کیا فیس بک کے بامقصد اور مثبت استعمال کو سیکھ کر اس سے فائدہ اور کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں؟

فیس بک فرینڈز کا انتخاب ، تعداد اور دوستوں کو چھپانے سے آپ کے فیس بک اکاؤنٹ کی اہمیت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں

Facebook

My this article was published in Daily Ausaf Sunday Magazine on 27 Oct 2013

19u

My this article was published in Daily Ausaf Sunday Magazine on 27 Oct 2013 (Page 2)

فیس بک اب کسی تعارف کا محتاج نہیں رہا۔ ایک تازہ خبر کے مطابق اس وقت پاکستان میں ایک کروڑ کے قریب افراد فیس بک استعمال کر رہے ہیں اور ان میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ سوشل میڈیا ہماری زندگی میں جس تیزی سے داخل ہوا ہے ، اس میں سب سے پہلے فیس بک کا نا م ہی آتا ہے۔ فیس بک کے ذریعے رابطہ کرنا، اپنے خیالات اور پیغام کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا ، نئے نئے دوست بنانا، گپ شپ کرنا وغیرہ کسی بھی خطے میں موجود کسی بھی شخص سے اب انتہائی آسان ہو چکا ہے اسکےعلاوہ فیس بک کو بزنس اور ایڈورٹائزمنٹ ٹول کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔اب آپ بستر میں لیٹے ہی دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونے والی کسی بھی قسم کی بات چیت میں حصہ لے سکتے ہیں اور اپنے دوستوں کی حرکات و سکنات اور ان کے زندگی میں پیش آنے والے واقعات پر گہری نظر رکھ سکتے ہیں۔ سچائی تو یہ ہے کہ فیس بک آج کے دور میں سماجی اور کاروباری روابط کا عالمگیر ذریعہ بن چکا ہے ۔ ایک وہ وقت تھا کہ دنیا پر پرنٹ میڈیا کا راج تھا ، پھر اس کے بعد الیکٹرونک میڈیا کا دور آگیا اور اس وقت ہم سوشل میڈیا کے دور سے گزر رہے ہیں ۔پاکستانی معاشرے میں سوشل میڈیا کے استعمال کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد نے سوشل میڈیا کی طاقت کو استعمال کرکے ظلم، برائی اور نا انصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کرکے ہلچل مچائی ہوئی ہے۔ وہ خبریں جن پرکبھی پرنٹ اور الیکٹرونک میڈ یا کی اجارہ داری ہوتی تھی اور وہ معاملات جن پر بند کمروں میں بیٹھ کرمک مکا کر لیا جاتا تھا۔ اب انہیں چھپانا ممکن نہیں رہا۔ اس صورتحال کو معروف کالم نگا ر جناب اوریا مقبول جان نے اپنے ایک کالم میں پرنٹ اور الیکٹرونک میڈ یا کی بے بسی کو بہت خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ ”کمپیوٹر پر بیٹھا ہوا نوجوان آپ کی کروڑوں روپے کی لاگت سے بنائی گئی میڈیا ایمپا ئیرز کا مقابلہ کر رہا ہے۔ بلکہ اب تو جیت اس کا مقدر ہونے لگی ہے،اس سوشل میڈیا کی طاقت کا اندازہ جن کو ہے ان کے منہ سے روز جھاگ نکلتی ہے اور وہ غصے سے کھولتے پھر رہے ہیں۔ وہ جنہیں اس بات کا زعم تھا کہ ہم ہواؤں کا رخ بدل سکتے ہیں ان کے ہاتھ پاؤں پھول رہے ہیں۔ گذ شتہ دس سال تک میڈیا کے ذریعے لوگوں کے دلوں کو مسخر کرنے والوں کی حالت دیکھنے والی ہے،اور اب کنٹرول ہر اس شخص کے پاس ہے جو چھوٹے سے کمرے میں بوسیدہ کمپیوٹر پر بیٹھا ہے، اور جو بساط الٹ سکتا ہے اور اس نے بساط الٹ کر رکھ دی ہے۔“ محترم اوریا مقبول جان کے ان الفاظ سے بخوبی انداز ہ لگایا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا کی کیا اہمیت ہے۔ میری چھٹی حس مجھے پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ بہت جلد وہ وقت بھی آنے والا ہے کہ جب بچوں کو سکولوں میں پڑھایا جائے گا کہ سوشل میڈیا کا استعمال کیسے کرنا چاہیے۔ میں تو کہتا ہوں کہ جلد از جلد یہ طے کر لیا جائے کہ سوشل میڈیا سے متعلق معلومات کو تعلیمی نصاب کا حصہ ہونا چاہیے تا کہ بچوں علم ہو کہ سوشل میڈیا سے کیسے فائدہ اٹھایا جائے اور نقصانات سے کس طرح محفوظ رہا جائے۔ فیس بک کے حوالے سے آئے روز کوئی نہ کوئی نئی تحقیق خبروں کی زینت بنتی رہتی ہے۔ کسی خبر میں فیس بک استعمال کرنے والوں کو ڈرایا جاتا ہے اور کسی تحقیق میں اس سے حاصل ہونے والے فائدوں کا تذکرہ ہوتا ہے۔ فیس بک استعمال کرنے کا فائدہ زیادہ ہے یا نقصان اس حوالے سے ہر شخص کے پاس اپنی عقل کے مطابق دلائل موجود ہیں۔ میں اس پر بحث کرنے کی بجائے اس موضوع پر بات کروں گا کہ ہم فیس بک سے کیا کیا فائدے حاصل کر سکتے ہیں ، لیکن سب سے پہلی شرط صرف یہ ہے آپ کو فیس بک کے استعمال کرنے کا مثبت طریقہ آنا چاہئے ۔ جس طرح ہر چیز کی کوئی قدر ، اہمیت یا قیمت ہوتی ہے اسی طر ح آپ کے فیس بک اکاؤنٹ کی ویلیومیں چارچیزیں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔پہلا یہ کہ آپ کے دوستوں کی تعداد اور ان کا معاشرے میں مقام، دوسرا آپ کے ” اباؤٹ “ کا سیکشن جو عام طور پر لوگوں نے نا مکمل ہی چھوڑا ہوتا ہے۔ تیسرا آپ کی پروفائل پکچر ، کچھ لوگوں نے کبوتر کی تصویر لگائی ہوتی ہے اور چوتھا آپ کی پوسٹ اور دوسروں کی پوسٹ پر کومنٹ اور لائیک کا انداز ۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ دوسروں کی نظر میں آپ کے فیس بک اکاؤنٹ کی اہمیت ہو تو بلاوجہ لوگو ں کی فرینڈ ریکویسٹ کو ریجیکٹ نہ کریں ، اچھے لوگوں کو اپنی فرینڈلسٹ میں جگہ دیں ۔اور اپنے دوستوں کی تعداد میں اضافہ کرتے رہیں ۔فیس بک کے ” اباؤٹ “سیکشن میں اپنے بارے میں مکمل معلومات شامل کریں اگر آ پ نے کوئی ایوارڈ وغیرہ حاصل کئے ہیں یا آپ میں کوئی تخلیقی صلاحیت ہے تو اس کو اس میں ضرور شامل کریں ۔اپنی پروفائل پکچر پرغیرمتعلقہ تصاویر کی بجائے اپنی اچھی سی تصویر لگائیں ، کیونکہ جنہوں نے اپنے فیس بک آئی ڈی پر اپنی تصویر نہیں لگائی ہوتی ، لوگ ان پر اعتماد کرنے سے ہچکچاتے ہیں، خواتین تصویر والی شرط سے آزاد ہیں۔ روزانہ بے شمار پوسٹس کرنے کی بجائے ، اپنے فیس بک وال پر مناسب تعداد میں پوسٹ کریں جو بہت ضروری ہوں، لوگ زیادہ پوسٹ کرنے والوں سے بھی تنگ آجاتے ہیں ، اس کے علاوہ جن لوگوں کے ساتھ آپ کا اچھا تعلق ہے ، اگر وہ کوئی پوسٹ کرتے ہیں تو اس کو لائیک ضرور کریں اور اگر ہو سکے تو کومنٹ بھی کریں ۔اس سے سوشل میڈیا پر تعلقات کی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیںاور اگر آپ کا کوئی نیا دوست آپ کی پروفائل پکچر کو یا آپ کی پوسٹ کولائیک کرتا ہے تو آپ کا بھی یہ حق بنتا ہے کہ آپ اس کو اچھا رسپانس دیں ۔ یہ وہ تمام چھوٹی چھوٹی ایسی باتیں ہیں جن پر عمل کر کے آپ سوشل میڈیا پر دوسروں پر اپنا ایک اچھا تاثر قائم کر سکتے ہیں ۔ فیس بک کا سب سے اہم اور مرکزی مرحلہ دوستوں کے انتخاب کا ہو تا ہے عملی زندگی میں دوستوں کے انتخاب میں جس طر ح احتیا ط برتی جاتی ہے ، کچھ لوگ فیس بک پر بھی یہی رویہ اختیار کرتے ہیں، ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ جب ہم ذاتی زند گی میں ہر کسی پر اعتبار نہیں کرتے تو سوشل میڈیا پراتنی جلدی بھروسہ کیسے کر لیں ۔اس لئے وہ فیس بک پر ہر کسی کی فرینڈ ریکوسٹ کو پزیرائی نہیں بخشتے جبکہ کچھ لوگوں کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ ان کے دوستوں کی تعداد ہزاروں میں ہو۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ کس کی سوچ غلط ہے اور کس کی صحیح ہے ۔لیکن اگر کوئی میری رائے پوچھے تو میری یہ خواہش ہوگی کہ فیس بک پر میرے ہزاروں فرینڈ ہوں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ فیس بک ایک ایسا پوائنٹ ہے جہاں پر آپ اپنے پیغام ، تخلیقات، شخصیت اور ٹیلنٹ کو اس وقت دنیا بھر میں متعارف کرانے کا سوچ سکتے ہیں جب فیس بک پر آپ کی فرینڈلسٹ میں بہت زیادہ دوست ہونگے اور اگر آپ کا تعلق مارکیٹنگ کے شعبہ سے ہے یا آپ اپنی کسی پراڈکٹ کوزیادہ سے زیادہ لوگو ں میں متعارف کرانا چاہتے ہیںتو اس کے لئے بھی ضروری ہے کہ فیس بک پر بہت سے لوگ آپ کے رابطہ میں ہوں۔ جبکہ اس کے برعکس اگر آپ اپنے ٹیلنٹ کو چھپا کر رکھنا چاہتے ہیں یا آپ کواپنے کیرئیر سے کوئی دلچسپی نہیں تو پھر آپ فیس بک پراپنے آپ کو اپنی ذات تک محدود رکھیں ، زیادہ دوست نہ بنائیں ، کسی کی پوسٹ پر کومنٹ نہ کریں ، اپنی ذات کوایک دائرے تک محدود کر کے رکھیں ،لیکن اگر آپ سوشل میڈیاکی اہمیت اور اس کے مثبت اثرات کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں تو پھر آپ کو اپنے مزاج کو تبدیل کرنا ہوگا۔

