پاکستان کا ہر فرد امریکی جاسوسی کی زد میں!

ڈیجیٹل ڈیوائسزکا استعمال آپ کی پرائیویسی ختم کر دیتا ہے

دنیا بھر کے افراد کی جاسوسی کے خفیہ امریکی پروگرام PRISM کے بارے میںسابق سی آئی اے ایجنٹ ایڈورڈ سنوڈن نے جو انکشافات کئے ہیں اس کے بعد اب یہ سمجھ لینا چاہئے کہ کمپیوٹر ، موبائل، لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ یا کسی

My this article was published in Daily Ausaf Sunday Magazine on 21 September 2014.

My this article was published in Daily Ausaf Sunday Magazine on 21 September 2014.

بھی ڈیجیٹل ڈیوائیس کو استعمال کرنے والے فرد کی ذاتی پرائیویسی ختم ہو چکی ہے، آپ ہر لمحہ کی نگرانی کی زد میں ہوتے ہیں ۔ کچھ عرصہ پہلے تک یہ خیال عام تھا کہ و ہ کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ جن کو انٹرنیٹ کے ساتھ منسلک نہیں کیا جاتا وہ جاسوسی سے محفوظ رہتے ہیں لیکن اب جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ان کمپیوٹرزتک بھی رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی ڈیجیٹل ڈیوائس کی پہچان اس کے MAC Address سے ہوتی ہے اور جب ہم کوئی ڈیجیٹل ڈیوائس ، مثلاً کمپیوٹر ، موبائل، لیپ ٹاپ استعمال کرتے ہیں تو چاہے وہ انٹرنیٹ کے ساتھ منسلک نہ بھی ہو تو اس کے استعمال کندہ کے مقام اور سرگرمیوں کا سراغ لگایا جاسکتا ہے اور اس پرنظر رکھی جاسکتی ہے ۔ ایڈورڈ سنوڈن نے جو خفیہ دستاویزات افشاءکیں ان سے پتا چلتا ہے کہ مخصوص افراد اور اداروں کی جاسوسی کے لئے امریکہ نے ایک لاکھ کمپیوٹروں میں ایسے چھوٹے آلات نصب کئے جو برقی لہریں خارج کرتے ہیں اور ان برقی لہروں کی مدد سے انٹرنیٹ کے بغیر ڈیٹا حاصل کیا جاسکتا ہے ۔اس کے علاوہ سنوڈن نے یہ بھی انکشاف کیا کہ این ایس ا ے(National Security Agency) دنیا بھر میں منتخب افراد اور اداروں کے راز حاصل کرنے کے لئے ان کے کمپیوٹرز میں ایک خفیہ سافٹ وئیر داخل کرتی ہے اور پھر ان کمپیوٹرز سے ڈیٹا چرالیتی ہے اور یہ کام اتنے خفیہ انداز سے ہوتا ہے کہ متاثرہ فرد کو اس کاروائی کا علم ہی نہیں ہوتا۔

امریکی خفیہ ایجنسی NSA نے دنیا بھر کی جاسوسی کے لئے بہت زیادہ سرمایہ سے PRISM کے نام سے ایک خفیہ پروگرام کا آغاز کیا جس کے تحت ا ب امریکہ نے یہ صلاحیت حاصل کر لی ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی خطہ میں رہنے والے انسان یا اداروں کے بارے میں مکمل معلومات رکھتے ہیں۔ اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ جب چاہے آسانی کے ساتھ پاکستان کے کسی بھی فرد یا ادارے کی جاسوسی کرسکتا ہے ۔ امریکہ جاسوسی کے لئے ہر جائز اور نا جائز حربہ استعما ل کرکے اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں۔ امریکی حکومت کے جاسوسی کے غیر قانونی طریقوںسے متنفر ہوکر ایڈورڈ سنوڈن نے امریکہ کی 17 لاکھ حساس دستاویزات چرالیں، NSA کے ما ہرین کا خیال ہے کہ سنوڈن نے ٹاپ سیکرٹ ڈیٹا کو حاصل کرنے کے لئے Web Crawler نام کا سافٹ وئیر استعمال کیا جس کی مدد سے کمپیوٹر میںموجودکسی بھی فائل کو ڈھونڈا جا سکتا ہے۔

