پاکستان میں کمیونٹی پولیسنگ کے حوالہ سے کام کرنے والے واحد جرنلسٹ جناب نیازی اظہار کا خصوصی انٹرویو

 کمیونٹی پولیسنگ کے فروغ میں اظہار الحق خان نیازی صاحب کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ، انہوں نے سخت محنت سے صحافت کے شعبہ میں اپنی ایک پہچان اور مقام بنا یا ہے۔ پاکستان میں کمیونٹی پولیسنگ کے لئے کام کرنے والے وہ واحد صحافی ہیں جن کی خدمات کو سراہتے ہوئے 100 سے زائد اعلیٰ پولیس افسران نے انہیں تعریفی سرٹیفکیٹ پیش کئے ۔اسلام آباد کی تمام صحافتی ایسوسی ایشنز کے ایکٹو ممبر ہیں جبکہ آل پاکستان میگزین سوسائٹی(APMS) کے سینئر وائس پریزیڈنٹ اور اسلام آباد سپورٹس جرنلسٹ ایسوسی ایشن(ISJA) کے سینئر جائنٹ سیکریٹری کے عہدوں پر کام کر رہے ہیں اور سینٹرل میڈیا جرنلسٹ ایسوسی ایشن(CIMJA) کے سابق سیکریٹری جنرل رہ چکے ہیں۔وہ 786 میڈیا گروپ کے نام سے مختلف اخبارات اور جرائد شائع کر رہے ہیں۔ نیازی صاحب کایہ انٹرویو پاکستان میں کمیونٹی پولیسنگ کو درپیش مسائل اور اس کے مستقبل کا احاطہ کرتا ہے ۔

سوال:  آپ شعبہ صحافت میں کیسے آئے اور آپ نے شعبہ صحافت کا انتخاب ہی کیوں کیا؟10491248_592014350900774_6530284972699732357_n

جواب:زمانہ طالب علمی کی شروعات سے ہی سکول میں شعبہ اطلاعات اور نشرواشاعت سے ادبی تنظیموں کے حوالے سے وابستہ رہا ہوں ۔بعد میں جستجو بڑھ گئی جو شعبہ صحافت میں لے آئی۔

سوال: آپ کو کن کن اخبارات اور چینلزکے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اوران دنوں آپ کس ادارے  کے ساتھ منسلک ہیں؟

جواب: بہت سے ریجنل چند میٹروپولیٹن اخبارات کے لیے کل وقتی جز قتی اور فری لانس خدمات سر انجام دیتا رہا ہوں ۔ الیکٹرانک میڈیا آنے کے بعد سب سے پہلے پرائم ٹی وی،ڈی ایم ڈیجیٹل،دھوم،میں خدمات سر انجام دی ہیں ،آجکل رائل ٹی وی کے اسلام آباد سٹیشن کے ساتھ منسلک ہوں۔

سوال:آپ نےاپنا میڈیا گروپ بنانے کی ضرورت کیوں محسوس کی اور اس وقت آپ کتنے میگزین اور اخبارات شائع کر رہے ہیں؟

جواب: صحافت کے لیے صرف پاکستان کی حد تک ہی نہیں بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے لیے اپنا کام پہنچایا جائے،یہ کام کسی ادارے کےلیے کام کر کے ممکن نہیں تھا اس لیے اگست 2008 میں 786گروپ آف نیوز پیپر اسلام آباد پاکستان بنایا۔آجکل یہ گروپ چکوال سے اہک سہ ماہی میگزین،سلام زندگی،اسلام آباد سے 5 عدد ماہنامہ میگزین ،پولیس ورسسز کرائم،انٹیروگیشن رپورٹ ،انوسٹی گیشن سیل،کرائم ٹریکر،اور فیشن وے ، کی اشاعت کے ساتھ ساتھ ایک ہفت روزہ، باخبر انٹرنیشنل،شائع کرتا ہے۔انشاءاللہ 786 میڈیا گروپ جلد ہی ایک ویب ٹی وی اور ویب ریڈیو بھی آن ائیر کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

