کالم نگار، شاعر، ادیب اور بچوں کے ہر دل عزیز ماہنامہ ’’گوگو‘‘ میگزین کراچی کے ایڈیٹر محترم ایم عادل گلزار صاحب کا انٹرویو

پاکستان میں بچوں کےلئے بے شما ر اردو رسائل شائع ہوتے ہیں ان میں سے ایک ماہنامہ ”گوگو“ کراچی بھی ہے۔ اس وقت پاکستان کے بہت سے معروف رائٹرز کی کہانیا ں ماہنامہ ”گوگو“ میں باقاعدگی سے شائع ہورہی ہیں جو بچوں کی مثبت کردار سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بچے ماہنامہ ”گوگو“ کو بہت شوق سے پڑھتے ہیں ۔ آج ہم آپ کی ملاقات ایڈیٹر ماہنامہ ”گو گو “ محترم عادل گلزار صاحب سے کرارہے ہیں ۔ان کا شمار بچوں کے لئے لکھنے والے معروف رائٹرز میں ہوتا ہے ان کی ہر تحریر میں بچوں کےلئے ایک زبردست پیغام ہوتا ہے ۔وہ صرف بچو ں کے رائٹر ہی نہیں بلکہ بہت اچھے شاعر اور کالم نگار بھی ہیں لیجئے حاضر خدمت ہے محترم ایم عادل گلزار صا حب کا انٹرویو۔
سوال: اپنے بارے میں کچھ بتائیں کہ تعلیم کہاں کہاں سے حاصل کی اور آپ کا بچپن کیسے گزرا؟30432_110424492332727_100000955307088_62521_3692562_n
جواب : ابتدائی اور انتہائی تعلیم فیصل آباد سے ہی حاصل کی کیونکہ چھوٹی عمر میں میں بیرون شہر آ جا نہیں سکتا تھا۔ ہر شخص کی طرح میرا بچپن بھی شرارتوں سے بھرپور اور بے فکری کا تھا۔اب بھی کبھی کبھار بچگانہ شرارتیں کر کے بچپن کی یادوں کو زندہ کرتا رہتا ہوں۔
سوال: آپ نے کتنی عمر میں بچوں کے رسائل پڑھنے شروع کئے اور آپ کی سب سے پہلی تحریر کس میگزین میں شائع ہوئی اور اپنی پہلی تحریر کی اشاعت پر آپ کے کیا اثرات تھے؟
جواب : میں نے بہت چھوٹی عمر میں بچوں کے رسائل پڑھنا شروع کئے تھے میری پہلی تحریر روزنامہ جنگ لاہور بچوں کے صفحہ میں شائع ہوئی تھی یہ 1998ءکی بات ہے۔ مجھے بہت خوشی ہوئی تھی اور یہی خوشی مجھے یہاںتک لائی۔
سوال: عام طور پر نئے لکھنے والوں کو اپنی پہلی تحریر کی اشاعت کےلئے بہت جدوجہد کرنا پڑتی ہے؟ کیا آپ گوگو میں اس بات کو ملحوظ خا طر رکھتے ہیں؟
جواب :آپ کی بات بالکل ٹھیک ہے ماہنامہ گوگو میں نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور ان کی تحریریں کانٹ چھانٹ کے بعد ان کے نام اور اعزاز کے ساتھ شائع کے جاتی ہیںآپ دیکھ لیں آج ایسے کئی لکھاری پاکستان کے معیاری رسائل میں لکھ رہے ہیں۔”گوگو“ کے چیف ایڈیٹر ایم مجاہد صاحب کا کہنا ہے کہ جو اچھا نہیں لکھ سکتا وہ کل ضرور اچھا لکھے گا اسی لئے آج تک ”گوگو“ آفس میں ردی کی ٹوکری نہیں رکھی گئی۔
سوال: بحیثیت ایڈیٹر گوگو میگزین سے کب سے وابستہ ہوئے اور گوگو میگزین کے ساتھ پہلا رابطہ کیسے ہوا؟
جواب : جنوری 2011ءسے بحیثیت ایڈیٹرمنسلک ہوں اس سے پہلے سب ایڈیٹر کے طور پر منسلک تھا۔ گوگو کے ساتھ پہلا رابطہ بطور لکھاری ہوا یہ2007 ءکی بات ہے۔ یہ گوگو کا بھی ابتدائی دور تھا۔
