پاکستا ن کے مایہ ناز اور ممتاز ٹی وی پروڈیوسر، ڈائریکٹر ، اینکر،شاعر،کالم نویس ، ڈرامہ ، ناول نگار، کاپی رائٹراور فوٹو گرافرجناب حفیظ طاہرصاحب کا انتہائی معلوماتی انٹرویو

پاکستا ن کے مایہ ناز اور ممتاز ٹی وی پروڈیوسر، ڈائریکٹر ، اینکر،شاعر،کالم نویس ، ڈرامہ ، ناول نگار، کاپی رائٹراور فوٹو گرافر ، محتر م حفیظ طاہر کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار خوبیوں سے نوازا ہے ، انہوں نے بحیثیت پروگرام وایگزیکٹو پروڈیوسر پی ٹی وی میں 27 سال تک خدمات سر انجام دیں۔ اس دوران انہوں نے ڈرامہ سیریل، کلاسیکل اور جدید موسیقی کے پروگرامز، ڈاکومنٹریز ،کوئیز شو، سٹیج شو،براہ ِراست نشریات اور کرنٹ افیئر پروگرامز پیش کیے۔ پی ٹی وی پران کے بے شمار پروگرامز کو بہت پزیرائی حاصل ہوئی لیکن بحیثیت ہدایت کار بچوں کیلئے پیش کی جانے والی ڈرامہ سریل ” عینک والا جن“ نے 15 سال تک مسلسل نشر ہونے کا ریکارڈ قائم کیا ۔اس ڈرامہ کو 6 پی ٹی وی ایوارڈ ملے جن میں Director of Decade اور Graduate ایوارڈز اور دیگر بے شمار ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ۔ آپ نے PRIME TV پر ڈرامہ سیریلز اور لائیو شو کیے جبکہ چینل فائیو کو قائم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ۔ ان دنوںسرحفیظ طاہر پنجاب یونیورسٹی لاہور میں ڈاکومنٹریز، ٹی وی ڈرامہ اورفلمز کی سکرپٹ رائٹنگ پر لیکچر دے رہے ہیں۔ سرحفیظ طاہر کے شاعرانہ کلام پر مشتمل دو کتا بیں ” آٹھواں رنگ“ اور ’زیر زمین“ شائع ہو چکی ہیں۔ وہ نوجوان صحافی جوالیکٹرونک میڈیا سے وابستہ ہونا چاہتے ہیں یہ انٹرویو ان کے لئے بہت مفید ثابت ہوگا۔
سوال: کیا آپ کا بچپن میں ہی ٹی وی پروڈیوسر بننے کا خواب تھا؟
جواب : یہ میرے اندر کا ہی شاعر تھا جو مجھ سے کہتا تھا کہ اپنے DNA میں چھپے خیالات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے صرف باتیں ہی کافی نہیں۔پھر یوں ہوا کہ میرے والد محتر م ٹی وی لے آ ئے اور اس سے میری دلچسپی شدت اختیار کر گئی۔میں نے اپنی جوانی کے دور میں hafeez tahir for bookہی یہ فیصلہ کر لیا کہ میں ٹی وی پروڈیوسر بنوں گا ۔ میں نے PTVتک رسائی حاصل کرنے کیلئے سخت جدو جہد کی لیکن آغاز میں مجھے سکرپٹ رائٹر کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا۔کچھ عرصہ بعد PTV نے ’ہدایت کار ‘کی ملازمتوں کا اعلان کیا تو میں نے بھی اس کے لئے در خواست دی لیکن میں منتخب نہ ہوسکا ۔پھر چند سال بعد دوبارہ ملازمتوں کا اعلان کیا گیا اس بار قسمت نے میرا ساتھ دیا اور میرا خواب پورا ہو گیا ، مجھے بحیثیت پروڈکشن اسسٹنٹ کے طور پر منتخب کرلیا گیا ، آپ میرا جنون دیکھیں کہ میں نے نیس پاک کی انتہائی پرکشش جاب چھوڑ کر PTV کو جوائن کر لیا۔ مالی لحاظ سے تو مجھے ہزاروں روپے کا نقصان ضرور ہوالیکن اس کا صلہ تخلیقی اطمینان اور عمدہ کامیابی کی صورت میں ملا اور پھر اس کے بعد کی داستان پُر جوش جدو جہد اور تخلیقی صلاحیت کے میدان میں سخت محنت پر مشتمل ہے ۔
