو انہیں اندازہ ہوگا کہ جب کوئی طالب علم یہاں سے اپنی پڑھائی میں مدد لے گا تو اس سے اس کی زندگی میں انقلاب برپا ہو جائے گا، ہم نے جو سسٹم متعارف کرایا ہے اس سے اساتذہ کرام پر بوجھ کم ہوگا اور سٹوڈنٹ کی کارکردگی بہتر ہوگی۔
سوال: سکول یا کالج میں باقاعدگی سے جانے والے طالب علم اس سے کس طرح بھر پور فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟
جواب: اتنا وقت کس کے پاس ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر ٹیسٹ لے سکے یا دے سکے لیکن آپ ہماری ویب سائٹ پر روزانہMCQsسسٹم کے ذریعے ٹیسٹ دے سکتے ہیں۔ میرا سٹوڈنٹس کو یہ مشورہ ہے کہ وہ کالج یا سکول سے روزانہ جو پڑھ کر آتے ہیں گھر آکر اس کا ٹیسٹ دے لیں، ایک ٹیسٹ دینے میں10منٹ سے بھی کم وقت لگتا ہے۔ یہ شارٹ کٹ میتھڈہے، اس سے طالب علم کو انٹری ٹیسٹ دینے کا طریقہ کار بھی سمجھ آجاتا ہے ،اور وہ سبق ہمیشہ کے لئے اس کو ذہن نشین ہو جاتا ہے، جو وہ سکول یا کا لج سے پڑھ کر آیا ہو تا ہے ۔ہمارا یہ پروگرام صرف پرائیوٹ سٹوڈنٹس کےلئے نہیں ہے۔ بلکہ ریگولر پڑھنے والے طلباءاس سےبہت فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
سوال: کلک 2 لرن سے پڑھائی کرنے والے طالب علم کو ماہانہ کتنی فیس ادا کرنی پڑتی ہے؟
جواب: ہم بہت کم قیمت میں انتہائی معیاری تعلیمی سہولت فراہم کر ر ہے ہیں، ہم نے اس کی فیس بہت کم رکھی Mr. Abdul Wahidہے۔ایک طالب علم صرف500/-روپے ماہانہ ادا کرکے سارے سبجیکٹ پڑھ سکتا ہے۔ اگر ہم اس کا موازنہ دوسرے ممالک کی آن لائن سٹڈی کی سہولت مہیاکر نے والی ویب سائٹ سے کریں تو وہ ایک سبجیکٹ کے ماہانہ50سے100ڈالر لے رہے ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں ہم جو فیس لے رہے ہیں اس سے تو ہمارے ماہانہ اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے۔
 سوال: ابھی تک آپ کو کیا رسپانس ملا ہے؟ اور مستقبل میں اپنے آپ کو کہاں پر دیکھ رہے ہیں؟
جواب: ہمارے اس کام کو دیکھ کر بہت سے لوگوں نے ہم سے رابطہ کیا ہے میرے پاس جاپان سے بھی ایک صاحب آئے تھے، انہوں نے سپر ہائی وے پر ڈی ٹی ایس کے نام سے ایک سافٹ ویئر ہاﺅ س بنایا ہے وہ ہمارے اس کام سے بہت متاثر ہوئے انہوں نے مجھے بتایا کہ ابھی تک جاپان میں بھی ایسا ایجوکیشن سسٹم نہیں ہے اور وہاں اس کی گنجائش موجود ہے۔ وہ بھی یہ کرنا چاہتے تھے۔
اس طرح اے بی سی  کے منیجر صاحب نے ہم سے رابطہ کرکے کہا کہ آپ ہمیں بھی اس طرح کا سسٹم بنا دیں کہ ہمارا آفیسر ایک کلک کے ذریعے کسٹمر کی ہر پرابلم کا حل بتا سکے۔ اس کے علاوہ اب تک جو بھی اسٹوڈنٹ ہمیں جائن کر چکے ہیں ان کی طرف سے ہمیں بہت حوصلہ افزاءرسپانس مل رہا ہے۔ آنے والا دور انٹر نیٹ کا ہے اور بہت جلد لوگوں کو اس کی اہمیت کا احساس ہوجائے گا۔ ہم پر امید ہیں اور انشاءاﷲ ہمیں یقین ہے کہ ہماری یہ کاوش پاکستان میں تعلیم کے فروغ میں اہم کر دار ادا کرے گی۔



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


Leave a Reply

Translate »