سوال: فیصل آباد میں بیٹھ کر کراچی سے نکلنے والے میگزین میں ایڈیٹر کے فرائض کی ادائیگی میں مشکل پیش نہیں آتی؟ اتنی دور بیٹھ کر یہ ذمہ داری کس طرح ادا کرتے ہیں؟
جواب : آج کل آپ کو پتہ ہے کہ  کمیونیکیشن کا دور ہے اور اس سے استفادہ کرنے والا ہی کامیاب ہے میں ہمہ وقت گوگو کے لکھاری قاری اور ٹیم سے رابطہ میں رہتا ہوں ۔جب ضرورت پڑتی ہے تو کراچی بھی آتا رہتا ہوں کراچی میرا دوسرا گھر ہے ۔مجھے ایڈیٹر بنانے کا فیصلہ ایم مجاہد صاحب کا ہے اور وہ ہر کام بہت سوچ سمجھ کر کرتے ہیں ۔
سوال: پاکستان میں بچوں کے میگزین پڑھنے والوں کی اکثریت کی عمر کا لیول کیا ہے اور کیا وجہ ہے کہ بچوں کے بہت سے میگزین بند ہو رہے ہیں؟
جواب : بچوں کا میگزین پڑھنے والوں کی عمر آٹھ سے اسی سال تک کی ہے کیونکہ بچپن کبھی نہیں بھولتا۔ رہی بات بچوں کے رسائل بند ہونے کی تو میرے خیال میں شائد غیر معیاری رسائل ہی بند ہو رہے ہیں ۔ کیبل اور گیمز کو ذمہ دار ٹھہرانا ٹھیک نہیں ۔آج بھی پھول ،تعلیم و تربیت اور نونہال بڑی تعداد میں چھپ رہے ہیں۔اور ماہنامہ گوگو کی اشاعت میں بھی ہر ماہ 500سے 1000تک کا اضافہ ہو رہا ہے ۔
سوال: آپ کے میگزین میں اشاعت کےلئے ہر ماہ بہت سی تحریریں آتی ہوں گی نئے رائٹرز کی تحریروں کی اشاعت کا فیصلہ کن بنیادو پر کیا جاتا ہے؟
جواب : ہماری کوشش ہوتی ہے کہ نئے لکھنے والے کو جلد از جلد شائع کیا جائے تاکہ اس کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔ایک بات ہمارے دوست اور گوگو کے اعزازی ایڈیٹر حا فظ مظفر محسن صاحب کہتے ہیں کہ” پکڑ سکو تو کسی کا بازو پکڑو، نہ کہ کسی کی ٹانگ کھینچو“ ۔
سوال: ایک اچھے رائٹر میں کیا خوبیاں ہونی چاہئیں۔ نئے لکھنے والوں کو آپ کیا مشورہ دیں گے؟
جواب : قاری کے مزاج کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھنے والا ہر دور میں کامیاب رائٹر رہا ہے۔اچھا سے اچھا لکھنے کےلئے مطالعہ بہت ضروری ہے۔
سوال: بحیثیت ایڈیٹر گوگو میگزین، شاعری، کالم نگاری اور بچوں کے لئے لکھنے کے علاوہ اور کیا کیا کام کر رہے ہیں؟
جواب : میرا اپنا ذاتی بزنس ہے۔اس سلسلے میں بھی کراچی آنا جانا رہتا ہے۔
سوال: کون سا ایسا کام ہے جو رات دن بھی کرتے رہیں تو بور نہیں ہوتے؟
جواب : لفظ بوریت میری ڈکشنری میں شامل نہیں،لکھنا لکھانا ، مطالعہ اور نیٹ سرفنگ میں میں تھکتا نہیں۔
سوال: اپنے تجربات کی روشنی میں نوجوان نسل کے نام کیا پیغام دیں گے؟
جواب : ہماری ہہ عمر تو نہیں کہ تجربات کی روشنی میں کچھ کہہ سکیں بس اتنا کہوں گا اگر دنیا میں آگئے ہو تو آنے کا حق ادا کر کے جاﺅ اپنا مقام بنا کر جاﺅ۔



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


Leave a Reply

Translate »