کچھ افرا دایسے بھی ہیں جوفیس بک پر اپنے دوستوں کو چھپا کر رکھتے ہیں ان کے ذہن میں اس کی کیا وجہ ہوتی ہے اس بارے میں ، میں نے اپنے ان چند فیس بک دوستوں سے ان کی رائے معلوم کی تو عاصم اللہ داد کراچی میں فرسٹ ائیر کا طالب علم ہے اور سوشل میڈیا پر کافی ایکٹوو ہے اس کہنا یہ ہے کہ میرا دل تو نہیں چاہتا کہ میں اپنے فیس بک فرینڈز کو چھپا کر رکھوں لیکن میری عمر کے فیس بک استعما ل کرنے والے کوئی نہ کوئی شرارت کر تے ہی رہتے ہیں اور کراچی میں تو اس کا رجحان کچھ زیادہ ہی ہے ، اس لئے میں نے مجبوراً اپنی فرینڈ لسٹ کو ہائیڈ کیا ہوا ہے ۔

Asim Allahdad

Asim Allahdad

بینش حسین ، میڈیکل کی سٹوڈنٹ ہیں اور ان کا تعلق بھی کراچی سے ہے ، انہوں کے کہا کہ یہ بہت سادہ سی بات ہے کہ میں کیوں دوسروں کو بلاوجہ اپنی زندگی میں جھانکنے دوں ۔ میں فیس بک پر دوسروں کو صرف وہی دیکھاتی ہوں جو میں ان کا دکھانا چاہتی ہوں ۔مجھے یہ بات پسند نہیں ہے ۔ کہ میری زندگی میں بلا اجازت کوئی مداخلت کرے ۔