سوال: ہدایت کار کی حیثیت سے آپ کا سب سے پہلا ٹی وی شو کون سا تھا ؟
جواب: ہدایت کا رکی حیثیت سے میرا پہلا شو’ سجری رُت‘ تھا جو پنجاب کے مشہور ضلعوں کے ذہین نوجوانوں کا انٹرویو ز پر مشتمل چھوٹی چھوٹی ڈاکومنڑیز کا مجموعہ تھا۔
سوال: ہدایت کار کی حیثیت سے آغاز میں آپ کو کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ؟
جواب: مشکلات تو بہت آئیں لیکن اپنا مقام اور پہچان بنانے کے لئے پروڈیوسرز کے درمیان سب سے سخت مقابلہ تخلیقی کا م پیش کرنے کا ہوتا تھا۔ عام طور پر نئے آنے والے پروڈیوسرز کو سینئرز کے حسد کا سامنا کرنا پڑتا اور اپنی قابلیت اور مہارت پیش کرنے کے لئے راستہ بنانے میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ، تجربہ کار پروڈیوسرز نئے آنے والوں کو ایک خطرے کے طور پر لیتے ہیں۔ ابتداءمیں میری تخلیقی صلاحیتوں کو جناب یاور حیات کے علاوہ کسی نے داد نہیں دی اس لئے میں انہیں اپنے ستاد کی طرح سمجھتا ہوں ۔ بلا آخر جب میں نے اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر یہ ثابت کر دیا کہ میںاس کا اہل ہوں تو میرے کولیگز نے بھی پھر میرے ساتھ تعاون کرنا شروع کر دیا۔
سوال: آپ کو پہلا ڈرامہ پروڈیوس کرنے کا موقع کب ملا ؟
جواب: جب میرے کولیگز نے میرے کیر یر میںدشواریا ں کھڑی کیں اور مجھے بڑے پراجیکٹس پر کام کرنے کا موقع نہ دیا تو میں نے اس کا حل یوں نکالا کہ بچوں کیلئے پروگرامز بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے بچوں کیلئے ” تلاش“ کے نام سے ایک پروگرام کا آئیڈیا متعارف کرایا ، hafeez tahir as directorاس پروگرام کا سکرپٹ بچوں کے ممتاز ادیب جناب عزیز اسری صاحب نے لکھا۔اس کے باوجود کہ میں ابھی نہ تجربہ کار تھا ، میں ایک اچھا سیریل بنانے میں کامیاب ہو گیا جسے ناظرین نے بہت پسند کیا۔پھر میں نے ”خفیہ جزیرہ“ کے نام سے ڈرامہ پروڈیوس کیا، اسے محمد ابراہیم رامے صاحب نے لکھا جو معروف سیاست دان ، لکھاری اور کیلی گرافر جناب حنیف رامے کے بیٹے ہیں۔یہ ڈرامہ ایک ایڈوینچر تھا جو ایک سوئس خاندان’ روبن سن‘ سے متاثر ہو کر بنایا گیا تھا ۔اس سیریل کا بہت اچھا رسپانس ملا،اس کامیابی کے بعد پی ٹی وی انتظامیہ کو مجھ پر بھروسہ ہو گیا اور پھر مجھے دوسرے پروگرامز میں بھی کام کرنے کا موقعہ ملنے لگا ۔پھر میں نے ”انوکھے لوگ “ ایک سائنس فکشن پر مبنی اور ”ہے کوئی ایسا “بچوں کے لئے ڈرامہ بنایا۔جب میں نے اپنے پہلا ڈرامہ پروڈیوس کیا تو مجھے ڈائریکٹر کی حیثیت سے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا پتا چلا اور اس سے مجھ میں بہت تبدیلی آئی ، اس نے میرے حوصلہ ، جر ات اور بہتر کام کرنے کےلئے میرے جنون میں اضافہ کیا۔
سوال: آپ کے بنائے ہوئے کون سے ڈراموں کوبہت پزیرائی ملی؟