اس کے باوجود کہ سنوڈن نے پرزم پروگرام کے تمام اہم راز فاش کر دئے ہیں، یہ پروگرام ابھی بھی جاری ہے۔این ایس اے ہر موبائل کے محلِ وقو پر نظر رکھتاہے ،وہ کسی کو بھی دیکھ سکتے ہیں کہ فلاں شخص کس وقت کہاں پر تھا۔ وہ ایک دن میں دنیا بھر سے 2 ارب سے زائد کالز ریکارڈ کرتے ہیں اور بھر وہ ریکارڈنگ فلٹر کی جاتی ہے ۔ وہ دنیا بھر میں کی جانے والی فیکس ، ای میل، ایس ایم ایس اور وہ افراد جو انٹرنیٹ استعمال کرنے کی بجائے SMSکے ذریعے بینک یا کریڈ کارڈ کی معلومات کسی کو بھیجتے ہیںتو ان تمام معلوما ت کا ریکارڈ وہ اپنے سرورز میں محفوظ کرلیتے ہیںاور ان کے پاس انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کے بینک اکاﺅ نٹ اور کریڈٹ کارڈکی ڈیٹیلز بھی موجود ہو تی ہیں ۔

 اسی پروگرام کے تحت امریکہ خفیہ ایجنسی NSA سوشل میڈیا سائٹس ، گوگل ، یاہو، فیس بک ، سکائپ، ڈراپ باکس، ایپل، مائیکروسافٹ، اے او ایل، یوٹیوب اور دیگر کے سرورز تک براہ راست رسائی حاصل ہے اور این ایس اے زیر سمندر فائبر آپٹک کیبلز سے براہ راست ڈیٹا حاصل کرسکتی ہے۔یہ سارا ڈیٹا NSA کے Utah Data Center میں محفوظ ہوتا ہے اوریوں دنیا کے کسی بھی کونے میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے یوزرز کا ڈیٹا ان کی دسترس میں ہوتا ہے۔سکائپ کی ویڈیو اور آڈیو کالز بھی ریکارڈ کی جاتی ہیں ، خاص طور پر جو بیرون ملک کی جاتی ہیں اور ان کا دورانیہ بھی زیادہ ہو۔ این ایس اے کی ان تمام غیر قانونی سرگرمیوں کو تحفظ دینے کے لئے یہ موقف اختیا ر کیا جاتا ہے کہ این ایس اے مختلف ذرائع سے حاصل شدہ ہونے والی ان معلومات کی مدد سے امریکہ مخالف جذبات رکھنے والے افراد ، حکومتوں اور جنگجوﺅں پرنظر رکھنے میں اور ان کے خلاف بروقت کاروائی میں مدد ملتی ہے۔ مثال کے طور پے NSA نے القاعدہ کے ایک ا یسے جنگجو محمد طاہر شہزاد کا پتا لگایا جو اپنی شناخت چھپانے کے لئے پچاس فرضی ناموں سے بنائے گئے اکاونٹس استعمال کرتا تھا اور ان اکاﺅنٹس پے پیغامات کی نگرانی سے اس کی اصلیت کا پتہ چلا اور اسے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد سے2011 میں گرفتار کرلیا گیا۔