Beenish Hussain

Beenish Hussain

محترمہ سلمہ خورشید جنہوں نے ابھی حال ہی میں یونیورسٹی آف وومن کراچی سے اپنی تعلیم مکمل کی ہے۔انہوںنے کہا کہ میں نے اپنے فرینڈز مخصوص لوگوں سے چھپائے ہیں اس کی وجہ یہ ہے میرے فیس بک فرینڈز میں خواتین اور میرے قریبی رشتہ دار ہیں اور فیس بک پر کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو آپ کی فرینڈ لسٹ سے دوسروں کی تصویروںکو دیکھ کر انہیں فرینڈ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے میری فرینڈز ، فیملی ممبرز کو غیر متعلقہ لوگ بلا وجہ تنگ کریں۔

حسن فاروق سیکٹرایف ایٹ فورکالج اسلام آباد میں ایف ایس سی کا سٹوڈنٹ ہے او ر وہ فیس بک پر میرا وہ دوست ہے جس سے شروع شروع پر میں نے فیس بک کے حوالے سے کافی کچھ سیکھا۔ یہ بھی فیس بک پر کسی کو اپنے دوستوں کی ہوانہیں لگنے دیتے ۔ اس کا کہنا یہ ہے کہ میں نے اس لئے اپنے دوستوں کو چھپا کر رکھا ہوا ہے کہ میں ہر کسی کو یہ نہیں بتانا چاہتا کہ فیس بک پر کون میرا دوست ہے اور کون نہیں۔ فیس بک پر آپ کے فرینڈز میں ہر طرح کی سوچ کے لوگ ہوتے ہیں اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دوسروں سے جیلس ہو جاتے ہیں ۔ میں نہیں چاہتا کہ کوئی اپنی ناسمجھی سے ایسی شرارت کر دے جو میرے لئے یا میرے دوستوں کے لئے الجھن کا باعث بنے۔

Hasan Farooq

Hasan Farooq

محتر مہ نعیمہ لاشاری کا تعلق ساہیوال سے ہے وہ جرنلسٹ ، پاکستان ینگسٹ ایوارڈ ہولڈر اور ینگ جنریشن ہیلپنگ سوسائٹی کی فاﺅنڈر اور چئیرپرسن ہیں انہوں نے اپنے خیا لات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیس بک فرینڈ لسٹ دوسروں سے چھپانا کوئی ایسی چیز نہیں کہ جو فائدہ مند ہو لیکن پھر بھی میں فریندزکو ہائیڈ کرنے کو ترجیح دوں گی، کیونکہ میری فرینڈ لسٹ میں فیملی ، کزنز اور لڑکیاں زیادہ ہیں، اس لئے میں ا ن کو غیر سنجیدہ لوگو ں سے بچانے کے لئے اپنے فرینڈز ہائیڈ کئے ہیں۔

Naima Lashari

Naima Lashari

مجاہد رانا کا تعلق سیالکوٹ سے ہے اور فیس بک پر ان کے چار ہزار کے قریب دوست ہیں اور انہوں نے اایک بہت اچھا بلاگ بنایا ہوا ہے جبکہ وہ ابھی سیکنڈ ایئر کے طالب علم ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جو ہر وقت دوسروں کی ٹو ہ میں رہتے ہیں اور انہیں تجسس کی بیماری بھی لگی ہوتی ہے ، میں نے ان سے بچنے کے لئے اپنی فرینڈلسٹ کو ہائیڈ کیا ہوا ہے ۔ میرے بہت سے فیملی ممبر ز اور دوستوں نے اپنی فیس بک پروفائل پر پرائیوسی نہیں لگائی اور میں نہیں چاہتا کہ کوئی ان کے بارے میں ان کی مرضی کے بغیر جانے اس کے علاوہ ایک وجہ اور بھی ہے کہ اگر کسی کو میرے میوئچل فرینڈ نظر آتے ہیں ، تو وہ ان کو ایڈ کر لیتا ہے اور پھر میری پروفائل پر نظر رکھتا ہے ۔

mujahidrana

Mujahid Rana

سلمان بیگ کا تعلق پشاور سے ہے اور ینگ بلاگز میں ان کے کام کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، انہوں نے فیس بک پر اپنے دوستوں کو چھپانے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہر انسان کی کچھ پرائیوسی ہوتی ہے اور فیس بک پر مجھے کچھ ایسے ناخوشگوار تجربات کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کی وجہ سے مجھے اپنی فرینڈ لسٹ ہا ئیڈ کرنا پڑی ، میں یہاں آپ کو بس اس کی ایک چھوٹی سی مثال دوںگا کہ میری ایک کزن نے میری ایک پوسٹ پر کمنٹ کیااور میرے دو دوستوں نے اسے فرینڈ ریکوئسٹ کر دی ۔