جواب: میرے بنائے ہوئے کامیاب ڈراموں میں’عینک والا جن‘،امن(50 منٹ)،آگ(50 منٹ)،روگ(50 منٹ)،سارہ۔ میرے کامیاب میوزیکل پروگرامز میں ’صدا بہار( بہترین ریڈیو میوزک)‘،سر ترنگ(پاپ میوزک) اور بسات و نغمہ ۔میرے بہتریں شو زمیں ’نیلام گھر‘، پی ٹی وی ایوارڈز، DM Digital UK کا افتتاحی شو اور بہت سی خاص موقوں پر شو شامل ہیں۔ میں نے ایشین ڈیویلپمنٹ بینک اور یونی سیف کے لئے ڈاکو منٹریز بھی بنائی ہیں ۔
سوال: آپ نے اپنی تک سب سے بڑا پراجیکٹ کونسا کیا ہے ؟
جواب: ”عینک والا جن“ جوکہ ابھی بھی ناظرین کے لئے ایک یادگار ڈرامہ ہے ، یہ پی ٹی وی کے کسی نہ کسی چینل پر نشر ہوتا ہی رہتا ہے۔hafeez tahir portrait
سوال: کیا آپ پاکستان میں بنائے جانے والے ڈراموںاور فلموں کے معیار سے مطمئن ہیں ؟
جواب: مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ ڈرامے بنانے میں پچھلے دس سال میں بہت بہتری آئی ہے ، بہت سے نئے ڈائریکٹر، پروڈیوسر، رائٹرزاور پرفارمرز منظر عام پر آئے ہیں اوروہ نئے چیلنجز کا سامناکرنے کےلئے تیا ر ہیں ۔لیکن ، افسوس میں فلم انڈسٹری کے بارے میں ایسا نہیں کہہ سکتا۔ہماری فلم انڈسٹری تقریباً تباہ ہو چکی ہے ۔لیکن میں پر امید ہوں کہ نئے آنے والے ڈائریکٹر ز اس لاش میں دوبارہ جان ڈالیں گے یاپھر حکومتی دلچسپی اس شعبہ کو تباہی سے نجات دلا سکتی ہے ۔
سوال: اس وقت پاکستان کے کونسے میڈیا ہاﺅس معیاری کام کررہے ہیں؟
جواب: ہم ٹی وی، اے آر وائی، جیو۔
سوال: ا ن دنوں آپ کن پراجیکٹس پر کام رہے ہیں؟
جواب: میں آج کل ڈرامہ سیریلز لکھتا ہوں، پنجاب یونیورسٹی میں لیکچرز دیتا ہوں اور Creative Director کے طور پر ایڈ گروپ(Ad Groups) کیلئے کام کرتاہوں۔
سوال: اس کی کیا وجہ ہے کہ PTV نے اپنا مقام کھو دیا ہے؟
جواب: PTV کے زوال کی بہت سی وجوہا ت ہیں۔ بہت سے تجربہ کار افراد یا تو ریٹائر ڈ ہو چکے ہیں یا کسی دوسرے چینل سے وابستہ ہو17270_1252101695177_7563191_n گئے ہیں اور افسوس اس بات پر ہے کہ پی ٹی وی کے ذمہ داران نے ان قابل افراد کو روکنے کی زحمت ہی نہیں کی ۔پی ٹی وی میں سیاسی بنیاد پر بہت سے نا تجربہ کا ر لوگ بھرتی ہو چکے ہیں ، اب نہ تو ادارہ ان کی تربیت کا کوئی اہتمام کرتا ہے اور ناں ہی وہ خود اس قابل ہوتے ہیں کہ کوئی تخلیقی کام پیش کر سکیں۔ پی ٹی وی پر تخلیقی کام رک چکا ہے ، اب بیشتر پروگرامز مختلف پرائیویٹ پروڈکشن ہاﺅسز سے خرید لئے جاتے ہیں جو کہ انتہائی غیر معیاری ہوتے ہیں ۔اس کی ایک اور وجہ بھی ہے کہ عام طور پر پروگرام ڈیپارٹمنٹ کو جو بجٹ مہیا کیا جاتا ہے وہ انتا کم ہوتا کہ اس سے معیاری پروگرام پیش ہی نہیں کئے جاسکتے ۔پی ٹی وی میں غیر ضروری بھرتیاں بھی اس کے زوال کی وجہ بنی ہیں۔اگر ان بیماریوں کا علاج کر لیا جائے تو آج بھی پی ٹی وی اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتا ہے ۔میں یہ ضرور کہوں گا کہ سیاسی بھرتیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے اور باصلاحیت افراد کو موقع دیا جائے۔
سوال: اگر کوئی پروڈیوسر بننا چاہے تو کہاں سے تربیت حاصل کر سکتا ہے ؟