 اسی طرح ایک انٹرنیٹ براﺅزر اسے Tor Projectیا Orbot کہتے ہیں ، اس براﺅزر کی خاصیت یہ ہے کہ وہ آپ کی اصلیت یا پہچان چھپا دیتا ہے، آپ اس پر کچھ بھی سرچ کر سکتے ہیں جو کسی ریکارڈ میں نہیں آئے گا لیکن ابھی حال ہی میں انکشاف ہو ا ہے کہ وہ براﺅزر بھی امریکی خفیہ ایجنسیوں نے ہی بنایا تھا ۔ جس سے وہ انٹرنیٹ پر ان لوگوں کی نگرانی کر سکیں جو اپنی پہچان چھپا کر انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔اس کے علاوہ امریکی حکومت اپنے سائبر ڈیفنس سسٹم کے لئے MonsterMind نامی سافٹ وئیر کا استعمال بھی کررہی ہے جس کی مدد سے وہ امریکی تنصیبات پر ہونے والے سائبر حملوں کا خودکار طریقہ سے جواب دے سکتے ہیں،اسے روک سکتے ہیںاورحملہ آور کے کمپیوٹر کو نا کارہ بنا سکتے ہیں لیکن اس سافٹ وئیر میں کچھ ایسی پیچید گیاں ہیں کہ جس سے دنیا کا امن وامان تباہ بھی ہو سکتا ہے۔

 اس بات میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ جاسوسی کے میدان میں امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک بہت آگے نکل چکے ہیں۔ لیکن ہمارے دو ہمسایہ ممالک چین اور بھارت بھی جاسوسی کےلئے جدید ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر چکے ہیں۔ مثال کے طور پر حال ہی میں چین میں قائم ’گھوسٹ نیٹ‘ نامی جاسوسی کا نیٹ ورک منظر عام پر آیا ہے اور اس نیٹ ورک کے پس پشت کام کرنے والے ہیکرز نے اپنے مطلوبہ احداف کے کمپیوٹر پر کامیاب حملے کر ان میں حساس معلومات حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اسی طرح انڈین خفیہ ایجنسیوں نے وسیع پیمانے پر سستی USBs تیارکر کے فروخت کے لئے مارکیٹ میں لانچ کی ہیں ۔ عام آدمی یہ نہیں جانتا کہ مارکیٹ سے کم قیمت میں خریدی جانے والی اسUSB میں ایسا فنگشن ہے کہ جب وہ USB کہیں بھی استعمال کی جائے گی تو اس میں محفوظ کئے جانے والاڈیٹا خود کار طریقہ سے انڈین خفیہ ایجنسیوں کے سرورز میں اپ لوڈ ہوجائے گا۔

 حاصل مطالعہ یہ ہے کہ امریکہ نے پوری دنیا میں جاسوسی کے لئے جو جال بچھارکھا ہے، اگر آپ خفیہ ایجنسیوں کی نگرانی سے بچنا چاہتے ہیں اور آپ کی یہ خواہش بھی ہے کہ آپ کی پرائیویسی میں کوئی دوسرا فرد مداخلت نہ کرے تو اس کی زد سے بچنے کے لئے اپنے موبائل سے ایس ایم ایس کے ذریعے حساس موضوعات پر کسی پراپیگنڈہ کے فروغ کو کار خیر سمجھتے ہوئے اس میں شریک ہونے سے بچنا چاہئے ، سوشل میڈیا پر امریکہ مخالف غیر ضروری بحث ِمباحثوں میں حصہ لینے سے گریز کیا جائے اور انٹرنیٹ پر بلا مقصد سرچ سے اجتناب کیا جائے ۔ انٹر نیٹ پر جب آپ اسلحہ اور بم بنانے،دہشت گردوں، امریکی جنگوںاور خفیہ ایجنسیوں کے بارے میں سرچ کریں گے،منشیات اور غیر قانونی خریدوفروخت کے ذرائع تلاش کریں گے ،Most Wanted لوگوں کی زندگی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں دلچسپی لیںگے ، ہیکنگ کے طریقے سیکھنے کی کوشش کریں ، ایٹمی اور فوجی تنصیبات والے علاقوں کے نقشے تلاش کریں گے،حتیٰ کہ اگر آپ کی ای میل یا چیٹ میںAfghan War کا لفظ بھی آ گیا تو آپ کا نام بھی مشکوک افراد کی لسٹ میں آ جائے گا یا فرض کریں آپ کسی امریکہ مخالف گروپ، فرد یا سیاست دان کے بارے میں بھی سرچ کرتے ہیں تو NSA آپ کے بارے میںمکمل چھان بین ضرور کر ے گی اور آپ کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر بھی رکھی جاسکتی ہے ۔



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


Leave a Reply

Translate »