Salman Baig

Salman Baig

زوہیب منصور کا تعلق کراچی سے ہے، وہ فیس بک پر کافی ایکٹو رہتے ہیں ۔ ان کی سوچ یہ ہے کہ اس کے پیچھے بہت سی وجوہات ہیں ۔ ایک تو یہ ہے کہ بہت سے لوگ وسیع القلب نہیں ہوتے اور دوسرا یہ کہ آپ کو فیس بک پر شکاریوں سے بھی واسطہ پڑتا ہے اوراس لئے میں نہیں چاہتا کہ کوئی بھی اجنبی شخص میرے دوستوں کی پروفائل کو دیکھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ میرے نزدیک ایک وجہ اور بھی ہے کہ عام طورپر جو لوگ اپنے فرینڈ ہائیڈکرتے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ ان کے ہر کسی دوست کی ان کے فیملی ممبرز تک رسائی ہو۔

Zohaib Mansoor

Zohaib Mansoor

حسن مرتضٰے کا تعلق مظفر گڑھ سے ہے ۔وہ سیکنڈ ائیر میں پڑھ رہے ہیں ۔فیس بک پر وہ ہرایک کے ساتھ بہت اچھے انداز سے پیش آتے ہیں ، ان کی دلیل سب سے منفرد اور زبردست ہے کہ بہت سے لوگ اس وجہ سے بھی اپنے دوستوں کو چھپاتے ہیں کہ ان کے فیس بک پر بہت کم دوست ہوتے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ دوسروں کو ان کی اس کمزوری کا علم ہو۔ یہ تھے ان کے خیالات جن کا خیال یہ ہے کہ فیس بک پر دوستوں کو چھپا نا بہتر ہے۔

Hassan Murtaza

Hassan Murtaza

بہت سے فیس بک استعمال کرنے والے ایسے بھی ہیں جواپنے فیس بک دوستوں کو چھپاتے نہیں ہیں۔گورنمنٹ کالج ، یونیورسٹی لاہور میں فرسٹ ائیر کے طالب علم اُسامہ ارشد جن کا فیس بک پرکافی اچھا حلقہ احباب ہے، ان کا کہنا یہ ہے کہ فیس بک ایک سوشل نیٹ ورک ہے اور اگر آپ پرائیوٹ رہناچاہتے ہیں اور اپنے خیالا ت کبھی بھی کسی سے شیئر نہیں کرنا چاہتے تو پھر آپ فیس بک استعمال نہ کریں۔ لیکن اگر آپ ایک سوشل پرسن ہیں اور دنیا کو اپنے بارے میں باخبر رکھنا چاہتے ہیں کہ آپ کیا کر رہے ہیں ، کیا سوچتے ہیں تو ظاہر بات ہے کہ آپ کو اس کے لئے ایک پلیٹ فارم کی ضرورت ہوگی، اور وہ فیس بک ہے ۔ اس طرح کی سوشل سائٹس پر پرائیوٹ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔

Usama Arshad

Usama Arshad

سید محمد مہدی موسوی، کراچی میں فوٹوگرافی کی ایک مشہور کمپنی میں سینئر مارکیٹنگ ایڈوائز ر ہیں ۔انہوں نے اپنا مؤقف بہت خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا ہے انہوں کے کہا میرا یہ یقین ہے کہ انسان اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے ، ای لئے میں نے فیس بک پر اپنے فرینڈز کو ہائیڈ نہیں کیا، مجھے بھی ان کے خیالات سے اتفاق ہے ۔