سوال: کمیونٹی پالیسنگ کے ذریعےآپ معاشرے میں کیا تبدیلی لانا چاہتے ہیں اور آپ کو اپنے مقصد میں کس حد تک کامیابی حاصل ہوئی؟

جواب: کمیونٹی پولیسنگ کے لیے کام کرتے ہوئے تقریبا” ایک دہائی ہونے کو ہےاگر ہاکستان پولیس اور عوام مل کر اس پر عمل کریں10430373_626201307482078_7228623000516809739_n تو80فیصد جرائم کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے ۔باقی 20فیصد جرائم پیشہ لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں انکا علاج صرف سزا ہی ہوتا ہے۔کمیونٹی پولیسنگ کے لیے عوام اور پولیس دونوں جانب سے کوتاہیاں ہیں ،پولیس ہے کے مفت امداد سے انکاری ہے اور عوام پولیس کے ناروا رویے کا رونہ رو رہے ہیں ،عوام کے نمائیندے اگر حقیقی بات کریں تو پولیس کا رویہ تبدیل ہو سکتا ہے۔لیکن جب اپنے کام کروانے کے لیے پولیس کو استعمال کیا جائے گا اور پولیس کے ساتھ خوش آمدانہ رویہ رکھا جائے گا تو سسٹم ایسے ہی چلے گا۔

سوال: آپ کاکمیونٹی جرنلسٹ کی حیثیت سے کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا اور آغاز میں آپ کو کس قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا؟

جواب: مجھے کمیونٹی پولیسنگ کے حوالے سے کام کرتے ہوئے عرصہ ہو گیا ہے ،کافی حد تک کامیابی بھی ملی ہے عوام اور پولیس کمیونٹی پولیسنگ پر آمادہ ہیں بس ضرورت عمل پیرا ہونے کی ہے،یورپ میں پولیس کی زیادہ تر کامیابیاں کمیونٹی پولیسنگ کی مرہون منت Niazi Izharہیں ،اگر پولیس اور عوام میں دوستانہ ماحول بن جائے تو معاشرے میں ےیقینی تبدیلی آ سکتی ہے۔ جب آپ کسی ادارے کے لیے کام کرتے ہیں تو آپ کو وہی کرنا ہوتا ہے جسکی آپ پر ذمہ داری ڈالی جاتی ہےاسکے علاوہ آپ اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر سکتے ۔جب آپ اپنا کوئی میگزین متعارف کرواتے ہیں تو سب سے پہلی مزاحمت آپکو اپنی صفوں کی جانب سے ملتی ہے ،ہماری صحافی برادری کے لوگ میگزین والوں کو اپنی صف میں شامل کرنے سے انکاری ہوتے ہیں اور میگزین جرنلزم کو تیسے درجے کی صحافت سے جوڑ دیتے ہیں خواہ وہ میگزین کتنا ہی مستند کام کیوں نہ کر رہا ہو۔حلانکہ عالمی سطح پر جو معیار میگزہن کا ہے وہ شائد کسی ٹاپ ادارے کا بھی نہ ہو،لیکن نیشنل پریس کلب کے قانون کے مطابق آپکو ممبر شپ صرف اس لیے نہیں دی جاتی کے آپ کسی روزنامے یا ٹی وی سے منشلک نہیں ہیں۔قومی سطح پر صرف PFUJ ایسا ادارہ ہے جو اپنے یوجیز کے توسط سے ان اداروں میں کام کرنے والے صحافیوں کو ممبر شپ دیتا ہے ورکشاپس کے ذریعے ان کی راہنمائی کرتا ہے اور شعبہ صحافت میں آگے آنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔

سوال: سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کی مقبولیت میں  دن بدن  اضافہ ہو رہا ہےآپ کے خیال میں آنے والے دور میں پرنٹ میڈیا کا مستقبل کیا ہوگا؟