جواب: لاہور میں کچھ اہم ادارے جن میں نیشنل کالج آف آرٹس ، پنجاب یونیورسٹی ،بیکنزنیشنل کالج، یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب، یونیورسٹی آف لاہوراور سپیریئر یونیورسٹی وغیرہ ۔
سوال: دنیا بھر کا الیکٹرونک میڈیا کس قسم کی ڈاکومنٹریز کو خریدنا پسند کرتا ہے؟
جواب: اس کاانحصار کلائنٹ کی ڈیمانڈ پر ہوتا ہے ، لوگوں کی مختلف ضروریات ہوتی ہیں۔کچھ کلائنٹ ملک دشمن ڈاکومنٹریز کی ڈیمانڈ کرسکتے ہیں اور اس کے عوض بھاری رقم کی پیش کش کریں گے لیکن اس طرح کے کام سے اجتناب کرنا ہی بہتر ہے ۔
سوال: پاکستان میں میڈیا ہاﺅس بنانے کیلئے کم از کم کتنے سرمایہ کی ضرورت ہوگی ؟
جواب: اس کا انحصار اس پر ہے آپ کس طرح کا پروڈکشن ہاﺅس بنانا چاہتے ہیں؟ کس قسم کے کیمرے استعمال کرنا چاہتے ہیں ؟ کتنا سازو Ainak-Wala-Jin-2012سامان خرید تے ہیں ؟ کتنا سٹاف رکھتے ہیں ؟کیا آپ اپنا ریکارڈنگ سٹوڈیو بنانا چاہتے ہیں یا نہیں ؟ لیکن ایک عام اندازے کے مطابق 25 لا کھ روپے میں ایک پروڈکشن ہاﺅس قائم کیا جا سکتا ہے۔
سوال: نئے آنے والے پروڈیوسرز کی کن غلطیوں کی وجہ سے معیاری کام نہیں ہو رہا؟
جواب: ان کے پاس معیاری کہانی اور سکرپٹ منتخب کرنے کی صحیح صلاحیت نہیں ہوتی اس لئے وہ کامیاب پروڈکشن نہیں کرپاتے ۔معیار پر سمجھوتہ کرنے کا رویہ اور غلط وقت اور معیار پر کام کرنا ۔غلط کاسٹ کرنا اور اداکاروں کو ہدایت دینے کے نا اہل ہونا ۔
سوال: آپ نے شاعری کا آغاز کب کیا ؟آپ کی کتنی کتابیں شائع ہو چکی ہیں ؟
جواب: میری شاعری کے دو کتابیں ” آٹھواں رنگ“ اور ”زیر زمین “ شائع ہو چکی ہیں جبکہ تین کتابیں ”رنگ رس، دسترس اور زہر ِعشق“ زیر اشاعت ہیں۔ میں بچوں کے لئے ایک ناول ”منزل منزل “ بھی لکھ رہا ہوں اور ٹی وی پروڈکشن پر ایک کتاب بھی لکھ رہا ہوں۔
سوال: الیکٹرونک میڈیا بہت کشش ہے اور بہت سے لوگ اس سے وابستہ ہونا چاہتے ہیں ، آپ کا ان کیلئے کیا پیغام ہے؟
جواب: الیکٹرونک میڈیا بہت پر کشش ہے لیکن یہ کوئی گلاب کا بستر نہیں ۔یہ کوئی جاب نہیں ، یہ جنون ہے ۔یہ ایک کلچر ہے ، یہ زندگی کا 1604897_10202473868420509_276381646_nایک طریقہ ہے ،اس دنیا میں بہت سخت مقابلہ ہے ۔آپ اپنے آپ سے سوال کریں جوکچھ میں نے ابھی کہا اور پھر فیصلہ کریں ۔اگر آپ نے الیکٹرونک میڈیا سے وابستہ ہونے کا ارادا کیا ہے تو کسی اچھے سے انسٹی ٹیوٹ سے مکمل تربیت حاصل کریں اور پھر کسی سینئر پروڈیوسر یا ڈائریکٹر کے ساتھ اسسٹنٹ کے طور پر کام کریں ۔اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے چھوٹے دورانیہ کی فلمز اور ڈاکومنٹریز بنائیں اور انہیں مقابلوں میں بھیجیں اور پھر کسی بڑے پراجیکٹس کے طرف قدم بڑھائیں اور اپنے اندر سکرپٹ منتخب کرنے کی عمدہ صلاحیت پیدا کریں تاکہ آپ ایک کامیابی حاصل کرنے والا سکرپٹ منتخب کر سکیں ۔



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


Leave a Reply

Translate »