Syed Mehdi Mosvi

Syed Mehdi Mosvi

عدنان احمدانی کا تعلق میر پورخاص سے ہے ، انہوں نے اپنے خیالات یوں بیا ن کئے ، اس کا جواب مختلف حالات میں مختلف ہوگا۔ میرے خیال سے ہمیں اپنے فرینڈز دوسروں سے ہائیڈنہیں کرنے چاہیں کیونکہ یہ دوسرے فرینڈز کےلئے فائدہ مند ہوگا۔ لیکن کچھ لوگ اس کا مطلب کچھ اور ہی لےتے ہیں ، کچھ لوگوں کی ذاتی وجوہات ہوتی ہیں ، کچھ لوگو ں کو اپنی ملازمت کی وجہ سے یہ کرنا پڑتا ہے ۔ لیکن میرا خیال ہے کہ فیس بک پوری طرح سے ایک سوشل نیٹ ورک ہے تو یہاں پر بہتر ےہی ہوگا کہ ہم شیئر کریں اور اپنے فرینڈز ہائیڈ نہ کریں۔

Adnan Ahmedani

Adnan Ahmedani

ہاشم خان بی کام کے طالب علم ہیں اور برٹش ہومز اسلام آباد میں رہتے ہیں وہ باقا ئیدگی سے فیس بک استعمال کرتے ہیں ، ان کا خیال یہ ہے کہ جن لوگوں نے فیس بک پر ڈیٹ مارنی ہوتی ہے انہیں اپنے فرینڈز چھپانے کی بہت فکر ہوتی ہے، میں کیوں اپنے فرینڈز ہائیڈ کروں ؟؟ جنب میں کوئی غلط کام نہیں کر رہا ۔

Hashim Khan

Hashim Khan

اسد محمود سپارکو کراچی میں زیرتعلیم ہے ، اس کا کہنا یہ ہے کہ ،فیس بک ایک ایسا سوشل نیٹ ورک ہے جہاں پر ہمیں نئے نئے لوگو ں سے ملنے کا موقع ملتا ہے ، اگر کوئی میری فرینڈلسٹ سے کسی کو ایڈ کر بھی لیتا ہے تو یہ کوئی اتنی بڑی ٹینشن کی بات نہیں ہے ۔ اس لئے میں نے ، اپنی فرینڈلسٹ کو ہائیڈ نہیں کیا۔

Asad Mehmood

Asad Mehmood

ہر انسان کی اپنی اپنی سوچ ہے اور فیس بک ایک ایسا سوشل نیٹ ورک ہے جہا ں پر آپ کو ہر رنگ کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے ، شائد آپ کو میری بات عجیب لگے لیکن حقیقت یہ ہے کہ فیس بک پر بہت جیلسی پائی جاتی ہے ، مسئلہ یہ ہے کہ فیس بک پر ہر بندہ اپنے آپ کو مامے خاں اور دوسروں سے افضل سمجھتا ہے جب نئے نئے لوگ آپ کی فرینڈ لسٹ میں شامل ہوتے ہیں اور آپ کو ان کے بارے میں زیادہ معلومات بھی نہیں ہوتی تو تب احتیاط سے کام لینا ہی بہتر ہے ۔ جب میرے بہت کم فرینڈتھے تومیں نے اپنی فرینڈ لسٹ کو ہائیڈ نہیں کیا تھا۔ اب میرے ایک ہزار کے قریب فیس بک فرینڈ ہیں تو میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی فرینڈ لسٹ کو ہائیڈکیا ہوا ہے ، لیکن اس کے با وجود میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر آپ ایک بزنس مین یا سوشل پرسن ہیں تو آپ کو اپنی فرینڈ لسٹ ہائیڈ نہیں کرنی چاہئے ، کیونکہ آپ کے فرینڈز کی تعداد اور ان شخصیات سے آپ کے فیس بک اکاؤنٹ کی اہمیت بڑھتی ہے۔میں نے یہ سوچا ہو ا ہے کہ جب میرے فرینڈز کی تعدادتین ہزار تک پہنچ جائے گی تومیں بھی اپنی فرینڈ لسٹ ظاہر کر دوں گا۔ فرینڈ لسٹ کوظاہر کرنا یا چھپانا ایک ایسا موضوع ہے کہ جس پر دونوں فریقوں کے پاس مضبوط دلائل موجود ہیں ۔اس لئے زیادہ بہتریہ ہے کہ جوبات آپ کی سمجھ میں آئے اور آپ کے دل کو لگے اس پر عمل کر لیں۔



Journalist, Android Application Developer and Web Designer. Writes article about IT in Roznama Dunya. I Interview Prominent Personalities & Icons around the globe.


3 thoughts on “کیا فیس بک کے بامقصد اور مثبت استعمال کو سیکھ کر اس سے فائدہ اور کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں؟

Leave a Reply

Translate »