جواب: ایک مثال مشہور ہے کہ نیا نو دن پرانا سو دن ،جہاں تک سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کا تعلق ہے ،اسکے لیے آپکو بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے ساتھ ساتھ فالتو وقت کی بھی ضرورت ہے۔لیکن اغر آپ کسی کام سے کہیں موجود ہیں اور انتظار میں ہیں اور آپکے سامنے کوئی میگزہن پڑا ہے تو آپ اسکے نیا یا پرانا ہونے سے قطع نظر اسکی واق گردانی کرتے ہیں ۔ویسے بھی کتابی شکل اطلاعات کا ایک ایسا ذریعہ ہے جسے اللہ پاک نے بھی اپنے احکامات پہچانے کے لیے منتخب کیالہذا سوشل اور الیکٹرانک میڈیا جتنی بھی ترقی کر لیں پرنٹ میڈیا کی افادیت کو ختم نہیں کر سکیں گے۔

سوال: فرائض کی ادائیگی کے دوران  ایک صحافی کوہرقسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑسکتاہے ، کیا آپ کو بھی کبھی کسی پریشر یا مشکل کا سامنا کرنا پڑا؟

جواب: صحافی کا کام ہی وطن کے لیے ،معاشرے کے لیے اور اپنے ضمیر کے لیے درست اطلاعات معاشرے تک پہچانا ہوتا ہے ۔اپنے پورے کیرئیر میں اچھے برے سب طرح کے لوگوں سے واسطہ رہتا ہے،سب سے بڑا مسلئہ جعل سازوں کا اس شعبے میں آنا ہے جو اپنے مذموم مقاصد کے لیے مفاد پرست لوگوں کے سہارے ہماری صفوں میں داخل ہو کر پوری برادری کو بدنام کرتے ہیں ایسے افراد کے ساتھ آہنی ہاتھوں نمپٹنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ہمارے ملک میں شعبہ صحافت کی بدنامی کی بڑی وجہ اس میں شمولیت کے طریقہ کار کا نہ ہونا ہے۔جسے دیکھو صحافی بنا پھرتا ہے۔سچ پوچھیں تو یہ عادت بڑے لوگوں نے ڈالی ہے ،کسی بھی اخبار کے علاقائی رپورٹر کے لیے یہ قانون ہے کی وہ اپنے علاقے میں زیادہ سارے اخبارات فروخت کروائے،اسکے کرئیکٹر کو مدنظر نہیں رکھا جاتاادارے کو صرف اپنے مفادات سے غرض ہوتا ہے،یہی علاقائی رپورٹر جب شہر میں آتا ہے تو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ،کیونکہ ایک علاقائی نامہ نگار اور ریگولر رپورٹر میں زمیں آسمان کا فرق ہوتا ہے۔کیونکہ رپورتر صرف خبر دیتا ہے اور نامہ نگار سپلیمنٹ اشتہارات اور نہ جانے کیا کیا۔سچ پوچھیں تو اس مقدس پیشے کو علاقائی نامہ نگاروں اور مارکیٹنگ سے وابستہ افراد نے جو نقصان پہنچایا ہے کسی اور نے نہیں جب یہ لوگ رپورٹنگ شروع کر دیتے ہیں تو رپورٹر بھی شرما جاتے ہیں ۔

سوال: صحافیوں کی فلاح وبہبود اور مسائل کے حل کے لئےکن اقدامات کی ضرورت ہے، صحافیوں کی فلاح وبہبود کے نام پر بننے والی تنظیمیں اپنے فرائض کس حد تک ادا کر رہی ہیں؟

جواب: صحافیوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے بھی کوئی میکنزم نہین ہےPFUJاس حوالے سے اقدامات کر رہی ہے ،امید ہے کہ آنے والے دنوں میں صحافیوں کی بہتری کے لیے مثبت تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔چند بڑی اور چھوٹی تنظیمیں صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کردار ادا کر رہی ہیں ،اس وقت صحافی برادری کو اپنے بچوں کی تعلیم،صحتاور رہائش کی اشد ضرورت ہے اگر حکومت وقت صحافیوں کو یہ بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں دلچسپی کا مظاہرہ کرے تو صحافی برادری خوشحال ہو سکتی ہے



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


Leave a Reply

Translate »